Baaghi TV

Tag: وائس چانسلر

  • بیورو کریٹس وائس چانسلر ،سندھ کی سرکاری جامعات میں ہڑتال کا اعلان

    بیورو کریٹس وائس چانسلر ،سندھ کی سرکاری جامعات میں ہڑتال کا اعلان

    سندھ کی سرکاری جامعات کی اساتذہ تنظیموں نے بیورو کریٹس کو وائس چانسلر مقرر کرنے اور اساتذہ کی مستقل تقرریوں کو روکے جانے کے حکومت سندھ کے فیصلوں کے خلاف جمعرات اور جمعہ کو پورے صوبے کی پبلک سیکٹر جامعات بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا)نے جامعہ کراچی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ دونوں دن سندھ کی پبلک سیکٹر جامعات میں صوبائی حکومت کے مذکورہ فیصلوں کے خلاف ہڑتال اور تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا جائے، پیر کو اساتذہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے جس میں ہزاروں اساتذہ سندھ اسمبلی کے اجلاس کا گھیرا اور وزیر اعلی ہاس کی جانب مارچ بھی کیا جا سکتا ہے جس میں ہمارے ساتھ طلبہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اختیار گھمرو، پروفیسر کلیم اللہ، پروفیسر عبدالرحمن ناگ راج اور ڈاکٹر محسن علی و دیگر کا کہنا تھا کہ سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین، سیکریٹری اور سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے گزشتہ ماہ منعقدہ ایک اجلاس میں ہمیں یقین دلایا تھا کہ یہ فیصلے واپس ہو جائیں گے لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ بیوروکریسی کی مدد سے جامعات میں بہتری آئے گی۔

    اساتذہ رہنماؤں نے سوال کیا کہ کیا بیوروکریٹس جن محکموں میں کام کر رہے ہیں ان میں بہتری آگئی ہے جو اب جامعات میں یہ کوشش کی جا رہی۔ رہنماؤں نے کہا کہ اگر اساتذہ کی جز وقتی تقرری ہوگی تو جامعات میں اکیڈمک بہتری کیسے آئے گی۔انہوںنے کہا کہ بیوروکریسی کے لیے ٹیچنگ اور ریسرچ کا تجربہ اور پی ایچ ڈی کی شرط ختم کی جا رہی ہے، جب بیوروکریٹ خود نان پی ایچ ڈی ہوگا تو وہ کیسے اکیڈمک ریسرچ کرائے گا اور پی ایچ ڈی کے لیے اجلاس چیئر کرے گا۔رہنماؤں نے کہا کہ بیوروکریٹس تو حکومت اور وزرا کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں، یہ فیصلہ جامعات کی خود مختاری ختم کرنے کی کوشش ہے۔

    سیکریٹری فپواسا سندھ چیپٹر نے کہا کہ یہ سب کچھ اٹھارہویں ترمیم کے خلاف عملی اقدام ہے، اگر ایسا ہے تو پھر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اٹھارہویں ہی ختم کر دے۔انہوںنے کہا کہ جامعات کی بجٹڈ پوسٹس پر تقرریوں کے لیے وزیر اعلی سندھ سے اجازت کی شرط رکھ دی گئی ہے جو خلاف ضابطہ ہے، یہ وائس چانسلرز کو بلیک میل کرنے کے مترادف ہے کیونکہ بجٹڈ پوسٹ کی جامعات کی سینڈیکیٹ سے منظوری لی جاتی ہے جس میں حکومت سندھ کے نمائندے بھی موجود ہوتے ہیں پھر بھی سندھ حکومت نے بھرتیوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔اس موقع پر فپواسا پاکستان کے نمائندہ نے کہا کہ اگر یہ مطالبات ممظور نہ ہوئے تو ہم ملک کی دیگر جامعات میں اس فیصلے کے خلاف احتجاج کریں گے۔پریس کانفرنس میں سندھ کی 11 جامعات کے اساتذہ نمائندے شریک ہوئے۔

  • ن لیگی رہنما کے کہنے پر داخلہ کیوں نہیں دیا؟ وائس چانسلر کو ہٹا دیا گیا

    ن لیگی رہنما کے کہنے پر داخلہ کیوں نہیں دیا؟ وائس چانسلر کو ہٹا دیا گیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما کے کہنے پر بچے کو داخلہ کیوں نہیں دیا۔ مریم نواز کی پنجاب حکومت نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے قائم مقام وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹا دیا۔

    ڈان نیوز میں شائع خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے جمعرات کو یونیورسٹی آف ایجوکیشن (یو ای) کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم سعید کو مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما کی جانب سے طالب علم کے داخلے کی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کرنے پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ڈاکٹر سعید کو اکتوبر 2023 میں پرو وی سی کے طور پر تین سال کے لیے تعینات کیا گیا تھا لیکن وہ یونیورسٹی کے ریگولر ہیڈ کی ریٹائرمنٹ کے باعث نومبر سے وی سی کے عہدے پر فائز تھے۔

    دریں اثنا، گورنر،چانسلر نے پروفیسر ڈاکٹر محمد افضل، بابا گرو نانک یونیورسٹی، ننکانہ صاحب کے وائس چانسلر کو اگلے 90 دنوں کے لیے یا مستقل وی سی کی تعیناتی تک قائم مقام سربراہ مقرر کیا ہے۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایچ ای ڈی) کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، چانسلر نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور آرڈیننس 2002 اور پنجاب جنرل کلاز ایکٹ 1956 کے سیکشنز کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کیا۔خاص طور پر، گورنر نے UE آرڈیننس کے سیکشن 14-A(1)، 13(9) اور 10(7) اور پنجاب جنرل کلاز ایکٹ کے سیکشن 15 کے تحت کام کیا، جس نے حکام کو تقرری، معطل یا برطرف کرنے کا اختیار دیا۔

    تاہم، یونیورسٹی کے ذرائع نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر سعید کو حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے ایک سینئر رہنما کی جانب سے طالب علم کے داخلے کی درخواست پر عمل کرنے سے انکار کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ڈاکٹر سعید نے یونیورسٹی میں داخلے کا عمل مکمل نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی رہنما کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔ اس انکار نے مبینہ طور پر سیاست دان کو ناراض کیا جس نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو ڈاکٹر سعید کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی۔ان الزامات کے برعکس، ایچ ای ڈی کے سیکریٹری ڈاکٹر فرخ نوید نے ڈان کو بتایا کہ ڈاکٹر سعید کو یونیورسٹی کے اندر ‘کئی بدانتظامی کے مسائل’ کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔

    تاہم خود ڈاکٹر سعید نے اپنی برطرفی کی وجوہات پر تذبذب کا اظہار کیا۔ ڈان سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہیں کسی شکایت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا اور انہیں کسی انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے نہیں بلایا گیا تھا۔ اس نے زور دے کر کہا کہ اس نے یونیورسٹی کے کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور تجویز کیا کہ ان کی برطرفی طاقتور افراد کو ناراض کرنے کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

    دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی،آرمی چیف

    یوم دفاع پاکستان،ملکی سلامتی کیلئے دعائیں،شہدا کی قبروں پر سلامی

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

  • وائس چانسلر سے متعلق ڈکیت کا لفظ،خواجہ آصف نے کی معذرت

    وائس چانسلر سے متعلق ڈکیت کا لفظ،خواجہ آصف نے کی معذرت

    خواجہ آصف نے وائس چانسلر سے متعلق ڈکیت کا لفظ استعمال کرنے پر ایوان میں معذرت کرلی

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میرے الفاظ کو قومی اسمبلی کی کاروائی سے ہذف کیا جائے، درس گاہوں اور اساتذہ کا میرے نزدیک بڑا احترام ہے ہم اساتذہ کی عزت کرتے ہیں مگر یہ شعبہ بھی ملک کے باقی شعبوں کی طرح کرپشن سے پاک نہیں میرا تقریرمیں کرپشن پر زور تھا مگر اس دوران میں وائس چانسلرز سے متعلق ڈاکو کہہ کر تجاوز کرگیا کرپشن کے جزیرے میں سے ایک تعلیمی ادارے بھی ہیں اسی تناظر میں بات کی کرپشن ہر طرف ہو رہی ہے،

    خواجہ آصف کی جانب سے ایوان میں معذرت کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف نے خواجہ آصف کے طرزِ عمل پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ آپ نے کھلے دل کا مظاہرہ کر کے نامناسب لفظ حذف کرنے کی درخواست کیمجھے ابھی تک وائس چانسلرز کا کوئی خط نہیں ملا مگر آپ نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا اراکینِ پارلیمنٹ قوم کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں

    واضح رہے کہ چند دن قبل خواجہ آصف نے ایوان میں کہا تھا کہ ایسی یونیورسٹیاں ہیں جن کے وائس چانسلرز ریٹائرڈ ہونے کے باوجود اسٹے لے کر بیٹھے ہیں۔ ان جامعات کے وائس چانسلرز ارب پتی بن گئے ہیں، خواجہ آصف کے وائس چانسلر کے متعلق اسمبلی دئیے گئے ریمارکس پر وائس چانسلرزنے اظہار مزمت کی اور سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ خواجہ آصف عام معافی مانگیں،خواجہ آصف نے ڈکیت کے الفاظ استعمال کیے، ہم اس کی پرزور مزمت کرتے ہیں، وفاقی وزیر کے جانب سے دئیے گئے ریمارکس ایوان کی کارروائی سے نکالے جائیں،اس طرح کے ریمارکس سے شعبہ تعلیم کے لیے وائس چانسلر کے خدمات کو نظر انداز کیا جارہا ہے،وائس چانسلرز کو ڈکیتوں سے تشبیہ دینا پوری ایجوکیشن کمیونٹی کو کمزور کرنے کے مترادف ہوتا ہے، پاکستان کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے، اس طرح مثبت کاوشوں کے لیے باہمی عزت اور احترام کی ضرورت ہے

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو نوشی کسی بھی شکل میں ہو، صحت کے لئے مضر ہے، 

  • بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی،قائم مقام وائس چانسلرکو عدالت نے دوبارہ ہٹا دیا

    بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی،قائم مقام وائس چانسلرکو عدالت نے دوبارہ ہٹا دیا

    قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر حاکم علی ابڑو کو سندھ ہائی کورٹ نے دوبارہ عہدے سے فارغ کر دیا

    جامعہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے نو منتخب قائم مقام وائس چانسلر حاکم علی ابڑو کا آرڈر نوٹیفیکیشن سندھ ہائی کورٹ نے معطل کردیا۔ پروفیسر حاکم علی ابڑو کو چند ماہ قبل بھی سندھ حکومت کی جانب سے قائم مقام وائس چانسلر جامعہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی مقرر کیا گیا تھا۔سابقہ وائس چانسلر جامعہ بینظیر پروفیسر انیلا عطاالرحمان کی پیٹیشن پر پہلے بھی سندھ ہائی کورٹ نے انہیں عہدے سے اتار دیا تھا ،سندھ ہائی کورٹ نے توہین عدالت میں پروفیسر حاکم علی ابڑو کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے اور جرمانہ بھی عائد کیا تھا ،پروفیسر حاکم علی ابڑو کو سندھ حکومت کی جانب سے 29 ستمبر کو دوبارہ قائم مقام وائس چانسلر جامعہ بینظیر مقرر کیا گیا ۔

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • سموگ،اومی کرون اور کورونا ویکسینیشن مہم:وائس چانسلرگجرات یونیورسٹی سے اپیل کردی گئی

    سموگ،اومی کرون اور کورونا ویکسینیشن مہم:وائس چانسلرگجرات یونیورسٹی سے اپیل کردی گئی

    گجرات:سموگ،کورونا ویکسینیشن مہم:وائس چانسلرگجرات یونیورسٹی سے اپیل کردی گئی ،اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے وفاقی وزیرتعلیم نے باقاعدہ ٹویٹ کے ذریعےیہ پیغام دیا ہے ،

    لاہور اور گردونواح کے اضلاع میں سموگ کی بگڑتی ہوئی صورت حال،کورونا کی نئی خطرناک قسم جسے اومی کرون کا نام دیا گیا ہے اس کاخوف،کورونا ویکسینیشن کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے پیش نظر بڑی تعداد میں علم کے پیاسوں نے وائس چانسلر گجرات یونیورسٹی کے نام باغی ٹی وی کے ذریعے ایک پیغام ارسال کیا ہے

    اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی آف گجرات میں مختلف قسم کی جابز کے لیے ایک اشتہارچند دن پہلے دیا گیا تھا ، جس کی کل 15 دسمبر آخری تاریخ ہے ، اس حوالے سے سائلین نے شفیق القلب وائس چانسلر گجرات یونیورسٹی ڈاکٹرشبرعتیق سے درخواست کی ہے کچھ مذکورہ مسائل کی وجہ سے وہ 15 دسمبر تک ڈاکومنٹس نہیں پہنچا سکتے ،لٰہذا مہربانی کرکے درخواستیں جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کردیں

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”445862″ /]

    بعض ہونہارامیدواروں نے تو یہ بھی درخواست کردی کہ اگراس میں دس دن کی توسیع کی جائے اور آخری تاریخ 25 دسمبر تک مقرر کی جائے تو وہ کبھی بھی یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ احسان فراموش نہیں کریں گے

    یاد رہے کہ گجرات یونیورسٹی میں ایڈمسٹریشن شعبہ کے لیے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئی تھیں جن کی آخری تاریخ 15 دسمبر ہے ، جس پرمذکورہ مسائل کے پیش آنے پرکئی اہل علم امیدواروں نے گجرات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے درخواستیں وصول کرنے کی تاریخ میں توسیع کی درخواست کی ہے

    اب یہ یونیورسٹی انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اہل ذوق اہل علم اورقابل امیدواروں کو موقع دے کر ایک اچھی مثآل بنتے ہیں یا پھراسی تاریخ پرہی اکتفا کرتے ہیں ،