بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ مساجد کو مسمار کردیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی حکومت کی جانب سے سڑک کو کشادہ کرنے اور شہری ترقیاتی منصوبے کے تحت کی گئی جبکہ علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے، متاثرہ افراد اور مقامی مسلم تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کارروائیاں متعدد مقامات پر پیشگی نوٹس اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی کے بغیر انجام دی گئیں۔
حکام نے کہا ہے کہ مساجد منصوبہ بندی کے راستے میں آ رہی تھیں اور قانونی کارروائی اور پیشگی نوٹس کے بعد انہدام کیا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق پانچ مساجد کی انتظامیہ نے منصوبے کے تحت کارروائی میں تعاون بھی کیا جبکہ چھٹی مسجد سے متعلق معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
دوسری جانب مقامی مسلم تنظیموں اور بعض سماجی کارکنوں نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھنے والی مساجد کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور حکومت کو متبادل راستے تلاش کرنے چاہیے تھے۔ انہوں نے اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا۔
جمعیۃ علماء ہند کے حقائق معلوم کرنے والے وفد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے متاثرین سے ملاقات کی اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے تنظیم کے مطابق، مسمار کی گئی تعمیرات میں مذہبی مقامات، تجارتی عمارتیں اور رہائشی مکانات شامل ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران متعدد مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ریاستی حکومت کی انسدادِ تجاوزات مہم اور سکیورٹی تقاضوں کے تحت کی گئی ہیں بعض متاثرین نے اس کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا ہے، جبکہ مقامی مسلم تنظیموں نے غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور بلڈوزر کارروائیوں پر فوری روک کا مطالبہ کیا ہے۔

