Baaghi TV

Tag: والدین

  • بچی کو پھوپھو سے لیکروالدین کے حوالے کرنے کا کیس،فیصلہ جاری

    بچی کو پھوپھو سے لیکروالدین کے حوالے کرنے کا کیس،فیصلہ جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں بچی کو پھوپھو سے لیکروالدین کے حوالے کرنے کا کیس کی سماعت ہوئی

    بچی کا بیان گارڈین عدالت میں دوبارہ ریکارڈ کرنے سے متعلق پھوپھو کی درخواست مسترد کر دی گئی جسٹس طارق سلیم شیخ نے6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا عدالت نے بچی کا بیان ریکارڈ نہ کرنے کا گارڈین کورٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار یہ بتانے سے قاصر ہے کہ دوبارہ بیان ریکارڈ کرانا کیوں ضروری ہے بچے کا بیان کیس کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے والدین نے 2010 میں بچی کی پیدائش پر اسے پھوپھو کو دے دیا درخواست گزار نے گارڈین کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا ضروری ہے کہ بیان ریکارڈ کرتے وقت اس بات کو مدنظر رکھے کہ بچے کو ڈرایا تو نہیں گیا

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ کا بوگس چیک ضمانت کیس میں اہم فیصلہ سامنے آیا ہے، عدالت نے پونے 11 کروڑ کے بوگس چیک کیس میں ملزم کی ضمانت منظور کر لی.جسٹس سردار احمد نعیم نے ملزم ملک خالد محمود کی ضمانت منظور کی .

    ملزم کی جانب سے ملزم کی طرف سے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ برہان معظم ملک پیش ہوئے،ملزم کی جانب سے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان حساب کتاب کی مقدمہ بازی بھی سول عدالتوں میں زیر سماعت ہے،قانون کے مطابق بوگس چیک کیس میں سزا 3 سال ہے اور جرم قابل ضمانت ہے،جبکہ باغبانپورہ پولیس نے ملزم کو 5 ماہ سے گرفتار کر رکھا ہے.عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ملزم ملک خالد محمود کی ضمانت منظور کر لی اور ملزم کو دو لاکھ روپے کے دو مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا

    نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی مدت ختم، نیب کو پھر مل گئے وسیع اختیارات

    علیم خان کی سوسائٹی کیخلاف عدالت میں روزدرخواستیں آرہی ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس

    علیم خان اتنے بااثر ہیں کہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟

    آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

    ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

    آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

    آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

    علیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے پارٹنر پر فائرنگ، مقدمہ درج

  • بچہ والدین کو گھر سے نکالے گا تو کتنی ملے گی سزا؟

    بچہ والدین کو گھر سے نکالے گا تو کتنی ملے گی سزا؟

    بچہ والدین کو گھر سے نکالے گا تو کتنی ملے گی سزا؟

    لاہور ہائیکورٹ کا تحفظ والدین آرڈیننس 2021 کے قانون پر اہم فیصلہ سامنے آیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ بچہ کرائے پر ہو یا گھر کا مالک، والدین کو گھر سے نکالے تو جرم ہے والدین کو گھر سے نکالنے پر بچے کو ایک سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے،والدین بچے کو اپنے سے گھر سے کبھی بھی نکال سکتے ہیں،بچہ کرائے کے گھر میں رہ رہا ہویا مالک، والدین کو گھر سے نکالے تو جرم ہے، والدین کے نکالنے پر بچہ 7 دن میں گھر خالی کرے ورنہ ایک ماہ کی سزا ہو سکتی ہے،والدین کے نکالنے پر بیٹا یا بیٹی 7 دن میں گھر خالی کرے ورنہ ایک ماہ کی سزا ہو سکتی ہے،

    قبل ازیں لاہورہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اور اپلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم کر دیئے ،عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کر دی.

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

  • ضمانت کینسل ہونے پر ملزمہ کمرہ عدالت سے فرار

    ضمانت کینسل ہونے پر ملزمہ کمرہ عدالت سے فرار

    قصور
    پانچ ماہ قبل ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور سے بچہ اغواء کرنے والی خاتون ضمانت کینسل ہونے پر کل کمرہ عدالت سے بھاگ گئی
    تفصیلات کے مطابق 30 اگست 2020 کو ملزمہ شاہدہ بی بی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور سے عبدالرحمن کا ایک دن کا نومود بچہ اغواء کیا تھا جس پر اس نے گرفتار ہونے سے ابتک پانچویں مرتبہ عبوری ضمانت کروا رکھی تھی جس کی
    کل جج عمران شیخ صاحب کی عدالت میں پیشی تھی جج نے کل اس کی ضمانت کینسل کرکے جیل بیجھنے کے احکامات جاری کئے مگر مکار عورت کمال ہوشیاری سے کمرہ عدالت سے بھاگ گئی
    کل شام نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بچے کے والدین نے کہا کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا قصور پولیس جلد سے جلد ملزمہ کو گرفتار کرے نیز ڈی ایس پی انویسٹیگیشن و ایس پی انویسٹیگیشن قصور نے بھی شاہدہ بی بی کو مجرم ٹھہرایا ہے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل میاں محمد اسلم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ کیس پولیس کی طرف سے خراب کیا گیا ہے اس ملزمہ پر 364 اے اور 780 اے لگنی تھی جو کہ نان بیل ایبل ہے تاہم پولیس نے کیس خراب کرنے کیلئے ملزمہ پر دفعہ 363 لگائی ہے جس کی باعث عدالت اسے عبوری ضمانت دیتی رہی ہے نیز ان کا کہنا ہے کہ یہ عورت ضلعی جھنگ کی رہائشی ہے مگر اس وقت گاؤں دفتوہ قصور میں رہائش پذیر ہے اس پر پہلے بھی 7 نومبر 2019 کو ایسا ہی ایک بچہ اغواء کرنے کا مقدمہ ہے
    بچے کے والدین و اہل علاقہ نے ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہدہ بی بی کو جلد سے گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.