Baaghi TV

Tag: واک آؤٹ

  • سینیٹ اجلاس، گرفتار خواتین کو رہا کرو، پی ٹی آئی کا احتجاج،جے یو آئی کا بھی مطالبہ

    سینیٹ اجلاس، گرفتار خواتین کو رہا کرو، پی ٹی آئی کا احتجاج،جے یو آئی کا بھی مطالبہ

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی زیر صدارت ہوا،

    سینیٹ کے اجلاس میں تحریک انصاف کے سینیٹرز کی جانب سے خواتین کو قید میں رکھنے کیخلاف احتجاج کیا گیا،ینیٹرز نے ہاتھوں میں بینرزاٹھا رکھے تھے،پی ٹی آئی سینیٹرز کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں خواتین کو رہا کرو کے نعرے لگائے گئے،تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے جس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے ارکان کو منانے کیلئے دیگر ارکان کو بھیجا،

    بیرسٹر علی ظفر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو ہمارے ساتھ ہو ا وہ کل کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اس ایوان میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آواز اٹھائیں اس امید سے کہ باقی خواتین جو اس فورم پر ہیں وہ ہمیں جوائن کریں گی،لیکن میں کامران مرتضیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے واضح مؤقف پیش کیا ، یہ آج جو ہماری چار خواتین کے ساتھ ہو رہا وہ کل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے،یہ چیز ہمیں بھول جاتی ہے، کسی کی آواز بند کرنے کے لئے جیل میں بند رکھنے سے ہمارا نقصان نہیں ہو رہا،اس طرح ملک ترقی نہیں کرتے، آج واک آؤٹ جمہوریت کا حصہ ہے،

    سینیٹر فیصل جاوید نے ضمانت کے بعد سینیٹ اجلاس میں شرکت کی اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے پوری زندگی اس قوم کو مایوس نہیں کیا اسی طرح اس قوم نے 8 فروری کو عمران خان کو مایوس نہیں کیا ، یہ قوم ایک عظیم قوم بن گئی ہے،بہت بڑا موقع ہے کہ فائدہ اٹھائیں، لوگوں کے مینڈیٹ کی قدر کریں، یہی پاکستان کی ترقی کا راستہ ہے ،

    عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی سینیٹ میں بازگشت سنائی دی،اپوزیشن نے شدید احتجاج کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کیا،

    الیکشن شفاف نہیں، چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں،خدیجہ شاہ رہا تو یاسمین راشد کا کیا قصور،ن لیگی سینیٹر پھٹ پڑیں
    مسلم لیگ ن کی سینیٹر سعدیہ عباسی سینیٹ اجلاس میں تحریک انصاف کے حق میں کھل کر بول پڑیں اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا،سینیٹر سعدیہ عباسی نےایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ جو سیٹ پی ٹی آئی کی بنتی ہے ان کو دی جائے،یہ الیکشن میں جو ہوا اس سے نظریں نہیں چھپاتے ،چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہئے تھا الیکشن شفاف نہیں تھا،2018کے الیکشن میں ن لیگ زیرعتاب تھی اب پی ٹی آئی ہے، خدیجہ شاہ رہا ہو سکتی ہیں تو یاسمین راشد، صنم جاوید اور دیگر کا کیا قصور ہے ،ان کا قصور یہ ہے جہاں خدیجہ شاہ کی پہنچ ہے، دیگر کی نہیں،سینیٹر اعجاز چودھری، شبلی فراز کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے چاہئے،اعجاز چودھری اور پی ٹی آئی کی خواتین کو رہا کیا جائے۔

    پی ٹی آئی خواتین کے ساتھ ہونے والے رویہ کی جے یو آئی ف نے مذمت کی، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ خواتین کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ غلط ہے، مریم اور فریال کل ہمارے لیے محترم تھی آج یہ خواتین ہمارے لیے محترم ہے، ہم سب کو یکجا ہوکر اس معاملے پر آواز اٹھانی چاہیے، خواتین کے ساتھ قانون کے مطابق پیش آنا چاہیے،

    وزیرپارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین سے تعلیمی وظیفہ کے لئے سالانہ 35ہزار سے 40 ہزار کیسز موصول ہوتے ہیں، فی الحال دسمبر 2023 سے جنوری 2024 کے دوران موصول ہونے والے 4997 درخواستوں پر کام ہو رہا ہے، زیادہ تر درخواستیں اگست اور مارچ میں موصول ہوتی ہیں، درخواستوں کے زیر التواء ہونے کی ایک وجہ مطلوبہ سٹاف کی کمی بھی ہے ادارے میں 127 آسامیاں ہیں جبکہ 94 ملازمین کام کر رہے ہیں

    سینیٹ اجلاس یکم مارچ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی،سرعام پھانسی پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، سینیٹر فیصل جاوید

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ملزم کو کیسے نامرد بنایا جائیگا؟ تفصیل سامنے آ گئی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    وزیراعظم نے زیادتی کے مجرم کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی،

  • آسٹریلیا کی ٹیم بھی آ رہی  لیکن جو دوائی لینے لندن گیا وہ واپس نہیں آیا،سینیٹ میں خطاب

    آسٹریلیا کی ٹیم بھی آ رہی لیکن جو دوائی لینے لندن گیا وہ واپس نہیں آیا،سینیٹ میں خطاب

    آسٹریلیا کی ٹیم بھی آ رہی لیکن جو دوائی لینے لندن گیا وہ واپس نہیں آیا،سینیٹ میں خطاب
    ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس ہوا

    سینیٹر مشتاق احمد نے وزرا کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی کیا، اور کہا کہ ہم یہاں فارغ بیٹھے ہیں جو وزرا ایوان میں نہیں آتے، سینیٹ اجلاس ہوا تو اپوزیشن نے سینیٹ سے واک آوٹ کر لیا .اپویشن کی عدم موجودگی میں سینیٹ کا اجلاس جاری رہا سینیٹ اجلاس میں حکومت کے صرف 13 سینٹرز موجود تھے ،سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جب کھڑا ہوتا ہوں مختصر کا لفظ میں سنتا ہوں،یہاں عوام کے پیسوں سے اجلاس چل رہا ہے ،دس منٹ اجلاس کو نہیں ہوئے اور کورم کی نشاندہی کردی گئی اتنا خرچہ ہوتا ہے اور اپوزیشن اجلاس چلنے نہیں دیتی، جب ایماندار تھانیدار آجاتا ہے تو سارے چور اکٹھے ہوجاتے ہیں،

    سینیٹر فیصل جاوید کی طویل تقریر،سیف اللہ آبڑو اور دنیش کمار نے بات کے لیے ٹائم نہ ملنے پر ایوان میں احتجاج کیا ،سینیٹر اعجازچودھری نے ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ افواج کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان محفوظ ہے، وزیراعظم نے کابینہ کا اجلاس دورہ بلوچستا ن کے باعث موخر کردیا

    سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ اپوزیشن ارکان ایوان کے اجلاسوں کا ٹی اے ڈی اے لے کر بھاگ جاتے ہیں اپنا غصہ گھر رکھ کر آیا کریں ایوان اصول اور قاعدے قانون کے مطابق ہی چلے گا قانون اور رولز کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی ایوان میں نہیں آ سکتے اپوزیشن ارکان کا ان کی ایوان میں موجودگی کے حوالے مطالبہ درست نہیں ہے وقفہ سوالات میں وزراء یہاں موجود ہوتے ہیں اور حکومت جوابدہ ہوتی ہے، اپوزیشن ارکان نے کارروائی میں حصہ لینے کی بجائے پارلیمان کا وقت اور قوم کے پیسے کا ضیاع کر رہے ہیں، انہیں باہر دھوپ سینکنے کی جلدی ہوتی ہے، اپوزیشن کی کوشش کے باوجود دوبارہ کورم کی نشاندہی کے باوجود حکومتی ارکان اور اتحادیوں نے انہیں پھر شکست دی ہے، ہم ان سینیٹرز کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جو اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، آج کل خوابوں کی سیاست چل رہی ہے اور ایک دوسرے کو کھانے کی دعوتیں دی جا رہی ہیں، یہ قوم کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں، عمران خان نے جو پہلے دن سے پیشگوئی کی تھی وہ وقت کے ساتھ ساتھ صحیح ثابت ہوتی جا رہی ہے۔

    ایوان بالا کے اجلاس میں اپوزیشن کے واک آؤٹ کرنے پر وفاقی وزیر مراد سعید کا کہنا تھا کہ وزرا پوری تیاری کر کے آتے ہیں، ہم اپوزیشن میں تھے تو ان کے وزرا جواب دینے کے لئے موجود نہیں ہوتے تھے جب بھی ملک میں پانچ عشروں کے بعد ڈیموں کی تعمیر غربت کے خاتمے کے کئے احساس پروگرام جیسے اقدامات، صحت انصاف کارڈ اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں تو اپوزیشن صرف سڑکیں بنانے کی بات ہی کرتی ہے اس کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں. (ن) لیگ نے پہلے تین سال میں 947 کلومیٹر سڑکیں بنائیں، تحریک انصاف نے اپنے تین سال میں 2032 کلومیٹر طویل سڑکیں بنائی ہیں (ن) لیگ نے اپنے تین سال میں 1303 کلومیٹر سڑکوں کی منصوبہ بندی کی جبکہ ہمارے دور میں 7889 کلومیٹرز سڑکوں کی منصوبہ بندی کی گئی نواز شریف ہمیشہ وزارت مواصلات اپنے پاس رکھتے تھے، انہوں نے سڑکوں کے پیسوں سے ہی لندن میں جائیدادیں بنائیں۔ مراد سعید نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں این ایچ اے کے ریونیو میں 103 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے ملک میں پی ایس ایل ہو رہا ہے، آسٹریلیا کی ٹیم بھی آ رہی ہے لیکن جو دوائی لینے لندن گیا تھا وہ واپس نہیں آیا

    سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی میڈیا سے گفتگو کی ہے، سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ وقفہ سوالات وزراء کے لئے جواب دینے کا احسن موقع ہوتا ہے۔ یہاں ایک وزیر ہر سوال کا جواب دیتا ہے۔ حکومت وقفہ سوالات کو بے معنی کر رہی۔ اگر حکومت نے ایسا کرنا ہے تو اپویشن ہرگز ان کے ساتھ نہیں بیٹھے گی

    سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، سینیٹ کا ایک اجلاس کشمیر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور

    چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن پھر متحد