برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی، کینٹربری میں میننجائٹس کے ایک نایاب اور جارحانہ مرض کے پھیلاؤ کے بعد 2 افراد ہلاک اور 11 شدید بیمار ہو گئے ہیں۔
یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق متاثرہ طلبا کو اینٹی بایوٹکس فراہم کی ہیں تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے، اس مہلک بیماری کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو میننجائٹس اور سیپسس (خون میں انفیکشن) پر مشتمل ہیں یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود سیال کو متاثر کرتی ہے، جس سے شدید بخار، سر درد، گردن کا سخت ہونا، قے، اسہال، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، روشنی سے حساسیت، ٹھنڈے ہاتھ اور پیر، دورے، الجھن اور شدید نیند جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
بھارت: اسپتال میں آتشزدگی، آئی سی یو کے 10مریض ہلاک
یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ کسی بھی شخص میں ان علامات کے ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا جان بچا سکتا ہے انہوں نے طلبہ اور عملے سے کہا کہ وہ بیماری کی ابتدائی علامات پر توجہ دیں کیونکہ یہ عام نزلہ، فلو یا نشے کے اثرات سے آسانی سے مغالطہ ہو سکتی ہیں۔
کینٹ یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں شدید افسوس ہے کہ ہمارے طالب علم کا انتقال ہوا، ہمارے خیالات اور دعائیں متاثرہ خاندان، دوستوں اور یونیو رسٹی کمیونٹی کے ساتھ ہیں، طلبا اور عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔
مشرق وسطیٰ جنگ: پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس سے 90 پروازیں منسوخ
حکام نے طلبا اور عملے پر زور دیا کہ وہ علامات پر محتاط رہیں کیونکہ یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے اور شدید نتائج مرتب کر سکتی ہےیونیورسٹی کے طلبا اور نوجوان بالغ اس بیماری کے زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ وہ قریبی معاشرتی ماحول میں رہتے، پڑھتے اور میل جول کرتے ہیں، جس سے بیکٹیریا آسانی سے پھیلتا ہے۔






