Baaghi TV

Tag: ورزش

  • ورزش..ایک بہترین علاج

    ورزش..ایک بہترین علاج

    ورزش چاہے کسی بھی شکل میں ہو، ڈپریشن کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ تناؤ کو دور کرنے، اضطراب کو کم کرنے اور دماغ میں اہم کیمیائی تبدیلیاں شروع کرنے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ورزش کے دوران نیورو ٹرانسمیٹر جیسے تناؤ کے ہارمونز اور اینڈورفنز پر اثرات زیادہ مثبت ذہنی حالت میں معاون ہوتے ہیں۔ ورزش نئے تجربات میں مشغول ہونے کے مواقع پیش کرتے ہوئے منفی خیالات سےبھی بچاتی ہے.

    بہت سے افراد مختلف قسم کی ورزشوں یوگا، مراقبہ، جم،واکنگ کے ذریعے افسردگی سے نجات پاتے ہیں،ورزش کے ہر طریقے کے اپنے فائدے ہیں، ذاتی طور پر، مجھے ہمیشہ پیدل چلنا پسند تھا۔ تازہ ہوا، فطرت سے قربت، بدلتے موسموں کے رنگوں کو دیکھتے ہوئے ، زمین پر بکھرے پتے، بہار میں پھولوں کا کھلنا، رنگوں کی قسمیں جو قدرت کی طرف سے ہیں، ٹھنڈے موسم میں ٹھنڈی ہوا آپ کے گال کو چھو رہی ہو اور جب آپ احساس سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنا چہرہ اٹھا رہے ہیں تو گرم ہوا آپ کے گالوں کو چوم رہی ہے۔ دھواں، ٹریک کے معیاری پانچ چکر کے بعد، پارک میں ایک پرسکون جگہ،امن، خاموشی دنیا کو جاتے دیکھ رہے ہیں۔

    مراقبہ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اپنے پیروں کے نیچے تازہ گھاس کھرچتے ہوئے ایک چٹائی نکالنا، ایک درخت کے نیچے بیٹھا، تمام خیالات سے خالی دماغ، صرف ہلکی ہوا کے جھونکے کی آواز اور باغ کی ہلکی ہلکی جھنکار! پرندے پھڑا پھڑا رہے ہیں، ویسے آنکھیں بند کر لیں، سانس لیں، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ہتھیلیاں اوپر کریں اور آہستہ آہستہ دوبارہ کریں،مکمل سکون کا احساس آپ کو چُرا لیتا ہے۔ اتنا مکمل کہ آنکھوں میں آنسو آجائیں،

    ان طریقوں کو اپنے معمولات میں شامل کرکے، ہم ذہنی تندرستی کو فروغ دے سکتے ہیں اور اندرونی سکون کا گہرا احساس پیدا کرنے کے لیے ورزش کی علاج کی طاقت کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • بچوں کے20 منٹ تک ورزش کرنے کے بہت سے فوائد،

    بچوں کے20 منٹ تک ورزش کرنے کے بہت سے فوائد،

    بچوں کے 20 منٹ تک ورزش کرنے کے بہت سے فوائد،

    باغی ٹی وی: میری لینڈ میں ایک تحقیق کی گئی ہے۔جس میں اس بات کا انکشاف کیا جا چکا ہے کہ اگر لڑکے اور لڑکیاں روز پورے 20 منٹ کیلئے ورزش کریں تو اس سے بہتر طبی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ورزش کے بعد ان لوگوں کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ جرنل پیڈیا ٹرکس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔اگر بچے روزانہ 20 منٹ ورزش کرتے ہیں تو اس سے ان کی صحت بہت اچھی رہتی ہے۔20 منٹ روزانہ ورزش کرنے کے بعد دل بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ اور پھیپھڑے بھی تندرست رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سانس لینے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔ اور آکسیجن کی کمی بھی نہیں ہوتی ہے۔

    مزید برآں یہ کہ جب یہ تحقیق کی جا رہی تھی تو اس تحقیق میں 300 سے زائد بچے شامل کئے گئے تھے۔ اور ان بچوں کی عمر 15 برس سے کم تھی اور اس دوران ان سب بچوں کو ان کی کلائیوں پر شدت دیکھنے کیلئے سینسر پہنائے گئے تھے۔ کیونکہ ان بچوں کو دو سال اسکول کے دوران تحقیق کرنے کیلئے ورزش کے عمل سے گزارا گیا تھا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ 20 منٹ تک مسلسل ورزش کرنے سے بچوں کی صحت میں بہت اچھے اثرات مرتب ہوۓ ہیں۔

    ورزش کرنے اور اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے حوالے سے ماہرین نے لڑکے اور لڑکیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک گھنٹہ پیدل چلنے کے بجاۓ اگر 20 منٹ ورزش کر لیں تو یہ عمل ان کیلئے زیادہ بہتر۔ثابت ہو گا۔

  • ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں نئی رگوں کی افزائش ممکن

    ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں نئی رگوں کی افزائش ممکن

    جارجیا:ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے ذیابیطس کی کیفیت میں خون کی نئی رگیں پیدا ہوسکتی ہیں یا پھر ان کا افزائشی عمل تیز تر ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کا ہولناک مرض بالخصوص خون کی باریک رگوں کو شدید متاثر کرتا ہے اسی وجہ سے زخم مندمل نہیں ہوتے اور بینائی متاثر ہوتی ہے اب پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ ورزش سے خون کی نئی نسیجوں کی تشکیل میں بھی مدد مل سکتی ہے یعنی ورزش ذیابیطس کے منفی اثرات کو ٹھیک کرسکتی ہے۔

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    اس سے قبل ذیابیطس میں ورزش کے فوائد سامنے آتے رہے ہیں اب جارجیا میڈیکل کالج کے سائنسدانوں نے ورزش اور نئی رگوں کی افزائش یا اینجیو جنیسس کے درمیان تعلق دریافت کیا ہے اس پورے عمل میں ایکسوسومز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق ایکسوسومز چھوٹے اور باریک پیکٹ جیسے ہوتے ہی جو حیاتیاتی اجزا کو ایک سے دوسرے مقام تک پہنچاتے ہیں ان میں دو طرح کے ایکسوسومز کو دیکھا گیا اول اینٹی آکسیڈنٹس ایس او تھری جو ری ایکٹو آکسیجن کی مقدار کو معمول پر رکھتے ہیں اور پروٹین سگنلنگ میں نمایاں ہوتے ہیں دوم ایک خاص پروٹین ہے جس کا نام اے ٹی پی سیون اے ہےاور تانبےکے ایٹم خلیات تک پہچاتےہیں ذیابیطس ان دونوں ایکسوسومز کو شدید متاثر کرتی ہے۔

    ماہرین نے ورزش اور دونوں ایکسوسومز پر غور شروع کیا تو معلوم ہوا کہ شوگر کا مرض اینڈوتھیلیئل خلیات کے پورے نظام کو درہم برہم کرتا ہے یہ خلیات خون کی نالیوں کی تشکیل کرتے ہیں اور نئی رگوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس ضمن میں ذیابیطس کےشکارچوہوں کو دو ہفتے تک گھومنے والے پہیئے پر دوڑایا گیا جبکہ درمیانی عمر کے تندرست افراد کو درمیانی شدت کی کارڈیو ورزش 45 منٹ تک کرائی گئی اس دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ ورزش کے بعد اینڈوتھیلیئل خلیات پر اے ٹی پی سیون اے کی زیادہ مقدار پہنچنا شروع ہوگئی اور ایس او ڈی تھری کی بھی وسیع مقدار دیکھی گئی ہےاس کے علاوہ رگوں کے اندرونی استر بننے میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔

    اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں بھی خون کی نئی رگیں بن سکتی ہیں جو بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

    ایک طرف تو ورزش کرنے سے ذیابیطس کے مریضوں میں خون کی مقدار معمول پر رہتی ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار خود مریضوں کی ورزش کرنے کی صلاحیت متاثر کرتی ہے اگرکوئی قبل از ذیابیطس، ٹائپ ون یا ٹائپ ٹو ذیابیطس متاثر ہو تو باقاعدہ ورزش رگوں اور نسیجوں کی تباہی، ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب وغیرہ سے محفوظ رکھتی ہے اب معلوم ہوا ہے کہ ذیابیطس کی شدید کیفیت خود ورزش کو بھی مشکل بنادیتی ہے اور یوں اس کے مکمل فوائد نہیں مل پاتےاس کی وجہ یہ ہےکہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار کی وجہ سے مریض آکسیجن کو مکمل طور پر جلا نہیں باتے اور خود بدن ورزش کے خلاف مزاحمت بن جاتا ہے۔

    یہ تحقیق اسرائیل میں واقع جوزلنِ ذیابیطس سینٹر نے کی ہے انہوں نے غور شروع کیا کہ کس طرح خون میں شکر کی بڑھی ہوئی مقدار ورزش میں رکاوٹ ڈالتی ہے اور اسے کم کرکے کیسے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں ڈائبیٹس نامی جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کےمطابق اگر ورزش کرنے والے افراد پہلے خون میں شکر گھٹانے والی دوا کھائیں تو ورزش کے زیادہ فوائد حاصل ہوسکتےہیں کیونکہ بدن کا استحالہ (میٹابولزم) نظام قدرے بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔

    تحقیق سے وابستہ سائنسداں ڈاکٹر سارہ جے لیسرڈ کہتی ہیں کہ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آخر کیوں ذبابیطس کے بعض مریض کوشش کے باوجود بھی ورزش نہیں کرپاتے اور اس کے فوائد ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو سمجھ کر ذیابیطس قابو کرنے کی بہترحکمتِ عملی وضع کی جاسکتی ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    اس کے لیے چوہوں کے ماڈل کو آزمایا گیا اور انہیں کیناگلیفلوزن نامی دوا کھلائی گئی جو خون میں شکر کی مقدار کم کرتی ہے۔ یہ چوہے ہائی بلڈ شوگر کے مریض تھے اور انہیں چھ ماہ تک ورزش کے عمل سے گزارا گیا۔ دوسرے گروپ کے چوہے بھی ذیابیطس کے مریض ہی تھے لیکن انہیں کوئی دوا نہیں دی گئی تھی اب جن چوہوں کو گلوکوز کم کرنے والی دوا دی گئی انہوں نے ورزش میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

    پھر ماہرین نے چوہوں کی بافتوں اور ہڈیوں کا معائنہ کیا اور کم ورزش کرنے کی صلاحیت کا جسمانی جواب تلاش کرنے کی کوشش کی معلوم ہوا کہ بلند شوگر کا مسلسل عارضہ ہمارے پٹھوں کو متاثر کرکے ورزش کی صلاحیت کو ماند کرسکتا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ کسی بھی طرح خون میں شکر کی مقدار معمول پر رکھ کر دوبارہ ورزش کی بہتر صلاحیت حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اگلے مرحلے پر اسی ضمن میں مزید تحقیق کی جائے گی۔

    دوسری جانب جنوبی ایشیا کے دو ممالک کے سروے سے ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ کی دکانیں ہیں تو وہاں سے بار بار کھانا منگواکر کھانے کا جی کرتا ہے اور اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    امپیریئل کالج لندن کی پروفیسر میلیسا اور ان کے ساتھیوں کا اصرار ہے کہ ہماری رہائش اور اطراف کے ماحول کا ہماری غذائیت پر اثر پڑسکتا ہے اگرچہ اس پر ترقی یافتہ ممالک میں بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن اب جنوبی ایشیا کے کچھ ممالک میں اس پر ایک سروے کیا گیا ہے جس کے دلچسپ نتائج سامنے آیا ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے…

    اس کا مقصد گھر کے پاس غیرصحت بخش کھانوں کی دکانوں اور اطراف کے گھروں پر اس کے اثرات نوٹ کئے گئے ہیں اس کے لیے سال 2018 سے 2020 کے دوران بنگلہ دیش اور سری لنکا کے 12167 افراد سے ڈیٹا اور معلومات لی گئی ہیں۔

    سب سے پہلے شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے افراد سے ذیابیطس کی کیفیت اور گلوکوز کی معلومات لی گئیں۔ اس کے بعد ان کے گھر کی اطراف کھانے کی دکانوں بالخصوص فاسٹ فوڈ ریستورانوں کا ایک نقشہ بنایا گیا۔ بالخصوص گھر سے 300 میٹر دور یعنی پیدل مسافت پر مرغن فاسٹ فوڈ کی دکانوں کو بطورِ خاص امل کیا گیا۔ اس کے علاوہ دوکانوں پر ملنے والے کھانوں کو صحت بخش اور مضرِ صحت کھانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

    معلوم ہوا کہ فاسٹ فوڈ کے قریب رہنے والے افراد وقت بے وقت معمولی بھوک پر بھی باہر نکل کر کھانا لے آتے ہیں اور اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔ اس لحاظ سے فاسٹ فوڈ دکانوں کی آسان دسترس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اگر گھر کی قربت میں ایک فاسٹ فوڈ دکان ہوتو اوسطاً خون میں شکر کی مقدار 2.14 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب خواتین اور بلند آمدنی والے لوگوں میں اس کا رحجان زیادہ دیکھا گیا جو اشتہا کے ہاتھوں فاسٹ فوڈ سے ہاتھ نہیں روک سکتے ایسے لوگوں میں شوگر کا رحجان زیادہ دیکھا گیا تھاتاہم اس رپورٹ میں کچھ کمی رہ گئی ہے کیونکہ لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے خون میں شکر کی تازہ مقدار اور ریڈنگ سے بھی آگاہ کریں اور کسی وجہ سے یہ ڈیٹا تسلسل سے خالی دکھائی دیتا ہے۔

    اپنے نتائج میں ماہرین نے بتایا کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کی دکانیں ہیں تو اپنا خیال رکھنا ہوگا اور اس چکر میں آنے سے خود کو بچانا ہوگا-

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے

  • ورزش نوجوانوں کے لیے فائدہ مند تو بوڑھوں کے لیے نقصان دہ

    ورزش نوجوانوں کے لیے فائدہ مند تو بوڑھوں کے لیے نقصان دہ

    لندن: طبی امور کے حامل سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق پیش کرکے بہت سے دلائل کو کمزور کردیا ہے ، ویسے کسی معاشرے میں یہی تصور ہے کہ ورزش ضروری ہے اور پھر دیکھا دیکھی بچے بوڑھے جوان سب ورزش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،مگر برطانوی طبی ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں کچھ نئی اور انوکھی چیزیں پیش کردی ہیں ، ماہرین کے مطابق 36 ہزار عمر رسیدہ افراد کے مشاہدے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ بڑی عمر کے افراد کے خود کو فٹ رکھنے کے لیے غیر محتاط ورزش کا معمول ان کی صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    بھارتی جارحیت، پاکستان کا منہ توڑ جواب، 9 بھارتی فوجی ہلاک

    ورز ش کے متعلق نئے حقائق پیش کرنے والے برطانوی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والے مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں ورزش کو معمول بنا لینا چاہیئے اس سے صحت مند رہا جا سکتا ہے اور لمبی عمر بھی پائی جا سکتی ہے تاہم غفلت میں گزاری جوانی کے بعد بڑی عمر میں خود پر ورزش کے بوجھ لاد لینے سے مثبت کے بجائے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ بزرگوں کو ورزش کے لیے مستند اور ماہر انسٹرکٹر یا ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ورزش کرنی چاہیئے۔

    کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر دنیا امن کو ترسے گی ، لندن کی فضاوں میں اعلان

    امریکی اور برطانوی تحقیق کاروں نے وزن میں اضافے اور عمر بڑھنے کے ساتھ موت کے تعلق کا مشاہدہ کیا اور نتائج کے طور پر وزن کم کرنے سے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں اور قبل از وقت موت کے خدشے کو بیان کیا گیا ہے جس میں سب سے زیادہ امراض قلب میں مبتلا افراد کو غیر محتاط ورزش کے باعث قبل از وقت اموات کے خطرے کا سامنا رہتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق طبی ماہر پروفیسر آن پین کا کہنا تھا کہ وہ افراد جو عمر بھر موٹے رہے ہوتے ہیں ایسے افراد کی قبل از وقت موت کے امکانات بھی کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں، اسی طرح 20 سال کی عمر کے بعد وزن بڑھنے اور درمیانی عمر تک یہی کیفیت رہنے سے ان افراد کی موت کے امکانات ان لوگوں کے مقابلے میں بڑھ جاتے ہیں جن کا وزن کم یا متوازن ہوتا ہے۔

    ابھی ایمانداری زندہ ہے،کراچی ایئرپورٹ کا دلچسپ واقعہ

    پروفیسر آن پین نے مزید بتایا کہ عمر کے درمیانی حصے یا اس کے بعد غیر ارادی طور پر وزن کا کم ہونا کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ عمومی طور پر ذیابطیس یا سرطان کے باعث لوگوں کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ ورزش کو بچپن سے ہی معمول بنایا جائے اور نوجوانی میں زیادہ اور بھرپور ورزش کی جائے تاہم ڈھلتی عمر کے ساتھ ورزش کو کم اور آسان کیا جائے۔