Baaghi TV

Tag: ورلڈ اکنامک فورم

  • ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    ڈیووس: ورلڈ اکنامک فورم میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں شریک ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی و خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں،فورم میں شریک رہنماؤں سے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی غیر رسمی ملاقاتوں کے دوران مسکراہٹوں کے تبادلے اور گرمجوشی دیکھنے میں آئی۔

    وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، امریکا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود سے ملاقاتیں ہوئیں،وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی اقتصادی فورم میں خصوصی خطاب میں بھی شریک تھے۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا امکان

    وزیراعظم شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا امکان

    وزیراعظم محمد شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، زیورخ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پاکستان کے مستقل نمائندے محمد بلال، سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی سفیر مرغوب سلیم اور پاکستانی سفارتی عملے نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔

    وزیراعظم اجلاس کے مختلف سیشنز میں حصہ لیں گے وہ ورلڈ اکنامک فورم کی میزبانی اور شراکت داری میں منعقدہ بزنس راؤنڈ ٹیبل میں بھی شرکت کریں گےوزیراعظم پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی اصلاحات اور بہتر ہوتے معاشی اشاریوں پر روشنی ڈالیں گے اور ٹرپل او پروگرام (آرڈر، آپرچونیٹی، آپٹیمائزیشن) کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے،اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

    ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

  • ڈیووس:وزیراعظم  عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے

    ڈیووس:وزیراعظم عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے

    وزیراعظم شہباز شریف ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے-

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف 20 سے 22 جنوری تک سویٹزرلینڈ کے ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اجلاس میں سیاسی رہنما، کاروباری شخصیات اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے، جہاں وزیراعظم پاکستان کے مؤقف، معیشت، سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع اجاگر کریں گے۔

    اجلاس میں وزیراعظم ’منقسم دنیا میں مکالمے کی روح کی بحالی‘ کے موضوع پر خطاب کریں گے اور مختلف بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ پاکستان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی ’بزنس راؤنڈ ٹیبل‘ کی صدارت بھی کریں گےدورے کے دوران وزیراعظم مختلف عالمی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کی معیشت، تجارت، سرمایہ کاری کے شعبے اور حکومت کے وژن و کامیابیوں کو اجاگر کریں گے۔

    ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں سیاسی قائدین، کاروباری رہنما، بین الاقوامی اداروں کے سربراہان اور سول سوسائٹی کے نمائندے ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور یہ فورم جغرافیائی سیاسی، معاشی، سماجی اور ماحولیاتی امور پر غور و خوض کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

  • کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو،عالمی ادارہ صحت

    کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو،عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو –

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے آن لائن ڈیوس ایجنڈا 2022 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت میں ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا کہ فوری طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اقدامات اٹھائے جائیں جن کی وجہ سے اس کے شرح پھیلاؤ میں کمی آئے۔

    2022 میں کورونا وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے ،سربراہ ڈبلیو ایچ او

    انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو اور یہ ہمیشہ انسانی معاشرے میں موجود رہے لیکن ساتھ ہی امکان ظاہر کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے سبب اسپتالوں میں عائد کی جانے والی ہنگامی صورتحال کا سال رواں میں خاتمہ ہو سکتا ہے۔

    مائیکل ریان نے واضح کیا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کا واحد مؤثر طریقہ کار ویکسینیشن کرانا اور جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ مستقبل میں کورونا مستقل بنیادوں پر انسانی معاشرے میں رہتا بھی ہے تو وہ اس قدر مہلک و خطرناک ثابت نہیں ہو گا جتنا اپنے ابتدائی دور میں تھا کورونا کے تیز پھیلاؤ کی وجہ سے بھی انسانوں میں قوت مدافعت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

    واضح رہے کہ اس سے قبل لمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ 2022 میں کورونا کی وبا ختم ہونے کی توقع ہے کیونکہ دنیا کے پاس اب وبا پرقابو پانے کے لئے آلات موجود ہیں۔

    ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ جب تک عدم مساوات برقراررہے گی اس وقت تک وبا بھی جاری رہے گی افریقہ میں طبی عملے کی بھی مکمل ویکسین نہیں ہوئی جبکہ یورپ میں عوام کو بوسٹرخوراک لگائی جارہی ہے عدم مساوات کی وجہ سے ویرینٹ کے پھیلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے عدم مساوات ختم ہوگی تو وبا بھی ختم ہوجائے گی اوریہ ڈراؤنا خواب بھی جس میں ہم اب جی رہے ہیں-

    قبل ازیں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے بھی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا کی قسم اومی کرون کی لہر ختم ہونے کے بعد آئندہ سال تک کووڈ کے بہت کم کیسز دیکھنے میں آئیں گے۔

    کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر سوال جواب کے سیشن کے دوران جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کب اور کیسے ختم ہوگی؟ تو بل گیٹس نے کہا تھا کہ اومی کرون کی لہر سے دنیا بھر کے ممالک کے طبی نظام کو چیلنج کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ اس سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے زیادہ تر افراد وہ ہیں جن کی ویکسی نیشن نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ جب اومی کرون کی لہر ختم ہوگی تو باقی سال میں ہم کووڈ کے بہت کم کیسز دیکھیں گے اور یہ بیماری سیزنل فلو(موسمی بخار) جیسی ہوجائے گی۔

    وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت کا بڑا فیصلہ: بوسٹر ڈوز میں ایک اور ویکسین کا اضافہ

    ایک سوال کے جواب میں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کا کہنا تھا کہ موجودہ ویکسینز سے بیماری کی سنگین شدت اور اموات کی شرح کی روک تھام میں کامیابی ملی ہے لیکن اب بھی موجودہ ویکسینز دو بنیادی عناصر سے محروم ہیں اول یہ کہ ویکسینز کے استعمال کے بعد بھی بیماری کا سامنا ہوسکتا ہے اور دوئم یہ کہ ہمیں ان کے اثر کا دورانیہ بھی محدود نظر آتا ہےتاہم ہمیں ایسی ویکسینز کی ضرورت ہے جو دوباری بیماری کی روک تھام آئندہ کئی برسوں تک مؤثر طریقے سے کرسکیں۔

  • ‏ورلڈ اکنامک فورم کا ہنگامی اجلاس کل ہوگا

    ‏ورلڈ اکنامک فورم کا ہنگامی اجلاس کل ہوگا

    ‏ورلڈ اکنامک فورم کا ہنگامی اجلاس کل ہوگا، وزیراعظم شرکت کریں گے.
    وزیراعظم ویڈیو لنک کے ذریعے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کریں گے.
    وزیراعظم ورلڈ اکنامک فورم میں موجودہ عالمی صورتحال پر بات کریں گے.
    ‏وزیراعظم عالمی فورم کو انسداد کورونا کیلئے اقدامات سے آگاہ کریں گے.
    دنیا بھر کے سربراہان مملکت، سربراہان حکومت، عالمی رہنما شریک ہوں گے.