Baaghi TV

Tag: ورلڈ فوڈ پروگرام

  • افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور لاکھوں بچے خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں جاری معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں تقریباً 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث ان میں سے بڑی تعداد کو امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب تقریباً 17.4 ملین افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کئی بیمار بچے علاج کے مراکز تک بھی نہیں پہنچ پا رہے اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق افغانستان کو درپیش معاشی اور انتظامی بحران نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی ملک میں وسائل کی کمی اور بدانتظامی کے باعث عوامی محرومی کی نشاندہی کر چکے ہیں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مزید انسانی المیہ جنم نہ لے۔

  • وزیر اعلی سندھ سے  ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر  کی ملاقات

    وزیر اعلی سندھ سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر مس کوکو اوشیاما نے ملاقات کی اور ماں اور بچے کی صحت کی دیکھ بھال اور پرائمری اسکول طلبہ کے لیے 578.39 ملین روپے کے پائلٹ پراجیکٹ کے آغاز کے حوالے سے بات چیت کی.

    باغی ٹی وی کے مطابق مس اوشیاما نے سندھ میں WFP کے موجودہ پروگراموں کا ایک جائزہ پیش کیا، جس میں ماں اور بچے کی غذائیت (MCN) پر خصوصی زور دیا گیا۔ انہوں نے غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے اسٹنٹنگ، ویسٹنگ، کنڈیشنل کیش ٹرانسفرز (سی سی ٹی)اور فوڈ سپلیمنٹس کی تقسیم سمیت دیگر شعبوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ڈبلیو ایف پی کے تعاون کو سراہتے ہوئے سندھ حکومت کے صحت پر مرکوز اقدامات کی تفصیلات بتائیں۔

    ملاقات میں نشوونما اور ممتا جیسے جاری پروگرام کے فروغ اور ایک نئی اسکول فیڈنگ اسکیم کے ذریعے غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملاقات میں وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکرٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکرٹری سوشل پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ مزمل ہالیپوٹو اور سیکرٹری صحت ریحان بلوچ نے شرکت کی جبکہ ڈبلیو ایف پی کا وفد صوبائی دفتر کی سربراہ مس ہلڈے برگسامہ اور پالیسی آفیسر مس سلمی یعقوب پر مشتمل تھا۔

    ان اقدامات میں دو بڑے پروگراموں کے ذریعے حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے ساتھ غذائی قلت کا شکار بچوں کی مدد بھی شامل ہے جن میں ایک وفاقی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے نشوونما اور دوسرا صوبائی مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام (ممتا) شامل ہیں۔ ملاقات میں دونوں پروگراموں سے متعلق ڈپلیکیشن خدشات کو بھی دور کیا گیا۔ یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اگرچہ کچھ اوورلیپس موجود ہیں مگر دونوں پروگراموں کے ڈیزائن بڑی حد تک تکمیلی ہیں۔

    پروگرام کا مقصد 11,000 پرائمری اسکول کے طلبا گریڈ کچھی سے 5 کو روزانہ تازہ کھانا فراہم کرنا ہے تاکہ سیکھنے، حاضری اور غذائیت کو بہتر بنایا جا سکے۔سندھ حکومت 462.71 ملین روپے 80 فیصد جبکہ ڈبلیو ایف پی 115.68 ملین روپے (20 فیصد فراہم کرے گی۔ یہ اقدام کلاس روم میں بھوک سے نمٹنے، توجہ اور تعلیمی کارکردگی کو بڑھانے اور لڑکیوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے اور صنفی امتیاز کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    پاکستانی ایف ایم ریڈیو پر بھارتی گانے بند، وزیر اطلاعات کا خیر مقدم

    شرط لگاکر شراب پینے والا 21 سالہ نوجوان ہلاک

    بارش کے دوران حادثات، 5 افراد جاں بحق

    ڈیم پر سیر کیلئے جانے والی کشتی ڈوب گئی، 6 افراد سوار

    کشیدگی کے باوجود پاکستان کا پرچم بردار بحری جہاز بھارتی بندرگاہ پر موجود

  • ورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد کی چیف سیکریٹری سندھ اور صوبائی وزیر صحت سے ملاقات

    ورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد کی چیف سیکریٹری سندھ اور صوبائی وزیر صحت سے ملاقات

    کراچی :ورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رامیرو لوپس کی سربراہی میں 6 رکنی وفد کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات۔ ملاقات میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عزرا پیچوہو، پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر قاسم سومرو، سیکریٹری بلدیات سید نجم احمد شاہ، سیکریٹری زراعت سمیت دیگر شریک ہوئے۔ ملاقات میں سندھ میں فوڈ سیکیورٹی اور غذائیت کے تازہ ترین اعدادوشمار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے کہا کہ سیلاب سے صوبے کے 23 اضلاع کے فصل کو بہت نقصان ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کے سندھ چاول ایکسپورٹ کرتا رہا ہے مگر اس سال بارش اور سیلاب کی وجہ سے صوبے میں چاول کی فصل بری طرح متاثر ہوئے یے۔ انہونے کہا کے کوشش ہے کے گندم کی فصل کو یقینی بنایا جائے اور گندم کی فصل کے لئے کاشتکاروں کو فری بیج دینے کا پروگرام لا رہے ہیں۔ ملاقات میں صوبائی وزیر صحت اور پاپولیشن ڈاکٹر عزرا فضل پیچوہو نے کہا کے سندھ میں سیلاب متاثرین کو حکومت کی جانب سے راشن بیگ دئے جا رہے ہیں۔ حاملہ خواتین اور 2 سال تک کے بچوں کی نوٹریشن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی عالمی اداروں کی مدد سے یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    ملاقات میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ فوڈ پروگرام رامیرو لوپس ڈپٹی نے بتایا کے یونائیٹڈ نیشنز کی جانب سے منگل کو پاکستان کے لئے مزید 800 ملین ڈالر کی اپیل کی جائے گی۔ انہونے مزید کہا کے ہیڈکوارٹر سے سندھ کی صورتحال کا جائزہ لینا مشکل تھا یہاں آ کر احساس ہوا ہے کے یہان خوراک کی کمی کا سامنہ ہے۔ انہونے کہا کے وہ سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا کل دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کے وہ اس مشکل وقت میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو