Baaghi TV

Tag: وزارت حج

  • حج انتظامات کےلیے   وزارت حج کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حج انتظامات کےلیے وزارت حج کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کہا ہے کہ حج انتظامات کےلئے خادم الحرمین سلمان بن عبدالعزیز ،ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزارت حج کی خدمات قابل تحسین ہیں۔

    ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت ہر سال لاکھوں ضیوف الرحمان کے لیے خدمات کا معیار پچھلے برسوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل صرف کرتی ہے ۔ سعودی عرب کی وزارت حج نے دیگر محکمہ جات کیساتھ مل کر اس سال 1445ھ کے حج سیزن کے لیے اندرون و بیرون ملک سے تقریباً 10 لاکھ عازمین حج کی آمد کے لیے تمام حفاظتی ، سروسز، حجاج کے گروپوں کو کنٹرول کرنے اور ان کی نقل و حمل کے منصوبے اور حجاج کرام کی مہمان نوازی کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سعودی حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے منی، مزدلفہ اور عرفات کے عظیم ترقیاتی منصوبوں کی بدولت ضیوف الرحمان کو مناسک حج کی ادائیگی میں بہت آسانیاں اور سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں ۔ ضیوف الرحمان اطمینان و سکون کے ساتھ حج ادا کرتے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سعودی سفیر سعادت الاستاذ نواف بن سعید المالکی بھی خادم الحرمین الشریفین کے ہدایات کے مطابق پاکستانی حجاج ومعتمرین کے لیے ہر طرح کی سہولیات ا ور آسانیاں پیدا کرنے کےلئے کشاں رہتے ہی ااور حقیقی معنوں میں خادم الحرمین الشریفین کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہیں، ہم پاکستانی عوام کی طرف سے خادم الحرمین الشریفین ملک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، سعودی حکام اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کے شکرگزار ہیں اور ان کی کوششوں کو تحسین کی نظر دیکھتے ہیں۔ سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی جہاں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ہیں اسی طرح وہ سعودی عرب میں بھی پاکستان کی سفارت کاری کا حق ادا کرتے ہیں جس پر پاکستانی قوم سعودی سفیر کی کوششوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔

  • سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    گذشتہ دنوں مجھے سفرِ حجاز کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران بے شمار مشاہدات ہوئے۔ بہت سے زائرین سے ملاقات اور ان کے مسائل سے آگاہی ہوئی۔ زائرین کی پریشانیوں اور ان پریشانیوں کی وجہ بننے والے عناصر کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہونے سمیت کافی تلخ حقائق بھی نظر سے گزرے۔

    میرے مشاہدے میں آیا کہ حرمین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی) میں نمازیوں کی خدمت پر مامور عملہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے۔ شاید سعودی نجی ادارہ اس کام کیلئے کسی اور ملک کے لوگ رکھتا ہی نہیں۔ ان لوگوں کی ڈیوٹی حرمین کے عربی ملازمین سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ یہ معمولی تنخواہ کے عوض یہاں کام کر رہے ہیں۔ واٹرز کولرز کی بھرائی، حرمین کی بار بار فرشی اور واش رومز کی صفائی کرتے رہنے سمیت دیگر فرائض ہر گزرتے منٹ مسلسل ادا کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل ہیں۔ تمام ڈیوٹی کے دوران مسلسل کھڑے رہنا ان پر جیسے فرض کر دیا گیا ہے۔ سخت دھوپ میں بھی انہیں اپنے امور مسلسل نبھاتے رہنا ہے۔ اس دوران انہیں بیٹھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی سستانے کی۔ یہ خادمین بظاہر خوش باش دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے یہ خالی ہیں۔ میں نے ان کے چہروں پر بے بسی کے واضح آثار دیکھے ہیں۔

    حرمین کے واٹر کولرز (زمزم) پر ذمہ داری ادا کرنے والے ایک ہندوستانی خادم سے میں نے کہا کہ تم فارغ ہی کھڑے ہو۔ پانی کا کولر بھی بھرا ہوا ہے اور پینے والوں کا رش بھی نہیں ہے۔ فالتو کھڑے رہنے کی بجائے تھوڑی دیر بیٹھ کیوں نہیں جاتے؟۔ جواب ملا کہ چاہے پانی پینے والا کوئی نہ ہو، واٹر کولر بھی بیشک بھرا ہو، ہمیں اپنی ڈیوٹی کے دوران بیٹھنے، آرام کی اجازت نہیں ہے…… صفائی کے فرائض سر انجام دینے والے ایک بنگلہ دیشی لڑکے نے بتایا کہ تنخواہ محدود ہے اور ڈیوٹی سخت، مگر جو ملتا ہے صبر و شکر کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

    دورانِ سفر میں نے بارہا ہوٹلوں میں زائرین کو رہائش، آمد و رفت اور ٹریولنگ ایجنسیوں سے متعلقہ دیگر امور پر خوار ہوتے دیکھا۔ انہیں اپنے الاٹ شدہ مقامی ایجنٹوں سے رابطہ میں شدید مشکل اور پریشانی کا سامنے کرتے پایا۔ کیونکہ یہاں آنے کے بعد وہ قدم قدم اُس کمپنی کے ایجنٹ کے محتاج ہوتے ہیں جس کے ذریعے وہ ویزہ لگوا کر یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں۔ مگر ایجنٹ حضرات کی جانب سے مناسب رسپانس نہ ملنے پر وہ سخت خاصی کوفت کا شکار رہتے ہیں۔

    میرے پاس قلمبند کرنے کو کئی داستانیں موجود ہیں۔زیادہ تر داستانیں پہلی بار حجاز مقدس جانے والوں کی پریشانیوں پر مشتمل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زائرین اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ان کی سہولت کیلئے وزارت حج و عمرہ موجود ہے، جہاں وہ اپنے مسائل و مشکلات کے ازالے کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایجنٹ حضرات اس لاعلمی کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے مشاہدے کی غرض سے کئی ہوٹل وزٹ کئے۔ مجھے مذکورہ صورتحال سے مختلف دکھائی نہیں دی۔ صرف 3 فیصد لوگ اپنے ایجنٹوں سے مطمئن دکھائی دیئے۔ باقی 97فیصد لوگوں سے مجھے ان ٹریول سروسز اور ایجنٹس کے خلاف بددعائیں ہی سننے کو ملیں۔

    کئی پاکستانی زائرین سے گفتگو کے دوران مجھے ایک اور مشاہدہ بھی ہوا کہ حج، عمرہ کی سروسز فراہم کرنے والی اکثر کمپنیاں (ٹریولنگ ایجنٹ) غلط بیانی کر کے لوگوں کو بھیجتے ہیں۔ جو لوگ گروپ کی صورت میں جانا چاہتے تھے، انہیں یہ کہہ کر بھیجا گیا کہ آپ چلے جائیں، گروپ وہیں جا کر بنے گا۔ وہاں پہنچ کر کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون کس کمپنی یا ٹریول ایجنٹ کی طرف سے آیا ہے۔ لہذا انفرادی طور پر آنے والے زائرین کو اکیلے ہی اپنی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ آنے والوں کو تیاری کر کے آنے کے باوجود فرائض کی انجام دہی میں قدم قدم مشکل پیش آتی ہے۔

    اس کے برعکس میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ گروپس کی صورت میں آتے ہیں اور اجتماعی عبادات کرتے ہیں جس سے نہ صرف اک دوسرے کو ترویج و تحریک ملتی ہے بلکہ اس اجتماعی عمل سے دیگر افراد بھی استفادہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر پہلی مرتبہ آنے والوں کو مشترکہ سرگرمیوں کی وجہ سے کافی سہولت رہتی ہے۔ انہیں گائیڈ بھی میسر ہوتا ہے جس کی راہنمائی میں وہ عبادات میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں سفر کا فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    میں نے یہ عمل ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، برما، بنگلہ دیش، انڈیا، عراق، اور چند دیگر ممالک سے آنے والوں میں دیکھا۔ جو ہوٹل سے لے کر تمام عبادات اور واپسی تک اجتماعی عوامل سر انجام دے کر اک دوسرے کی راہنمائی کرتے اور قدم قدم پر مشترکہ عمل کرتے ہیں۔ جبکہ گروپس کی یہ سہولت صرف پاکستان کے چند ہی شہروں سے آنے والے زائرین کی صورت میں دکھائی دی۔ شاید پاکستان کے ٹریولنگ ایجنٹس کو یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ سالانہ کتنے زائرین بھجوا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں کتنی کمائی ہو رہی ہے۔ زائرین کی پریشانیوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔

    دوسری جانب حرمین کے انتظامی معاملات کے حوالے سے مجھے بیشتر امور پر رائے دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں سعودی حکام اور بالخصوص وزارت حج و عمرہ کو اس پر چند تجاویز ارسال کرنے کا متمنی ہوں، کیونکہ ان امور پر ہنگامی اقدامات وقت کا تقاضہ ہیں۔ اپنی ارسال کردہ تجاویز اور آراء میں سعودی وزارت حج و عمرہ سے یہ بھی درخواست کروں گاکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو ویزہ جاری کرتے ہوئے عدم تعاون کے حامل مقامی ایجنٹوں کی شکایت کیلئے سہولت کا کوئی نمبر بھی جاری کیا جائے …… زائرین کی آسانی کیلئے نہ صرف ہوٹلوں میں شکایت کاؤنٹر بنائے جائیں، بلکہ ایک فعال آن لائن کمپلینٹ پورٹل بھی بنایا جائے تا کہ زائرین اپنی شکایت رجسٹرڈ کروا سکیں اور ان کی مشکل کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے …… حج کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ بیان کردہ صورتحال کی مانیٹرنگ اور یقینی ازالے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے، نیز اگر اپنے ویژن 2030ء میں مذکورہ امور بھی شامل کرلے تو زائرین کی سہولت اور آسانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

  • پاکستان کا پرانا حج کوٹہ بحال،عمر کی حد بھی ختم

    پاکستان کا پرانا حج کوٹہ بحال،عمر کی حد بھی ختم

    سعودی عرب نے پاکستان کا پرانا حج کوٹہ بحال کردیا اور ساتھ ہی 65 سال عمر کی بالائی حد ختم کردی۔

    باغی ٹی وی: وزارت مذہبی امور کے مطابق وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور سعودی عرب کی دعوت پر 4 روزہ عالمی حج کانفرنس میں شرکت کیلئے جدہ پہنچ گئےجہاں انہوں نے سعودی ہم منصب ڈاکٹر توفیق بن الربیعہ سمیت کئی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور اداروں کا دورہ کیا۔

    روہڑی ریلوے اسٹیشن کے قریب پاک بزنس ایکسپریس کو حادثہ

    سعودی حکام کی جانب سے وزیر مذہبی امور کو سالانہ حج معاہدے کا مسودہ موصول ہو گیا ہے جس کے تحت پاکستان کا پرانا حج کوٹا بحال کر دیا گیا ہے جس کے بعد پاکستان سے رواں سال ایک لاکھ 79 ہزار 210 حجاج کرام حج کر سکیں گے-

    سعودی حکومت کیجانب سے65 سال کی بالائی حد کوبھی ختم کردیا گیا ہے،50 فیصد حجاج مدینہ ایئرپورٹ جبکہ 50 فیصد جدہ ایئرپورٹ پراتارے جائیں گے۔

    وزارت کے مطابق رواں سال حج درخواستیں فروری کے آخر تک طلب کیے جانے کا امکان ہے جبکہ کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور حتمی حج پالیسی 2023 کا اعلان کرینگے۔

    ایبٹ اور پی آئی اے کے درمیان بہتر غذائیت کے ذریعے بچوں کی نشوونما میں معاونت کے…

    پاکستان، بھارت، ایران، ترکیہ، سوڈان، یمن،ازبکستان، ملائیشیا،بحرین سمیت 19 ممالک کے وفود نے حج معاہدوں پر دستخط کردیئے ہیں کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور حتمی حج پالیسی 2023 کا اعلان کریں گے-

    انہوں نے کہا کہ معاہدے میں عازمین کی تعداد، آمد، روانگی اور پیش کی جانے والی خدمات کا ذکر ہے۔

    علاوہ ازیں سعودی وزیر حج و عمرہ توفیق الربیعہ سے 12 ممالک کےوزراپرمشتمل وفدنے ملاقات کی جس میں انہیں عازمین حج کوپیش کی جانےوالی نئی سہولتوں سےمتعلق تفصیلات بھی بتائی گئیں۔

    پاکستانی ویمن فٹبال ٹیم چارملکی ٹورنامنٹ میں حصہ لینےکیلئے آج سعودی عرب روانہ

  • 7027 غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی نے کھلبلی مچا دی

    7027 غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی نے کھلبلی مچا دی

    مکہ:سعودی وزارت حج کی طرف سے بار بار تاکید کیے جانے کے پھر بھی 7 ہزارسے غیرملکیوں نے حج قوانین کی خلاف ورزی کرکے سعودی حکام کو مشکل میں ڈال دیا ہے. اطلاعات کے مطابق حج قوانین کی خلاف ورزی پر 7027 غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔حج اجازت نامے کے بغیر مکہ مکرمہ دراندازی کی کوشش کرنے والے 40 ہزار352 افراد کو واپس کردیا گیا جبکہ 288 جعلی حج دفاتر کو سربمہر کردیا گیا۔ یہ اعداد وشمار سعودی محکمہ پاسپورٹ اور امن عامہ نے منی میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتائے۔

    سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق محکمہ پاسپورٹ کے عہدیداروں نے بتایا کہ حج قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کے فنگر پرنٹ لئے گئے ہیں جن کے خلاف قانونی کارروائی حج کے بعد کی جائے گی۔اس اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حج قوانین کی خلاف ورزی پر 2 لاکھ 44 ہزار 845 گاڑیوں کو مکہ مکرمہ سے واپس کردیا گیا ہے۔ ان گاڑیوں میں حاجیوں کو مکہ مکرمہ لے جایا جارہا تھا۔

    حجاج کو مشاعر مقدسہ لے جانے والی بسوں سے سر زد ہونے والی خلاف ورزیوں پر 130 اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ پہنچ جانے والے 5 لاکھ سے زائد افراد کو واپس کردیا گیا ہے جن کے پاس حج پرمٹ نہیں تھا۔سعودی وزارت حج نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں.