Baaghi TV

Tag: وزارت قانون

  • ڈیجیٹل اثاثوں کی قانون سازی: وزارت قانون نے مجوزہ مسودہ کرپٹو کونسل میں پیش کر دیا

    ڈیجیٹل اثاثوں کی قانون سازی: وزارت قانون نے مجوزہ مسودہ کرپٹو کونسل میں پیش کر دیا

    وزارت قانون نے ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق قانون سازی کے لیے تیار کردہ قانونی مسودہ پاکستان کرپٹو کونسل کے اجلاس میں پیش کر دیا ہے۔ اس مجوزہ قانون میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے۔

    وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں ڈیجیٹل اثاثوں کی قانون سازی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ مسودہ کرپٹو کونسل کے اراکین کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے، جس میں گورننس، پروٹوکول اور سرمایہ کاروں کے تحفظ جیسے اہم نکات کو شامل کیا گیا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق مجوزہ قانونی فریم ورک کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا گیا ہے اور اجلاس میں اس فریم ورک کا مکمل جائزہ لیا گیا۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے اس قانونی فریم ورک پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس فریم ورک کو ہنگامی بنیادوں پر منظوری دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    واضح رہے کہ حکومت پاکستان حالیہ عرصے میں ڈیجیٹل کرنسیوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ رواں برس مارچ میں پاکستان کرپٹو کونسل کے قیام کا مقصد بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے مناسب ضوابط مرتب کرنا اور انہیں فروغ دینا تھا۔

    بلاول بھٹو کا بھارت کو انتباہ،پانی پر مذاکرات سے ہی مسائل حل ہوں گے
    یو اے ای میں 139 ملین درہم کے قرضے معاف، عید پر 1900 سے زائد قیدیوں کی رہائی

  • وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    وزارت قانون و انصاف نے ضابطہ فوجداری 1898 میں جامع اصلاحات کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت قانو ن و انصاف کا کہنا ہے کہ کابینہ کی منظوری کے بعد مجوزہ ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا.وزارت قانون کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے ضابطہ میں ترامیم کی تجویز دی، ترامیم بار کونسلز، وکلا، پراسیکیوٹرز، ججوں سے مشاورت کی عکاسی کرتی ہیں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 1898 کے کرمنل پروسیجر کوڈ میں وسیع پیمانے پر اصلاحات پیش کیں، وفاقی کابینہ کے سامنے مجوزہ ترمیم پیش کی گئیں جن کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔مجوزہ اصلاحات میں تیزی لانے اور واضح عمل کو یقینی بنایا گیا، ایف آئی آر الیکٹرانک ذریعہ سے جمع کروانے کا طریقہ کار متعارف کروایا جارہا ہے، ابتدائی پوچھ گچھ کے اختیارات کے ساتھ ایف آئی آر کا اندراج متعارف کراویا جائے گا۔وزارت قانون کے مطابق ترامیم کے تحت صرف خواتین افسران ہی خواتین کو گرفتار کرسکتی ہیں، جدید تفتیشی ٹولز، آڈیو، ویڈیو ریکارڈنگ سے شواہد کی درستگی کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔پراسیکیوٹرز کو پولیس رپورٹس میں خامیوں کی نشاندہی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، ترمیم کے مطابق ثبوت کم ہونے کی صورت میں تفتیش کو معطل بھی کیا جاسکتا ہے، اصلاحات سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہوگا۔

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    یونان کشتی حادثہ، نوجوانوں نے ایجنٹ کو 24 لاکھ فی کس دیے

  • کوئی رکن غیر حاضر ہو تو  جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا ،وزرات قانون

    کوئی رکن غیر حاضر ہو تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا ،وزرات قانون

    26ویں آئینی ترمیم سے متعلق وزارت قانون کی وضاحت سامنے آئی ہے

    وزارت قانون کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن 13اراکین پر مشتمل ہوگا،کمیشن کے پہلے اجلاس میں آئینی بینچوں کی تشکیل کیلئے ججز کو نامزدکیا جائے گا،آئینی بینچوں کا سربراہ نامزد ججز میں سے سینئر ترین جج ہوگا،آئینی بینچوں کاسینئر ترین جج کمیشن کارکن ہوگا،کمیشن کاکوئی فیصلہ اس بنیاد پر باطل نہیں ہوگا کہ کوئی آسامی خالی یا رکن غیر حاضر ہو،وزارت قانون کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹس میں آئینی بینچوں کی تشکیل آرٹیکل 202 اے کے تحت کمیشن کی جانب سے کی جائے گی،تاہم ایسی تشکیل اس وقت تک مؤثر ہو گی جب پارلیمنٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ کی نسبت اور صوبائی اسمبلیاں اپنی متعلقہ ہائیکورٹس کی نسبت قرارداد کل رکنیت کی اکثریت سے منظور کرے،لہذا ہائیکورٹس میں آئینی بینچوں کی تشکیل سے پہلے،متعلہ ہائیکورٹس کے پاس ویسے ہی مقدمات کی سماعت کا دائرہ اختیار ہےجیسا کی مذکورہ ترمیم سے پہلے تھا،

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • جسٹس عمرعطا بندیال کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی سمری تیار

    جسٹس عمرعطا بندیال کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی سمری تیار

    اسلام آباد: وزارت قانون نے جسٹس عمر عطا بندیال کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی سمری تیار کرلی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزارت قانون نے جسٹس عمر عطا بندیال کی بطور نئے چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کے لئے سمری تیار کرلی ہے۔ اور ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف نے سمری منظوری کے لیے ایوان صدر بھی ارسال کردی ہے۔

    منی بجٹ معاشی طور پر 22 کروڑ عوام کے لیے موت کا پروانہ ہے،حافظ حمد اللہ

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت عارف علوی جسٹس عمر عطا بندیال کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دیں گے، اور ان کی منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد یکم فروری کو ریٹائر ہوجائیں گےجسٹس عمر عطا بندیال بطور چیف جسٹس آف پاکستان عہدےکاحلف2 فروری کو اٹھائیں گےجس کی مدت 19 ماہ ہوگی یہ تبدیلی سنیارٹی کی بنیاد پرعمل میں لائی جا رہی ہےصدر پاکستان اس سلسلے میں ضروری نوٹیفکیشن جاری کرنے کے مجاز ہیں۔

    سندھ پولیس کے 1 ہزار سے زائد اہلکاروں کی فوجی تربیت کا آغاز

    سپریم کورٹ کے ججز کی تکمیل مدت ملازمت 65 اورہائی کورٹ کےججوں کی عمر کی حد 62 سال ہےایسا ایک سے زائد بار ہوا ہے کہ ہائی کورٹ میں جونیئر کوئی جج عدالت عظمیٰ میں پہنچ کرسینئر ہو جاتا ہےجسٹس گلزاراحمد نے 21 دسمبر 2019ء کوجسٹس ثاقب نثار کی جگہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالاتھاجسٹس بندیال 18 ستمبر 2023ء اپنے ریٹائرمنٹ تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس رہیں گے اس دوران پاکستان میں عام انتخابات بھی ہوں گے۔

    کوئٹہ:گوادرشہراورمضافات میں زلزلے کے جھٹکے

    جسٹس بندیال کے منصب کی میعاد مکمل ہونےپرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان کی جگہ لیں گے ان کی چیف جسٹس کے لئے میعاد 25 اکتوبر 2024ء تک ہوگی اس دوران انہیں صدر عارف علوی کی جانب سے اپنے خلاف دائر ریفرنس کا بھی سامناکرناہوگااس دوران جسٹس مقبول باقر اور جسٹس مظہر عالم خان چیف جسٹس بنے بغیر ہی عدالت عظمیٰ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

    کورونا وبا:ملک میں اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

    جسٹس عمر عطاء بندیال نے 4 دسمبر 2004ء کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اُٹھایا لیکن نومبر 2007ء میں انہوں نے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا بعدازاں وہ دو سال کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے-

    لاہور: ملتان روڈ پر واقع ہاؤسنگ سوسائٹی کے باہر دھماکا، 8 افراد زخمی

    جون 2014ء میں ان کو سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا۔ اپنے اعلیٰ عدالتوں میں منصب قاضی کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جسٹس بندیال نے اہم مقدمات کے فیصلے دیئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کوہاٹ، راولپنڈی اور پشاور میں حاصل کرنے کے بعد کولمبیا یونیورسٹی امریکا سے گریجویشن کیا کیمبرج یونیورسٹی کے لنکن اِن سے بیرسٹر کی سند حاصل کی۔ 1983ء میں لاہور ہائی کورٹ اور کچھ برسوں بعد سپریم کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے درج ہوئے۔