Baaghi TV

Tag: وزرائے خارجہ

  • ایرانی حملے پر خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا مشترکا اعلامیہ جاری

    ایرانی حملے پر خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا مشترکا اعلامیہ جاری

    خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے ایرانی جارحیت کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے اور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

    خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرے، یہ مطالبہ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کیا گیا۔

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر اور کویت کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ وہ ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے رکن ممالک اپنی علاقائی خودمختاری، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔

    ایران کا اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع ، تل ابیب، یروشلم دھماکوں سے گونج اٹھے

    بیان میں ایران کی جانب سے مبینہ جارحانہ اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ خطے کے امن و استحکام کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گاسپلائی چین کے تحفظ اور عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے کیونکہ موجودہ صورتحال سے خطے اور دنیا کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے،کونسل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

    انٹیلی جنس کا تہلکہ خیز دعویٰ: ایرانی قیادت میں ‘ڈاکٹرز’ کے روپ میں موساد کے ایجنٹوں کی دراندازی

  • اسلام آباد:پاکستان اور میانمار کے وزرائے خارجہ  کے درمیان ملاقات

    اسلام آباد:پاکستان اور میانمار کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات

    جمہوریہ یونین آف میانمار کے وزیرِ خارجہ یو تھان سوے نے پیر کو وزارت خارجہ اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی-

    ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات و سیاسی مشاورت سے متعلق مفاہمتی یادداشت پردستخط کیے گئےجس کا مقصد دو طرفہ روابط کو مزید مستحکم بنانا ہے،پاکستان اور میانمار کے مابین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا گیا فریقین نے دو طرفہ روابط کی موجودہ صورتحال، علاقائی امن و سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    مذاکرات میں تجارت اور اقتصادی تعاون، استعداد کار میں اضافہ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون اور قونصلر امور کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا، اس موقع پر بیرونِ ملک اسکیمنگ آپریشنز سے متاثرہ افراد سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور میانمار کے عوام کے درمیان دیرینہ دوستی اور تاریخی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے ثقافتی تعاون کے فروغ اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا اس ضمن میں تعلیمی روابط، نوجوانوں کے تبادلے اور ثقافتی سرگرمیوں کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    میانمار کے وزیرِ خارجہ نے مذہبی سیاحت کو ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات اور عوامی روابط کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے میانمار کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال میانمار کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا انہوں نے میانمار میں قومی مفاہمت کے حق میں پاکستان کے اصولی مؤقف کو بھی دہرایا۔

    واضح رہے کہ میانمار کے وزیر خارجہ ان دنوں دو طرفہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں۔

  • اسلامی تعاون تنظیم: وزرائے خارجہ کا اجلاس،اسرائیلی جارحیت کی مذمت

    اسلامی تعاون تنظیم: وزرائے خارجہ کا اجلاس،اسرائیلی جارحیت کی مذمت

    –اسلامی تعاون تنظیم کے تحت اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اہم اجلاس آج استنبول میں شروع ہو رہا ہے-

    اجلاس پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوا، جبکہ اس سے قبل شرکاء کا روایتی گروپ فوٹو سیشن منعقد گیا اجلاس سے خطاب میں چیئرمین او آئی سی نے کہا کہ ایران اور غزا میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں ایران اور اسرائیل کی جنگ ختم ہونا چاہیے مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کیا جائے-

    اوآئی سی وزرائے خارجہ خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ نیتن یاہو ہٹلر پورےخطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے لہٰذا مسلمانوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے اور یہ وقت ہے کہ اپنے اختلافات کو ختم کرکے ایک ہوجائیں،اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں پرحملے کررہا ہے اور مسلسل خطے کو عدم استحکام کا شکارکررہا ہے نیتن یاہو حکومت خطے میں امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اسرائیل نے یمن، لیبیا اور شام پرجارحیت کے بعد ایران پرحملہ کردیا ہے، اسرائیل کی ایران پرجارحیت کی مذمت کرتے ہیں، ترک عوام ایرانی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    طیب اردوان نے کہا کہ مسلمانوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے، یہ وقت ہے کہ اپنے اختلافات کو ختم کرکے ایک ہوجائیں، خطےکو مزید تباہی سے بچانا ہوگا، عالمی برادری اسرائیلی جارحیت رکوانے کےلیے کردار ادا کرے، اسرائیلی حملوں سے خطہ تباہی کی طرف جارہا ہے لہٰذا اسرائیل اورایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو روکنا ہوگا۔

    ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل پورے خطے میں اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے اور اسرائیل کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، نیتن یاہوہٹلر پورےخطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے، اسرائیل اس جنگ کو پورےخطے میں پھیلانا چاہتاہے، اس مسئلےکا حل سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، ہمارا خطہ مزید جنگ یاعدم استحکام برداشت نہیں کرسکتا انہوں نے فلسطین کے دو ریاستی حل کا بھی مطالبہ کیا۔

    ترک صدر نے واضح کیا کہ ’سرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے فلسطینیوں کا غم ہمارا غم ہے اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے جو پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے اسرائیل اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا ہوگا اور غزہ میں فوری جنگ بندی ضروری ہے۔

    انہوں نے مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ مسلمان متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کریں’صیہونی ریاست پورے خطے میں اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے اور اسرائیل کی اپنی نیوکلیئر سرگرمیوں کا کوئی حساب نہیں ہےخطے کو مزید تباہی سے بچانا ہوگا ہمیں یقین ہے کہ فتح ایران کا مقدر ہوگی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران مشکل وقت سے ضرور نکلے گا انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمے داری ادا کرے، کیونکہ دنیا مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر صدر اردوان نے کہا کہ ’اسرائیل کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اور فلسطین ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔‘

    اجلاس سے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بھی کلیدی خطاب کریں گے اجلاس میں موجودہ صورتحال پر مشترکہ مؤقف اپنانے کی کوشش کی جائے گی،ذرائع کے مطابق پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کر رہے ہیں، جو اجلاس سے خطاب میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور مسلم اُمہ کو درپیش مسائل، فلسطین و کشمیر کی صورتحال، اسلاموفوبیا اور علاقائی تناؤ کےحوالے سےپاکستان کی سفارتی ترجیحات واضح کریں گے۔

    ائیر شو کے دورے پر فرانسیسی وزیر اعظم رافیل طیارے میں پھنس گئے

    ذرائع کے مطابق اجلاس کی سائیڈ لائنز پر اہم دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں اسحاق ڈار کی سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترک وزیر خارجہ حقان فدان سے ملاقاتیں شیڈول کی گئی ہیں۔

    بینظیر بھٹو شہید کی 72 ویں سالگرہ کے موقع پر صدر مملکت کا پیغام

  • او آئی سی نے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس طلب کر لیا

    ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے بعد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے 21 جون کو وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس طلب کر لیا،یہ اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں ہو گا-

    اجلاس میں اسرائیلی اقدامات کے خلاف خصوصی سیشن ہوگا، جس میں رکن ممالک کی اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی،ترک صدر رجب طیب اردوان افتتاحی سیشن سے خطاب کریں گے، پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے، جو جمعہ کو استنبول پہنچیں گے وہ اجلاس میں ایران پر اسرائیلی حملوں سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح طور پر پیش کریں گے۔جبکہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان بھی اجلاس میں شریک ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے –

    اجلاس کے دوران اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، اور بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ توحید حسین سمیت آذربائیجان، ترکیہ، ملائشیا، مصر اور کویت کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں طے ہیں،جبکہ او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کا اجلاس بھی اتوار کے روز استنبول میں منعقد ہوگا، جس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

    پہلگام واقعہ بھارت کی سیکیورٹی ناکامی تھی”امر جیت سنگھ دولت

    شیری رحمان کی ایوانِ صدر میں صدر مملکت سے اہم ملاقات

    بلاسود قرض کے نام پر آن لائن لوٹ مار، شہریوں کی زندگیاں تباہ، ریاستی ادارے محض تماشائی

  • اسحاق ڈار کا چین، اماراتی وزرائے خارجہ سے رابطہ،تازہ  پیشرفت سے آگاہ کردیا

    اسحاق ڈار کا چین، اماراتی وزرائے خارجہ سے رابطہ،تازہ پیشرفت سے آگاہ کردیا

    اسلام آباد:نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے چین اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو فون کرکے بھارت کے ساتھ ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کردیا۔

    دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات کے ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید سے رابطہ کیا اور اس موقع پر اماراتی وزیرخارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔

    نائب وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کے لیے متحدہ عرب امارات کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

    دفترخارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی سے بھی رابطہ کیا اور اسحاق ڈار نے بھارتی جارحیت اور پاکستان کے ردعمل پر وانگ ژی کو آگاہ کیا۔

    چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے پاکستان کے تحمل اور ذمہ دارانہ رویے کو سراہا اور کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے اور آئندہ دنوں میں مسلسل ہم آہنگی پر اتفاق کیا۔

  • امریکی وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب سےطویل ملاقات

    امریکی وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب سےطویل ملاقات

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے چین کے دو روزہ دورے کے موقع پر چینی وزیر خارجہ چن گانگ سے وفد کے ہمراہ ساڑھے 5 گھنٹے طویل ملاقات کی، ملاقات میں چینی محکمہ خارجہ کا وفد بھی شریک رہا۔

    باغی ٹی وی: وزرائے خارجہ کی ملاقات کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انٹونی بلنکن کی چینی وزیر خارجہ سے واضح، ٹھوس اورمعیاری بات چیت ہوئی ہے، ملاقات کے دوران بلنکن نے سفارتکاری کی اہمیت اور مواصلات کے چینلز کھلے رکھنے پر زور دیا ہے۔


    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نےمشترکہ بین الاقوامی مسائل پر تعاون کے مواقع پر بھی بات کی جبکہ رابطوں کے تسلسل کیلئے چینی وزیرخارجہ کو واشنگٹن آنے کی دعوت بھی دی گئی انٹونی بلنکن کی دعوت کے جواب میں چینی وزیر خارجہ نے مناسب وقت پر امریکا آنے کی حامی بھرلی ہے۔

    عالمی طاقتوں سے تعلقات میں توازن رکھنا مشکل. وزیر دفاع

    دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تائیوان امریکا کے ساتھ تعلقات میں "سب سے اہم خطرے” کی نمائندگی کرتا ہے۔چینی وزیر خارجہ چِن گانگ نے یہ بات امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن سے بیجنگ میں ملاقات کے بعد کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں "واضح” بات چیت کی ہے۔

    چینی وزیر خارجہ نے بلنکن کو بتایا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات کا اساسی مسئلہ ہے، یہ چین اور امریکا کے تعلقات میں سب سے اہم اور بڑا خطرہ ہے۔


    چینی وزارت خارجہ نے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں وزراء خارجہ کے درمیان طویل بات چیت ہوئی ہے اور انھوں نے بات چیت کو’’واضح، گہری اور تعمیری‘‘قرار دیا ہے۔

    یونان میں عوام کا تارکینِ وطن کے خلاف پالیسیوں پر احتجاج

    چینی وزیر خارجہ نے بلنکن کو بتایا کہ چین امریکا کے ساتھ "مستحکم، قابل پیشین گوئی اور تعمیری” تعلقات قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ واشنگٹن چین کے بارے میں معروضی اورعقلی تفہیم کو برقراررکھے گاوہ دوطرفہ تعلقات کی سیاسی بنیاد کو برقرار رکھے گا اور غیر متوقع واقعات سے پرامن انداز میں، پیشہ ورانہ اور منطقی طور پر نمٹے گا۔

    واضح رہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بیجنگ کے ساتھ سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے، جس کا مقصد مختلف متنازع امور سے پیدا ہونے والی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ ان میں جمہوری طور پر نظم ونسق چلانے والے تائیوان پر چین کا علاقائی دعویٰ، اور بحیرہ جنوبی چین میں اس کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمی ایسے امور اہمیت کے حامل ہیں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بائیڈن انتظامیہ سے چین کا دورہ کرنے والے پہلے اعلیٰ عہدیدار ہیں۔

    سعودی عرب؛ مساجد مینار پر براڈکاسٹ ٹاورز استعمال کرنے کی اجازت

  • آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے افغان اور چینی وزرائے خارجہ کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے افغان اور چینی وزرائے خارجہ کی ملاقات

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے چینی اسٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ ایچ چن یانگ سے اپنے دفتر میں ملاقات کی،علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران،آرمی چیف جنرل سید عاصم منییر نے چین پاکستان اسٹریٹجک تعلقات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) منصوبے کے لیے بھی مکمل حمایت کا وعدہ کیا، جو کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر پاکستان کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو بھی سراہا۔

    سندھ کے 24 اضلاع کی 63 نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ جاری

    آئی ایس پی آر کے مطابق وزیر خارجہ چن یانگ نے برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تزویراتی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور سی پیک پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بروقت تکمیل کے لیے چین کے عزم کے اعادہ کیا۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں شخصیات نے خطے میں سیکیورٹی کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا آرمی چیف نے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں چین کے کردار کو تسلیم کیا، اور دونوں فریقوں نے مشترکہ سیکورٹی چیلنجوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں اپنے موجودہ تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    ملاقات ایک مثبت نوٹ پر اختتام پذیر ہوئی، دونوں فریقین نے پاکستان اور چین کے درمیان وقتی آزمائش، ہمہ موسم دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وادی ہنزہ میں زلزلے کے جھٹکے

    دوسری جانب آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قائم مقام افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی نے ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی، بارڈر منیجمنٹ اور باہمی دلچسپی کے امورپرتبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں موجودہ سکیورٹی ماحول میں بہتری کے لیے میکنزم بہتربنانے پرگفتگو کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیرکا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ضروری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغان وزیرخارجہ نے افغان عوام کے لیے پاکستان کی روایتی حمایت کوسراہاامیر خان متقی کا کہنا تھا کہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کےفروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرنا چاہتے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نےافغان عبوری حکومت کی جانب سے مکمل حمایت اور عزم کی ضرورت کا اعادہ کیا اور مستحکم، پرامن اور خوشحال افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    افغان وزیر خارجہ کا پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام

    قائم مقام افغان وزیر خارجہ نے افغانستان کی عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور افغانستان میں امن اور ترقی میں پاکستان کی سہولت کاری کو تسلیم کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق ہوا آرمی چیف نے ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا-

  • اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلام آباد میں اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کا2روزہ 48واں اجلاس شروع ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی :سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے او آئی سی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا اور اسلامو فوبیا کے خلاف 15 مارچ عالمی دن قرار دینا بہترین کامیابی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں معاون ثابت ہو گاعالمی قرار دادوں کے مطابق فلسطین کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کی جائے گی مسئلہ کشمیر فریقین کے درمیان حل طلب معاملہ ہے اور ہم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں جبکہ مذاکرات سے معاملہ حل ہونا چاہیے۔

    قبل ازیں سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں جار ی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب کو کردار ادا کرناہوگا-

    سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل طلب معاملہ ہے جس کا حل ضروری ہے،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی ،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہےکشمیریوں کویواین قراردادوں کےمطابق حق خودارادیت دیاجائے-

    انہوں نے کہا کہ فلسطین سے متعلق اسرائیل کی پالیسی پر تشویش ہے فلسطینیوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہ کیاجائے فلسطین میں اسرائیل جارحیت قابل مذمت ہے خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں مسلمان ممالک کو او آئی سی کی سپورٹ کی ضرورت ہے،افغانستان پر اوآئی سی اجلاس کامیاب رہا افغانستان میں امن ،بحالی اور معاشی استحکام مغرب کے لیے بھی اہم ہے-

    اوآئی سی سیکریٹری جنرل ابراہیم حسین نے کہا تھا کہ یمن مسئلے کا پائیدار حل ہونا چاہیے یمن میں خونریزی فوری بند ہونی چاہیے اسلاموفوبیا کے خلاف حکمت عملی وضع کی جائے،مالیاتی بحران سے نمٹنے کےلیے سب کو مل کر آگے جانا ہوگا روس یوکرین جنگ سے خطے میں جاری صورتحال پر منفی اثر ہوا ،روس یوکرین کے درمیان موثر اوربامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے بھارت کی طرف سے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہے-

    دریں اثنا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اوآئی سی 2 ارب مسلمانوں کی مشترکہ آوازہے افغانستان میں جاری صورتحال دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں نئی حکومت ،انسانی بحران اور افغانوں کی مدد چیلنج رہا، او آئی سی کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کرانا چاہتےہیں۔

    اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پیشر فت خوش آئند ہے ،پاکستان نےاسلام وفوبیا کے خلاف قرارداد کیلئےکردارادا کیا، یواین نے ہماری آوازپر 15مارچ کواسلاموفوبیا سےمتعلق عالمی دن مقررکیا، پاکستان نے دنیا میں ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، ہم نے خطے میں امن کی بات کی اور استحکام کے لیے اقدامات کرتے رہےہیں، پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    پاکستان نے اکنامک ڈپلومیسی کوفروغ دیا، افغانستان کو دہائیوں چیلنجز اور مشکلات کا سامنا رہا، پاکستان نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کیا، پاکستان نےافغانستان سے متعلق اوآئی سی خصوصی اجلاس کی میزبانی کی،افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے ٹرسٹ فنڈ قائم کیاگیا-

    انہوں نے کہا کہ آج مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے، فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، مسلم ممالک کومشرق وسطیٰ میں تنازعات کا سامنا ہے،تنازعات کے باعث ترقی کاعمل متاثرہوتا ہے، دنیا میں تنازعات کا بڑاحصہ مسلم ممالک میں ہے، تنازعات کے خاتمے کیلئے امہ کے درمیان تعاون،روابط کافروغ ضروری ہے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ فلسطین کےمسلمانوں کوان کاحق نہیں دیا جارہا، مقبوضہ کشمیراورفلسطین گزشتہ 7 دہائیوں سے قبضے کا شکارہیں، بطوررکن ملک پاکستان مسلم ممالک کےدرمیان رواداری کوفروغ دےگا، اوآئی سی مسلم امہ کےدرمیان اتحاد اوریکجہتی کیلئے کام کررہی ہے، مشرق اورمغرب کےدرمیان کشیدگی سےعالمی امن کوخطرہ ہے، دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔

    پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں خونریزی جاری ہے، آرایس ایس نظریےسے متاثربھارتی حکومت کشمیرمیں ظلم ڈھارہی ہے، کشمیری حق خودارادیت کی جنگ لڑرہےہیں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان سمیت دہشت گردگروپوں کے خلا ف موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے-

    قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤ س میں میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اوآئی سی کی تاریخ میں پہلی بار چین کے وزیرخارجہ آئے ہیں، چین کے ساتھ تعلقات ڈگمگانے کی قیاس آرائیوں پرپانی پھرگیا ہے، چین کا پیغام ہے کہ پاکستان تم تنہا نہیں ہو، کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے آج بھی ہیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کچھ لوگ ایک رنگ دیتے ہیں، چین کے وزیرخارجہ کی موجودگی سے ان کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا ہے، چین مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کوبڑھانا چاہتا ہے، آج پاکستان کےلیے اہم دن ہے، پاکستان نے دسمبر کے اجلاس میں افغانستان کے مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوزکرائی، اوآئی سی اجلاس میں ہمارا ارادہ کشمیر میں مظالم کواجاگرکرنا ہے، پاکستان کا وزیراعظم اور وزیرخارجہ کشمیرکا علم بلند کرے گا، واضح پیغام دیں گے کشمیریوں ہم تمہارے ساتھ ہیں،ہم بھولے نہیں۔

    وزیرخارجہ نے بلاول بھٹو کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا تھا کہ اپنے بیان پر نظرثانی کر کے انہوں نے بھی اوآئی سی کا خیر مقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بعد اوآئی سی بڑا فورم ہوسکتا ہے، اگرہم تقسیم ہوگئے تو دو ارب مسلمان مایوس ہوں گے، اگر اہم متحد ہوگئے تو 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کی قرارداد کی طرح بہت سی کامیابیاں ملیں گی، ہماری تو تحریک بھی انصاف کی ہے، ہم انصاف کو اجاگر کریں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ بھارت نے کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے پوری کوشش کی، بھارتی سفارتکار دن رات اسی کام میں لگے رہے، بھارتی سفارتکار بھی رکاوٹیں ڈالتے رہے، کچھ ہمارے لوگ بھی معصومیت میں ان کے جال میں آگئے، میں اپنے لوگوں کی نیت پرشک نہیں کروں گا،کہا گیا نہیں ہونے دیں گے، دھرنا دیں گے، یہ عزت پاکستان کی ہے، حکومت وقت کی نہیں ہے، آج جو لوگ آئے ہیں پاکستان کےلیے آئے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتیں ہیں، بھارتی عزائم کے باوجود اوآئی سی کانفرنس بھرپورطریقے سے ہورہی ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس کےلیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود ،فلسطین،موریطانیہ ،ترکی کے وزرائےخارجہ پارلیمنٹ ہاوس میں پہنچ چکے ہیں-

    چین کے اسٹیٹ کونسلر ،وزیر خارجہ وانگ ای وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کا خیر مقدم کیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب میں تہنیتی جملوں کا تبادلہ کیا-

    کویت اورتیونس اوربنگلادیش کے وزرائے خارجہ،قازقستان کےنائب وزیراعظم اوآئی سی بھی اجلاس کا حصہ ہیں سیکریٹری جنرل اوآئی سی کانفرنس بھی کانفرنس کا حصہ ہیں-

    عراقی نائب وزیراعظم،صدراسلامی ترقیاتی بینک بھی کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں گیانا کےوزیرخزانہ وفدسمیت او آئی سی کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ہیں وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس سے کچھ دیربعد خطاب کریں گے-

    وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی ہال میں مسلم دنیا کے وزرائے خارجہ اور وفود موجود ہیں حکومت کو 3ماہ میں دوسری بار اہم کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا-

    اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہےنئی حقیقتوں نے گلوبل آرڈر کو تبدیل کر دیا، غیر یقینی کی صورت حال ہےامید ہے کانفرنس سے مسلم امہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی نئی راہیں کھیلیں گی-

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کا 48 واں اجلاس (آج) بروز منگل 22 مارچ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے جس میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز اور ابھرتے ہوئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    پاکستان کی پارلیمنٹ کی عمارت میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کا موضوع ’اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت داری‘ ہے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن اور مبصر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطح کے وفود اجلاس میں موجود ہوں گے اور 23 مارچ کی یوم پاکستان پریڈ میں اعزازی مہمان کی حیثیت سے بھی شرکت کر رہے ہیں-

    اجلاس میں تمام57 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ،مبصرین اور مہمانوں کی آمد جاری ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان آج افتتاحی سیشن سے کچھ دیر بعد خطاب بھی کریں گے پاکستانی دارالحکومت میں منعقدہ اجلاس میں کشمیر، فلسطین، اسلام فوبیا، اُمّہ کے اتحاد سمیت مختلف مسائل و معاملات پر ایک سو چالیس قراردادیں پیش کی جائیں گی۔

    صدر پاکستان وزرائے خارجہ اور مندوبین کے اعزاز میں عشائیہ دیں گےجبکہ سعودی وزیر خارجہ اجلاس کی صدارت باقاعدہ پاکستان کے حوالے کریں گے، اجلاس میں ورکنگ گروپس کے بند کمرہ اجلاس ہوں گے، مختلف کلسٹرز قراردادوں کا جائزہ لیں گے۔

    اس کے علاوہ کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس ہو گا، جس میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے گی اور یکم اگست 2019کے یکطرفہ بھارتی اقدام کو سختی سے مسترد کیا جائے گا کانفرنس میں افغانستان کی شرکت کا خصوصی بندوبست کیا گیا ہے، افغانستان کے حوالے سے گزشتہ خصوصی اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں چین، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، آسٹریلیا سمیت کئی اہم ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے، او آئی سی وزرائے خارجہ اور دیگر کو 23مارچ کی یوم پاکستان پریڈ بھی دکھائی جائے گی۔

    اجلاس کے اوپننگ اور کلو زنگ سیشن اوپن ہوں گے، 23 مار چ کو کانفرنس کے اختتام پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحٰہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کریں گے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود،سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ اور صدر اسلامى بینک سمیت کئی دیگر رہنما اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    دوسری جانب گزشتہ روز اسلام آباد ٹریفک پولیس نے اوآئی سی کانفرنس کے لیے ٹریفک پلان جاری کیا جس کے مطابق 21 تا24 مارچ ریڈزون عام ٹریفک کے لیے مکمل بندہوگا۔

    گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھاکہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس افغانستان کی سنگین انسانی صورت حال سے نمٹنے کا تاریخی موقع ہوگا، اجلاس میں خطےکو درپیش چیلنجز سے نمٹےکے لیے مشترکہ حکمت عملی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

    بروز پیر 21 مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے میں او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہا۔

    کانفرنس میں شرکت کرنے والے مبصرین، شراکت داروں اور تمام وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اتحاد، انصاف اور ترقی کے موضوع کے تحت او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں تفصیلی بات چیت ہوگی۔ آپ کی موجودگی پاکستانی شہریوں کے لیے باعث فخر ہے۔‘

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس تاریخی نوعیت کا ہے۔ مسلسل دوسری بار او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے او آئی سی وزرائے خارجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس امت مسلمہ کے لیے اہم ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام انہوں نے کہا کہ ’پوری اپوزیشن بالعموم اور مسلم لیگ (ن) بالخصوص عالم اسلام کے تمام بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید کہتی ہے، وہ ہمارے معزز مہمان ہیں۔‘

  • پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

    پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

    او آئی سی وزرائےخارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے انعقاد کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اجلاس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کے استقبال کے لیے پارلیمنٹ کی راہداری میں ریڈ کارپیٹ بچھا دیے گئےسینٹ اور قومی اسمبلی ہالز کو برقی قمقموں اور پھولوں سے آراستہ کر دیا گیا پارلیمنٹ کو دیدہ زیب بنانے کے لیے تزین و آرائش مکمل ہو گئی-

    دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی وزارتِ خارجہ آمد پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کا خیر مقدم کیا دونوں وزرائے خارجہ کے مابین تہنیتی جملوں کا تبادلہ ہوا-

    اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دوران پاکستان اور چین کے درمیان زراعت، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے

    ملاقات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جسے پی ٹی وی براہ راست نشر کرے گا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں