Baaghi TV

Tag: وزرائے خارجہ

  • آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے افغان اور چینی وزرائے خارجہ کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے افغان اور چینی وزرائے خارجہ کی ملاقات

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے چینی اسٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ ایچ چن یانگ سے اپنے دفتر میں ملاقات کی،علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران،آرمی چیف جنرل سید عاصم منییر نے چین پاکستان اسٹریٹجک تعلقات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) منصوبے کے لیے بھی مکمل حمایت کا وعدہ کیا، جو کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر پاکستان کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو بھی سراہا۔

    سندھ کے 24 اضلاع کی 63 نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ جاری

    آئی ایس پی آر کے مطابق وزیر خارجہ چن یانگ نے برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تزویراتی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور سی پیک پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بروقت تکمیل کے لیے چین کے عزم کے اعادہ کیا۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں شخصیات نے خطے میں سیکیورٹی کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا آرمی چیف نے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں چین کے کردار کو تسلیم کیا، اور دونوں فریقوں نے مشترکہ سیکورٹی چیلنجوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں اپنے موجودہ تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    ملاقات ایک مثبت نوٹ پر اختتام پذیر ہوئی، دونوں فریقین نے پاکستان اور چین کے درمیان وقتی آزمائش، ہمہ موسم دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وادی ہنزہ میں زلزلے کے جھٹکے

    دوسری جانب آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قائم مقام افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی نے ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی، بارڈر منیجمنٹ اور باہمی دلچسپی کے امورپرتبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں موجودہ سکیورٹی ماحول میں بہتری کے لیے میکنزم بہتربنانے پرگفتگو کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیرکا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ضروری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغان وزیرخارجہ نے افغان عوام کے لیے پاکستان کی روایتی حمایت کوسراہاامیر خان متقی کا کہنا تھا کہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کےفروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرنا چاہتے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نےافغان عبوری حکومت کی جانب سے مکمل حمایت اور عزم کی ضرورت کا اعادہ کیا اور مستحکم، پرامن اور خوشحال افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    افغان وزیر خارجہ کا پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام

    قائم مقام افغان وزیر خارجہ نے افغانستان کی عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور افغانستان میں امن اور ترقی میں پاکستان کی سہولت کاری کو تسلیم کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق ہوا آرمی چیف نے ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا-

  • اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلام آباد میں اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کا2روزہ 48واں اجلاس شروع ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی :سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے او آئی سی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا اور اسلامو فوبیا کے خلاف 15 مارچ عالمی دن قرار دینا بہترین کامیابی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں معاون ثابت ہو گاعالمی قرار دادوں کے مطابق فلسطین کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کی جائے گی مسئلہ کشمیر فریقین کے درمیان حل طلب معاملہ ہے اور ہم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں جبکہ مذاکرات سے معاملہ حل ہونا چاہیے۔

    قبل ازیں سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں جار ی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب کو کردار ادا کرناہوگا-

    سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل طلب معاملہ ہے جس کا حل ضروری ہے،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی ،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہےکشمیریوں کویواین قراردادوں کےمطابق حق خودارادیت دیاجائے-

    انہوں نے کہا کہ فلسطین سے متعلق اسرائیل کی پالیسی پر تشویش ہے فلسطینیوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہ کیاجائے فلسطین میں اسرائیل جارحیت قابل مذمت ہے خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں مسلمان ممالک کو او آئی سی کی سپورٹ کی ضرورت ہے،افغانستان پر اوآئی سی اجلاس کامیاب رہا افغانستان میں امن ،بحالی اور معاشی استحکام مغرب کے لیے بھی اہم ہے-

    اوآئی سی سیکریٹری جنرل ابراہیم حسین نے کہا تھا کہ یمن مسئلے کا پائیدار حل ہونا چاہیے یمن میں خونریزی فوری بند ہونی چاہیے اسلاموفوبیا کے خلاف حکمت عملی وضع کی جائے،مالیاتی بحران سے نمٹنے کےلیے سب کو مل کر آگے جانا ہوگا روس یوکرین جنگ سے خطے میں جاری صورتحال پر منفی اثر ہوا ،روس یوکرین کے درمیان موثر اوربامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے بھارت کی طرف سے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہے-

    دریں اثنا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اوآئی سی 2 ارب مسلمانوں کی مشترکہ آوازہے افغانستان میں جاری صورتحال دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں نئی حکومت ،انسانی بحران اور افغانوں کی مدد چیلنج رہا، او آئی سی کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کرانا چاہتےہیں۔

    اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پیشر فت خوش آئند ہے ،پاکستان نےاسلام وفوبیا کے خلاف قرارداد کیلئےکردارادا کیا، یواین نے ہماری آوازپر 15مارچ کواسلاموفوبیا سےمتعلق عالمی دن مقررکیا، پاکستان نے دنیا میں ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، ہم نے خطے میں امن کی بات کی اور استحکام کے لیے اقدامات کرتے رہےہیں، پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    پاکستان نے اکنامک ڈپلومیسی کوفروغ دیا، افغانستان کو دہائیوں چیلنجز اور مشکلات کا سامنا رہا، پاکستان نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کیا، پاکستان نےافغانستان سے متعلق اوآئی سی خصوصی اجلاس کی میزبانی کی،افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے ٹرسٹ فنڈ قائم کیاگیا-

    انہوں نے کہا کہ آج مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے، فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، مسلم ممالک کومشرق وسطیٰ میں تنازعات کا سامنا ہے،تنازعات کے باعث ترقی کاعمل متاثرہوتا ہے، دنیا میں تنازعات کا بڑاحصہ مسلم ممالک میں ہے، تنازعات کے خاتمے کیلئے امہ کے درمیان تعاون،روابط کافروغ ضروری ہے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ فلسطین کےمسلمانوں کوان کاحق نہیں دیا جارہا، مقبوضہ کشمیراورفلسطین گزشتہ 7 دہائیوں سے قبضے کا شکارہیں، بطوررکن ملک پاکستان مسلم ممالک کےدرمیان رواداری کوفروغ دےگا، اوآئی سی مسلم امہ کےدرمیان اتحاد اوریکجہتی کیلئے کام کررہی ہے، مشرق اورمغرب کےدرمیان کشیدگی سےعالمی امن کوخطرہ ہے، دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔

    پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں خونریزی جاری ہے، آرایس ایس نظریےسے متاثربھارتی حکومت کشمیرمیں ظلم ڈھارہی ہے، کشمیری حق خودارادیت کی جنگ لڑرہےہیں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان سمیت دہشت گردگروپوں کے خلا ف موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے-

    قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤ س میں میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اوآئی سی کی تاریخ میں پہلی بار چین کے وزیرخارجہ آئے ہیں، چین کے ساتھ تعلقات ڈگمگانے کی قیاس آرائیوں پرپانی پھرگیا ہے، چین کا پیغام ہے کہ پاکستان تم تنہا نہیں ہو، کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے آج بھی ہیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کچھ لوگ ایک رنگ دیتے ہیں، چین کے وزیرخارجہ کی موجودگی سے ان کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا ہے، چین مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کوبڑھانا چاہتا ہے، آج پاکستان کےلیے اہم دن ہے، پاکستان نے دسمبر کے اجلاس میں افغانستان کے مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوزکرائی، اوآئی سی اجلاس میں ہمارا ارادہ کشمیر میں مظالم کواجاگرکرنا ہے، پاکستان کا وزیراعظم اور وزیرخارجہ کشمیرکا علم بلند کرے گا، واضح پیغام دیں گے کشمیریوں ہم تمہارے ساتھ ہیں،ہم بھولے نہیں۔

    وزیرخارجہ نے بلاول بھٹو کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا تھا کہ اپنے بیان پر نظرثانی کر کے انہوں نے بھی اوآئی سی کا خیر مقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بعد اوآئی سی بڑا فورم ہوسکتا ہے، اگرہم تقسیم ہوگئے تو دو ارب مسلمان مایوس ہوں گے، اگر اہم متحد ہوگئے تو 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کی قرارداد کی طرح بہت سی کامیابیاں ملیں گی، ہماری تو تحریک بھی انصاف کی ہے، ہم انصاف کو اجاگر کریں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ بھارت نے کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے پوری کوشش کی، بھارتی سفارتکار دن رات اسی کام میں لگے رہے، بھارتی سفارتکار بھی رکاوٹیں ڈالتے رہے، کچھ ہمارے لوگ بھی معصومیت میں ان کے جال میں آگئے، میں اپنے لوگوں کی نیت پرشک نہیں کروں گا،کہا گیا نہیں ہونے دیں گے، دھرنا دیں گے، یہ عزت پاکستان کی ہے، حکومت وقت کی نہیں ہے، آج جو لوگ آئے ہیں پاکستان کےلیے آئے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتیں ہیں، بھارتی عزائم کے باوجود اوآئی سی کانفرنس بھرپورطریقے سے ہورہی ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس کےلیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود ،فلسطین،موریطانیہ ،ترکی کے وزرائےخارجہ پارلیمنٹ ہاوس میں پہنچ چکے ہیں-

    چین کے اسٹیٹ کونسلر ،وزیر خارجہ وانگ ای وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کا خیر مقدم کیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب میں تہنیتی جملوں کا تبادلہ کیا-

    کویت اورتیونس اوربنگلادیش کے وزرائے خارجہ،قازقستان کےنائب وزیراعظم اوآئی سی بھی اجلاس کا حصہ ہیں سیکریٹری جنرل اوآئی سی کانفرنس بھی کانفرنس کا حصہ ہیں-

    عراقی نائب وزیراعظم،صدراسلامی ترقیاتی بینک بھی کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں گیانا کےوزیرخزانہ وفدسمیت او آئی سی کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ہیں وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس سے کچھ دیربعد خطاب کریں گے-

    وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی ہال میں مسلم دنیا کے وزرائے خارجہ اور وفود موجود ہیں حکومت کو 3ماہ میں دوسری بار اہم کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا-

    اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہےنئی حقیقتوں نے گلوبل آرڈر کو تبدیل کر دیا، غیر یقینی کی صورت حال ہےامید ہے کانفرنس سے مسلم امہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی نئی راہیں کھیلیں گی-

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کا 48 واں اجلاس (آج) بروز منگل 22 مارچ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے جس میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز اور ابھرتے ہوئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    پاکستان کی پارلیمنٹ کی عمارت میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کا موضوع ’اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت داری‘ ہے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن اور مبصر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطح کے وفود اجلاس میں موجود ہوں گے اور 23 مارچ کی یوم پاکستان پریڈ میں اعزازی مہمان کی حیثیت سے بھی شرکت کر رہے ہیں-

    اجلاس میں تمام57 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ،مبصرین اور مہمانوں کی آمد جاری ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان آج افتتاحی سیشن سے کچھ دیر بعد خطاب بھی کریں گے پاکستانی دارالحکومت میں منعقدہ اجلاس میں کشمیر، فلسطین، اسلام فوبیا، اُمّہ کے اتحاد سمیت مختلف مسائل و معاملات پر ایک سو چالیس قراردادیں پیش کی جائیں گی۔

    صدر پاکستان وزرائے خارجہ اور مندوبین کے اعزاز میں عشائیہ دیں گےجبکہ سعودی وزیر خارجہ اجلاس کی صدارت باقاعدہ پاکستان کے حوالے کریں گے، اجلاس میں ورکنگ گروپس کے بند کمرہ اجلاس ہوں گے، مختلف کلسٹرز قراردادوں کا جائزہ لیں گے۔

    اس کے علاوہ کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس ہو گا، جس میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے گی اور یکم اگست 2019کے یکطرفہ بھارتی اقدام کو سختی سے مسترد کیا جائے گا کانفرنس میں افغانستان کی شرکت کا خصوصی بندوبست کیا گیا ہے، افغانستان کے حوالے سے گزشتہ خصوصی اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں چین، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، آسٹریلیا سمیت کئی اہم ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے، او آئی سی وزرائے خارجہ اور دیگر کو 23مارچ کی یوم پاکستان پریڈ بھی دکھائی جائے گی۔

    اجلاس کے اوپننگ اور کلو زنگ سیشن اوپن ہوں گے، 23 مار چ کو کانفرنس کے اختتام پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحٰہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کریں گے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود،سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ اور صدر اسلامى بینک سمیت کئی دیگر رہنما اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    دوسری جانب گزشتہ روز اسلام آباد ٹریفک پولیس نے اوآئی سی کانفرنس کے لیے ٹریفک پلان جاری کیا جس کے مطابق 21 تا24 مارچ ریڈزون عام ٹریفک کے لیے مکمل بندہوگا۔

    گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھاکہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس افغانستان کی سنگین انسانی صورت حال سے نمٹنے کا تاریخی موقع ہوگا، اجلاس میں خطےکو درپیش چیلنجز سے نمٹےکے لیے مشترکہ حکمت عملی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

    بروز پیر 21 مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے میں او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہا۔

    کانفرنس میں شرکت کرنے والے مبصرین، شراکت داروں اور تمام وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اتحاد، انصاف اور ترقی کے موضوع کے تحت او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں تفصیلی بات چیت ہوگی۔ آپ کی موجودگی پاکستانی شہریوں کے لیے باعث فخر ہے۔‘

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس تاریخی نوعیت کا ہے۔ مسلسل دوسری بار او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے او آئی سی وزرائے خارجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس امت مسلمہ کے لیے اہم ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام انہوں نے کہا کہ ’پوری اپوزیشن بالعموم اور مسلم لیگ (ن) بالخصوص عالم اسلام کے تمام بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید کہتی ہے، وہ ہمارے معزز مہمان ہیں۔‘

  • پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

    پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

    او آئی سی وزرائےخارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے انعقاد کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اجلاس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کے استقبال کے لیے پارلیمنٹ کی راہداری میں ریڈ کارپیٹ بچھا دیے گئےسینٹ اور قومی اسمبلی ہالز کو برقی قمقموں اور پھولوں سے آراستہ کر دیا گیا پارلیمنٹ کو دیدہ زیب بنانے کے لیے تزین و آرائش مکمل ہو گئی-

    دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی وزارتِ خارجہ آمد پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کا خیر مقدم کیا دونوں وزرائے خارجہ کے مابین تہنیتی جملوں کا تبادلہ ہوا-

    اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دوران پاکستان اور چین کے درمیان زراعت، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے

    ملاقات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جسے پی ٹی وی براہ راست نشر کرے گا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں