Baaghi TV

Tag: وزیر

  • یونانی امیگریشن وزیر کا غیرقانونی تارکین وطن کیلئے سخت انتباہ جاری

    یونانی امیگریشن وزیر کا غیرقانونی تارکین وطن کیلئے سخت انتباہ جاری

    یونان کے امیگریشن کے وزیر تھانوس پلیورس نے شمالی افریقہ میں اپنے ملک کی طرف ہجرت کرنے والے نوجوانوں کے لیے سخت انتباہ دیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو یونا ن میں یا تو جیل یا جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

    یونانی میڈیا کے مطابق ایک واضح انٹرویو میں، حال ہی میں تعینات ہونے والے پلیورس نے اس بات پر زور دیا کہ یونان حقیقی پناہ گزینوں کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن معاشی مہاجرین کو مزید برداشت نہیں کرے گا، خاص طور پر مصر، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے محفوظ ممالک سے آنے والے 18-30 سال کی عمر کے نوجوانوں کو۔ "ہم ہوٹل نہیں ہیں،” انہوں نے نرم پالیسیوں کے خاتمے کا اشارہ دیتے ہوئے اعلان کیا۔

    یونان، جو کہ یورپ کے ہجرت کے بحران میں ایک صف اول کی ریاست ہے، آمد کے اضافے سے دوچار ہے، خاص طور پر کریٹ پر، جہاں اس سال لیبیا سے 10,000 تارکین وطن پہنچے ہیں، جن میں صرف جولائی کے اوائل میں 4,000 شامل ہیں۔ یہ تارکین وطن، جن میں زیادہ تر نوجوان مرد ہیں، عارضی کیمپوں یعنی کنکریٹ کے فرش، کم سے کم راشن اور کشیدہ حالات والے گوداموں میں رکھے گئے ہیں۔ پلیوریس نے لیبیا پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی کراسنگ کی سہولت فراہم کرنے کا الزام لگایا اور اس آمد کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    راولپنڈی میں گیس لیکج کے دھماکے سے 5 افراد زخمی، گھر کی دیوار بھی گری

    ایک نیا یونانی قانون، جسے یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے، پناہ کی درخواستوں کو کم از کم تین ماہ کے لیے معطل کر دیتا ہے، جو غیر قانونی طور پر آنے والوں کو دو اختیارات پیش کرتا ہے: یونان کے خرچے پر پانچ سال تک قید یا ملک بدری۔ "یہ کوئی حملہ نہیں ہے، سرزمین پر جیل نما کیمپ تیار کیے گئے ہیں۔ پالیسی میں تبدیلی کو یونان کے وزیر اعظم نے بھی سپورٹ کیا ہے-

    کریٹ کے کیمپوں میں، حالات سنگین ہیں زیادہ بھیڑ، غیر صحت بخش، اور غیر مستحکم، مسلح محافظ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یورپ کے لیے آسان راستے کی توقع رکھنے والے تارکین وطن کو مایوسی اور تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہےاس قانون کی منظوری کے بعد سے لیبیا سے کشتیوں کی آمد روک دی گئی ہے-

    بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال کے قیام فیصلہ

  • ریلوے میں کرپشن،قائمہ کمیٹی کی باقاعدہ وزیر لگانے کی سفارش

    ریلوے میں کرپشن،قائمہ کمیٹی کی باقاعدہ وزیر لگانے کی سفارش

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے ریلوے کی طرف سے کرپشن اور چوری پرمتضاد بریفنگ پر شدید برہمی کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگلے اجلاس میں حقائق کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں ورنہ کمیٹی سخت ایکشن لے گی۔ کمیٹی سے حقائق چھپائے جارہے ہیں ،کمیٹی نے وزیر اعظم کو سفارش کی کہ ریلوے کا ایک باقاعدہ وزیر لگایا جائے ۔کمیٹی نے کمیٹی کو متضاد ریکارڈ دینے پر سیکرٹری ریلوے کو انکوائری کرنے کی ہدایت کردی کمیٹی نے اگلے اجلاس میں چیئرمین نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرلیا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین جام سیف اللہ خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ لاجز میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ،سینیٹر شہادت اعوان لیاقت خان ترکئی،پنجو بیل اور سینیٹر دوست علی ویگر نے شرکت کی۔حکام نے بتایا کہ پانچ سال میں 3138 چوری کےکیس رجسٹرڈ ہوئے 43کرپشن کے کیس اور 49مس یوز آف پاور کے کیسز رجسٹرڈ کئے گئے ۔ کل 3230کیسز میں 4122لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے ۔ان میں پاکستان ریلوے کے 217 ریلوے پولیس کے 66اور 3839عام شہری ہیں پانچ سالوں میں 10کروڑ 94لاکھ 87ہزار 121 روپے ریکور کئے گئے ۔سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ کمیٹی میں متضاد ریکارڈ دیا گیاہے اس پر حکام کے خلاف ایکشن لیا جائے چوری کے لیے پہلے ریکارڈ کچھ اور تھا اب 948کیس مزید جمع کردیئے گئے اس کا نوٹس لیا جائے ۔ابھی تک چوری کرپشن کی مالیت کمیٹی کو نہیں بتائی جارہی ہے ۔ریلوے غبن کا کیوں نہیں بتارہی ہے ۔ اتنی بڑی وزارت ہے مگر کوئی وزیر مشیر نہیں لگایا گیا ہے ۔ ریلوے میں کرپشن ہے جس کو روکا نہیں جارہاہے ۔عام لوگوں نے کتنا ریلوے کو لوٹا ہے اور ریلوے کے لوگوں نے کتنا لوٹا ہے یہ بتایا جائے ۔ جو معلومات ریلوے سے مانگی جارہی ہیں وہ نہیں دی جارہی ہیں۔کمیٹی کو غلط معلومات دینے پر متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ 6کیس نیب میں ہیں اور ایف آئی اے میں 4 تھے اب نیب کے 9 اور ایف آئی اے کے کیس بھی بڑھ گئے ہیں۔ ریلوے کے زمینون پر پیٹرول پمپ بنائے گئے ہیں اس کو بھی نہیں چھوڑ وایا جا رہا ہے ۔ریلوے کے 96ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ ہوا ہے ۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ شہادت اعوان نے تیاری کی ہے جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ ریلوے میں کرپشن عرصے سے چل رہی ہے جو سوال پوچھے تھے وہ سادہ تھے شرم کی بات ہے کہ تیسری میٹنگ ہے اور جواب نہیں دیا جارہاہے کسی چیز کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔دو ہفتے لیں مگر اصل حیقیت کمیٹی میں آنی چاہیے اگر اصل حقائق نہیں بتائے گئے تو کمیٹی حکام کے بارے میں سخت ایکشن لے گی ۔ چاہے کیس ہمیں ایف آئی اے اور نیب کو ہی کیون نہ بھیجنے پڑیں۔اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کو بھی بھیج سکتے ہیں ۔ ریلوے میں اربوں کے گھپلے ہیں ،کمیٹی نے وزیر اعظم کو سفارش کی کہ ریلوے کا ایک وزیر لگایا جائے ۔کمیٹی نے کمیٹی کو متضاد ریکارڈ دینے پر سیکرٹری ریلوے کو انکوائری کرنے کی ہدایت کردی ۔

    حکام نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سال میں ریلوے میں 537حادثات ہوئے ہیں ، 309 جان بحق اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ۔سال 2019میں 56611ٹرین چلتی تھی اور 159حادثات ہوئے، سال 2023میں 31320ٹرین چلیں جبکہ 84حادثات ہوئے ہیں ۔442لوگ ٹریک پاس کرتے ہوئے 2024 میں مارے گئے ۔کمیٹی نے وزیر اعظم سے ریلوے کا مستقل وزیر لگانے کی درخواست کرنے کا کہ دیا

    آئی جی ریلوے راو سردار علی خان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ درج شدہ مقدمات میں 83٪ لوگوں کا سزا ملی، گزشتہ 5 سال کے دوران 90٪ سے زائد لوگوں کو سزا ملی ہے، سات ہزار سیٹس ہماری سیکشن ہیں اور 45٪ خالی ہیں، نئی بھرتی نہ ہوئی تو 3 سال میں ریلوے پولیس ختم ہوجائے گی، اسلحہ آخری بار 2004 سے 2008 کے دوران خریدا گیا تھا،چئیرمین کمیٹی نے کہاکہ ریلوے حادثات میں انکوائری میں بڑوں کا نام نہیں ہوتا،ریلوے کسی کو خانہ پوری کے لیے سزا نہ دے،

    حکام نے بتایا کہ پاکستان میں ریلوے ٹریک کم ہورہاہے جبکہ بھارت میں ہر سال ریلوے ٹرین میں اضافہ ہورہاہے ۔ریلوے میں 22سیکشن بند کردیئے گئے ہیں ،ایم ایل ون کے پہلے پیکج میں کراچی حیدرآباد بنائیں گے تین سال میں یہ مکمل ہوگا ۔دوسرے میں حیدرآباد سے ملتان بنے گا

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • اہلیہ کو تحفے میں ملے کپڑے ڈکلیئر نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم کے خلاف تحقیقات

    اہلیہ کو تحفے میں ملے کپڑے ڈکلیئر نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم کے خلاف تحقیقات

    لندن: اہلیہ کو تحفے میں ملے کپڑے ڈکلیئر نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر مشکل میں پڑ گئے-

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق اہلیہ کو تحفے میں ملنے والے لباس کی تفصیل ڈکلیئر نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا وحید علی جن کا تعلق برطانیہ میں مقبول شخصیات میں کیا جاتا ہے، وہ لیبر پارٹی کو عطیات فراہمی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔

    وحید علی برطانوی فیشن کمپنی اے ایس او ایس کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں انہوں نے وزیراعظم کئیر اسٹارمر کی اہلیہ کے کپڑوں کی ادائیگی کی اور کپڑوں میں جو تبدیلیاں کرائی تھیں اس کے خراجات بھی اٹھائےتاہم جولائی میں منتخب ہونے والے برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے اہلیہ کو ملنے والے ان تحائف کی تفصیلات شئیر نہیں کیں جس کے باعث ان کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں، تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر ان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • پنجاب کابینہ میں توسیع،ملک احمد خان وزیر  قانون و پارلیمانی امورمقرر،نوٹیفیکیشن جاری

    پنجاب کابینہ میں توسیع،ملک احمد خان وزیر قانون و پارلیمانی امورمقرر،نوٹیفیکیشن جاری

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس منعقد کیا گیا جس میں حمزہ شہباز شریف نے اپنی کابینہ کو توسیع دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کو باضابطہ طور پر قانون و پارلیمانی امور کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ وزیراعلی پنجاب کے حکم پر ملک احمد خان کو قانون اور پارلیمانی امورکی وزارت سونپے جانے کا نوتیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے تاہم اس سے قبل ملک احمد خان کو صرف ایوان اقبال میں جاری پنجاب اسمبلی اجلاس کی حد تک کے لئے قانون اور پارلیمانی امور کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا گیا تھا.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی ہدایت پر چیف سیکریٹری پنجاب کامران علی افضل نے ملک احمد خان کی بطور محکمہ قانون اور پارلیمانی امورکی وزارت کا نوٹیفیکیشن جاری کیا. نوٹیفیکیشن پرآج کی تاریخ 27 جون 2022 درج ہے.

    وزیر قانون و پارلیمانی امور ملک احمد خان 2002 سے 2007 تک رکن پنجاب اسمبلی رہے ہیں ، اس کے بعد ملک احمد خان 2013 سے رکن پنجاب اسمبلی ہین ،ملک احمد خان کا تعلق قصور پے،ملک احمد خان 29 نومبر 1971 میں پیدا ہوئے .آپ کے واکد ملک محمد علی خان 1972 سے 1977 تک رکن پنجاب اسمبلی رہے جس کے بعد 1985 سے 1994 تک سینیٹر رہے جبکہ 1986 سے 1988 تک ڈپٹی چیئرمین سینیٹ رہے ہیں.

    ملک احمد خان 2002 کے عام انتخابات میں پی پی 179 سے مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے رکن پیجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے جبکہ جنوری 2012 میں ملک احمد خان نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی.اور 2013 کے انتخابات میں میں ملک احمد خان اپنے حلقے سے مسلم لیگ ن کے پلیت فاعم سے دوبارہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہو گئے، ملک احمد خان پبلک اکاونٹس کی سپیشک کمیٹی نمبر 3 کے ممبر بھی رہے، ملک احمد خان مسلم لیگ ن کی لیڈر شب میں بھروسہ مند اورقابل اعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں.

  • تحریک انصاف پاکستان کے سینئررہنما سینئروزیر نے استعفیٰ دے دیا

    تحریک انصاف پاکستان کے سینئررہنما سینئروزیر نے استعفیٰ دے دیا

    لاہور:تحریک انصاف پاکستان کے سینئررہنما سینئروزیر نے استعفیٰ دے دیا ہے ،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف پاکستان کے سینئررہنما ، سینئروزیرنے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے ،
    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبدالعلیم خان نے جمعہ کو پنجاب کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر خوراک کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ذرائع کے مطابق علیم خان نے یہ فیصلہ اپنے ذاتی مسائل کی وجہ سے کیا ہے۔

    ذرائع کے حوالے سے رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ سینئر وزیر نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔علیم خان جو سینئر وزیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور فوڈ کا قلمدان سنبھالے ہوئے تھے۔

    سینئر وزیراور وزیرخوراک پنجاب عبدالعلیم خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عبدالعلیم خان نے اپنے استعفے کا اعلان کیا۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے آج ھونے والی ملاقات میں انہیں قائل کیا ھے کہ وہ   غیر جانبداری قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انکے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہ ہو لہذا وہ بطور سینئر وزیر/وزیر خوراک حکومت پنجاب استعفیٰ دینا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے ممنون ہیں کہ انہوں نے درخواست تسلیم کرلی ہے اس لئے وہ اپنا استعفیٰ وزیراعلی پنجاب کو بھجوا رہے ہی

    واضح رہے کہ علیم خان اس سے قبل بھی دو مرتبہ استعفیٰ دے چکے ہیں اور اپریل 2020 میں دوبارہ صوبائی کابینہ میں شامل ہوئے تھے۔

  • پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    میسور کی سلطنت انگریزوں سے محو جنگ ہے۔ سلطان ٹیپو سرنگا پٹم میں موجود ہیں۔ بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے۔انگریز فوج سرنگا پٹم کے راستے میں آنے والے دریا کے دوسرے پار موجود ہے.

    سلطان ٹیپو اپنے محل میں موجود ہیں اور سرنگا پٹم یا یوں کہیے ہند کے مسلمانوں کے اوپر منڈلاتے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سلطان معظم کا ہر سپاہی ایمان کے جذبے سے سرشار ہے۔ سلطان کے سامنے صرف ایک قوت ہی نہیں ہے بلکہ ان کا سامنا دو قوتوں سے ہے۔ ایک قوت وہ جو مغرب سے مشرق میں لوٹ مار کرنے کے لیے آئی ہے اور دوسری وہ جو صرف اپنے مفاد کو مدنظر رکھ رہی ہے۔ جو ہندوستان کے مسلمانوں کے مستقبل کو تو پہلے ہی بیچ چکی تھی اب اہنے دین و ایمان کو بیچ رہی ہے۔ وقت کی اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہوگی کہ یہ قوت بھی مسلمانوں کی قوت ہے۔

    ذرا تصور کیجیے کہ چشم ِفلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف لڑ رہا ہو اور جس کی خوشنودی کیلیے لڑ رہا ہے وہ کافر ہے…. !
    سلطان معظم بذات خود ایک نڈر حکمران تھے۔ وہ صرف ایک ذات سے ڈرتے تھے…. اللہ کی ذات سے۔ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کے لیے تیاریاں شروع کیں۔ سلطان معظم کی ریاست کے سپاہی بھی ہمت، غیرت اور جرات کی اعلیٰ مثال تھے۔ سلطان ٹیپو کے سپاہیوں میں محمد بن قاسم کے لشکر کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ یہ وہ سپاہی تھے جو کئی محاذوں پر کفر کو شکست دے چکے تھے۔ یہ اپنے لیے شہادت اور اسلام کے لیے فتح سے بڑھ کر کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے. لیکن اس بار محمد بن قاسم کا یہ لشکر جنگ میں تنہا نہیں بلکہ سرنگا پٹم کے عوام بھی اپنے جان و مال ہتھیلی پر رکھ کر ان کے ساتھ اور انگریزوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔

    انگریز یہ امر بخوبی جانتے تھے کہ سلطان معظم کو شکست دینا آسان نہیں۔ چنانچہ انہوں نے سرنگا پٹم میں ملت فروشوں کو تلاشنا شروع کیا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ میر معین الدین، میر قمر الدین میر صادق اور پورنیا کی صورت انہیں ابن الوقت مل چکے تھے۔

    انہوں نے چال ایسی چلی کہ سلطان معظم کے شیر دل کمانڈر غازی خان کو شہید کروا دیا۔ اب سلطان کے پاس ایک ہی محبِ وطن اور وفادار سالار رہ گیا جس کا نام سید غفار تھا۔

    ۴ مئی کے طلوع آفتاب کے ساتھ سرنگا پٹم کی عزت کا آخری سورج طلوع ہوا۔ غداروں کی غداری کی وجہ سے سرنگا پٹم کی حفاظتی دیوار کے ایک حصے کی طرف انگریزوں نے پیش قدمی شروع کی۔ سید غفار بھی اسی حصے پر انگریزوں کی توپ کے گولے کی زد میں آ کر شہید ہو گئے تھے۔ اب فیصلہ کن جنگ یک طرفہ تھی۔

    چشم فلک نے ایک اور منظر دیکھا جب ایک حکمران اپنے سپاہیوں کے ساتھ لڑ رہا تھا ۔سلطان ٹیپو میدان جنگ میں موجود تھے۔ انہیں ایک گولی لگی مگر وہ لڑتے رہے۔ انہیں دوسری گولی لگی مگر وہ پھر بھی لڑتے رہے جبکہ تیسری مرتبہ جب ان کی کنپٹی پر انگریز نے گولی ماری تو وہ شہادت پا گئے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کی آذادی کا سورج غروب ہوا۔

    یہ وہ مناظر ہیں جو میں کل کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے چشم تصور میں دکھلاتی ہیں۔ میں آج کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے میسور جیسی ایک اور ریاست دکھاتی ہیں…. جسے دنیا پاکستان کہتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتی تھی اسی طرح یہ ریاست انہیں کھٹکتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے لوگ تھے اسی طرح اس ریاست میں محب وطن لوگ ہیں۔ جس طرح میسور کی ریاست ہندوستان کے مسلمانوں کی محافظ تھی اسی طرح یہ ریاست پورے عالم اسلام کی محافظ ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے سپاہی ایمان کی قوت سے مالا مال تھے اسی طرح اس ریاست کے سپاہیوں کے دل بھی ایمان کے نور سے فروزاں ہیں۔
    لیکن کتنے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح میسور کی ریاست کے اندر غدار تھے اسی طرح اس ریاست کے اندر بھی غدار پائے جاتے ہیں۔

    26 مئی 2019 کو ہونے والا واقع اس ریاست کے باسیوں کیلیے ایک سبق ہے۔ پی-ٹی-ایم کے ممبر قومی اسمبلی کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاک فوج کی چوکی پر حملہ ان کی غداری کا منہ بولتا ثبوت ہے.

    یہ اللّٰہ کا اس ریاست کے باسیوں پر احسان ہے کہ اس نے ان پر غدار ظاہر کر دیے۔ ورنہ یہ ریاست اب بھی حالت جنگ میں ہے۔ ریاستی ادارے دہشت گردی اور کرپٹ مافیا کے خلاف محو جنگ ہیں۔ ایسے میں غدار اس ریاست کے لیے سنگین خطرہ ہوسکتے ہیں ۔ افواج پاکستان پر پی ٹی ایم کا یہ پہلا حملہ نہیں، البتہ پی-ٹی-ایم کے رہنماؤں کا از خود فعلی حملہ ہے۔میں ان سب کو میر صادق،میر معین الدین، میر قمر الدین اور پورنیا سے تشبیہ دینا غلط خیال نہیں کرتا۔

    اے اہل پاکستان!

    اپنے وطن کے غداروں کو پہچان! اس سے پہلے کہ یہ اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ ان غداروں کو عبرتناک سزائیں دو تاکہ آئندہ کوئی تمہارے ساتھ غداری کا سوچ نہ سکے۔ یہ وقت سب پشتونوں، پنجابیوں، سندھیوں اور بلوچیوں کے اکٹھا ہونے کا ہے۔ اپنے منہج اور اقبال کے وژن پر واپس آجاؤ۔ پی-ٹی-ایم کو اس ارض پاک سے مٹا دو۔ ان کو آن کے انجام تک پہنچاؤ۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد۔

  • بس اب اور نہیں!!! بلال شوکت آزاد

    اگر فوج کو گالیاں بکنا, ان کا راستہ روکنا, ان پر مسلح حملہ کرنا, پاکستان کو گالی بکنا, محمد علی جناح و علامہ اقبال پر تبرہ کرنا, پاک فوج کو دہشتگرد کہنا, اسرائیل آرمی زندہ آباد کہنا, پاکستان کے علاقے کو مقبوضہ کہہ کر عامیوں کو گمراہ کرنا اور نو گو ایریا بنانا اور پاکستانی حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر آئین کی دھجیاں ہر ہر منٹ پر اڑانا جرم نہیں بلکہ آزادی اظہار رائے, ناراضی کا اظہار اور حقوق کی جنگ ہے (اور ہماری ریاست برداشت کا مظاہرہ کرنا ترک نہیں کرتی) تو اللہ کی قسم (سب نہیں کہ اصلی نسلی پختون خود ہم سے زیادہ پاکستانی اور محب وطن ہیں) میں یہ کیمپین لانچ کروانے اور اس پر عمل کروانے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگاؤں گا کہ جہاں پشتینی ٹوپی پہنے ہوئے یا یہ نعرہ لگاتے ہوئے کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” وغیرہ وغیرہ, ملک کے کسی بھی کونے میں کوئی محب وطن کسی پشتینی (تھرڈ کلاس سے لیکر ہائی کلاس) کو دیکھے تو بغیر حال چال دریافت کیئے اور بغیر وارننگ دیئے ٹھڈوں, مکوں اور تھپڑوں پر رکھ لے اور جب تک وہ پشتینی خود ٹوپی اتار کر اس پر پاؤں نہیں پھیرتا اور تھوکتا نہیں یہ کہہ کر کہ "ہاں میں بھی پاکستانی ہوں اور پاکستان زندہ آباد”, تب تک خواہ پیٹنے والا کوئی بھی محب وطن مہاجر, بلوچ, سندھی, پشتون, کشمیری, بلتی, سرائیکی, مکرانی اور پنجابی ہو وہ سانس نہ لے اور نہ اس کو سانس لینے دے۔

    ان کی ٹووووووں ٹووووووووووں بیپ بیپ اور انکی تحریک بشمول ان کے مبینہ نام نہاد حقوق اور انصاف کے نعروں کے ایسی کی تیسی۔

    اب یہ سیاست, آزادی اظہار رائے اور دو نمبر صحافت کے نام پر پاکستانی عوام, ریاست اور ریاستی اداروں کی اور تذلیل اور تضحیک بلکہ ان پر جانی و مالی حملہ بلکل برداشت نہیں کیا جائے گا اور پھر کوئی ہمیں یہاں بیٹھ کر پاکستانیت اور اخلاقیات کے پاٹھ نہ پڑھائے کہ الحمداللہ ہم خود اس میں خود کفیل ہیں اور بہتر جانتے ہیں کہ کس طرح سے ڈیل کرنا ہے ایسوں کو سوشل میڈیا اور گراؤنڈ پر۔

    واللہ ان الفاظ کو مذاق مت سمجھا جائے کہ اللہ کی قدرت اور مہربانی سے میں اور میرے سبھی ساتھی یہ سکت اور اہلیت رکھتے ہیں کہ پشتینیوں کا جینا دوبھر کردیں پورے ملک میں لیکن چونکہ ہماری تربیت اور مزاج ان نسلی ٹٹوؤں جیسا نہیں اور حب الوطنی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات ہمارے ایسے اقدامات کے آڑے آتی ہیں بالکل فوج کی طرح لہذا لفاظی کا سہارا لیکر ادھر ہی کاؤنٹر کرنے اور راہ راست پر لانے پر یقین رکھتے ہیں۔

    پر میں واضح کردوں سبھی پی ٹی ایم کے ٹٹ پونجیوں اور ان کے حامیان کو کہ ہماری برداشت اور صبر کا اتنا ہی امتحان لینا جتنا بعد میں خود بھگت سکو کہ ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں اور نہ ہی ہم لولے لنگڑے ہیں کہ تمہیں ہم سے ایک آنچ آنے کا بھی خطرہ نہیں۔

    جس دن ریاستی اداروں نے ہمیں ہلکا سا بھی اشارہ دے دیا (جو وہ کبھی نہیں دیں گے کہ ان کی روایت نہیں لیکن پھر بھی ہم تیار ہیں) کہ قوم ان کا علاج خود کرے تو تمہیں پورے پاکستان تو کیا قبائلی علاقہ جات میں بھی جائے امان نہیں ملنی۔

    جس وجہ سے ہم رکے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاتھ اور منہ بند ہیں اسی وجہ سے محب وطن پشتون جو تمہارے ارد گرد ہی رہتے ہیں ان کے بھی ہاتھ اور منہ بند ہیں لیکن یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے جس کا تمہیں بالکل اندازہ نہیں۔

    اپنی اصلاح کر لو اور غیروں کے نقش قدم پر چلنا چھوڑ کر قومی دھارے میں آ جاؤ اور آئینی و قانونی کے ساتھ ساتھ اخلاقی طریقے سے اپنا مقدمہ لڑو اور حقوق کی بات کرو تو واللہ ہم ہی وہ لوگ ہوں گے جو تم سے پہلے تمہارا مقدمہ اور حقوق کی جنگ لڑنے آگے کھڑے ہوں گے اور مقتدر حلقوں تک تمہاری آواز پہنچائیں گے لیکن جو تم کر رہے یہ قطعاً مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    نوٹ: بھاشن نہیں سنائے کوئی ادھر, تیسرا سال چل رہا ہے کہ ہم برداشت کرتے رہے ریاست کے ساتھ ساتھ پر اب اور خاموشی اور نظر اندازی سراسر منافقت اور بزدلی میں شمار ہوگی۔

  • بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    دشمن نے گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی تک کبھی فضل اللہ، حکیم اللہ اور بیت اللہ کے ناموں کے ساتھ TTP بن کر منبر و محراب اور مساجد و مدارس کی حرمت کو پامال کیا بازاروں میں بم چلاۓ عام مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے اور پھر ان کا قتل عام کیا۔
    بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر کلمہ طیبہ کی بنیاد اور اسلام کی اساس پر قائم مملکت خداداد پر مسلسل آتش و آہن کا بازار گرم کیے رکھا۔ جب افواج پاکستان نے لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ان سانپوں کو کچلنا شروع کیا تو کچھ مردار اور باقی فرار ہونا شروع ہوۓ۔ اس وقت کے نامور سورمے مارے گئے یا انہوں نے افغانستان کا رخ کیا جبکہ اس سے نچلے درجے کے دہشتگردوں کو ان کے اسپانسرز نے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت پاکستان کے شہروں میں روپوش کروایا۔ اور مناسب موقع کی تلاش میں لگے رہے۔
    کراچی میں ایک پشتون نوجوانوں نقیب اللہ کا مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے سے وہ موقع بھی آ ملا۔ اس کے بعد ان چھپے ہوئے چوہوں نے اپنے بِلوں سے باہر نکلنا شروع کیا اور پہلے پہل حکومت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج پھر دنوں ہفتوں میں انتہائی منظم ہو کر ایک نئے نام PTM سے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ اب تنظیمی نام کی طرح قیادتی نام بھی قوم پرستی میں تبدیل ہو کر "پشتین، داوڑ، وزیر” ہو چکے تھے۔ ہر گزرتے دن ان کی دشنام طرازی میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر کھلے عام ہندوستان اور اسرائیل کی افواج سے مدد مانگنے لگے۔ افواج پاکستان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ سلام ہے وطن کے محافظوں پر جنہوں نے یہ سب کچھ صبر سے برداشت کیا۔
    لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے آج جس طرح ان PTM کے مسلح دہشتگردوں نے آرمی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں پانچ جوان زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ان دہشتگردوں کو مزید مہلت دینا اپنے سر پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ اب مصلحتوں سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا۔
    خدارا ان آستین کے سانپوں کو کچل ڈالیں اس سے پہلے کہ یہ ناسور بن جائیں۔ ریاست ایسے غداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہے جو ہمارے شہداء کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ جنہوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور جیسے زخم دیے ہمارے مستقبل، پھولوں جیسے بچوں کو اپنے ناجائز آقاؤں کے اشاروں پر مَسل دیا۔ اللہ کے لیے وطن عزیز کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ اور اس ظلم کا سدباب کریں۔