Baaghi TV

Tag: وزیراعظم آفس

  • وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ کی اہم ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ کی اہم ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی اور وزیراعظم کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم آفس کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک میں سکیورٹی کے لیے اقدامات کی پیشرفت اور افغان باشندوں کی وطن واپسی کے عمل کی پیشرفت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بالخصوص عید الفطر کے موقع پر ملک میں امن و امان کی صورتحال پر اظہار اطمینان کیا۔ ملاقات کے دوران متعلقہ وزارت کے امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، بلوچستان کی اقتصادی و سماجی ترقی، امن و امان کی صورتحال اور وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے آغاز میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وزیراعظم کو عید الفطر کی مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت سے آگاہ کیا اور درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے لیے فراہم کردہ تعاون پر شکریہ ادا کیا اور مزید وسائل و حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔

    ڈاکووں کو سرکاری افسر سے لوٹ مار مہنگی پڑ گئی

  • وزیراعظم آفس کے افسران کیلئے اضافی تنخواہوں کی منظوری

    وزیراعظم آفس کے افسران کیلئے اضافی تنخواہوں کی منظوری

    اسلام آباد: وزیراعظم آفس کے افسران کیلئے 4 اضافی تنخواہوں کی منظوری دیدی گئی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق آ ئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج سے قبل وزیراعظم آفس کے افسران کیلئے اضافی تنخواہوں کی منظوری دیدی گئی،آئی ایم ایف سے نئے بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کیلئے واشنگٹن روانگی سے چند روز قبل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 4تنخواہیں دینے کی منظوری دی، اضافی تنخواہ ان افسروں کیلئے اعزازیہ اضافی کام کرنے پر منظور کیا گیا ہے،حکومت انعام کی ادائیگی بینکوں سے 23 فیصد شرح سود پر قرض لے کر ادا کرئے گی۔

    ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ نے 1 سے 16 کے پے سکیل پر خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم آفس کے اہلکاروں کیلئے 2 تنخواہوں کی بھی منظوری دی، جس سے صرف 2 ماہ میں انہیں ملنے والے انعامات کی تعداد 5ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے بھی وزیراعظم آفس کے ملازمین کو تین تنخواہیں بطور انعام دی تھیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چار تنخواہوں کی منظوری کا بطور چیئرمین اقتصادی رابطہ کمیٹی کیا، علاوہ ازیں وزیراعظم نے گریڈ 17 سے 21 تک کے افسروں کیلئے سابق نگران وزیراعظم کی منظور کردہ تین تنخواہیں بحال کر کے ایک ماہ کی تنخواہ کا اضافہ کر دیا ہے۔

  • راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

    راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

    وزیراعظم آفس کی جانب سے ریسکیو اداروں کو راوی، چناب اور ستلج میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فول پروف انتظامات کی ہدایت کر دی گئی ہے جبکہ وزیراعظم کی جانب سے یہ ہدایت ایسے وقت میں جاری ہوئی ہے جب صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں آج اور کل (11 جولائی) کو شدید بارشوں کی توقع ہے جبکہ دریائے چناب اور راوی میں طغیانی کا خدشہ ہے کیونکہ بھارت کی شمالی ریاستوں میں ہونے والی مسلسل بارش نے پانی کے اخراج میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم نے ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کے بروقت انخلا اورمدد پررینجرز اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ممکنہ طور پرمتاثر ہونے والے علاقوں میں لوگوں کی آگاہی اور بروقت وبا حفاظت انخلا کی تیاریوں کی بھی ہدایت کردی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے کہاکہ رینجرز اور ریسکیو کی بروقت امدادی کارروائی سے خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کی جان بچائی گئی۔ پاکستان کے فرض شناس سپوتوں کو مجھ سمیت قوم خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے ریسکیو اداروں کو راوی، چناب اور ستلج میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فول پروف انتظامات کی ہدایت کر دی۔ شہباز شریف نے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں لوگوں کی آگاہی اور بروقت و با حفاظت انخلاکی تیاریوں کی بھی ہدایت کر دی۔

    اس سے قبل دریائے راوی کے بعد بھارت نے دريائے چناب اور ستلج میں بھی پانی چھوڑ دیا۔ دو لاکھ 33 ہزار کیوسک پانی کی آمد سے درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ مرالہ پرپانی کی آمد ایک لاکھ چھیترہزار 940 کیوسک اور ہیڈ خانکی پرچورانوے ہزار 364 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق دريائے راوی میں جسڑکرتار پور پر پانی کا بہاؤ 30 ہزارکیوسک تک بڑھ گیا۔ سیلابی ریلا شاہدرہ کی طرف بڑھنے لگا۔ دريا کے اندرآباد بستيوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے این ای او سی کی مون سون اپڈیٹ جاری کی گئی جس کے مطابق موسمیاتی ماڈلز کے مطابق دریائے چناب،راوی ستلج اور منسلک نالوں بھمبر،ایک،دیگ،بین پلکھو اور بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب متوقع ہے تاہم پانی ندی/نالوں تک محدود رہنے کا امکان ہےجس کا ممکنہ اثر صرف دریا کنارے سے ملحق نشیبی علاقوں پر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم کے مطابق میونسپل علاقوں لاہور، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ میں بارشوں اوراربن فلڈنگ جبکہ بلوچستان، کے پی، پنجاب، جی بی اور اے جے کے کےپہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ نگ کا خدشہ ہے۔ اسی طرح کراچی،تھرپارکر،سکھر،لاڑکانہ، حیدرآباد، بدین شہید بینظیر آباد میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارش ہو سکتی ہے۔ شمال مشرقی بلوچستان (سبّی، ژوب، کوہلو، قلعہ سیف اللہ، خضدار، بارکھان، لورالائی، قلات، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی اور لسبیلہ) میں گرج چمک کیساتھ درمیانی تا شدید بارش متوقع ہے۔علاوہ ازیں اسلام آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان میں گرج چمک کے ساتھ/درمیانے سے شدید درجے بارش متوقع ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ موسمی صورتحال کے پیش نظرضروری حفاظتی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے ، شہری و ضلعی انتظامیہ سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں ایمرجنسی عملہ و مشینری بشمول ڈی واٹرنگ پمپس کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انتظامیہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے انڈر پاس اور نشیبی سڑکوں سے نکاسی آب آپریشن کے دوران متبادل ٹریفک پلان کو یقینی بنائے۔ متعلقہ انتظامیہ سٹاک ٹیکنگ کی تکمیل یقینی بنائے، بارش کے خطرے سے دوچار علاقوں کی انتظامیہ 20 جولائی تک سیلاب کے امکانات کے حوالے سے حساس علاقوں خاص طور پر دریائے چناب پر مرالہ ہیڈ ورکس،تریموں بیراج اور دریائے راوی میں جیسز کے مقام پر متوقع پانی کے بہاؤ پر مانیٹرنگ جاری رکھیں۔

    این ای او سی کی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے پنجاب ،دریائے چناب، راوی، ستلج اور منسلک نالوں کے گرد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو بروقت اطلاع دیتے ہوئے انخلا کو یقینی بنائے۔ ریسکیو سروسز پاک افواج ،این جی اوز خطرے سے دوچار علاقوں میں ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنانے کیلئے انتظامات مکمل رکھیں۔ متعلقہ ادارے پانی کے زیادہ بہاؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے مروجہ ضابطے کے تحت ہنگامی پروٹوکول کو نافذ کریں تاکہ پانی رابطہ نہروں میں جائے۔تمام متعلقہ انتظامیہ و ادارے فعال ہم آہنگی و رابطہ برقرار رکھتے ہوئے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کا امکان ہے لہٰذا وہ چوکس اور تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بارشوں سے جو لوگ متاثر ہو سکتے ہیں ان کا تخمینہ 9 لاکھ لگایا گیا ہے۔ شیری رحمٰن نے خبردار کیا کہ سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہروں لاہور، نارووال اور سیالکوٹ میں ہوگی، دوسرے صوبوں کو بھی موسلادھار سے درمیانے درجے کی بارش کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے، جن شہروں اور میونسپل علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، وہاں سیلاب کے الرٹ جاری کیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مربوط تیاری اور فعال ردعمل سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور تمام رسپانس ٹیموں کو چوکس رہنے کی تاکید کی۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، خطۂ پوٹھوہار، شمال مشرقی پنجاب اور سندھ میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق 8 اور 9 جولائی کے دوران موسلادھار بارش کے باعث گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، نارووال، بہاول نگر اور اوکاڑہ) کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح زیریں سندھ (ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر، نگرپارکر، اسلام کوٹ، مِٹھی، پڈعیدن، چھور، حید رآباد، جامشورو اور کراچی) کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ بارشوں کے باعث مری، گلیات، کشمی، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسلادھاربارش کے باعث کشمیر، ڈیرہ غازی خان، کوہلو، سبی اور بارکھان کے پہاڑی علاقوں اور ملحق برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خطرہ ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، شمالی بلوچستان، زیریں سندھ، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش بھی ریکارڈ کی گئی۔

  • پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکینڈل،وزیراعظم آفس کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو ڈارک ویب پر برائے فروخت،ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ ذمہ دار کون؟

    پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکینڈل،وزیراعظم آفس کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو ڈارک ویب پر برائے فروخت،ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ ذمہ دار کون؟

    پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک اور تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکئینڈل سامنے آیا ہے وزیر اعظم ہاؤس کی 8 جی بی ڈیٹا کی آدیو ریکارڈنگ ڈارک ویب پر فروخت ہو رہی ہے ،100 فائلز ڈارک ویب پر ہے 100 گھنٹے کی ریکارڈنگ اور وہ بھی عالمی مارکیٹ بولی لگ رہی ہے-

    شہباز شریف کی مبینہ طور پر مریم کے داماد کے لیے سرکاری افسروں پر دباو کی مبینہ…

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر شیئر کیے گئے دو منٹ سے زیادہ طویل آڈیو کلپ میں وزیر اعظم شہباز شریف اور پی ایم ایل این کی نائب صدر مریم نواز شریف کے درمیان پی ایم ایل این کے نائب صدر کو مبینہ طور پر احسان کرنے پر گفتگو سنی جا سکتی ہے-

    جس میں مریم نوز کا داماد بھارت سے پاور پلانٹ کے لیے مشینری درآمد کرے گا پی ٹی آئی نے آئی بی پر تنقید کی۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو اگست سے ستمبر تک ویب سائٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے۔


    انہوں نے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ایجنسیز کو سیاسی ٹاسک سےفرصت ملتی تو وہ حساس معاملات پر نظر ڈالتے، سوال یہ ہے اتنے بڑے واقعہ پر حکومت کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ فون ہر گیمز کھیلنے سے فرصت مل جائے تو مؤقف بھی دے دیں-

    عالمی بینک کا پاکستان کو 2 ارب ڈالرز فنڈز فراہم کرنے پر غور


    مبصرین کی جانب سے سوال اٹھائےجا رہے ہیں کہ اصل سوال تو یہ ہے کہ 100 گھنٹوں سے اوپر کی ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ کیا وزیراعظم ہاؤس کو Bug کیا گیا ہوا ہے؟ وزیراعظم ہاؤس میں خارجہ پالیسی سمیت تمام تر حساس موضوعات پر بھی بات چیت ہوتی تو کیا یہ سب ڈیٹا اب ہیکرز کے ہاتھ ہے؟ یہ سیاسی ایشو نہیں، پاکستان پر سائیبر حملہ ہے-

    تبصرہ نگاروں کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے ابھی تک کوئی پریس کانفرنس نہیں کی کیونکہ ترین آئی ایم ایف آڈیو لیک پر ن لیگ نے کافی کام کیا تھا جس میں شوکت ترین کو اب ایف بی آئی انکوائری کا سامنا ہے۔


    مبشر زیدی نے کہا کہ وزیر اعظم اور مریم نواز کو ان آڈیو لیکس پر اپنا رد عمل دینا چاہئے۔ کسی دوسرے ملک میں ایسی لیکس آتیں تو ابھی تک انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان مستعفی ہو چکے ہوتے-

    لاہور قلندرز نے فلڈ ریلیف فنڈ جمع کرنے کیلئے پی ایس ایل 7 کی ٹرافی پبلک کردی


    پولیٹیکل اینالسٹ راحیق عباسی نے کہا کہ آڈیو لیک کاافسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ فائلزویب پر اگست سے فار سیل ہیں اور 3 ستمبر کو منتخب آڈیوز کو ٹویٹر پر پبلکی شیئر کر دیا گیا۔ لیکن کیا ہماری سیکورٹی ایجنسیز کو اس کی خبر تک نہیں ہوئی ؟؟ کیا ایجنسیوں کی ساری توجہ عمران خان، ان کی حامی صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکتوست پر ہی ہے؟؟-


    پولیٹیکل اینالسٹ نے کہا کہ وزیر اعظم ہاوس کی 8GB آڈیو ریکارڈنگ 100 فائلز ۔ ہر فائل تقریبا ایک گھنٹے کی یعنی کم و بیش 100 گھنٹے کی ریکارڈنگ کی عالمی مارکیٹ میں بولی لگ رہی ہے۔اتنی بڑی security breach پر کس کس کو مستعفی ہو جانا چاھئیے ؟؟؟-


    لیک آدیوز پر ردعمل دیتے ہوئے PITB کے سابق چیئرمین عمر سیف نے کہا کہ پاکستان کی سائبر اسپیس محفوظ نہیں ہے۔ ہمارے پاس اس جگہ کی ترقی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ ایک اہم قومی اہمیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو سیاسی سنسنی خیزی سے بالاتر ہو کر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا خطرہ ہے-

    عالمی رہنماؤں نے یقین دلایا کہ پورے اخلاص کے ساتھ پاکستان کی مدد کی جائے…

    آڈیو لیکس میں کیا ہے؟

    تین ستمبر کو ایک غیر معروف ٹویٹر اکاونٹ پر ٹویٹ ہونے والی آڈیو آج وائرل ہو گئیں۔ تمام آڈیوز وزیراعظم ہاوس کی ہیں۔ ان آڈیوز میں وزیراعظم شہباز شریف ۔ ن لیگی نائب صدر مریم نواز کی گفتگو شامل ہے تو وہیں ایک آڈیو میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کہ گفتگو بھی شامل ہے۔ آڈیو میں ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کال ریکارڈ نہیں کی گئی بلکہ مختلف محفلوں اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو ہے

    ایک آڈیو میں وزیراعظم شہباز شریف کسی شخص سے مریم کے داماد کی ڈیمانڈ کی بات کرتے ہیں جس پر وہ شخص منع کر دیتا ہے کہ نہیں اس سے بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا جس پر شہباز شریف کہتے ہیں کہ میں مریم کو بلا کر سمجھا دوں گا-

    آڈیو کلپ میں وزیر اعظم شہباز کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ مریم نواز نے ان سے اپنے داماد راحیل کو بھارت سے پاور پلانٹ کے لیے مشینری کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کا کہا تھا۔

    ایک آڈیو میں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری بارے مشاورت ہو رہی ہے۔ اس آڈیو میں رانا ثناء اللہ ۔ خواجہ آصف کی آواز واضح ہے جبکہ دیگر بھی کچھ شخصیات کی آواز ہے-

    وقت آ گیا ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے،عارف علوی

    ایک آڈیو میں مریم نواز غالباً وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بارے میں بات کر رہی ہیں اس میں وزیراعظم شہباز شریف کی بھی آواز ہے مریم نواز کہتی ہیں کہ وہ جس طرح کے کام کر رہا ہے اس سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے بہت لوگ شکایتیں کر رہے۔ کچھ بھی نہیں پتہ اسے کہ اس کام کا ردعمل کیا ہونا اور اثر کیا ہو گا

    وزیراعظم ہاوس کی تین ستمبر کو لیکڈ ہونے والی آڈیو یکدم کیسے وائرل ہو گئیں؟ مبینہ طور پر عمران خان کی آئی ٹی ٹیم نے عمران خان کے وزیراعظم ہاوس سے جانے سے قبل مختلف مقامات پر خفیہ ڈیوائسز لگا دی تھیں اور اب ان ڈیوائسز میں ہونے والی تمام ریکارڈنگ کو پبلک کیا جا رہا ہے-

    وزیراعظم ہاوس کی آڈیو لیک ہونے پر تحریک انصاف کے رہنماؤں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تو دوسری جانب حکومتی کیمپ میں اس حوالہ سے مکمل خاموشی ہے کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آڈیو تین ستمبر کو ٹویٹ کی گئی تھیں۔ ایک ایسے موقع پر جب پاکستان قدرتی آفت سیلاب کا شکار ہو چکا ۔ پاکستانی مشکلات میں ہیں۔ دنیا پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہے وزیراعظم شہباز شریف پاکستانی قوم کے لیے دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں ان آڈیوز کا لیک ہونا وزیراعظم کے کامیاب دورہ امریکہ کو متاثر کرنے کے لیے ہے

    ہمیں تعمیر نو اور بحالی کے لیے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے،بلاول بھٹو

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان آڈیوز کا لیک ہونا شریف خاندان کی اندرونی چپقلش ہے۔ مریم نواز کے داماد کا کام نہ ہونے کی وجہ سے آڈیوز لیک کروائی گئیں۔ مفتاح اسماعیل سے مریم خوش نہیں تھیں پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر مریم نواز ٹویٹر پر اپنے جذبات کا اظہار کر چکی ہیں اب آڈیو میں بھی مریم نواز کی مفتاح اسماعیل بارے گفتگو سے تصدیق ہو چکی ہے-

    مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے سے متفق نہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی حکومت میں تھی یا نہیں، اس طرح کے فیصلے ان کے پاس نہیں۔