وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے۔
سہیل آفریدی نے بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہےصوبے میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے، دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گادہشتگردی پورے ملک کے لیے مشترکہ چیلنج ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی کمزوری یا ابہام کی گنجا ئش نہیں، پاکستان پوری قوت سے دہشتگردی کا مقابلہ جاری رکھے گا اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو جلد امن کا گہوارہ بنائے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دو دنوں میں آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔
قبل ازیں سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنان صبر سے کام لیں کیونکہ بہت جلد بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو رہا کرا لیا جائے گا آج کارکنوں میں جو جذبہ نظر آ رہا ہے ایسا جوش انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھابانی پی ٹی آئی کی بیماری کو پارٹی، وکلا اور حتیٰ کہ ان کے خاندان سے بھی چھپایا گیا جبکہ ذاتی معالج تک بھی رسائی نہیں دی جا رہی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنوں کے جذبے اور عمران خان کے درمیان صرف چند لمحوں کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ تھوڑا انتظار کریں، انشاء اللہ اپنے لیڈر کو رہا کرائیں گےانہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا آپریشن رات کے اندھیرے میں کیا گیا اس کے بعد 5 دن تک پوری قوم سے یہ حقیقت چھپائی گئی اور قوم سے جھوٹ بولا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقات ان کے ذاتی معالج سے کروائی جائے تاہم اس پر بھی عمل نہیں ہوا وہ اڈیالہ جیل کے باہر دو دن تک موجود رہے لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی بعض بااثر عناصر نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے قائد سے ملاقات نہیں کر سکے۔






