Baaghi TV

Tag: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

  • دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

    دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے۔

    سہیل آفریدی نے بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہےصوبے میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے، دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گادہشتگردی پورے ملک کے لیے مشترکہ چیلنج ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی کمزوری یا ابہام کی گنجا ئش نہیں، پاکستان پوری قوت سے دہشتگردی کا مقابلہ جاری رکھے گا اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو جلد امن کا گہوارہ بنائے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دو دنوں میں آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔

    قبل ازیں سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنان صبر سے کام لیں کیونکہ بہت جلد بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو رہا کرا لیا جائے گا آج کارکنوں میں جو جذبہ نظر آ رہا ہے ایسا جوش انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھابانی پی ٹی آئی کی بیماری کو پارٹی، وکلا اور حتیٰ کہ ان کے خاندان سے بھی چھپایا گیا جبکہ ذاتی معالج تک بھی رسائی نہیں دی جا رہی۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنوں کے جذبے اور عمران خان کے درمیان صرف چند لمحوں کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ تھوڑا انتظار کریں، انشاء اللہ اپنے لیڈر کو رہا کرائیں گےانہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا آپریشن رات کے اندھیرے میں کیا گیا اس کے بعد 5 دن تک پوری قوم سے یہ حقیقت چھپائی گئی اور قوم سے جھوٹ بولا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقات ان کے ذاتی معالج سے کروائی جائے تاہم اس پر بھی عمل نہیں ہوا وہ اڈیالہ جیل کے باہر دو دن تک موجود رہے لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی بعض بااثر عناصر نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے قائد سے ملاقات نہیں کر سکے۔

  • صوبے اور عوام کی خاطر سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں،سہیل آفریدی

    صوبے اور عوام کی خاطر سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت اور اداروں کو دہشتگردی کے معاملے پر پالیسی سازی کے لیے ایک ساتھ بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صوبے اور عوام کی خاطر سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔

    سہیل آفریدی پیر کے روز اچانک خیبرپختونخوا اسمبلی پہنچے اور اسمبلی سے خطاب میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے’سب کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنےکو تیار ہوں‘آپ نے سب کو ساتھ بیٹھنے کا مشورہ دیا، لیکن کیا آپ خود اداروں کے ساتھ بیٹھیں گے؟ اس سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے اور عوام کی خاطر وہ سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔

    اسمبلی اجلاس سے پرجوش تقریر کے دوران سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز جاری ہونے والی پریس ریلیز وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کا پروانہ ہے، 24 رکنی کمیٹی نے تیراہ میں آپریشن کا فیصلہ کیا،’آج کے بعد کسی بھی وفاقی ادارے یا وفاق سے کمیونیکیشن زبانی نہیں بلکہ تحریری ہوگی۔‘

    سہیل آفریدی نے وفاق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آئی ڈی پیز کی ادائیگی کی مد میں آج بھی وفاق کے ذمے 52 ارب روپے بقایا ہیں تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومت کو ساتھ بٹھایا جائے۔ مستقل اور پائیدار امن کے لیے مل بیٹھ کر پالیسی بنانا ہوگی،ایک طرف دہشتگردی ہے، دوسری طرف وفاق بقایاجات ادا نہیں کر رہا، جبکہ اب بھی 4 ہزار 758 ارب روپے وفاق کے ذمے ہیں،خیبر پختونخوا پر ایک دفعہ پھر دہشتگردی مسلط کی گئی ہے، ہماری جمہوری حکومت کو ایک منصوبے کے تحت گرایا گیا، بدامنی میں کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کا قصور نہیں۔

  • سانحہ گل پلازہ :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط

    سانحہ گل پلازہ :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط

    پشاور:سانحہ گل پلازہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط ارسال کردیا۔

    خط میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے گل پلازہ میں آتشزدگی میں قیمتی جانی و مالی نقصانات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہےوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سندھ حکومت سے مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ایک صوبے کا دکھ پوری قوم کا دکھ ہے، خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

    دوسری جاںب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، کل رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی، 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی، تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق 6 لوگوں کی جانیں گئی ہیں جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو زندگی دے، یہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں، جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔

    ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم صاحب نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا، ہوسکتا ہے حکومت سے کیا ہو، مجھے جلدی آنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ میں یہاں موجود نہیں تھا، میں تقریباً 5 بجے کے قریب شہر آیا ہوں، میں تمام تر حالات کا جائزہ لے کر یہاں آیا ہوں، جو لوگ انتشار پھیلاتے ہیں میں اُن پر دھیان نہیں دیتا،کوشش کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، تاجروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، ہمارے کے ایم سی اور 1122 کے فائر فائٹرز والوں کے پاس مہارت موجود ہے، اگر کسی اور کی ضرورت پڑی تو ضرور اپروچ کریں گے، کسی سے مدد طلب کرنا کوئی مضحکہ عمل نہیں ہوگا، یہ بلڈ نگ بھی 80 کی دہائی میں تعمیر ہوئی ہے، اُس وقت یا اُس سے پہلے ایسا نظام لایا گیا جس کو ہم بھی نہ سنبھال سکے۔

  • صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کر سکے،علی امین گنڈاپور

    صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کر سکے،علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کر سکے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں سیلاب میں شہید افراد کےدرجات کی بلندی کے لیے دعا اور فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ سیلاب سے ہونے والےنقصانات، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ پہلےمرحلے میں ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے تاہم لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے، شہداء کےاہلخانہ اور زخمیوں کو معاوضوں کی ادائیگی جاری ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں املاک کےنقصانات کا ڈیٹا اکھٹا کیا جا رہا ہے، صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کر سکے۔

    پی ٹی آئی نے سینیٹ کی خالی نشست پر اعجاز چوہدری کی اہلیہ کو ٹکٹ جاری کردیا

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جن جن کے گھر تباہ ہوئےہیں، انہیں گھر بنا کر دیں گے، جن کےکاروبار متاثر ہوئے ہیں انہیں بھی بھرپور پیکیج دیا جائےگا،لائیو اسٹاک کے نقصانات کا بھی معاوضہ دیا جائےگا،متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امداد کے لیے3 ارب کےعلاوہ مزید 2 ارب روپے جاری کیےگئے ہیں-

    متنازع یوٹیوبر اور بگ باس او ٹی ٹی کے فاتح کے گھر پر مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ

  • علی امین گنڈا پور اچھے بچے ہیں، وکٹ کے دونوں اطراف کھیلتے ہیں،  فیصل کریم کنڈی

    علی امین گنڈا پور اچھے بچے ہیں، وکٹ کے دونوں اطراف کھیلتے ہیں، فیصل کریم کنڈی

    گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کسی کی حکومت گرانے کے حق میں نہیں ہیں،خدشہ ہے پی ٹی آئی خود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرعدم اعتماد کردے گی۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایوان میں ہمارا ایک رکن بھی زیادہ ہوا تو تحریک عدم اعتماد لائیں گے،خدشہ ہے پی ٹی آئی خود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرعدم اعتماد کردے گی، خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے جس کا کردار ہوگا اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے، پی ٹی آئی والے عدالتوں سے ریلیف لیں، ان کو این آر او نہیں ملنا۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ،جو لوگ ماضی میں کہتے تھے این آر او نہیں دیں گے، وہ آج خود مانگ رہے ہیں، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ 9 مئی کے ذمہ داروں کو ضرور سزا ملنی چاہیے، جزا سزا کا نظام ٹھیک کیے بنا ملک ٹھیک نہیں ہو سکتا،علی امین گنڈا پور اچھے بچے ہیں، وکٹ کے دونوں اطراف کھیلتے ہیں، گورنرخیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خود کو بہت کچھ سمجھنے والے سینیٹ میں حلف لینے بھی نہیں آ سکے۔

    ٹرمپ اور مودی کے موجودہ تعلقات کی اصل وجوہات کیا؟

    اپنی سرزمین پر امریکی فوجیوں کوکارروائیوں کی اجازت نہیں دیں گے، میکسیکن صدر

    مہنگائی کی شرح میں 0.05 فیصد اضافہ

  • برطانوی ہائی کمشنر کی علی امین گنڈاپور سے ملاقات

    برطانوی ہائی کمشنر کی علی امین گنڈاپور سے ملاقات

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میرئیٹ نے ملاقات کی جہاں باہمی دلچسپی کے امور خصوصاً صوبے میں برطانوی ڈونر ایجنسیوں کے تعاون سے جاری عوامی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں، خطے میں امن و امان کی صورت حال اور دیگر متعلقہ امور پر گفتگو کی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈپور اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات کے دوران ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے خصوصاً ضم اضلاع میں امن و امان کی خراب صورت حال کا سامنا ہے اور اس خراب صورت حال کا براہ راست تعلق پڑوسی ملک افغانستان کی صورت حال سے ہے۔اس دیرینہ مسئلے کے پائیدار حل کے لیے سب کو مل کر سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے ہوں گے، ضم اضلاع میں جاری امن و امان کے مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو یہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

    وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے کل وقتی حل کے سلسلے میں افغانستان کے ساتھ بات چیت کے لیے صوبائی حکومت نے جرگہ تشکیل دے دیا ہے اور وہاں جرگہ بھیجنے کے لیے ساری تیاریاں مکمل ہیں لیکن چونکہ معاملہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اس لیے وہاں سے مذاکرات کے ٹی اور آرز کی منظوری کا انتظار ہے۔ اس علاقے میں پائیدار امن کا قیام پورے خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے، وقت آگیا ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک بھی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے کل وقتی حل کے لیے اجتماعی طور پر کوششیں کریں۔

    وفاق سے جڑے صوبے کے آئینی حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاق سے جڑے صوبے کے مالی مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں، صوبے کو این ایف سی میں ضم اضلاع کے شئیرز نہیں مل رہے، پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمے صوبے کے دو کھرب سے زائد روپے واجب الادا ہیں، اٹھارھویں آئینی ترمیم کے بعد ٹوبیکو سیس کی مد میں صوبے کو سالانہ 220 ارب روپے ملنے ہیں، پچھلے 10 مہینوں سے ضم اضلاع کے تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کے فنڈز نہیں مل رہے جس کے نتیجے میں ضم اضلاع میں ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے اور لوگوں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ این ایف سی کے موجودہ فارمولے پر نظر ثانی کی جائے، این ایف سی میں جنگلات کے رقبے کے لیے شئیر مختص ہونا چاہیے، اگر اگلے مہینے تک ہمارے آئینی حقوق کا معاملہ حل نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے علاوہ ہر دستیاب فورم پر آواز اٹھائے گی لیکن صوبے کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔صوبے میں بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیاحت اور معدنیات کے شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور ہم ان شعبوں کو ترقی دے کر لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ معدنی وسائل سے بھر پور استفادہ کرنے کے لیے صوبے میں مائننگ کمپنی کا قیام عمل لایا گیا ہے جبکہ صوبے میں نئے سیاحتی مقامات کی ترقی کے لیے اینٹگریٹڈ ٹوارزم زونز کے قیام پر کام جاری ہے، غیر ملکی سرمایہ کار ان شعبوں میں سرمایہ کاری کریں ہم انہیں تمام سہولیات فراہم کریں گے۔ افعان مہاجرین کی وطن واپسی سے متعلق وفاق کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا اور اگر افعان مہاجرین کے انخلاء کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو ساتھ میں ان کی باعزت واپسی کا پلان بھی بننا چاہیے۔

    پرویز الہیٰ پر پنجاب میں 32 مقدمات درج، پولیس رپورٹ

    اسپین میں چیئرمین پی ٹی اے کی اسٹارلنک ٹیم سے ملاقات

    کراچی، چچا سے بھتہ مانگنے والا بھتیجا چار ساتھیوں سمیت گرفتار

    شریف اور پرویز الہی فیملی کےسابق وکیل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات

    سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور ، قیمت میں بڑا اضافہ

    کراچی میں 3 اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کا فیصلہ

  • وفاق میں ہمت ہےتو  گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وفاق میں ہمت ہےتو گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں، وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرسی نہیں عزت اور خودداری چاہیے، اپنے حق کےلئے پرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ہمت ہے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگا کر دکھائیں، ہم گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کچھ دیر قبل وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ گورنر راج لگانا مناسب اقدام ہوگا اور کچھ عرصے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر کلیئر ہیں، وفاقی کابینہ کے اراکین کی اکثریت گورنر راج کی حامی ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے گورنر راج لگانے پر غور کر رہے ہیں، پہلی کوشش ہے کہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد لائی جائے۔ہ اسمبلی میں قرارداد نہیں آتی تو دوسرا راستہ بھی ہے، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر گورنر راج لگاسکتے ہیں اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لایا جاسکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانون نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 10 روز میں بلایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔یاد رہے کہ 24 نومبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد جانے کے لیے نکلا تھا۔تاہم، 26 نومبر کو رات گئے رینجرز اور پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو تک کے علاقے کو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے کارکنوں سے مکمل طور پر خالی کرالیا تھا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے اسلام آباد پر لشکر کشی کی گئی، اس کا مقصد ملکی استحکام کو تباہ کرنا تھا۔شہباز شریف نے مزید کہا تھا کہ اسلام آباد پر لشکر کشی کرنے والے شرپسند ٹولے کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے، استغاثہ کے نظام میں مزید بہتری لاکر شرپسند عناصر کی فوری شناخت کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔آج وزیر اعظم شہباز شریف نے مستقبل میں شرپسندوں کی اسلام آباد میں آمد کو روکنے، گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں انتشار و فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی، ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    انڈونیشیا اور ملائیشیا میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • اپیکس کمیٹی  اجلاس  میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخو ا کو ومدعونہ کرنے پر پی ٹی آئی  کی شدید مذمت

    اپیکس کمیٹی اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخو ا کو ومدعونہ کرنے پر پی ٹی آئی کی شدید مذمت

    ایس آئی ایف سی اپیکس کمیٹی کے 10واں اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپورکومدعونہ کرنے پر پی ٹی آئی نے مذمت کی ہے-

    پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو ایس آئی ایف سی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں نہ بلان ے پر شدید الفاظ میں مذمت کی، مشیرخزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورکومدعونہیں کیاگیا لیکن باقی تمام وزرائےاعلیٰ کودعوت دی گئی ہے ، اپیکس کمیٹی میں وزیراعلیٰ کونہ بلانافیڈریشن اصولوں کے خلاف ہے.

    دوسری جانب بیرسٹرسیف نے کہا کہ شہبازشریف کی حکومت کاکےپی سےتعصب انتہا کوپہنچ گیا ہے، ایس آئی ایف سی اجلاس میں کےپی کےسواتمام وزرائےاعلیٰ مدعوہیں 25مئی کواجلاس میں وزیراعلیٰ کےپی کومدعو ہی نہیں کیاگیاوزیراعلیٰ کی غیرموجودگی میں خیبر پختو نخواصوبےکافیصلہ قبول نہیں ہے، خیبرپختونخواحکومت متعصبانہ اقدام کی شدیدمذمت کرتی ہے ،صوبے کے وسائل پر پہلا حق کے پی کےعوام کاہے لیکن موجودحکومت ملک کوصوبائیت کی طرف دھکیل رہےہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ماہ چین کا 3 روزہ دورہ کریں گے

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ایس آئی ایف سی کا اجلاس طلب کیا ہے، ذرائع کے مطابق اجلاس میں شرکت کیلئے تمام متعلقہ وزرا، وزرااعلیٰ اور اعلیٰ افسران کو شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے اجلاس میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پیش رفت پر غور ہوگا نائب وزیر اعظم اسحق ڈار بھی اجلاس میں شرکت کریں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی کا اجلاس ہفتہ کو منعقد ہو گا۔

    عمران خان کیخلاف سنگین غداری کے مقدمہ کی درخواست خارج