Baaghi TV

Tag: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

  • سندھ کابینہ اجلاس، ٹریفک اصلاحات، عدالتی نظام میں بہتری، اور سماجی ترقی کے اہم فیصلے

    سندھ کابینہ اجلاس، ٹریفک اصلاحات، عدالتی نظام میں بہتری، اور سماجی ترقی کے اہم فیصلے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے سندھ کابینہ اجلاس میں کئی اہم اور دوررس فیصلے کیے گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان فیصلوں کا مقصد ٹریفک نظام کو بہتر بنانا، عدالتی نظام کو مؤثر بنانا، خواتین اور خصوصی افراد کو بااختیار بنانا اور صوبے میں وفاقی حکومت کے تعاون سے ترقیاتی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

    1. ٹریفک قوانین میں اصلاحات
    کمرشل گاڑیوں کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔بھاری گاڑیوں پر 0.5٪ رجسٹریشن فیس اور 1000 روپے سالانہ ٹیکس لاگو کیا گیا۔غیر فٹ گاڑیوں پر 10,000 روپے جرمانہ عائد ہوگا۔20 سال پرانی گاڑیوں پر بین الصوبائی سفر اور 25 سال پرانی گاڑیوں پر بین الاضلاعی سفر پر پابندی لگائی جائے گی۔غیر معیاری رکشوں اور لوڈر گاڑیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔گاڑیوں کی غیر قانونی اسمبلنگ پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ، اور اس کے لیے 30 لاکھ سالانہ لائسنس کی شرط عائد کی گئی ہے۔

    ہیوی ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں کے لیے 30 گھنٹے کی لازمی تربیت اور عمر کی حد 22 سال مقرر کی گئی۔خلاف ورزی پر خودکار جرمانے کا سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ٹنٹڈ شیشے پر بار بار خلاف ورزی کی صورت میں 3 لاکھ روپے تک جرمانہ۔صوبے بھر میں خصوصی ٹریفک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

    2. انسدادِ منشیات کے اقدامات
    کراچی میں 3 اور دیگر شہروں میں 1 انسداد منشیات عدالت قائم ہوگی۔اب تک 9676 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 7769 صرف کراچی میں زیر التوا ہیں۔

    3. خواتین کے لیے بااختیاری پروگرام
    سندھ کابینہ نے وزیراعظم خواتین بااختیاری پیکج میں شمولیت کی منظوری دی۔ہر سال صنفی برابری کی رپورٹ سندھ اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ویمن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو قوانین میں ترامیم کی ہدایت دی گئی۔

    4. تعلیم و ثقافت
    اروڑ یونیورسٹی کو فنون، ورثہ، سائنس، انجینئرنگ، اور آرکیٹیکچر کے شعبوں میں ڈگری جاری کرنے کا اختیار دے دیا گیا جبکہ بورڈ میں ورثہ کا ماہر اور چیف اکاؤنٹنٹ (فل ٹائم) شامل کیا جائے گا۔

    5. خصوصی افراد کے لیے “انکلوژو سٹی” منصوبہ
    کراچیئ کے علاقے کورنگی میں 88.38 ایکڑ زمین پر ایک مکمل جدید شہر تعمیر کیا جائے گا۔یہاں بحالی، تعلیم، روزگار اور سبزہ زار جیسی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔منصوبے کے لیے 2024-25 کے بجٹ میں 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    6. نادرا بایومیٹرک معاہدہ
    نادرا سے بایومیٹرک تصدیق کا معاہدہ منظور کیا گیا جس کے تحت ہر تصدیق پر 10 روپے + ٹیکس فیس مقرر کی گئی۔

    7. وفاقی حکومت کے تعاون سے بین الصوبائی ترقیاتی منصوبے
    وفاق نے سندھ حکومت کو 9 ارب روپے فراہم کیے جس کے تحت پنجاب (رحیم یار خان، راولپنڈی) میں SIUT اسپتال کی تعمیر کی جائے گی جبکہ بلوچستان (صحبت پور، جعفرآباد، ڈیرہ مراد جمالی) اور خیبرپختونخوا (ڈیرہ اسماعیل خان) میں سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر ہوگی.SIUT اسپتالز کے لیے ہر سال 50 کروڑ روپے آپریٹنگ اخراجات رکھے گئے ہیں۔تمام منصوبوں کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ اور سہ ماہی رپورٹس لازم قرار دی گئی ہیں۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق نے سندھ حکومت کے اقدامات کو ماڈل قرار دیا ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی اور SIUT جیسے ادارے قومی یکجہتی اور عوامی خدمت کی اعلیٰ مثال ہیں۔ سندھ حکومت کا ترقیاتی کردار اب دیگر صوبوں تک پھیل رہا ہے۔”

    پاکستان کا امارات کے بینکوں سے ایک ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کیریئر پر ایک جامع رپورٹ

    افغانستان اور بھارت ٹرانزٹ ٹریڈ دوبارہ فعال، واہگہ بارڈر سے درجنوں ٹرک بھارت روانہ

    مورو واقعہ: سندھ بھر میں کشیدگی، قومی شاہراہ بند، مظاہرے اور پرتشدد واقعات

  • وزیراعلی سندھ کا عیدالفطر پر قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان

    وزیراعلی سندھ کا عیدالفطر پر قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے عیدالفطر کے موقع پر سزا یافتہ قیدیوں کے لیے 120 دن کی رعایت کی منظوری دے دی۔

    ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق اس فیصلے سے 820 قیدی مستفید ہوں گے۔ تاہم، یہ معافی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث قیدیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔ مزید برآں، سزائے موت، قتل، جاسوسی، دہشت گردی، ریپ اور ڈکیتی کے مجرموں پر بھی یہ رعایت لاگو نہیں ہوگی۔دوسری جانب سندھ حکومت نے عیدالفطر پر قیدیوں کی سزاوں میں خصوصی معافی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    حکومت سندھ نے سزا یافتہ قیدیوں کو 120 دن کی خصوصی معافی دے دی ، سزاوں میں کمی کا محکمہ داخلہ سندھ نے حکم نامہ جاری کر دیا ، سزائے موت کے مجرم،ریاست مخالف سرگرمیوں کے مجرمان پر معافی لاگو نہیں ہو گی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیاہے کہ خصوصی معافی سے سندھ کے مختلف جیلوں میں 820 قیدی مستفید ہوں گے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام اسرائیلی مظالم کیخلاف ملک گیر احتجاج

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا کوئٹہ میں بلوچستان امن مارچ، سینکڑوں افراد کی شرکت

  • وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت محکمہ آبپاشی اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز کا اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت محکمہ آبپاشی اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز کا اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہائوس میں محکمہ آبپاشی اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں صوبے بھر میں جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلی سندھ نے محکمہ ورکس کو جامشورو پھاٹک(ریلوے کراسنگ)سے حیدر آباد براستہ کوٹری بیراج تک دو رویہ سڑک کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں صوبائی وزرا ناصر شاہ، جام خان شورو، علی حسن زرداری، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ،وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکرٹری ورکس محمد علی کھوسو، سیکرٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، پی اینڈ ڈی کے زبیر چنا اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔کے فور واٹر سپلائی کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے KBفیڈر اور کینجھر جھیل کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا۔

    یہ 39.9 بلین روپے کا منصوبہ ہے جس میں وفاقی حکومت کا شیئر 19.4بلین روپے ہے۔ اس منصوبے پر اب تک 4 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے حکام پر زور دیا کہ وہ کام کی رفتار تیز کریں۔سندھ کی ترقی کے لیے انفراسٹرکچر اور پانی کے منصوبوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ صوبے بھر میں عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی موثر اور بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کو محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے تحت جاری 799ترقیاتی اسکیموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی جن کی مجموعی لاگت166بلین روپے ہے۔مراد علی شاہ نے اعلیٰ معیار اوربروقت تکمیل پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلی سندھ نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ مالی سال کے اختتام سے قبل ہی تمام جاری منصوبوں کو حتمی شکل دیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ مالی سال 25-2024 کے لئے حکومت نے کوئی نئی اسکیم متعارف نہیں کروائی ہے البتہ موجودہ منصوبوں کو مکمل کرنے پر توجہ مرکوز ہے۔اس سال 55 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 37 بلین پہلے ہی استعمال ہو چکے ہیں جبکہ تھرو فارورڈ لائبییلٹی 111 بلین روپے ہے۔

    میجرانفراسٹرکچر اور واٹر پروجیکٹس:

    مراد علی شاہ نے لفٹ بینک آٹ فال ڈرین (LBOD) سسٹم کا بھی جائزہ لیا، فیڈرل پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت اس منصوبہ پر ابتدائی لاگت کا تخمینہ 115.4 بلین روپے تھا لیکن نظرثانی رپورٹ کے بعد اب اسے 172 ابلین روپے کردیا گیا ہے۔
    انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی)سے پراجیکٹ کی منظوری حاصل کریں ۔ اس منصوبے پر اب تک کوئی رقم خرچ نہیں کی گئی ہے جبکہ رواں سال اس منصوبے پر 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے کوٹری بیراج تک جامشورو پھاٹک روڈ کو دو رویہ کرنے کی ہدایت کی اور اسے انفرااسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا لازمی جز قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے حیدرآباد شہر میں ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی۔ کوسٹل ہائی وی:اجلاس میں کوسٹل ہائی وے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ کوسٹل ہائی وے کی 36 کلو میٹر توسیع سے لاگت میں اضافے کا سامنا ہے۔ اس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ16.2 بلین روپے لگایا گیا تھا مگر نظر ثانی کے بعد یہ لاگت بڑھ کر 29.9 بلین روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    رواں سال منصوبے کے لیی3 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 1 بلین پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں۔ تاہم منصوبے کی نگرانی کرنے والی اسٹیئرنگ کمیٹی نے بولی لگانے کے عمل کے ساتھ مسائل سے بھی آگاہ کیا ۔سندھ حکومت بڑھتی ہوئی لاگت یعنی 6.85 بلین روپے کی ادائیگی کرے گی اور اس حوالے سے 6.5 ملین روپے پہلے ہی میچنگ گرانٹ کی صورت میں موجود ہے۔ اسٹیئرنگ کمیٹی نے محکمہ ورکس کو بولی کے عمل کو حل کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیراعلی سندھ نے چیئرمین پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ وہ بقایا جات کامسئلہ حل کرکے کام دوبارہ شروع کریں۔

    واٹس ایپ گروپ سے کیوں نکالا؟ ایڈمن کو گولی مار دی گئی

    افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کیلئے 31 مارچ تک کی مہلت

    پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی ہو رہی ؟

    بلاول سے امریکی ناظم الامور،فرانسیسی سفیر،برطانوی ہائی کمشنرکی ملاقات

  • سندھ حکومت کی جنوبی کوریا کو صنعتیں لگانے کی پیشکش

    سندھ حکومت کی جنوبی کوریا کو صنعتیں لگانے کی پیشکش

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جنوبی کوریا کو دھابیجی اکنامک زون میں صنعتیں لگانے کی پیشکش کر دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں عوامی جمہوری کوریا کے سفیر پارک کجون سے ملاقات کے دوران کہی۔ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، تجارتی روابط اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں سندھ اور جنوبی کوریا کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے جنوبی کوریا کو دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں صنعتیں لگانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ زون غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کورین کمپنیوں کو سندھ میں ہائی-ٹیک انڈسٹری، سیمی کنڈکٹرز اور آٹوموبائل کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی پیشکش کی۔

    کورین سفیر پارک کجون نے کہا کہ ماضی میں جنوبی کوریا نے سندھ میں حیدرآباد-میرپورخاص سڑک کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کیا تھا، تاہم اس کے بعد کسی بھی بڑے منصوبے میں کام نہیں کیا۔انہوں نے سندھ میں آئی ٹی اور آٹوموبائل کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کورین سفیر کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت جنوبی کوریا کے سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

    اس ضمن میں انہوں نے انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ سندھ کو ہدایت دی کہ وہ کورین سرمایہ کاروں کے ساتھ براہ راست روابط استوار کرے اور ان کی معاونت کرے۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق یہ ملاقات سندھ اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگی اور مستقبل میں مزید تجارتی اور صنعتی معاہدوں کی راہ ہموار کرے گی۔

    بلوچستان کے طلبا کیلیے یو اے ای کا اسکالرشپ پروگرام کااعلان

    اوچ شریف: رمضان کی آمد پر مہنگائی کا طوفان، ذخیرہ اندوز سرگرم، عوام پریشان

    چیمپئنز ٹرافی؛ افغانستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا

    رمضان المبارک میں گیس لوڈ شیڈنگ کے شیڈول جاری

  • پاکستان کو ٹریلین ڈالر اکانومی بنانا مشکل نہیں، وزیراعلی سندھ

    پاکستان کو ٹریلین ڈالر اکانومی بنانا مشکل نہیں، وزیراعلی سندھ

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ٹریلین ڈالر اکانومی بنانا مشکل نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں تقریب سے خطاب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ پاکستان کو ٹریلین ڈالر اکانومی بنانا مشکل نہیں، اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ہے۔انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے فائیو ایز پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ تھے، ایکسپورٹ بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہے۔وزیراعظم پورٹس کی ترقی کیلیے بڑے فکرمند ہیں، پورٹس سے ٹرکوں کے ذریعے سامان کی منتقلی کیلیے صرف رات کا وقت ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے کو ہمیں ہیوی ٹریفک کیلیے مختص کرنا ہوگا، صرف اتحاد کی ضرورت ہے، انرجی کے بغیر ایکسپورٹ نہیں بڑھاسکتے۔

    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انفرااسٹرکچر کے بغیر بھی ایکسپورٹ نہیں بڑھائی جا سکتی، اگر حیدرآباد سکھر روڈ ایسا ہوگا تو بھی ایکسپورٹ نہیں بڑھ سکتی۔
    شاہراہ بھٹو سے ہیوی ٹریفک کو متبادل راستہ ملے گا، ہم چاہتے ہیں کہ ہیوی ٹریفک کیلیے رنگ روڈ ہونا چاہیے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی اس معاملے پر تحفظات ہیں، دھابیجی صنعتی علاقہ جیسا کوئی صنعتی علاقہ نہیں ،ہمیں سپورٹ چاہیے۔

    پاکستان ریلوے نےسرسید ایکسپریس بند کرنے کا اعلان کر دیا

    سندھ کی جیلوں میں 2ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    2014 دھرنے، غیرحاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری

    سوزوکی نے آلٹو کی قیمت ایک بار پھر بڑھا دی

    وی پی این کو قانونی بنانے کے لیے لائسنس سروس شروع

    فرانس میں روسی قونصل خانے پر حملہ

  • مزار قائد پر گورنراور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ

    مزار قائد پر گورنراور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش پرمزار قائد پرمیڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق گورنرسندھ نے وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرکےکہا کہ وزیراعظم سےجب بات کریں تو کراچی کے لیے بھی فنڈ ریلیز کروائیں، گورنرسندھ نے جواب میں کہا کہ کراچی میرا شہرہے،اس کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ہم سب کا ہے،آپ صرف کراچی کی بات کررہے ہیں آپ پورے سندھ کے گورنرہیں۔وزیراعلی کے جواب پرگورنر سندھ نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ میں کراچی اورپورے سندھ کا گورنر ہوں،اس موقع پروزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے لیے کے فورمنصوبے اوربی آر ٹی منصوبےسمیت بڑے بڑے پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔

    جنرل ساحر شمشادکی دورہ کویت کے دوران ولی عہد سے ملاقات

    کرنٹ سے بچے کی موت، والد کا کے الیکٹرک پر 48 لاکھ جرمانہ الخدمت کو دینے کا اعلان

    جنوبی افریقہ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے پلیئنگ الیون کا اعلان

    بھارتی گلوکار جیسی گِل نے پاکستان آنے کا اعلان کر دیا

  • وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت عالمی بینک منصوبوں کا جائزہ اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت عالمی بینک منصوبوں کا جائزہ اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بن ہسین کی سربراہی میں ٹیم کے ساتھ ویڈیو لنک اجلاس کے دوران سندھ میں جاری 3.1 ارب ڈالر مالیت کے 13 ترقیاتی پروگراموں پر پیش رفت کا جائزہ لیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کے دوروان وزیراعلیٰ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ ( کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) کی اہمیت پر زور دیا۔یہ منصوبہ صاف پانی کی فراہمی اور کراچی واٹر بورڈ کی آپریشنل صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔انہوں نے منصوبے کے تین اہم حصوں پر روشنی ڈالی جن میں آپریشنل اصلاحات، انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور انتظامی بہتری شامل ہیں۔ اجلاس میں کے 4 توسیعی منصوبہ،سکھر بیراج کے دروازے گرنے کی وجوہات پر مبنی رپورٹ کے ساتھ شمسی توانائی منصوبہ، انفرا اسٹرکچر کی بحالی اور شہری نقل و حرکت میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ 25 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مالیت سے بننے والے کے 4 توسیعی منصوبے پر کام کا اغاز 30 دسمبر 2024 کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زمین کا حصول اور ضروری درستگی کے اقدامات فروری 2025 تک مکمل کرلیے جائیں گے۔ انہوں نے عالمی بینک پر زور دیا کہ وہ فنڈز جاری کرے تاکہ منصوبہ 2025 کے آخر تک مکمل کیا جاسکے۔ عالمی بینک کی طرف سے امداد کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ تجویز دی گئی کہ حکومت سندھ ابتدا میں اپنے فنڈز استعمال کرے جو بعد میں واپس کردیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ کے 4 توسیعی منصوبے کےلیے فنڈز کے اجرا کا بندوبست کریں۔اجلاس میں زیر غور آنے والے دیگر منصوبوں میں سکھر بیراج کی مرمت کا منصوبہ بھی تھا جس میں بتایا گیا کہ دروازے گرنے کی وجوہات پر مشتمل رپورٹ کی تیاری جاری ہے۔ اس موقع پر دیکھ بھال، مرمت اور انتظامی ڈویژن کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا۔اس کے علاوہ اکرم واہ کی مرمت اور زرعی پانی کے درست استعمال اور سیلاب زدہ کسانوں کی مدد سے متعلق سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ ( ایس ڈبلیو اے ٹی) پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں ایک اور اہم منصوبہ کراچی موبلٹی پروجیکٹ ( کے ایم پی ) بھی زیر بحث آیا۔ 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے اس منصوبے کے تحت ییلو لائن بی آرٹی کے ذریعے شہر میں نقل و حرکت کو آسان بنانا ہے۔بتایا گیا کہ منصوبے پر 12 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے جس میں ڈیزائن کی پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔ ورلڈ بنک کی ٹیم نے جاری کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔اجلاس کے دوروان صوبے میں شمسی توانائی کی پیداوار میں اضافے اور بجلی کی فراہمی کے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ پر بھی غور کیا گیا۔ سولر ہوم سسٹم کی پہلی کھیپ 11 دسمبر کو پہنچی تھی جبکہ دوسری کھیپ فروری اور مارچ 2025 میں آئے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ بتایا کہ 19 عمارتیں دسمبر 2024 میں مکمل کرلی جائیں گی جبکہ بقیہ 4 عمارتیں جنوری 2025 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔سولر پارکس کے قیام کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور بتایا گیا کہ لینڈ لیز کے معاہدے اور ایڈوائزری سروسز پر کام جاری ہے۔500 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے سیلاب متاثرین کے گھروں کے منصوبے پر کام کی رفتار اور معیار کی تعریف کی گئی۔سیلاب متاثرین کی بحالی کے اہم منصوبے کےلیے 38 کروڑ 33 لاکھ ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔اجلاس میں سینیئر وزرا، سیکریٹریز اور ورلڈ بینک کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو فنڈز کے اجرا میں تیزی اور تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ مراد علی شاہ نے صوبے کی ترقی کے اہم منصوبوں کی تکمیل کےلیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا.

    فورتھ شیڈول خلاف ورزی،مولانا اورنگزیب فاروقی کی ضمانت منظور

    تین روز میں فی تولہ سونا 6 ہزار300 روپے مہنگا

    سندھ حکومت نے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز تبدیل کر دیے

    مرکزی مسلم لیگ کا مقابلہ حسن قرآت 14دسمبرکو ہوگا

    سندھ حکومت نے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز تبدیل کر دیے

  • حقوق العباد پر عمل کرنا ہی انسانی حقوق ہیں، وزیراعلی سندھ

    حقوق العباد پر عمل کرنا ہی انسانی حقوق ہیں، وزیراعلی سندھ

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں حقوق العباد پر عمل کرنا ہی انسانی حقوق ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے وزیراعلی ہاوس سے اپنے جاری کردہ پیغام میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال 10 دسمبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، اس سال 2024 ہمارے حقوق، ہمارا مستقبل، ابھی کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ روزمرہ کی زندگی میں حقوق العباد پر عمل کرنا ہی دراصل انسانی حقوق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق پرامن، انصاف پسند اور جامع معاشروں کی بنیاد ہیں اور اظہار آزادی، تعلیم اور صحت کی رسائی انسانی حقوق کی اولین ترجیحات ہیں۔سندھ حکومت بلا تفریق انسانی حقوق کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے۔ انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ایک منصفانہ سماج کا قیام لازمی ہے اور سندھ سمیت پاکستان میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اور بھارتی مظالم سے معصوم لوگوں کو تحفظ دلایا جائے۔

    بجلی کمپنیوں کی ناقص کارکردگی سے 281 ارب روپے کا نقصان ہوا

    حب ڈیم سےنئی کنال کی تعمیر کا 87 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے،میئر کراچی

    سندھ حکومت کادیہی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے پروگرام شروع

    شام میں پھنسے پاکستانی لبنانی سرحد پر پہنچ گئے

    چیمپئنزٹرافی کا شیڈول تیار، ایک سیمی فائنل دبئی میں ہوگا

  • علم اور مہارت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، وزیراعلی سندھ

    علم اور مہارت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، وزیراعلی سندھ

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمارے نوجوان میں عالمی سطح پر معنی خیر کردار ادا کرنے کی بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آئی بی اے کراچی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ محنت اور لگن سے کامیاب تمام گریجویٹس کو مبارکباد دیتا ہوں، آج ہم آپکی تعلیمی کامیابیوں اور استقامت کا جشن منا رہے ہیں ، جو آپ کے والدین اور اساتذہ کی محنت سے آپ کی قابلیت اجاگر ہوئی ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ تعلیم، قیادت اور جدت کے 70 برس آئی بی اے کراچی اگلے سال مکمل کرے گا۔ انہوں نے گریجویٹس طلبہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہمدردی، دیانتداری اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ رہنمائی کریں اور حقیقی قیادت ذاتی کامیابی سے بالاتر ہوتی ہے۔70 سالہ کی ہنر کو پروان چڑھانے اور رہنماں کی تشکیل آئی بی اے کی میراث ہے ۔ یہ سنگ میل آئی بی اے فیکلٹی، انتظامیہ اور طلبا کی لگن اور وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ آئی بی اے کراچی کی تعلیمی فضیلت سے وابستگی اس تقریب کا مرکزی نقطہ ہے۔ آئی بی اے کی 67 فیصد فیکلٹی کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ہیں۔ یہ انسٹیٹیوٹ ایک بہترین تعلیمی ماحول کو فروغ دینا جاری رکھے ہوئے ہے۔وزیراعلی سندھ نے قوم کی تشکیل میں آئی بی اے جیسے اداروں کی اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نیکہا کہ آپ (طلبہ) کو آرٹیفیشل انٹیلی جینس ، ڈیٹا سائنس اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں پیشرفت کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے فخر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نوجوان میں عالمی سطح پر معنی خیر کردار ادا کرنے کی بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ آئی بی اے کراچی کے 18000 سابق طلبا کا نیٹ ورک اہم اثاثہ ہے، سابق طلبا نے مختلف شعبوں میں قابل ذکر خدمات کی ہیں ۔وزیراعلی سندھ نے گریجویٹس کو مشورہ دیتے ہوئے کہآپ ہمدردی، دیانتداری اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ رہنمائی کریں، حقیقی قیادت ذاتی کامیابی سے بالاتر ہوتی ہے۔ آپ نے یہاں جو علم اور مہارت حاصل کی ہے اسے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں۔ دیانتداری کے اعلی ترین معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال کریں۔ وزیراعلی سندھ نے کانووکیشن کو گریجویٹس اور انکے اہل خانہ کے لیے ایک قابل فخر لمحہ قرار دیا ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی اے ڈاکٹر اکبر زیدی نے تقریب میں شرکت کرنے پر وزیراعلی سندھ شکریہ ادا کیا۔ وزیراعلی سندھ نے کانووکیشن میں پوزیشن ہولڈرز کو میڈلز اور اسناد تقسیم کیں۔

    کراچی میں پارہ مزید گر گیا، سردی بڑھنے کا امکان

    بارات کی فائرنگ سے موت، دولہےاور والد کے خلاف مقدمہ درج

    شہر میں ٹریفک کے نظام کو منظم کرنے کی ضرورت ہے، میئر کراچی

    کراچی ٹریفک حادثات میں 700 سے زائد افراد جان سے گئے، رپورٹ

  • ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت موسمیاتی اثرات اور آفات سے بچاؤ کیلیے اقدامات کے ذریعے زرعی معیشت کے فروغ کیلیے پرعزم ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ زراعت اور پیپلزہاؤسنگ پروجیکٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر داخلہ ضیا لنجار، معاون خصوصی وزیراعلیٰ جبار خان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈووکیٹ جنرل حسن اکبر، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سی ای او پیپلزہاوسنگ خالد شیخ، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 24 ارب روپے سے سکھر بیراج کے دروازوں اور اسٹرکچر کی بحالی آبی وسائل اور انفرا اسٹرکچر کی حفاظت کا اہم منصوبہ ہے۔منصوبہ 20 جون 2024 کو سکھر بیراج کے ایک دروازے کے گرنے پر شروع کیا گیا۔ اب کینالوں سمیت تاریخی بیراج کے تمام دروازے تبدیل کیے جائیں گے۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریف کیا کہ منصوبہ 3 سال میں مکمل ہوگا۔ اس وقت بھی بڑے پیمانے پر کام جاری ہے۔ بحالی کے جامع منصوبے میں ایک بڑے کوفرڈیم کی تعمیر بھی شامل ہے۔ بیراج کی تعمیر کے بعد پہلی بار، فرش، گھاٹ اور بنیادی پرزوں کا معائنہ اور مرمت کی جائے گی.پہلے مرحلے میں بائیں کنارے کی دیوار سے شروع ہونے والے 16 دروازوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پہلے مرحلے کی پیش رفت کے بارے میں بتایا گیا کہ کوفرڈیم کی تعمیر 16 ستمبر 2024 کو شروع ہوئی۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے 20 اکتوبر 2024 کو 16 دروازوں کی تبدیلی کے کام کی ذاتی طور پر نگرانی کی۔وزیر آبپاشی جام خان شوروکے مطابق، اپ اسٹریمکوفرڈیم کے لیے کل 510 شیٹ پائلز کامیابی کے ساتھ نصب کیے جاچکے ہیں، جبکہ 26 نومبر 2024 کو ڈائون اسٹریم شیٹ پائلز پر کام شروع کیا گیا، 594 میں سے 16 پائلز پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں سامان پہنچانے کیلیے عارضی راستہ تیار کرلیا گیا ہے۔ اسٹیل شیٹ کے پائلز اور جیوممبرین کیلیے ریت کے بورے بھی سائٹ پر پہنچاد یے گئے ہیں۔ 24 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے سکھر بیراج پراجیکٹ میں مرمت کے اضافی کاموں کو بھی ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ منصوبہ 23 فروری 2027 تک مکمل ہوگا تاہم ایک سال کی اضافی ڈیفیکٹ لائبلیٹی مدت بھی دی گئی ہے۔ سی ای او سندھ پیپلز ہاؤسنگ خالد شیخ نے اجلاس کے دوران سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے بارے میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مکانات کی تعمیر نو کے لیے براہ راست فنڈز کی منتقلی کے لیے 10 لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ اب تک 8 لاکھ 10 ہزار مستحقین کو فنڈز تقسیم کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 4 لاکھ 75 ہزار مکانات مکمل ہو چکے ہیں، 3 لاکھ خاندان پہلے ہی اپنے نئے گھروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ آفات سے محفوظ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سیلاب متاثرین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت کے وسیع وژن کی عکاسی کرتا ہے۔وزیراعلیٰ نے منصوبے میں پیش رفت کی تعریف کی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ہاؤسنگ اور آبپاشی دونوں منصوبوں میں کام کی موجودہ رفتار برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ پائیدار ترقی کیلیے پرعزم ہے۔ سکھر بیراج کی بحالی اور پیپلز ہاؤسنگ جیسے منصوبوں کے ذریعے، ہم مستقبل کے لیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، جو اپنے لوگوں کی بہتری کے ساتھ ساتھ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت وسیع پیمانے پر بیراجوں کی بحالی اور رہائش کے اقدامات میں مصروف عمل ہے جو کہ جامع ترقی کے ماڈل کی مثال ہے۔ ان کوششوں کا مقصد صوبے کے ضروری انفرا اسٹرکچر کی حفاظت اور کمزور طبقات کو بااختیار بنانا ہے۔