Baaghi TV

Tag: وزیراعلیٰ

  • اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،حمزہ شہبازکے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے

    عرفان قادر نے کہا کہ میرے موکل نے ہدایات کی ہیں کہ اس کیس میں مزید پیش نہیں ہونگے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرے موکل کی جانب سے بھی یہی ہدایات ہیں کہ پیش نہ ہوں۔ہم نظر ثانی درخواست دائر کرینگے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ابھی تک ہم نے فریق نہیں بنایا، عدالت نے بیرسٹرعلی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس کیس کو جلدی سے مکمل کریں ، ہم فل کورٹ ستمبرکے دوسرے ہفتے تک نہیں بنا سکتے، عدالت اس کیس کے میرٹس پر دلائل سنے گی،پیپلزپارٹی تو کیس کی فریق ہی نہیں، ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا،عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کے حوالے سے دلائل دیئے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہے،اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں،اس سوال کے جواب کیلئے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں،

    عرفان قادر نے کہا کہ فل کورٹ کے مسترد کیے جانیکے فیصلے پر نظر ثانی فائل کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ تاخیری حربے جیسا ہے 1988میں صدر نے کابینہ کو ہٹایا،63 والے کیس میں آج جو سوال ہے وہ اس وقت نہیں تھا، 21 ویں ترمیم کے فصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہدایات دے سکتا ہے، آئین کہتا ہے کہ ووٹ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے ،کیا 17 میں س8ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بینچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا،دلائل کے دوران21ویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا ، 21ویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا، 18 ویں اور 21 ویں ترمیم والے کیس میں یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں آیا،63 اے والے کیس میں بھی ایسا کوئی ایشو سامنے نہیں آیا، علی ظفر آپ درخواست کے میرٹس پر دلائل دے کر عدالت کی معاونت کریں،جو دلائل میں باتیں کی گئیں اس کے مطابق فل کورٹ تشکیل نہیں دی جاسکتی تھی، اس عدالت کا موقف تھا کہ وزیر اعظم جو چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اس کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی ،علی ظفر نے کہا کہ اس وقت 63 اے سے متعلق سوال تھا کہ کیا یہ شق درست ہے یا نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس عظمت نے اپنے فیصلے میں پارٹی سربراہ کی بات کی،عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے والے اعلیٰ وقار کا مظاہرہ کریں، بائیکاٹ کردیا ہے عدالتی کارروائی کو سنیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل علی ظفر کو ہدایت کی کہ قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں یا پھر ہم اس بینچ سے الگ ہو جائیں، جو دوست مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے کام کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں، علی ظفر نے فیصلے سے حوالہ دیا اور کہا کہ آرٹیکل63 اے آئین کی ایس شق ہے جو پارٹیوں میں نظم پیدا کرتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پارٹی لائن پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم سے متعلق درخواستیں 13/4 کی نسبت سے خارج ہوئی تھیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی نکات پر معاونت کریں یا پھر ہم بینچ سے الگ ہوجائیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے کہ کچھ وکلا عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے موجود ہیں،علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم والے کیس میں کچھ ججز نے اپنے الگ سے وجوہات لکھیں تھیں،

    سپریم کورٹ میں علی ظفر نے مختلف عدالتی فیصلوں کے نظائر پیش کیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر کے دلائل پر استفسارکیا کہ اٹھارویں ترمیم نے 63 شق کو موڈیفائی کیا ، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں،پارلیمانی پارٹی اور پارٹی ہیڈ کیا الگ لگ ہوتے ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرتا ہے ؟پارٹی ہیڈ منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس بھیجتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اکیلے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی ، کوئی اصول ہوگا،میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ پارلیمانی پارٹی میں کوئی پروسیس ہوگا ، علی ظفر نے کہا کہ دنیا بھی میں آخری فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے پارٹی ہیڈ کا آئینی اختیار فیصلے پر عمل کرانا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ پارلیمنٹ پارٹی فیصلہ کرتی ہے اور اس پر کوئی رکن خلاف جاتا ہے تو سربراہ ایکشن لیتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی ہیڈ کچھ بھی شروع نہیں کر سکتا ،علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں بھی پارلیمانی پارٹی کے ساتھ پارٹی ہیڈ نہیں لکھا جسٹس جواد خواجہ نے اکیسویں ترمیم والے کیس مل یں 63کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا،جسٹس جواد خواجہ نے اپنے فیصلے میں وجوہات بیان نہیں کی تھیں،میں جسٹس جواد ایس خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا،آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایت پارلیمانی پارٹی کرتی ہے ،آرٹیکل 63 میں پہلے 1998 میں پارلیمانی پارٹی لکھا تھا جو 2002 میں تبدیل ہو کر پارلیمانی ہیڈ لکھا گیا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف ایکشن لینا یا اس کی شروعات کرنے کا اختیار آئین کے مطابق پارٹی ہیڈ کے پاس ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سابق جج میاں ثاقب نثار نے وہ درخواستیں خارج کرکے ایک الگ سے نوٹ لکھا تھا، ثاقب نثار نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 ایک دہائی سے فلور کراسنگ کا سبب رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کا بار بار اپنی رائے تبدیل کرنا اچھی مثال نہیں ہوتی،جج کی رائے میں یکسانیت ہونی چاہیے، علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن آئین کے خلاف ہے، اکیسویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے ایشو نہیں تھا،جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن کی سپریم کورٹ پابند نہیں ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے، علی ظفر کا کہنا تھا کہ
    آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمنٹری پارٹی دیتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پارلیمنٹری پارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کراتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی،سیاسی جماعت کا فیصلہ پارلیمانی جماعت کو آگاہ کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش کہا میں بھی عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 63 میں پارٹی ہیڈ کا معاملہ پہلے الگ سے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سالڈ ریزن ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لئے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہوگئی ہے؟ عامر رحمان نے کہا کہ میں صرف آرٹیکل 27کے تحت عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کی ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تواستعمال نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ دوسرا فریق یہاں موجود ہے لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لے رہا،اقوام متحدہ میں جو ملک ممبر نہیں ہوتا وہ آبزرور ہوتا ہے ،

    کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا

    قبل ازیں چوہدری مونس الٰہی 9 ایم پی ایز کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،بائیکاٹ کے باوجود ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عرفان قادر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔چوہدری شجاعت کے وکیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں گزشتہ روز پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر آج ان کے وکلاء سماعت سے قبل سپریم کورٹ پہنچ گئے.پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک اور پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • پنجاب کابینہ کاحلف:سپریم کورٹ کےفیصلے   کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے:پرویز الٰہی

    پنجاب کابینہ کاحلف:سپریم کورٹ کےفیصلے کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے:پرویز الٰہی

    لاہور:پنجاب کابینہ کے حلف اٹھانے پر اسپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

    ایک بیان میں اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ جہازی سائز کی کابینہ ، ٹرسٹی وزیراعلیٰ نے اقتدار بچانے کے لیے پنجاب حکومت کے خزانےکا منہ کھول دیا۔

     

    چوہدری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ ہر تین میں سے ایک شخص کو وزیر بنادیا گیا ہے، آج کابینہ کا حلف کسی مذاق سےکم نہیں، 63 وزرا یاوزیرکے برابر مراعات دے کر ٹرسٹی وزیراعلیٰ سپریم کورٹ کے حکم کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حلف برداری اور کابینہ کا یہ سائز بھی ان حکمرانوں کو نہیں بچا سکتا، غیرآئینی اقدامات کے مرتکب حکمرانوں پر توہین عدالت بھی لگنی چاہیے۔

     

     

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی کابینہ نے گورنر ہاؤس میں حلف اٹھا لیا۔اطلاعات کے مطابق گورنر ہاؤس میں پنجاب کابینہ کی تقریب حلف برداری کا انعقاد کیا گیا، تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گی، گورنر بلیغ الرحمان نے صوبائی وزرا سے حلف لیا۔

    حلف اٹھانے والوں میں رانا اقبال، مہر اعجاز آچلانہ، ملک ندیم کامران، بلال یاسین، رانا اقبال، یاور زمان ،منشا اللہ بٹ، حیدر علی گیلانی، رانا مشہود، خواجہ عمران نذیر، حسن مرتضیٰ، بلال اصغر وڑائچ، اسد کھوکھر،احمد علی اولکھ، صبا صادق، رانا لیاقت علی اور سیف الملوک کھوکھر شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ خبر جاری کی گئی تھی کہ پنجاب کی صوبائی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب آج گورنر ہاؤس میں منعقد کی جائے گی۔اتحادی جماعتوں کے وزرا کو فون کرکے آگاہ کردیا گیا تھا ، یہ بھی معلوم ہوا

    ذرائع کا کہنا تھا کہ آج وزرا کی بڑی تعداد حلف اٹھائے گی، لیکن اس حوالے سے ارکان کے نام اور تعداد کے حوالے سے واضح نہیں کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل مسلم لیگ ن کو بڑا دھچکا،

    دوسری طرف میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر ہاؤس کے حکام نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ آج شام 6 بجے حمزہ شہباز کی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب ہوگی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع،آئی جی پنجاب کا تبادلہ

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو ٹرسٹی وزیراعلیٰ مقرر کیا ہے، تاہم اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ حلف برداری کی تقریب آج شام ہی ہوگی، اور دو درجن سے زائد ارکان اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب:صوبائی اسمبلی کیلئےضابطہ اخلاق جاری:دفعہ 144نافذ

    ذرائع کے مطابق حلف اٹھانے والوں میں مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد زیادہ ہے، جب کہ پیپلزپارٹی کے حسن مرتضیٰ اور یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں، اس کے علاوہ ن لیگ کے عمران نذیر، عظمیٰ بخاری، حنا پرویز بٹ بھی حلف اٹھائیں گی۔

  • ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حمزہ شہباز کے یکم جولائی کا عبوری وزیراعلیٰ کا سٹیٹس بحال کر دیا اور سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ شہباز پیر کے روز تک بطور عبوری وزیراعلیٰ فرائض انجام دیں گے ،کیس کی سماعت پیر کے روز اسلام آباد میں ہو گی ، تمام فریقین کے وکلاء کو سنیں گے اور پھر فیصلہ سنایا جائے گا

    کمرہ عدالت میں صرف متعلقہ وکلا کو ہی جانے کی اجازت دی گئی ہے باقی وکلا اور سائلین کورٹ روم نمبر تین میں لگی سکرین پر عدالتی کاروائی سن رہے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی پر مشتمل تین رکنی بنچ سماعت کررہے ہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے دلائل دینا شروع کردیے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہ پیرا پڑھ کر سنائیں کہاں لکھا ہے, یہ بتا دیں کہ ڈپٹی اسپیکر نے کیا تشریح کی, ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 63 اے کے مطابق فیصلہ دیا آپ وہ پیرا پڑھ دیں،عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ اسپیکر نے سمجھا ہے کہ پارٹی صدر ہے, اگر کوئی لیگل غلطی کی تو تو اتنا بڑا ایرر نہیں جو دورنہ ہو سکتا ہو،عدالت نے ڈپٹی سپیکرکے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ پہلے آرڈر پڑھوں یا رولنگ پڑھوں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ پہلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں

    عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ پارٹی صدر ہوتا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکا مطلب انہوں نے غلط سمجھا, جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ججمنٹ کو غلط لیا ہے, جس پر عرفان قادر نے کہا کہ جی بلکل وہ وکیل نہیں ہیں,

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کس حکم کی آڑ لے کر رولنگ دی، عدالت میں یہ حکم پڑھ کر سنایا جائے، خاص طور پر متعلقہ پیرا پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ فیصلے کا پیرا تین متعلقہ ہے، عدالت تفصیلی جواب کا موقع فراہم کرے تاکہ بلیک اینڈ وائٹ میں عدالت کو تحریری طور پر ڈپٹی سپیکر کا موقف پیش کر سکوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر فرض کرلیں سپیکر کی رولنگ غلط تھی تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا ،عرفان قادر نے کہا کہ اس پر ہم تحریری جواب بھی دیں گے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکیل صاحب یہ سوموٹو کیس نہیں ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ہم نے ریکارڈ بھی مانگا تھا کیا ریکارڈ آیا تھا ؟ عرفان قادر نے کہا کہ اس حوالے سے مجھے معلومات نہیں ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ سپیکر صاحب کے ہاتھ میں چوہدری شجاعت حسین کی خط تھا ہم وہ خط دیکھنا چاہتے ہیں ڈپٹی سپیکر نے اس خط کی بنیاد رولنگ دی ہےبا دی النظر میں آپ کی رائے یہی ہے کہ اسپیکر کی رولنگ درست تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل جس آفس کو ہیڈ کو کر رہے ہیں اس پر گہرے بادل ہیں ،

    ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا ،عرفان قادر نے کہا کہ ہمیں کل تک کا وقت دیا جائے، عدالت نے حمزہ شہباز کو رسمی اختیارات دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دیں گے,

    سماعت کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوموار یا منگل کو فیصلہ سنا دیں گے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر دوبارہ سماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز الٰہی سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی عدالتی حکم پر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری سپریم کورٹ کے روبرو تاحال پیش نہ ہوئے ،کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر گیا تحریک انصاف کے رہنماء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت کی جانب سے دلائل دیئے گئے، عدالت میں ڈپٹی سپیکر کے وکیل کی جانب سے جواب جمع کرا دیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ڈپٹی سپیکر کہا ں ہیں, وہ بھی آ رہے ہیں؟

    کمرہ عدالت میں رش لگ گیا جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام غیر متعلقہ افراد کمرہ عدالت سے باہر چلیں جائیں،ہم کوشش کرتے ہیں آپکو باہر بھی سماعت سننے کا بندوست کرتے ہیں،ایسے حالات میں سماعت ممکن نہیں ہے،ہم ایسا کرتے ہیں کہ سماعت دوسرے روم میں شفٹ کرتے ہیں،

    عدالت نے عرفان قادر کو دلائل دینے سے روک دیا . چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس دوست مزاری کا وکالت نامہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے مکمل دلائل سنیں گے،

    دوسری جانب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وکلا اور تحریک انصاف کے اراکین کی بڑی تعداد بغیر بیکنگ کے کورٹ روم ون مین داخل ہو گئی ہے، دھکم پیل سے کورٹ روم نمبر ون کے دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں چیف جسٹس پاکستان نے کیس ویڈیو لنک والے کورٹ روم میں منتقل کردیا سماعت کچھ دیر بعد ہوگی پرائیویٹ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع،آئی جی پنجاب کا تبادلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع،آئی جی پنجاب کا تبادلہ

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع ہو گئے

    فیصل شاہکار کو آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا راو سردار کو آئی جی ریلویز تعینات کر دیا گیا،اس ضمن میں نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا ہے

    فیصل شاہکار پاکستان پولیس سروس کے گریڈ 21 کے آفیسر ہیں۔ان کا تعلق 16 کامن سے ہے ،فیصل شاہکار نے 1988میں بطور اے ایس پی پاکستان پولیس سروس جوائن کی ،فیصل شاہکار نے لگ بھگ تین برس ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کے عہدے پر خدمات سر انجام دیں۔ فیصل شاہکار ساہیوال اور گوجرانوالہ میں ریجنل پولیس آفیسر کے عہدوں پر بھی تعینات رہے۔

    فیصل شاہکار تین باراقوام متحدہ مشن پربوسنیا اور لائبریا سمیت دیگر ممالک میں بھی فرائض اداکر چکے ہیں۔فیصل شاہکار لاہور، شیخوپورہ، ساہیوال، ملتان، پاکپتن، ٹوبہ ٹیک سنگھ، تھرپارکر، ننکانہ اور گوجرانوالہ میں اہم عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔فیصل شاہکار اے آئی جی آپریشنز، سنٹرل پولیس آفس لاہور میں بھی فرائض ادا کر چکے ہیں۔ فیصل شاہکار ڈی آئی جی پولیٹیکل سپیشل برانچ کے عہدے پر بھی دو برس تعینات رہے۔فیصل شاہکار نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد اور ڈی آئی جی ویلفیئر پنجاب کے عہدے پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ فیصل شاہکار ان دنوں وفاق میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ فیصل شاہکار کو ملکی وعالمی سطح پر اہم عہدوں پر فرائض کی ادائیگی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ فیصل شاہکار کا شمار پاکستان پولیس کے انتہائی پروفیشنل، فرض شناس اور تجربہ کار پولیس افسران میں ہوتا ہے

    پی ٹی آئی کا وزارت اعلیٰ کا مضبوط امیدوار ہونے کی وجہ سے کہا جا رہا تھا کہ افسران نے تبادلوں کے لئے کہا ہے، آئی جی پنجاب راو سردار علی نے اپنے عہدے پر مزید کام کرنے سے معذرت کی تھی جس پر انکا تبادلہ کر دیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب میں عمران خان کے انتقام کی وجہ سے تبادلے کروا رہے ہیں کیونکہ عمران خان جلسوں میں کہہ چکے ہیں کہ میں سب کو دیکھ لوں گا پنجاب میں افسران میں نے ہی لگائے تھے سب کے چہرے یاد ہیں، اب پنجاب میں پی ٹی آئی کی دوبارہ متوقع حکومت کے بعد ان افسران کے خلاف کاروائی متوقع تھی اسی لئے افسران تبادلوں پر غور کر رہے ہیں

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”520972″ /]

    پنجاب کا چوہدری کون ہو گا ؟ فیصلہ آج ہو گا

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    ادھر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر حکمرانی کیلئے نئے وزیراعلیٰ کا چناؤ ابھی تھوڑی دیربعد ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مسلم لیگ قائداعظم (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی آمنے سامنے ہیں۔

    فرح خان کیس ،عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے لگا

  • پی ٹی آئی کور کمیٹی کی وزیراعلیٰ کیلئے پرویزالٰہی کے نام کی توثیق،  14 ووٹوں کی برتری کا دعویٰ

    پی ٹی آئی کور کمیٹی کی وزیراعلیٰ کیلئے پرویزالٰہی کے نام کی توثیق، 14 ووٹوں کی برتری کا دعویٰ

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید، سبطین خان، علی عباس اور دیگر کے ہمراہ پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ پہلے ہی اپنا اصل چہرہ دکھا چکی ہے، ہم حیران تھے کہ حمزہ شہباز کیسے خاموش بیٹھا ہے، حمزہ شہباز اس قابل ہی نہیں رہا کہ سیاست کر سکے، ن لیگ نے رانا ثناء اللہ جیسے غلط کام کرنے والے بندے کو وزیر داخلہ بنایا جو خود اب ان کے قابو میں بھی نہیں آ رہا۔

    ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی سے4 سیٹیں چھینی ہیں:مریم نواز

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شریفوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا، مریم صفدر نے الیکشن میں ہار تسلیم کر کے بڑا اچھا بیان دیا ہے، ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، مفتاح کا مفتا لگا ہوا ہے، ابھی بھی آئی ایم ایف سے انہیں کچھ نہیں ملا، رانا ثناء اللہ اداروں کو ہمارے خلاف استعمال کررہا ہے، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم 5 بندے یہاں وہاں کر دیں گے جو عدالتی حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، اس حوالے سے ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ آئی بی کو بھی پولیس کی طرح استعمال کر کے ہمارے ارکان اسمبلی کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    سوال پر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ 22 جولائی کو سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ سب سے پہلے وزیراعلیٰ کا الیکشن کروایا جائے اس کے بعد آئی جی اور چیف سیکرٹری کو صرف ہٹانا ہی نہیں ان کو سزا بھی دینی ہے۔

     

    پرویز الٰہی کی وفاقی وزرا اور حمزہ شہباز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

     

    تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی کے ارکان نے وزیراعلیٰ بنانے کیلئے چودھری پرویزالٰہی کے نام کی توثیق کر دی ہے، کل تک ہمارے نو منتخب ارکان کا حلف ہو جائے گا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ہمیں 14 ووٹوں کی برتری حاصل ہے، ن لیگ شکست تسلیم کرتے ہوئے ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کرے، ن لیگ، بیورو کریٹس اور پولیس کو وارننگ دیتا ہوں کہ کوئی غیر قانونی کام نہ کریں۔

    معروف قانون دان عامر سعید راں نے کہا کہ ادارے رانا ثناء اللہ کے بیان کا نوٹس لیں، انٹیلی جنس بیورو نے بیرون ملک سے آنے والے چودھری پرویزالٰہی کے ذاتی دوست کو اغوا کر کے ان کے خلاف بیان لینے کی کوشش کی اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی زیرصدارت شروع ہوا۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت شریف کے بعد ڈپٹی اپوزیشن لیڈر محمد بشارت راجہ نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر حکومتی اداروں کی مداخلت کے خلاف قرارداد پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ ریاستی مشینری کا اپوزیشن کے خلاف بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، حکومتی دہشت گردی عروج پر ہے، ہمارے ممبران پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور دھمکایا جا رہا ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ 22 جولائی کو وزیراعلیٰ کا انتخاب سپریم کورٹ کے حکم پر کرایا جا رہا ہے، اس عمل میں مداخلت کرنا اور روکنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے.بعد ازاں قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

    قبل ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے سابق وزیر گلگت بلتستان بشیر احمد خان نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور ضمنی الیکشن میں بھرپور کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور انہیں گلدستہ بھی پیش کیا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا عیدالاضحیٰ پر بڑا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا عیدالاضحیٰ پر بڑا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا عیدالاضحیٰ پر بڑا فیصلہ.

    صوبے کی جیلوں میں معمولی جرائم میں بند قیدیوں کی سزائیں ایک ماہ کم کردیں۔سزا میں معافی پانے والے قیدی اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ عید منا سکیں گے۔وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے سزاؤں میں کمی کی منظوری دیتے ہوئے کہا جیلوں کو اصلاح گھر ہونا چاہئے۔معمولی جرائم میں لائے گئے قیدیوں کو سدھارنا مقصد ہونا چاہئے۔یہ نہ ہو کہ معمولی جرم میں آنے والے قیدی عملے اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے رویئے کی وجہ سے بڑئے مجرم بن کر نکلیں۔

    اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی پرعوام تک پہنچانے کا فیصلہ

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف سے ترکی کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و فارن افیئرز سیلامی کیلک(Mr. Selami Kilic) کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی. ترکی کے قونصل جنرل امیر اوزبے (Mr. Emir Ozbay) بھی اس موقع پر موجود تھے ،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور شعبہ صحت میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا،فیملی میڈیسن سسٹم،نرسنگ،ویکسینیشن اور ہیلتھ کیئر کی معیاری سہولتیں
    کی فراہمی کے لئے تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا.

    عید الاضحی،سکیورٹی پلان فائنل،صفائی کے لیے کنٹرول روم قائم

     

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ ترک بھائیوں سے ملاقات میرے لئے باعث مسرت ہے۔پاکستان اورترکی ہر موسم کے حقیقی دوست ممالک ہیں۔ ترکی کے ساتھ تعلقات ایک بار پھر بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں۔پنجاب کے عوام کو صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کرنا ہمارا مشن ہے۔ معیاری ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے ترکی کے تجربے سے مزید استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں ترک وزارت صحت نے شعبہ صحت میں پنجاب حکومت کی بھرپور معاونت کی۔

    ترکی کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و فارن افیئرز سیلامی کیلک(Mr. Selami Kilic) نےوزیراعلیٰ حمزہ شہبازشریف کو ترکی کے دورے کی دعوت دی

    سیلامی کیلک شعبہ صحت کی بہتری کے لئے پنجاب حکومت کے ساتھ پہلے بھی تعاون کیا، آئندہ کریں گے،
    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، خواجہ احمد حسان ، لیگل ایڈوائزر علی رضا، چیئرمین منصوبہ بندیوترقیات،سیکرٹری صحت اور اعلی افسران بھی اس موقع پر موجود تھے

  • آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی ملاقات،اہم معاملات پر مشاورت

    آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی ملاقات،اہم معاملات پر مشاورت

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے ملاقات کی ہے۔ بلاول ہاؤس کراچی میں ہونے والی ملاقات میں صوبائی وزیر آبپاشی محمد خان لہری بھی موجود تھے۔

    پیپلز پارٹی کے مطابق عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ آئے وفد نے آصف علی زرداری سے بلوچستان میں پانی کی قلت کے مسائل سے آگاہ کیا۔سابق صدر آصف زرداری نے بلوچستان میں پانی کے بحران پر تشویش ظاہر کی اور وفد کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ذرائع کے مطابق اصف زرداری اورعبدالقدوس بزنجو کے درمیان ملاقات میں سیاسی معاملات پر بھی کفتگو ہوئی. دونوں رہنماوں نے اہم معاملات پر مشاورت بھی کی.

    سابق صدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرتی رہے گی، ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ہم کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    دوسری طرف مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگونے بلوچستان میں بارشوں کے پیش نظر محکمہ پی ڈی ایم اےاور ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے.کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ،محکمہ مومسیات کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں مون سون بارشوں کے غیر معمولی ہونے کی وجہ سے تباہی کا خدشہ ہے۔ مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو  نے ،  ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

    مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ نشیبی علاقوں سے نکاسی آب مقرر کردہ وقت میں مکمل کیا جائے،افسران خود فیلڈ میں نکلیں اور نکاسی آب کے کام کی نگرانی کریں۔ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے موثر ٹریفک منیجمنٹ کو یقینی بنایا جائے۔کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں متعلقہ ادارے بروقت موقع پر پہنچیں اور فی الفور امدادی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔

  • 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا،آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ استدعا ہے زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،بنیادی طور پر آپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے،بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 4ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے،کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24سے48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ کیلئے وقت دیا جائے،ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم تو دس دن چاہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا ہے لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے 5 رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا،وہ چاہتےہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیراعلی ٰنہیں تو پھر سابق وزیر اعلی ٰکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،سابق وزیر اعلی کی اکثریت میں سے 25 میمبران تو نکل گئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر25 ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی ٰبھی برقرارنہیں رہتا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اگر ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ہمارے پاس ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تو انکا فی الحال وزیراعلی برقرار رہنا مشکل ہے،بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے،

    ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیئے ،چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ سترہ جولائی کو عوام نے بیس نشستوں پر ووٹ دینے ہیں،ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ عوام خود فیصلہ کرے تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ‏اجلاس نہ ہونے پر قائل کریں پھر دیکھیں گے کہ آج نہیں تو کب ہوسکتا ہے، کیا کوئی ایسی شق ہے کہ وزیراعلی کے الیکشن تک گورنر چارج سنبھال لیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلی کے دوبارہ آنے کی کوئی صورت نہیں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال صرف یہ ہے کہ آج چار بجے اجلاس ہونا ہے یا نہیں، ‏قانونی طریقے سے منتخب وزیراعلی کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہ سکتا ہے، مطمئن کریں کی 4 ججز کا دیا وقت مناسب نہیں

    عدالت نے تحریک انصاف کو سات دن کی مہلت دینے سے انکار کردیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 7 دن تک کیا صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے، سات دن کا وقت دینا مناسب نہیں،‏مزید سماعت 2.45 تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا، آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چکا سکتے ہیں، ہم آپکو آدھا گھنٹا دیتے ہیں سر جوڑیں اور سوچیں۔

    وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز روسٹروم پر آجائیں،ہمارے سامنے جو معاملہ ہے وہ یہ ہے کہ وقت زیادہ زیادہ نہیں دیا گیا،زیادہ وقت نہ دینے کی مختلف وجوہات ہیں، عدالت خود سے وقت دیتی ہے تو حکومت کون چلائے گا،بتایا گیا کہ وقت دیا جائے تو حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکتے ہیں،کیا یہ بات درست ہے؟ چودھری پرویزالہیٰ نے کہا کہ بات اس طرح نہیں، اسمبلی کے باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب کی نظریں اس معاملے پر ہیں اس کو آئین اور جمہوری روایات کے مطابق حل ہونا چاہیے،وکلا نے کہا کہ پولنگ کا وقت 17تاریخ تک کا دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے پرویز الہیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی بنیاد پر آپ کو بلایا ہے، آپ کی درخواست میں 26 گھنٹوں کو بڑھانے کی استدعا کی گئی ہے،آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی،آپ کی طرف سے آنے والی سفارش پر ہمیں لگا کہ آپ اس پر سوچیں، آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی صاف شفاف الیکشن کے بعد جس کی اکثریت ہو وہ وزیر اعلی ٰبن جائے گا،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں ہاوس 17تاریخ تک مکمل ہوگا،اس وقت تک ساراعمل مکمل ہو جائے تو ہمارا کوئی اعتراض نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت تک حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ رہنے کو آپ مانتے ہیں ،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں ایسا نہیں مان سکتا وہ اپنے عہدے پر نہ رہے، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرہم آئینی راستہ اختیار کریں گے جس سے آپ دونوں کا نقصان ہوگا،پرویز الہیٰ نے کہاکہ عدالت یہ حکم دیں کہ ہم آپس میں طے کریں جس حل پر دونوں راضی ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام آپ عدالت آنے سے پہلے کرکے آجاتے نا چودھری صاحب،

    حمزہ شہباز نے کہا کہ عدالت کا احترام کرتا ہوں ،شخص اہم نہیں نظام اہم ہے،قوم نے دیکھا کہ ڈپٹی اسپیکر پر حملہ ہوا ہمارے پاس عددی اکثریت موجود ہے، آج الیکشن ہونے دیا جائے جب 20سیٹوں پر الیکشن ہوگا تو عدم اعتماد کی تحریک لاسکتے ہیں،ہم نے اپنے لوگوں کو حج پر جانے سے روکا، انہوں نے اپنے بندوں کو کیوں نہیں روکا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کو پرویز الہٰی کی تجویز منظور نہیں،آج جو 4 بجے اجلاس ہونا تھا وہ اب نہیں ہوگا کیونکہ4 بج چکے ہیں،اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ 17 تک دونوں فریقیں راضی ہیں کہ الیکشن نہ ہو ، حمزہ شہباز نے کہا کہ دوسری طرف سے اگر کوئی قانونی دلیل ہو تو میں ماننے کو تیار ہوں،آئین اور قانون کے مطابق میرے پاس عددی اکثریت ہے،اگر17 تک کوئی بھی وزیراعلیٰ نہ رہا تو نظام کیسے چلے گا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں ہم گورنر کو ہدایت کرسکتے ہیں کہ وہ نظام چلانے کے اقدامات کرے اگر ہم مزید وقت دیں تو آپ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے،حمزہ شہباز نے کہا کہ اس کا بہتر حل ہے کہ آج رات12بجے تک الیکشن کرائے جائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ایک مناسب وقت دیا ہے،اب جو وقفہ آیا ہے اس کے لیے وقت دینا چاہیے،حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ معاملہ اسی فورم پر حل ہونا ہے عدالت جو فیصلہ دے،

    پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمارے آنے کا سبب یہ ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف پیش ہوئے ہیں،17 جولائی کے بعد تک کا وقت مل جائے تو بہتر ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ قانون کے مطابق یہ الیکشن فوری ہو، ہائوس پورا ہو یا پھرابھی،ہمیں 17 تک کا وقت دینا مناسب نہیں لگتا ،اگر حمزہ شہباز یہ کہیں کہ 17 کو الیکشن کرائیں لیکن اس دوران حمزہ شہباز وزیر اعلی رہیں گے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وہ مل بیٹھ کر حل نکالنا نہیں چاہتے، وہ رن آف الیکشن کی بات کررہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ مجھے 17 تک وزیر اعلی رہنے دیں،ہم آپ کو کچھ وقت دیتے ہیں اس پر عدالتی فیصلے کے مطابق الیکشن کرائیں،پرویز صاحب آپ کے پاس دو آپشن ہیں کہ حمزہ شہباز کو17 تک وزیر اعلی مانیں یا پھر اس سے پہلے جو وقت دیتے ہیں تو اس دوران الیکشن کرائیں،پرویز الہیٰ نے کہا کہ اگر ہم ان کو 17تک وزیر اعلی مانتے ہیں تو اس سے پہلے وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کریں اور پکڑ دھکڑ نہ کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم حکم دینگے کہ کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو،الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتو کوئی تقرری اور تبادلہ نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں اس وقت کہ کمپرومائیز نہ ہو،آپ دونوں بیٹھ جائیں اس کا کوئی قانونی حل نکالتے ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ حمزہ شہباز17 تاریخ تک قائم مقام وزیر اعلی رہیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہاں پنجاب اسیمبلی والوں کا موقف الگ یے بابر اعوان آپ کا موقف کیوں الگ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم چاہتے سیاست میں کوئی اختلاف نہ رہے ،ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل چلتا رہے۔ پی ٹی آئی کے وکلا کا موقف اپنے امیدوار سے الگ کیوں ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ہم اتحادی ہیں وہاں اکثریت میں ہیں، درخواست گزار اپوزیشن لیڈر ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میاں محمود الرشید کا مشورہ عدالت کے سامنے رکھا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے کسی پارٹی کی نہیں ایک انفرادی شخص کی درخواست ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وقت دیں تب تک وزیر اعلی کو ہٹا دیں بابر اعوان صاحب ہم آئینی بحران نہیں پیدا کرنا چاہتے،اگر دو دن کا وقت دیتے ہیں تو نظام حکومت کون چلائے گا ،بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم حمزہ شہباز شریف کو عبوری طور پر وزیر اعلی نہیں مانیں گے، بابر اعوان نے پرویز الہی کے موقف کی عدالت میں تردید کردی۔

    بابر اعوان نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا موقف سامنے رکھنا چاہتے ہوں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار آپ نے کہا کہ 17جولائی تک ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور 7 دن کا وقت مانگا،بابر اعوان نے کہا کہ سوال ہے کہ ہمیں مزید وقت چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے کہا کہ لگتا ہے آپ نےآئین کا آرٹیکل 130 مکمل نہیں پڑھا، اس کو پڑھیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کا اور آپکے امیدوار کا موقف ایک جیسا نہیں ہے تو عدالت کیا کرے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ باقی عدالت جو حکم دیگی وہ ہم مانیں گے،اس بحران سے نکلنے کےلئے کچھ وضاحت آپ نے کرنا ہوگی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہاں آئینی معاملہ ہے، اس کوحل کرنا ہے اس کو مزید خراب نہیں کرنا، بابر اعوان نے کہا کہ آئین کی ایک شق ہے جو 187/1 ہے ، عدالت نے کہا کہ آئین کی شق 187/1 کو ایسے ہی استعمال نہیں کرسکتے ،اب ساڑھے چار بج چکے ہیں، بابر اعوان نے کہا کہ آپکا شکریہ جو آپ ہمیں سن رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شکریہ ادا نہ کریں یہ ہمارا کام ہے، اگر دوبارہ پول کی اجازت دیتے ہیں تو کچھ وقت دینا ہوگا،وزیر اعلی کے الیکشن میں پہلی بار ایسی صورتحال ہوئی ہے،اب نکتہ یہ ہے کہ اگر وزہر اعلی کو ہٹا دیتے ہیں تو اس کا حل نکالنا ہوگا، ہوسکتا ہے چند دنوں میں اس کا حل نکل آئے لیکن20 دن نہیں دے سکتے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر آپ راضی نہیں ہوتے تو ہم آرڈر پاس کردیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سینیئر سیاستدان اس کا حل نکالیں،وکیل پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ہم نے کورٹ میں مشاورت کی ہے اسپیکر کے ساتھ کہ 17جولائی کے بعد کا وقت دیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کے موکل کی درخواست ہی نہیں اس لئے آپ کو کیوں سنیں،بابر اعوان نے کہا کہ ہمیں مزید دس منٹ دیں پارٹی لیڈر سے بات کرنا چاہتا ہوں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان آپ کو ہم دو سے تین دن دینگے اس قانون میں بھی جواز ہے،پرویز الہی آپ بھی اپنے اتحادیوں سے مشورہ کرلیں اور آدھے گھنٹے میں دوبارہ بتائیں ،

    دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم اس نکتے پر راضی ہیں کہ حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ کے عہدے پر کام جاری رکھیں،اس بات پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے اتفاق ہوا ہے، پرویز الہیٰ نے کہا کہ اسپیکر ہوتے ہوئے حمزہ شہباز کو لیڈر آف اپوزیشن مانا اور ان کی رہائی کے آرڈر جاری کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اس نکتے پر راضی ہونا اچھی بات ہے،میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ دونوں فریقین راضی ہو گئے ہیں، بابر اعوان آپ بتائیں کیا بات ہوئی؟ بابر اعوان نے کہا کہ اسد عمر اور دیگر کے ساتھ پنجاب میں پارلیمانی لیڈر اور امیدوار سے بھی بات ہوئی،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھیں عمرن خان چاھتے ہیں عدالت آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو قانون کے مطابق عمل کی ہدایت کرے،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھے، پی ٹی آئی وکلا نے حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ کام حاری رکھنے پر اتفاق کر لیا

    بابراعوان نے کہا کہ ااس دوران حکومت کوئی بھی فنڈز اور اختیارات استعمال نہیں کرے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی اور الیکشن کمیشن کوڈ آف کنڈیکٹ پر سختی سے عمل در آمد کرے، آپ کو آپریشنل صورتحال پر اعتراض ہے کہ تنگ نہ کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ایسا حکم دے گی جو سب کو قبول ہو گا، بابر اعوان نے کہا کہ وہاں سب کو بلاکر بٹھایا جارہا ہے، اس صورتحال کو عدالت دیکھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ دوبارہ ہمارے پاس آئیں،بابر اعوان نے کہاکہ ہم بھی اس معاملے میں نہیں آنا چاہتے لیکن دوسرے کیسز میں آئیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حمزہ شہباز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ارادہ ہے کہ انتخابات میں کسی کو ہراساں اور دھاندلی کریں؟ حمزہ شہباز نے کہا کہ میرا ایسا کوئی اردہ نہیں، میں ایک سیاسی کارکن ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کسی کو ہراساں اور دھاندلی نہیں کرینگے،حمزہ شہباز نے کہا کہ جی میں بالکل ایسا نہیں کروں گا،

    پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ حمزہ شہباز سے متعلق 13 اپریل کو نوٹیفکیشن جاری ہوا،آپ ہمیں عدالتوں میں آنے سے روک نہیں سکتے، ہم عدالت میں آتے رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق ہیں۔ہم ایسا آرڈرجاری کرینگے الیکشن صاف اور شفاف ہوں اور عزت اور تکریم رہے، مختصر حکمنامہ آج رات تک جاری کردینگے،

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئ ہے، امید ہے سپریم کورٹ اس بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ہی سماعت کرے گی اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس روک دیا جائے گا

    قبل ازیں پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آج ہی سماعت کی جائے،وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ہونے والے الیکشن کو معطل کرنے کا حکم دیا جائے، درخواست میں پنجاب حکومت اورڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں حمزہ شہباز،پرنسپل سیکریٹری گورنر اورسیکریٹری اسمبلی کو بھی فریق بنایا گیا ہے، دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مناسب وقت دیا جائے تاکہ دوردراز کے ممبرز پہنچ سکیں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کےلیے دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ووٹنگ کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے جمعہ کو 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئی ایاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

  • لاہور ہائیکورٹ  نےوزیر اعلیٰ پنجاب  الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے کل 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئیاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

    عدالتی کاروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرنیوالے وی لاگرزکیخلاف کاروائی کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ کیس کی سماعت کی رپورٹنگ پر میڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں،چند وی لاگرز نےعدالتی کارروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ،ایف آئی اے اور پیمرا ایسے وی لاگرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں اگرکوئی بھی درخواست دے گا توکارروائی کے بعد ایسے وی لاگرزکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،

    ،جسٹس ساجد سیٹھی کا فیصلے میں اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں ،ڈپٹی اسپیکرکو وزیراعلیٰ کا انتخاب دوبارہ کرانا چاہیے،دوبارہ انتخاب ان امیدواروں کے درمیان ہونا چاہیے جنہوں نے زیادہ ووٹ لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 جولائی شام 4 بجے بلایا جائے ،اجلاس 2 جولائی کو بلانے کا مقصد دورسے آنے والے اراکین کو سہولت دینا ہے،پنجاب اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ضروری ہے کہ اراکین کو وقت دیا جائے،وزیراعلیٰ کا دوبارہ انتخاب کا حکم دینا سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا ،ہائیکورٹ کا ڈویژنل بینچ صاف ،شفاف اورغیر جانبدارالیکشن کرانے کا حکم دینے کا مجاز ہے، 25 منحرف اراکین کے ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کے حق میں 172 ووٹ رہ جاتے ہیں،حمزہ شہبا زوزیراعلیٰ کے آفس میں ایک اجنبی ہیں حمزہ شہبا زعہدے پر فائز رہے تو مخالف فریق پر سیاسی برتری ہوگی حمزہ شہبا ز کا بطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن منتخب ہونے کے دن سے کالعدم قرار دیا جائے،عثمان بزدار کی جگہ حمزہ شہبا زکا بطور وزیراعلیٰ انتخاب بھی کالعدم قراردیا جاتا ہے،ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے انتخاب کے لیے بلایا جانے والا اجلاس بھی غیر قانونی ہے، عثمان بزدارکو بطوروزیراعلیٰ کام سے روکنے کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی ہے ،حمزہ شہبا ز کی طرف سے 30 اپریل سے آج تک کے احکامات برقراررہیں گے

    لاہورہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی درخواستوں کو نمٹا دیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظورکر لی گئی ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے انتخاب کالعدم قراردے دیا، فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا جسٹس ساجد محمودسیٹھی نے فیصلے سے مشروط اختلاف کیا

    وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کا کہنا ہے کہ عدالت نے وزیراعلیٰ حمزہ شہبازکا حلف کالعدم قراردیا ہے،ہماری درخواستیں منظورہوئی ہیں ہم نے آئین ،قانون اور انصاف کی بات کی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمز ہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے ،فیصلے میں کہا گیا جو وز یراعلیٰ ڈیفکٹو کے ووٹ سے منتخب ہواوہ ٹھیک نہیں ،

    گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل نےلاہورہائیکورٹ میں دلائل مکمل کر لیے تھے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان ،محمود الرشیدم راجہ بشارت لاہور ہائیکورٹ میں موجود تھے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر اور اظہر صدیق بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے وکیل منصور اعوان جبکہ تحریک انصاف کے علی ظفر اور ق لیگ کے وکیل عامر سعید نے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیئے تھے۔ صدر مملکت کی نمائندگی احمد اویس، اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی کی بیرسٹر علی ظفر اور امتیاز صدیقی نے کی تھی

    لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پنجاب کے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے ہم پر جو عذاب مسلط تھا وہ اب نہیں رہا،فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں اب عثمان بزدار نگران وزیر اعلی ٰہیں

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

    وزیراعلیٰ پنجاب بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ، ن لیگ کا خیر مقدم،تحریک انصاف کا چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر پوری قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں ،عمران خان کا موقف درست ثابت ہوا، ہم پچھلی صورتحال میں واپس چلے گئے ہیں حمزہ شہبا ز نے جو بھی فیصلے کیے وہ تمام کالعدم ہوگئے،فواد چودھری کا کہنا تھا کہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے نے پنجاب کے سیاسی بحران میں مزید اضافہ کر دیا ،حمزہ کی حکومت برقرار نہیں رہی لیکن جو حل دیا گیا ا س سے بحران ختم نہیں ہو گا،فیصلے میں کئی خامیاں ہیں لیگل کمیٹی کی میٹنگ بلا لی ہے ہائیکورٹ کے فیصلے میں خامیوں کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے،

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز نے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماوں کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، پنجاب کے صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم کورٹ کے ہر فیصلے کا احترام کر تے ہیں، پچھلے انتخاب کا تسلسل رہے گا، ہماری تعداد 177 ہے، ہم 9 ووٹوں سے آگے ہیں، کلیئر فیصلہ ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،ابھی تک ہمارے پاس اکثریت ہے، ہم پھر جیت جائیں گے خوش آئند فیصلہ ہے، تسلیم بھی کرتے ہیں اور عمل بھی کریں گے، تحریک انصاف کہہ رہی ہے وہ اپیل میں جائیں گے، ضرور جائیں،رانا مشہود کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جو دھوکہ عوام سے کرتی رہی آج بھی انہیں سمجھ نہیں آرہی،الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو کارروائی عدالت کرے گی،کلیئر فیصلہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا معاملہ ، ن لیگ نے حکمت عملی طے کر لی ارکان پنجاب اسمبلی کو آج ہوٹل ٹھہرایا جائے گا حمزہ شہباز کےہمراہ کل تمام ارکان اکھٹے پنجاب اسمبلی اجلاس میں جائیں گے، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے خلاف عمران خان کے جرائم کی فہرست طویل ہے،منی گالہ گینگ کے ذریعے پنجاب کے پیسہ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا گیا، پنجاب کے عوام کو ان کے حق سے محروم کر کے مشکلات پیدا کیں،م

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے قانونی اور سیاسی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی علی ظفر ایڈووکیٹ ، مونس الہٰی ، راجہ بشارت مشاورت میں شریک تھے حسین جہانیاں گردیزی ، حافظ عمار یاسر بھی مشاورت میں شریک تھے علی ظفر ایڈووکیٹ نے عدالتی فیصلے پر شرکا کو بریفنگ دی ہائیکورٹ کے فیصلے میں بعض ابہام کی طرف بھی بریفنگ میں نشاندہی کی گئی چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے11 آدمی حج پر چلے گئے ہیں،پہلے ہاوس مکمل کریں پھر گنتی کرائی جائے،پسمجھ نہیں آرہا کہ12گھنٹے دیئے گئے ہیں،لاہورہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں،پ

    عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا تھا، ن لیگ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، پنجا ب اسمبلی کے اجلاس اسمبلی ہال اور ایوان اقبال میں الگ الگ ہوتے رہے، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے اراکین ن لیگ کے ساتھ مل گئے تھے، بعد ازاں پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ساتھ ملنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا ، 20 صوبائی نشستوں پر الیکشن اب 17 جولائی کو ہو رہے ہیں

  • حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس،اراکین کو لاہورمیں ہی رہنے کا حکم

    حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس،اراکین کو لاہورمیں ہی رہنے کا حکم

    حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس،اراکین کو لاہورمیں ہی رہنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس ہوا ہے

    اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے حلف اور انتخابات پر ممکنہ عدالتی فیصلے پر مشاورت کی گئی،حمزہ شہباز نے لیگی ارکان اسمبلی اور آزاد ارکان اسمبلی کو لاہور میں رہنے کی ہدایت کر دی ،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ ہمارے نمبرز پورے ہیں دوبارہ انتخاب ہوا تب بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھیں گے،عدالتوں کا احترام کرتے ہیں جو بھی فیصلہ ہوگا اسے تسلیم کریں گے،

    حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس میں آئینی ماہرین سے مشاورت کی گئی ، ایوان میں تازہ نمبر گیم کا بھی جائزہ لیا گیا، حکومتی اتحاد کے تمام ارکان کو لاہوربلا لیا گیا ہے،اور تا حکم ثانی لاہور سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے

    حمزہ شہباز کا آج میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ تین ماہ کے دوران پنجاب میں آئین کی پامالی کا ورلڈ ریکارڈ بنا، سابق حکومت نے اداروں کو مذاق بنا کررکھ دیا ہے۔ نیا پاکستان بنانے والوں نےپرانا پاکستان بھی برباد کردیا، پولیس افسران کی تعیناتی میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی،عوام کو ریلیف دینا ترجیح ہے۔

    واضح رہے کہ حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ کے انتخاب اور حلف کو تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، آج سماعت مکمل ہوئی،عدالت نے کل تک کے لئے سماعت ملتوی کی ہے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5رکنی بینچ نے سماعت کی

    عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا تھا، ن لیگ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، پنجا ب اسمبلی کے اجلاس اسمبلی ہال اور ایوان اقبال میں الگ الگ ہوتے رہے، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے اراکین ن لیگ کے ساتھ مل گئے تھے، بعد ازاں پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ساتھ ملنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا ، 20 صوبائی نشستوں پر الیکشن اب 17 جولائی کو ہو رہے ہیں

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔