Baaghi TV

Tag: وزیر اعظم

  • میں جب سیاست میں آیا تو مجھے مافیاز کا سامنا کرنا پڑا،کامیابیاں اور عزت صرف اللہ کی ذات دیتی ہے    وزیراعظم

    میں جب سیاست میں آیا تو مجھے مافیاز کا سامنا کرنا پڑا،کامیابیاں اور عزت صرف اللہ کی ذات دیتی ہے وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں جب سیاست میں آیا تو مجھے مافیاز کا سامنا کرنا پڑا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان نے امریکی سکالر شیخ حمزہ یوسف کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ایسا شخص جس نے تعلیم حاصل کی ڈگری حاصل کی مگر بیک وقت بین ا لاقوامی سطح پر کرکٹ بھی کھیلی عام طور پر جب آپ کوئی کھیل عالمی۔سطح پر کھیلتے ہیں تو آپ کو بہت زیادہ توجہ مرکوز رکھنی پڑتی ہے اہنے ملک میں سب سے بہتر بننے کے لیے آپ کو بہت مرتکز رہنا پڑتا ہے اس وقت میں پڑھائی کرنا بہت مشکل ہو جاتی ہے-

    سابق جسٹس شوکت صدیقی کا وکالت کا لائسنس قاضی فائزعیسیٰ نے بحال کردکھایا

    اگر تو آپ سارا وقت کھیلنے میں ہی گزار یں اور آپ کے سامنے زندگی کا کوئی دوسرا نقطہ نظر ہی نہ ہو تو آپ کے لیے وہی کھیل۔سب کچھ بن جاتا ہے اس میں جب آپ کامیابیاں سمیٹتے ہیں تو آپ کو محسوس ہوتا ہے آپ نے دنیا فتح کر لی ہے اور ہمیشہ یہ امکان ہوتا ہے کہ آپ میں غرور آ جائے کیونکہ آپ بہت سے کھلاڑیوں سے بہتر ہوتے ہیں-

    یہ ایک فطری بات ہے کہ جب آپ کسی کھیل میں کامیابیاں سمیٹیں اور بلندیوں پت پہنچ جائیں اور محسوس ہو کہ دوسرے اتنے بہتر نہیں ہیں جتنا کہ آپ کیونکہ یہی کھیل آپ کی دنیا ہوتی ہے یہی امکان ہوتا ہے جو میری نظر میں کسی۔شخص میں کوئی بدترین صفت ہو سکتی ہے تو وہ تکبر ہے آپ متکبر بن جاتے ہیں-

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا۔

    دوسری طرف میں نے دو دہائی تک دنیا بھر میں کھیلوں میں حصہ لیا اور میں نے بہت سی کامیابیاں سمیٹیں اور دھچکے بھی لگے لیکن مجھے اللہ نے سب سے بڑا تحفہ ایمان کی دولت سے نوازا۔ کامیابیاں اور عزت صرف اللہ کی ذات دیتی ہے۔

    جب آپ اتار چڑھاو سے گزرتے ہیں جب آپ عروج پر ہوتے ہیں اور بہت کوئی دھچکے لگتے ہیں بیس سالوں میں مجھے بہت سے دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا آپ کی زندگی کے مشکل لمحات آپ کو بہت کچھ سکھاتے ہیں اس لیے جب آپ عروج پر پہنچتے ہیں تو آپ کے پاوں زمین پر ہی رہتے ہیں کیونکہ آپ جان چکے ہوتے ہیں کہ عروج ہمیشہ قائم رہنے والا نہیں ایک تو یہ چیز ہے –

    تاہم اپنی زندگی کے بعد کے ادوار میں اپنے کھیلوں کے کیرئیر کے آخری دنوں میں جب مجھے اللہ تعالی نے سب سے بڑے تحفہ یعنی ایمان کی۔دولت سے نوازا مجھے کبھی بھی اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ لوگوں کی جانب سے کسی شخص پر مذہب یا ایمان کے معاملے میں زبر دستی کی جا سکتی ہے کیونکہ میرے نزدیک ایمان کی۔ ولت اللہ۔تعالی کی طرف سے ایک عنایت ہوتی ہے –

    سینیٹرسرفراز بگٹی پارٹی عہدے سے مستعفی

    ہر کسی کو ایمان کہ دولت نصیب نہیں ہوتی اور جب آپ اس سے مالا مال ہو جائیں تو زندگی کے معاملے میں آپ کا۔نقطہ نظر مکمل بدل جاتا ہے کیونکہ آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ۔کامیابی عزت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے

    انہوں نے کہا کہ مذہب کے معاملے میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی جا سکتی اور جب آپ ناکام ہوتے ہیں تو اپنی ذات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ انا کسی بھی شخص کو برباد کر دیتی ہے لیکن سچا ایمان آپ کو اپنی انا پر کنٹرول کرنا سکھاتا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ قرآن انسان کو آزاد کر دیتا ہے اور انسان اپنی ناکامیوں سے سیکھتا ہے میں جب سیاست میں آیا تو مجھے مافیاز کا سامنا ہوا اور گزشتہ 20 سالوں سے میری کردار کشی کی گئی۔

    رمی چیف کا آرمی میڈیکل کور سینٹر ایبٹ آباد کا دورہ یادگار شہداء پرفاتحہ خوانی

    انہوں نے کہا کہ مجھے یقین تھا کوئی بھی شخص میری بے عزتی نہیں کرسکتا یہ لوگ کچھ بھی کر لیں۔ غیرت کا جذبہ انسان کی بہت اچھی خصوصیت ہے اور مال و دولت نہیں انسان کے اندر غیرت بہت ضروری ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ انا بدترین انسانی خصلت ہو سکتی ہے جبکہ میری تضیحک کے لیے اسکینڈلز اور فیک نیوز لائی گئیں-

    میرا سندھ ترقیاتی پلان کا مقصد 14اضلاع کے باسیوں کی معاشی ترقی ہے: وزیراعظم

  • ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں ، وزیر اعظم

    ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں ، وزیر اعظم

    وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیا ضروریہ کی قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، سید فخر امام، مشیر ڈاکٹر عشر ت حسین، معاونین خصوصی ندیم بابر، ڈاکٹر وقار مسعود، تابش گوہر، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، بنجاب کے وزیر خوراک عبدالعلیم خان، وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، چیئرمین ایف بی آر اور اعلی حکام شریک۔ چیف سیکریٹری بنجاب اور خیبر پختونخوا ویڈیو لنک سے شریک تھے۔وزیر اعظم کو ملک میں گندم کی اگلے مالی سال 22-2021 کی پیداوار، کھپت اور ضروریات کے تخمینوں کے بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
    وزیر اعظم نے کہا کہ مستقبل کی ضروریات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں ۔
    کوشش کی جائے کہ غریب آدمی پر مزید کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔ صوبوں کے مابین روابط مزید مستحکم کیے جائیں تاکہ قیمتوں میں فرق ختم کیا جا سکے۔ کھیت سے مارکیٹ تک منتقلی اور تمام دیگر عوامل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لایا جائے تاکہ سسٹم کو شفاف بنایا جا سکے اور کسان اور صارفین دونوں کو اچھی قیمت مل سکے۔خورد ونوش کی اشیا کے لیے جدید خطوط پر ذخیرہ کرنے کے لیے گوداموں کی تعداد بڑھائی جائے ۔

  • جنگلات کی بحالی کیلئے مربوط پالیسی مرتب کی جائے، وزیر اعظم۔

    جنگلات کی بحالی کیلئے مربوط پالیسی مرتب کی جائے، وزیر اعظم۔

    وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی شکار اور درختوں کی کٹائی کی روک تھام کیلئے منظم اقدامات کئے جائیں ، جنگلات کی بحالی کیلئے مربوط پالیسی مرتب کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے۔ وہ جمعرات کو صوبہ پنجاب میں جنگلات کے تحفظ اور بحالی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
    اجلاس میں معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم، وزیر برائے جنگلات پنجاب سبطین خان و دیگر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم عمران خان کو چھانگا مانگا و دیگر جنگلات کی بحالی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ گذشتہ چند سالوں میں چھانگا مانگا کے اڑھائی ہزار ایکٹر رقبے کو درختوں سے محروم کرکے بنجر بنا دیا گیا۔
    وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ دورِ حکومت میں 10بلین ٹری سونامی مہم میں ایک ہزار ایکڑ رقبے پر شجر کاری کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، اڑھائی ہزار ایکڑ رقبے پر سال 2023تک یہ عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کم کرنے کے حوالے سے جنگلات اور شجرکاری کلیدی اہمیت کی حامل ہے اورجنگلات کا تحفظ و بحالی موجودہ حکومت کی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جنگلات کے تحفظ و بحالی کے لئے ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائےاور صوبہ بھر میں جنگلات کی بحالی کے لئے مربوط پالیسی مرتب کرکے پیش کی جائے۔

  • تم کو اللہ پوچھے گا ۔۔۔ فرحان شبیر

    تم کو اللہ پوچھے گا ۔۔۔ فرحان شبیر

    میں جس فلیٹ یا اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہوں ( کرائے پر ) اسکی قیمت کوئی ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے ۔ مجھے یہ فلیٹ پسند بھی ہے اور خواہش ہے ایسا ہی کبھی پیسے ہوئے تو خرید بھی لوں ۔ میں ہی کیا ہم سب میں کتنے ہی لوگ ہیں جو ایسے ہی ایک اچھے مکان یا فیلٹ کا خواب دیکھتے ہیں ۔ آخر کو انسان کے پاس ایک اپنا گھر تو ہو کہ کل کلاں کو کچھ ہوگیا تو فیملی کرائے کے مکانوں میں دھکے نہ کھاتی پھرے روز روز مالک مکان سے جھک جھک نہ ہو۔ کیوں کے کرائے پر اچھے مکان کے ملنے سے بھی زیادہ اچھا مالک مکان کا ملنا ایک بڑی نعمت ہے ۔

    پاکستان کی پینتالیس فیصد آبادی تو ایک سو پچیس فیصد روز پر زندگی گزار رہی ہے یعنی کہ ساڑھے بیس کروڑ میں سے آٹھ کروڑ لوگ تو سیدھے سیدھے کسی اچھے مکان کے خریدنے کی دوڑ سے ہی باہر نکل جاتے ہیں اور باقی کے چار چھ کروڑ بھی بس ابا یا دادا کے اچھے وقتوں کی زمینوں کو بیچ کر یا آبائی گھروں میں ہی پورشن بنا بنا کر اپنے لئیے چھوٹے چھوٹے آشیانے بنا رہے ہیں ۔ سالوں گھر کو رنگ روغن اور مرمت کرانے کے پیسے ہی نہیں نکل پاتے ۔ پچیس تیس ہزار کا کام آجائے تو بھائی بھائی میں جھگڑا ہوجاتا ہے کہ کون کام کرائے گا اور کون اس ٹوٹ پھوٹ کا ذمہ لے گا ۔ میں نے بجلی کے بلوں کے پیسے تقسیم ہوتے وقت پنکھوں اور اے سی تک کے کم زیادہ استعمال پر بحث مباحثہ ہوتے دیکھا یے ۔ افسوس تو یہ کہ ایک طرف تو ہمارے ملک کے تیرہ چودہ کروڑ عوام سو سو دو دو سو روپے کا حساب رکھ کر چل رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب ہمارے حکمران اور ہمارے افسران اس غریب اور محروم قوم کا پیسہ اس بے دردی سے لٹاتے رہیں کہ تفصیلات سامنے آنے پر خون کھول اٹھتا ہے ۔

    اب یہی دیکھئیے کہ کپتان نے اپنے امریکہ دورے کے دوران صرف فضائی سفر کے اخراجات کی مد میں ہی گیارہ سے بارہ کروڑ روپے بچائے ہیں ۔ ظاہر ہے ہمارے دانشوڑوں کی نظر میں یہ کوئی بڑی رقم نہیں ۔ لیکن ہم جیسے مڈل کلاسیوں کے لئیے یہ بہت بڑی رقم ہے ۔ ہم میں سے کتنوں نے ہی کبھی خواب میں بھی دس بارہ کروڑ اپنے بینک اکاونٹ میں جمع ہونے کا سوچا بھی نہیں کہ ہمیشہ ہی اخراجات اور آمدنی کا مقابلہ ہی چلتا چلا آرہا ہے ۔ لاکھوں لوگوں کا اکاونٹ کبھی سکس فگرز میں جا ہی نہیں پاتا ۔ ایک ڈیڑھ کروڑ کا مکان بنانا ایک پوری زندگی کھا جاتا ہے وہ بھی کتنی ہی خواہشوں اور کتنی ہی حسرتوں کا گلہ گھونٹ کر اور کتنی ہی جگہ اپنی عزت نفس خود داری اور عزت و احترام کو گروی رکھ کر ۔

    اب جب ہم جیسے ٹٹ پونجئیے یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے حکمران جب امریکہ جاتے تھے تو انکے لئیے پورے کا پورا long-range, wide-body , twin-engine, 300-seater jet airliner Boing-777 فکس کر دیا جاتا تھا تو خون کھول اٹھتا ہے کہ اس طرح سے تو کوئی دشمن کے پیسے کو بھی نہیں خرچ کرتا کہ حضور اب PIA کا یہ پورا بوئنگ 777 آپکے ڈسپوزل پر اور اسکے ساتھ ایک جہاز اسٹینڈ بائی پر تاکہ اس کو کچھ جائے تو دوسرا جہاز سرکار کے لئیے فوری تیار ہو ۔ یعنی مرے کو مارے شاہ مدار ۔ مرتی ہوئی PIA کے دو جہازوں کے نکالنے سے پی آئی اے کا سارا ٹائم ٹیبل درہم برہم ہوتا ہو تو ہوجائے حکمرانوں کی نقشہ بازیوں اور شاہ خرچیوں پر کمی نہ ہو ۔ پھر جہاز میں سے سیٹیں نکال کر کر بیڈ روم ، پریس روم، اور دیگر لاونجز بنانے کی رنگ بازیاں الگ جیسے چین جاپان جیسے امیر ملکوں کے حکمران ہوں ۔

    پھر یہی نہیں کہ صرف جہاز کا خرچہ ہی ایک چونچلا ہوتا یہاں تو پی آئی اے کے لئیے ہمارے مغل شہنشاہوں کے لئیے انکی پسند کے کھانے اور ناشتے بنانا بھی ایک درد سر ہوا کرتا تھا کہ نجانے کب سرکار کا دل لسی کے لئیے مچل جائے یا کب بھنڈی کی فرمائش آجائے ۔ پتہ نہیں یہ لوگ پاکستان کے مسائل کا حل ڈھونڈنے جاتے تھے یا پکنک منانے جو پکوانوں سے لیکر سونے جاگنے کے آرام کا زیادہ خیال رکھا جاتا تھا ۔ اس پر بھی دل مان جاتا اگر ان دوروں کا کوئی فائدہ بھی ہوتا مگر یہاں تو غیر ملکی حکمرانوں کے سامنے فدویانہ انداز میں گردنیں جھکانے ، پرچیاں ہاتھ میں تھامنے اور دنیا بھر سے الزامات کی پوٹلی اٹھا کر واپس آنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا تھا ۔

    ظاہر ہے اس حال میں دنیا کا کونسا ملک آپکو سیریس لے گا جارہے ہیں دنیا کو پاکستان کی مالی مشکلات سے نکالنے میں مدد لینے اور انویسٹمینٹ لانے اور حال یہ ہو مرسیڈیز اور کیڈیلک گاڑیوں کے قافلوں کے قافلے جھرمٹ میں ہوں ۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں پوری پوری بارات لیکر ٹہر رہے ہوں اور دنیا سے کہہ رہے ہوں کہ پیچھے گھر میں بچوں کو پڑھانے کے لئیے اور گھر چلانے کے لئیے پیسے نہیں ہیں ۔ ملک اور قوم قرضوں کے انبار میں دب رہی ہو اور حکمران چالیس پینتالیس لاکھ فی گھنٹہ کے حساب سے بوئنگ 777 سے آنا اور جانا کریں اور یوں ان حکمرانوں کے آنے اور جانے کے 28 گھنٹوں کی مسافت کی قیمت قوم کو گیارہ سے بارہ کروڑ میں پڑے ۔ کسی کی پوری عمر گذر جاتی ہے ایک کروڑ نہیں کماتا اور کسی کے چند گھنٹوں کے سفر کا خرچہ ہمارے جیسے کئی مڈل کلاسیوں کی پوری زندگی کی کمائی سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے ۔

    حالانکہ ہیڈز آف اسٹیٹ کے دوروں لئیے چھوٹے طیارے رکھے گئے ہیں پی آئی اے کے فلیٹ میں 2 عدد us-made,12-seater Gulfstrean Jet موجود ہیں جنہیں سربراہان مملکت کے لئیے ہی رکھا گیا ہے لیکن پھر بھی ہمارے حکمرانوں کا اپنے پورے خاندانوں سے لیکر مالشیوں تک کو پورے پورے بوئنگ بھر بھر کر یورپ اور امریکہ جانا اور بدھوں کی طرح لوٹ کر آنا غصہ دلا دیتا ہے ۔ اور یہ سوچ کر مزید غصہ آتا ہے سابقہ حکمرانوں کے ساتھ جہاز غول در غول جانے والے صحافیوں کو بھی یہ توفیق نہیں ہوسکی کہ میاں صاحب سے کبھی پوچھ ہی لیتے یہ قوم کے پیسوں سے نانا جی فاتحہ کیوں پڑھائی جارہی ہے ۔ ہم تو اتنا ہی کہتے ہیں کہ دنیا کو جتنا بھی چکر دے دو جب اوپر جاوگے تو تم کو تو اللہ پوچھے گا ۔