Baaghi TV

Tag: وزیر اعلیٰ سندھ

  • سندھ حکومت کا دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب پر ہائی الرٹ

    سندھ حکومت کا دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب پر ہائی الرٹ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دریائے سندھ میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےکہا کہ دریا کے اطراف بند، نہروں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکےترجمان وزیر اعلیٰ ہاؤس کے مطابق وزیر آبپاشی جام خان شورو نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 83 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے۔

    سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 13 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 59 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 64 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے، بیراجوں کی موجودہ صورت حال قابو میں ہے تاہم پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔

    ایشیا کپ: ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کا آغاز ہو گیا

    وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ کچے کے علاقوں میں رہنے والی آبادی کو بروقت آگاہ کریں اور نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھیں،انہوں نے وزرا اور انتظامیہ کو تاکید کی کہ وہ خود فیلڈ میں موجود رہ کر حفاظتی اقدامات کی نگرانی کریں،دریائے سندھ میں پانی کی صورتحال پر یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے کے کئی نشیبی علاقے بارشوں کے باعث پہلے ہی متاثر ہیں،ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ہوا تو درمیانے درجے کا سیلاب آسکتا ہے۔

    ڈاکٹر طاہر القادری کا 42 ویں عالمی میلاد کانفرنس کے حوالے سے اہم اعلان

  • وزیر اعلی سندھ سے  ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر  کی ملاقات

    وزیر اعلی سندھ سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر مس کوکو اوشیاما نے ملاقات کی اور ماں اور بچے کی صحت کی دیکھ بھال اور پرائمری اسکول طلبہ کے لیے 578.39 ملین روپے کے پائلٹ پراجیکٹ کے آغاز کے حوالے سے بات چیت کی.

    باغی ٹی وی کے مطابق مس اوشیاما نے سندھ میں WFP کے موجودہ پروگراموں کا ایک جائزہ پیش کیا، جس میں ماں اور بچے کی غذائیت (MCN) پر خصوصی زور دیا گیا۔ انہوں نے غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے اسٹنٹنگ، ویسٹنگ، کنڈیشنل کیش ٹرانسفرز (سی سی ٹی)اور فوڈ سپلیمنٹس کی تقسیم سمیت دیگر شعبوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ڈبلیو ایف پی کے تعاون کو سراہتے ہوئے سندھ حکومت کے صحت پر مرکوز اقدامات کی تفصیلات بتائیں۔

    ملاقات میں نشوونما اور ممتا جیسے جاری پروگرام کے فروغ اور ایک نئی اسکول فیڈنگ اسکیم کے ذریعے غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملاقات میں وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکرٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکرٹری سوشل پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ مزمل ہالیپوٹو اور سیکرٹری صحت ریحان بلوچ نے شرکت کی جبکہ ڈبلیو ایف پی کا وفد صوبائی دفتر کی سربراہ مس ہلڈے برگسامہ اور پالیسی آفیسر مس سلمی یعقوب پر مشتمل تھا۔

    ان اقدامات میں دو بڑے پروگراموں کے ذریعے حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے ساتھ غذائی قلت کا شکار بچوں کی مدد بھی شامل ہے جن میں ایک وفاقی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے نشوونما اور دوسرا صوبائی مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام (ممتا) شامل ہیں۔ ملاقات میں دونوں پروگراموں سے متعلق ڈپلیکیشن خدشات کو بھی دور کیا گیا۔ یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اگرچہ کچھ اوورلیپس موجود ہیں مگر دونوں پروگراموں کے ڈیزائن بڑی حد تک تکمیلی ہیں۔

    پروگرام کا مقصد 11,000 پرائمری اسکول کے طلبا گریڈ کچھی سے 5 کو روزانہ تازہ کھانا فراہم کرنا ہے تاکہ سیکھنے، حاضری اور غذائیت کو بہتر بنایا جا سکے۔سندھ حکومت 462.71 ملین روپے 80 فیصد جبکہ ڈبلیو ایف پی 115.68 ملین روپے (20 فیصد فراہم کرے گی۔ یہ اقدام کلاس روم میں بھوک سے نمٹنے، توجہ اور تعلیمی کارکردگی کو بڑھانے اور لڑکیوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے اور صنفی امتیاز کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    پاکستانی ایف ایم ریڈیو پر بھارتی گانے بند، وزیر اطلاعات کا خیر مقدم

    شرط لگاکر شراب پینے والا 21 سالہ نوجوان ہلاک

    بارش کے دوران حادثات، 5 افراد جاں بحق

    ڈیم پر سیر کیلئے جانے والی کشتی ڈوب گئی، 6 افراد سوار

    کشیدگی کے باوجود پاکستان کا پرچم بردار بحری جہاز بھارتی بندرگاہ پر موجود

  • سندھ کے نوجوان کرکٹرز موقع ملنا چاہیے،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کے نوجوان کرکٹرز موقع ملنا چاہیے،وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کے نوجوان کرکٹرز موقع ملنا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وزیر داخلہ محسن نقوی نےوزیر اعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور خصوصاً صوبے میں کرکٹ کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیاملاقات میں حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم کو بین الاقوامی کرکٹ میچوں کی میز بانی کےلیے عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے پر خصوصی گفتگو کی گئی، دونوں رہنماؤں نے اسٹیڈیم کو جدید سہولیات سے آراستہ کر نے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم کی بحالی اور ترقی سندھ میں کرکٹ کے فروغ کے لیے ضروری ہے، انہوں نے مزید زور دیا کہ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے نوجوانوں کو زیادہ شمولیت کا موقع ملےگا اور پاکستان کے کرکٹ ٹیلنٹ پول میں سندھ کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔

    آذربائیجان-پاکستان چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کا افتتاح کر دیا گیا

    وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کھیلوں کی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے دیہی علاقوں سمیت پورے صوبے سے با صلا حیت نوجوان کرکٹرز کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی نشاندہی اور اس کی تر بیت صوبے میں کرکٹ کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے یقین دلایا کہ سندھ سے نوجوان کھلاڑیوں کو تلاش کرنے اور ان کی معاونت کے لیے باضابطہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا، اس اقدام کا مقصد باصلاحیت کرکٹرز کو منظم تربیت اور مناسب مواقع فراہم کرنا ہے۔

    دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے،فضل الرحمان

    ملاقات میں سندھ میں کھیلوں کی سہولیات کی بہتری اور نوجوان کھلاڑیوں کو بڑے مقابلوں کی تیاری کےلیے ضروری وسائل فراہم کرنے کے حکومتی عزم پر زور دیا گیا۔

  • کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کرونگا، وزیراعلی سندھ

    کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کرونگا، وزیراعلی سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر کراچی کے تین اہم منصوبوں کریم آباد انڈر پاس، کورنگی کاز وے پل اور ملیر ایکسپریس وے کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کا پلان پیش کریں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ بلدیات سے سوال کیا کہ تمام فنڈز بروقت جاری ہونے کے باوجود منصوبوں کی تکمیل میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہی ۔انہوں نے انہیں ہدایت کی کہ وہ تینوں منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل کا منصوبہ پیش کریں۔اجلاس پیر کی صبح 9 بجے وزیراعلی ہاس میں منعقد ہوا جس میں وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی مرتضی وہاب، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، منصوبوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز؛ نیاز سومرو، ذوالفقار ابڑو ، ممبر پی اینڈ ڈی سکندر اور دیگر افسران نے شرکت کی۔کریم آباد انڈر پاس منصوبہ سندھ حکومت نے کراچی ڈولپمینٹ اتھارٹی (کے ڈی ای) کے ذریعے شروع کیا ہے۔ بریفنگ کے دوران وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ منصوبے کی لاگت 3 ارب 80 کروڑ روپے ہے۔ انڈر پاس کی لمبائی 1080 میٹر ہے جس میں سے 300 میٹر مکمل ہو چکے ہیں۔ 212 پری کاسٹ گرائیڈرز میں سے 151 مکمل ہو چکے ہیں اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت 35 فیصد ہے۔ وزیراعلی سندھ نے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ انڈر پاس میں نکاسی آب کا مناسب اور مثر نظام فراہم کیا جائے تاکہ بارش کا پانی جمع نہ ہو۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ مینا بازار اور بازار فیصل کے سامنے ایک رانڈ اباٹ بنایا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کی نقل و حرکت کو منظم کیا جا سکے۔ وزیراعلی سندھ نے وزیر بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی مرتضی وہاب کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام تیز کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کورنگی کاز وے پر پل کی تعمیر کے بارے میں وزیراعلی سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ منصوبہ 6ارب 40 کروڑ روپے سے شروع کیا گیا تھا۔یہ منصوبہ 31 جنوری 2025کو مکمل ہونا ہے جو شاید ممکن نہ ہو سکے۔ اس پر وزیراعلی سندھ نے وزیر بلدیات سعید غنی کو ہدایت کی کہ پل پر کام کی خود نگرانی کریں تاکہ اسے بروقت مکمل کیا جا سکے۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ 400 پائلس میں سے 300 مکمل ہو چکے ہیں اور 600 گرڈرز میں سے 504 مکمل ہو چکے ہیں اور منصوبے کی مجموعی پیشرفت 30 فیصد ہے۔وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے جام صادق پل تا کاٹھوڑ 38.889 کلومیٹر کا منصوبہ ہے۔جام صادق پل سے شاہ فیصل تک پہلے حصے کی تعمیر 25 دسمبر 2024 تک مکمل ہو جائے گی۔اس پر وزیراعلی سندھ نے محکمہ بلدیات کو شاہ فیصل تا ایئرپورٹ سڑک کی تعمیر نو کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلی سندھ نے واضح طور پر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تینوں منصوبوں کی تکمیل کی حتمی تاریخیں جمع کروائیں بعد میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کروں گا۔

    ماربل سٹی کراچی کے قیام سے متعلق معاہدے پر دستخط

    کراچی پولیس نے ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ جاری کردی

  • برطانیہ اور سندھ یکساں تخلیقی روایاں رکھتے ہیں،  مراد علی شاہ

    برطانیہ اور سندھ یکساں تخلیقی روایاں رکھتے ہیں، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے برطانوی قونصل خانے میں برطانوی شاہ چارلس سوم کی 76ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت پر مسرت کا اظہار کیا اور تقریب کو شاندار، برطانوی روایات سے بھرپور ارٹ، موسیقی اور دوستی کے فروغ کا سبب قرار دیا۔ کراچی میں برطانوی قونصل خانے پہنچنے پر ڈپٹی ہائی کمشنر نے وزیراعلیٰ سندھ کا استقبال کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اپنے خطاب میں مراد علی شاہ نے سندھ کے عظیم ثقافتی ورثے، موسیقی، شاعری اور آرٹ سے اس کے تعلق کو اجاگر کیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ ہزاروں سال سے موسیقی، شاعری اور آرٹ پر مشتمل ثقافت کی سرزمین ہے۔ سندھ کے فنکاروں نے عالمی موسیقی پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے عظیم ثقافتی ورثے کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ سندھی کلچر ڈے اور آرٹ اور فنون کے فروغ کے دوسرے پروگراموں کا مقصد ثقافتی ورثے کا تحفظ ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ برطانیہ اور سندھ دونوں میں تخلیقی روایات یکساں ہیں جنہوں نے عالمی موسیقی اور آرٹ پر اثرات چھوڑے ہیں۔ ثقافتی شراکت داری کی اہمیت پربات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ایسی تقاریب سے زندگی کیلیے نئے آئیڈیاز تخلیق ہوتے ہیں، صلاحیتوں اور ثقافتوں کے تبادلے سے ہمارے درمیان دوستی اور باہمی احترام پروان چڑھتا ہے۔آخر میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کے عوام کی طرف سے شاہ چارلس سوم کو 76ویں سالگرہ کی دلی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ وہ امن، صحت اور خوشیوں کے ساتھ کئی سال اور جئیں، وزیراعلیٰ نے سندھ اور برطانیہ کے درمیان قریبی ثقافتی تعلقات کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ تقریب میں موسیقی، آرٹ اور دوستی کا جشن منایا گیا جس میں تمام مکاتب فکر کے افراد نے ثقافتی تبادلے اور شراکت کے جذبے سے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہائی کمیشن پہنچنے پر برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کو پھولوں کا گلدستہ پیش کرکے شاہ چارلس سوم کی 76 ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔

    ڈانس پارٹی پر چھاپہ، نشے میں دھت 18مرد اور 9 خواتین گرفتار

    وزارت داخلہ کا غیرقانونی وی پی اینز کی بندش کیلئے خط، اسلامی نظریاتی کونسل کی حمایت

    سری لنکا: انتخابات میں صدر دسانائیکے کے اتحاد کو بڑی کامیابی

  • ‏وزیراعلیٰ سندھ  کا کراچی میں سی ٹی ڈی کے فیوژن سینٹر کا افتتاح

    ‏وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی میں سی ٹی ڈی کے فیوژن سینٹر کا افتتاح

    ‏وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے فیوژن سینٹر کا افتتاح کر دیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر داخلہ ضیا ء الحسن لنجار، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی عمران یعقوب اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ آئی جی پولیس نے سی ٹی ڈی فیوزن سینٹر کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو تفصیلی بریفنگ دی.وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروجیکٹ سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے آف لائن اور آن لائن ڈیٹا بیس کو مربوط کیا جا ہا ہے ،فیوزن سینٹر جدید آلات اور گیجٹری سے لیس فیصلہ سازی میں مدد کرتا ہے.اس موقع پر سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کیا کہ صوبے میں شدت پسندی میں ملوث افراد اور گروہوں کا سدباب کرنا ہوگا،حکومت سندھ نے سی ٹی ڈی کو جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی فراہم کردی ہے،عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا ہے.سید مراد علی شاہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس خاص طور پر سی ٹی ڈی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی جذبے سے کام کرنے پر سندھ پولیس کے تربیت یافتہ جوانوں پر فخر ہے،ولیس جوانوں نے فرض کی ادائیگی میں بےمثال قربانیں دیں ہیں،سندھ حکومت نے سندھ پولیس کو جدید آلات، بھترین مراعات اور تربیت فراہم کی ہے. اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس کے ساتھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی امن امان کی بحالی میں محنتوں کی تعریف کی .

    شرجیل میمن سے آزاد کشمیر کے وزیراطلاعات کی ملاقات ، آزادی اظہار رائے پر تبادلہ خیلال

    ‏وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت سندھ اسمبلی میں اعلی سطحی اجلاس

    کراچی میں ایف آئی اے کے حوالہ ہنڈی کے خلاف چھاپے، 5 ملزمان گرفتار

  • وزیراعلیٰ سندھ کا ملیر ایکسپریس وے کا دورہ، تجاوزات فوری گرانے کا حکم

    وزیراعلیٰ سندھ کا ملیر ایکسپریس وے کا دورہ، تجاوزات فوری گرانے کا حکم

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے زیرو پوائنٹ نزد جام صادق پل سے کاٹھوڑ تک زیر تعمیر 889۔39 ملیر ایکسپریس وے کا دورہ کیا اور پہلے سیکشن کے افتتاح میں رکاوٹ بننے والی کے الیکٹرک کی تنصیبات منتقل نہ کرنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

    جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ ملیر ایکسپریس وے کے جام صادق پل زیرو پوائنٹ پہنچے تو میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ڈی جی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ اسد ضامن، پروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو، انجنیئر خالد منصور اور دیگر نے استقبال کیا۔جائزے کے دوروان وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ زیرو پوائنٹ کے مقام پر پل کے تیار کنارے سڑک پر پڑے ہیں اور پلرز پر نہیں چڑھائے گئے تاکہ سڑک تعمیر کی جاسکے۔انہوں نے وجہ پوچھی تو انہیں بتایا گیا کہ کے الیکٹرک نے اپنی تنصیبات اب تک نہیں ہٹائیں جس کی وجہ سے سڑک کو پلرز پر کھڑا نہیں کیا جاسکا۔وزیراعلیٰ سندھ نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر مسئلے کو حل کریں۔انہوں نے کہا کہ جب کے الیکٹرک کو تنصیبات کی منتقلی کےلیے ادائیگی کردی گئی ہے تو تاخیر ناقابل قبول ہے۔مراد علی شاہ زیرو پوائنٹ سے شاہ فیصل انٹرچینج پہنچے، راستے میں انہوں نے ملیر ایکسپریس وے کے کناروں پر تجاوزات کے متعلق ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کورنگی کو موقع پر طلب کرکے بازپرس کی کہ ان کی ناک کے نیچے غیرقانونی تجاوزات کیوں تعمیر ہو رہی ہیں؟و زیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ سرکاری زمین کے ایک انچ پر بھی قبضے کی اجازت نہیں دیں گے ۔انہوں نے غیرقانونی تعمیرات اور ان کی دیواریں گرا کر انہیں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے ملیر ایکسپریس وے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ پہلے حصے پر نومبر کے اواخر تک کام مکمل کرلیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں کورنگی کاز وے سے شاہ فیصل ٹریفک کےلیے کھول دیا جائے۔ مراد علی شاہ اپنی ٹیم کے ہمراہ شاہ فیصل سے قائدآباد تک بھی گئے اور جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے مکمل ہے تاہم قائد آباد انٹرچینج کا چھوٹا سا حصہ زمین خالی نہ کرائے جانے کے باعث تعطل کا شکار ہے۔جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے جواب دیا کہ جب زمین خالی کرانے کےلیے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں تو زمین مالکان کو فوری ادائیگی کی جانی چاہیے تاکہ ایکسپریس وے کے دوسرے حصے کو بھی جلد سے جلد ٹریفک کےلیے کھولا جاسکے۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے شاہ فیصل اور دیگر انٹر چینجز پر زیرتعمیر ٹول پلازے اور تکون پارکوں کا بھی جائرہ لیا۔انہوں نے علاقے کی خوبصورتی کےلیے پارکوں میں گھاس اور درخت لگانے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ پولیس کو ہدایت کی کہ ملیر ایکسپریس وے کی سکیورٹی کےلیے چوکیوں کے قیام کا منصوبہ بھی تیار کریں۔یاد رہے کہ ملیر ایکسپریس وے کے زیر پوائنٹ سے کاٹھوڑ تک 6 انٹرچینجز ہیں، 3 پل اور 5 وزن کے کمپیوٹرائزڈ کانٹے ہیں، منصوبہ 2025 کے آخر تک مکمل ہونا ہے۔

    کراچی:فائرنگ کے مختلف واقعات میں خاتون سمیت چار افراد زخمی

    کراچی کو پانی فراہم کرنے والی لائن 40 سال بعد تبدیل

  • وزیراعلیٰ سندھ  سے  جے یو آئی (ف) کے وفد  کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے جے یو آئی (ف) کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جے یو آئی (ف) کے صوبائی صدر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی اور سیکریٹری جنرل علامہ راشد سومرو کی قیادت میں وفد سے ملاقات میں سندھ کو درپیش اہم مسائل، پانی کی کمی اور سیکیورٹی خدشات پر تبادلہ خیال کیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوئی جس کے آغاز میں دونوں رہنماؤں نے آئین میں 26ویں ترمیم کی منظوری پر ایک دوسرے کی پارٹی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور مبارکباد دی۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل رحمان کی سیاسی دانشمندی نے اسے ممکن بنایا بصورت دیگر حالات انکے برعکس تھے۔ اجلاس میں وزیر پی اینڈ ڈی ناصر شاہ اور وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے شرکت کی۔سندھ میں پانی کی شدید قلت کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دریائے سندھ پر کسی بھی نئے کینال کی تعمیر ممکن نہیں ہوگی۔یہ معاہدہ صوبے کے پہلے سے زیر آب وسائل کی نشاندہی کرتا ہے جس سے مزید کینالز کے منصوبوں کو غیر پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ ملاقات کے دوران رہنماؤں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل رحمان کا آئین میں 26ویں ترمیم کی حالیہ منظوری میں سہولت فراہم کرنے پر ان کی سیاسی بصیرت کا شکریہ ادا کیا۔ جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں مولانا ہالیجوی اور راشد سومرو نے وزیراعلیٰ اور پیپلز پارٹی اراکین کو پانی کی قلت پر آئندہ کثیرالجماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جس کا مقصد پانی کی دستیابی پر موجودہ خدشات کو دور کرنا اور مجوزہ کینال منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے دعوت قبول کرتے ہوئے مزید کینالز نکالنے کے اپنی حکومت کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا اور یہ کہا کہ وفاقی حکومت کو پہلے ہی خطوط بھیجے جا چکے ہیں جن میں مجوزہ منصوبوں کا از سر نو جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تمام متعلقہ فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کر رہے ہیں اس امید کے ساتھ کہ وفاقی حکومت سندھ کی پانی قلت کی سنگینی صورتحال پر غور کرے گی۔ملاقات میں انہوں نے سکھر اور لاڑکانہ ڈویڑن کے کچے کے علاقوں میں جہاں ڈاکوؤں کے خلاف اہم آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آپریشن کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر داخلہ ضیا لنجار کو ہدایت کی کہ وہ آپریشن کو تیز کریں اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف برادری کی مزاحمت کو تقویت دینے کیلئے مقامی سیاسی جماعتوں اور دیگر اہم شخصیات کی حمایت حاصل کریں۔ ملاقات میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) دونوں رہنماؤں نے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کرنے، مزید ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور کمیونٹی کے اقدامات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا اور صوبے کے اہم چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اپنی مشترکہ کاوشوں کا اعادہ کیا۔

    کراچی: انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں 12سال بعد مستقل پیس میکر لگانے کا آغاز

    کراچی کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، حکام نے ہاتھ کھڑے کر دیے

    کراچی کے سرکاری اسکولوں کو ملی کتابیں، کاپیاں فروخت ہونے کا انکشاف

    کراچی: سرکاری حساس ادارے کا اہلکار ظاہر کرنیوالا جعلساز گرفتار

  • وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کا اجلاس، بڑے فیصلے

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کا اجلاس، بڑے فیصلے

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کے 46ویں اجلاس میں این ای ڈی سائنس و ٹیکنالوجی پارک کیلیے 17 منزلہ عمارت کی تعمیر، صنعتوں کو پانی کی سپلائی کیلیے ویسٹ کراچی واٹر ری سائیکلنگ پروجیکٹ 1، ڈی ایچ اے اور صفورہ کو پینے کے پانی کی سپلائی کیلیے کھارے پانے کو میٹھا بنانے کے پلانٹ لگانے،ملیر ایکسپریس وے کے کاٹھوڑ انٹرچینج کو چھہ رویہ کرنے اور گھوٹکی کندھ کوٹ پل کی تعمیر کیلیے دو ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دے دی۔

    اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا، صوبائی وزرا ڈاکٹر عذرہ پیچوہو، ضیا لنجار، سردار شاہ، علی حسن زرداری، جام اکرام دھاریجو، چیف سیکریٹری آصف حیدر اہ، اراکین اسمبلی غلام قادر چانڈیو، قاسم سومرو، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم ششاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، سیکریٹری اسکول تعلیم زاہد عبداسی، ڈی جی پی پی پی یونٹ اسد ضامن اور دیگر حکام نے شرکت کی۔این ای ڈی سائنس و ٹیکنالوجی پارک کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ منصوبہ کویتی کمپنی کے ساتھ دونوں حکومت کے تعاون سے بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت سندھ پہلے سے ہی ایک ارب 70 کروڑ روپے حکومت سندھ کے حصے کے طور پر منظور کر چکے ہیں۔ اکتوبر 2024 میں فضائی سروے کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے گراؤنڈ فلور سے اوپر 218.3 فٹ اونچی عمارت کی تعمیر کا این او سی جاری کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے تصدیق کی کہ عمارت پر پانی کے ٹینک، اشتہاری بورڈ، انٹینا یا چھت پر دوسری کسی تعمیر سے طیاروں کی سیفٹی پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پی پی پی یونٹ کو نومبر 2024 کے ا?خر تک ٹھیکے کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی تاکہ تعمیراتی کام کا ا?غاز کیا جاسکے۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ منصوبے کی دو سال میں تکمیل چاہتے ہیں۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ این ای ڈی کی حدود میں سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت سے بننے والا یہ پاکستان کا پہلا مکمل آئی ٹی پارک ہوگا۔ منصوبے میں بیسمنٹ اور 20 منزلیں شامل ہوں گی۔ پارک میں ٹیکنالوجی کمپنیوں، بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوںِ چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں ، تحقیقاتی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو سب لیز پر دیے جائیں گے۔ عمارت میں ا?ڈیٹوریم، تمام سہولیات سے ا?راستہ کام کرنے کی جگہ، ہائی اسپیڈ کنیکٹویٹی ، تحقیقاتی لیبارٹریاں، ٹیکنالوجی انکیوبیٹرز، کیفے اور بہت کچھ ہوگا۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کرایہ داروں کے مالی فوائد کیلیے پارک کو ایس ٹی زیڈ اے سے اسپیشل ٹیکنالوجی زون کا درجہ دلایا جائیگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کویتی کمپنی نے حکومت سے حکومت انتظامات کے تحت ری سائیکلنگ پروجیکٹ لگانے اور اسے چلانے کیلیے اظہار دلچسپی جمع کرائی ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کمپنی نکاسی کے پانی کی ٹریٹمنٹ کا وسیع تجربہ رکھتی ہے جس سے منصوبے کی کامیابی میں مدد ملے گی۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سائیٹ کی صنعتوں کو ری سائیکل پانی فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ بلدیات، صنعت اور پی پی پی یونٹ کو منصوبہ کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی تاکہ کام کا فوری آغاز کیا جا سکے۔ ملیر ایکسپریس وے منصوبے کے بارے میں وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ منصوبہ ایم 9 موٹروے پر کاٹھوڑ انٹرچینج سے 500 میٹر پہلے ختم ہوگا جس میں فی الحال ایک لین پر مشتمل دو رویہ راستہ ہے۔
    چھ رویہ ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر سے دو رویہ کاٹھوڑ انٹر چینج پر ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ ان رکارٹوں اور ا?پریشن ایشوز کو حل کرنے کیلیے یہ ضرورت ہے کہ کاٹھوڑ انٹرچینج کو توسیع دے کر دوبارہ تعمیر کیا جائے تاکہ اضافی ٹریفک کو بلا رکاوٹ گذارا جا سکے۔ اس سلسلے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی ساؤتھ زون کے حکام سے بات کی گئی تھی اور فریقین نے انٹرچینج کو ایم 9 موٹروے کے چھ رویہ اںٹرچینجز کے کے مطابق اپ گریڈ کرنے پر اتفاق کیا۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے تکنیکی جائزے کیلیے ایک کنسلٹنٹ مقرر کرنے محکمہ بلدیات کو ضروری دستاویزات این ایچ اے کو فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ ایم 9 پر نیو کاٹھوڑ انٹرچینج کی تعمیر اور توسیع کیلیے عام معلوماتی خاکہ، نقشہ، ڈیزائن کی ڈرائنگ اور تخمینہ پیش کرے۔ یاد رہے کہ ملیر ایکسپریس وے تین رویہ ہائی اسپیڈ روڈ ہے جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کورینگی کریک میں ڈی ایچ اے ایوینیو سے کاٹھوڑ کے قریب ایم 9 کراچی حیدرآباد موٹروے پر ختم ہوگا۔یہ 39 کلومیٹر طویل ہوا۔ کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے بارے میں اجلاس کو یتایا گیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپورشین کراچی کے شہریوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کیلیے سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت سے منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے۔ پی پی بورڈ کے 40 ویں اجلاس میں منصوبے کے اسٹرکچر کی منظوری دی گئی تھی اور سرمایہ کاری کی تلاش شروع کی گئی تھی۔یہ منصوبہ ڈیزائن کرو، بناؤم سرمایہ لگاؤم چلاؤ اور حولے کرو ماڈل کے تحت بنایا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کو زیادہ گنجائش (46 ایم جی ڈی سے زیادہ) کا پلانٹ لگانے کی اجازت دی گئی ہے اور اضافی پانی وہ بوتلوں میں بند کرکے فروخت کرسکتے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت منصوبے کی کامیابی اور مجموعی ٹیرف میں کمی ہوگی۔ کویتی کمپنی نے پلانٹ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے حکومت سے حکومت معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ بلدیات، واٹر بورڈ اور پی پی پی یونٹ کو ضروری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ منصوبے کو شروع کیا جاسکے۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقی ناصر شاہ نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ڈی ایچ اے حکام میٹھا پانی خریدنے کو تیار ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ گھوٹکی کندھ کوٹ پل کی تعمیر کا ا?غاز اگست 2020 میں ہوا۔پل 12.2 کلومیٹر طویل ہے اور 5.87 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ دیگر تفصیلات کے مطبق گھوٹکی سے 10.4 کلومیٹر(50 فیصد) مکمل کرلیا گیا ہے۔ کندھ کوٹ سے 8.34 کلومیٹر (74 فیصد) اور ٹھل لنک روڈ سے ساڑھے 4 کلومیٹر (81 فیصد) مکمل کرلیا گیا ہے۔ گھوٹکی میں پل کو جانے والا سیکشن 1 روڈ مجموعی طور پر 50 فیصد جس میں کینال پل اور زمین دوز نالوں کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔18 جولائی 2023 کو معطل ہونے والی تعمیری سرگرمیاں 2 مئی 2024 کو شروع کردی گئی تھیں۔ دریائے سندھ کے پل کے سیکشن 2 پر کام 87۔5 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے۔ دریائی علاقے میں 729 پشتوں میں سے 235 ، 729 شافٹ میں سے 216 اور 244 ٹرانسوم میں سے 66 لگادیے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ ضیا لنجار نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ 6 پولیس چوکیاں کشمور ایٹ کندھ کوٹ ضلع پولیس کے حوالے کی جاچکی ہیں۔ساتویں اور آٹھویں پولیس چیوکی کی تعمیر کا کام جاری ہے اور رینجرز بیرک پلیٹ فارم مکمل کرلی گئی ہے۔ اس وقت باؤنڈری وال پر پتھر کی مسہری کا کام جاری ہے۔ پل کے سیکشن 3 پر کنڈھ کوٹ سے پل کو جانے والے راستے کا کام 74 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے۔ روڈ کی مضبوطی کا کام 83 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ کینال کے پل کی زمین دوز نالیوں کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ ٹھل لنک روڈ 81 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے پل کو این 85 اور این 55 موٹرویز سے جوڑنے کا این او سی جاری کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پی پی پی پالیسی بورڈ کی مشاورت کے بعد اضافی تعمیر کیلیے 2 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی۔

    سندھ حکومت کا جعلی نمبر پلیٹ اور کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈائون

    ایم کیو ایم کے دفتر میں مسٹر یونیورس رمیز ابراہیم کی آمد،سید مصطفی کمال سے ملاقات

    جے یو آئی کی 16 نومبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوگی،علامہ راشد محمود

    معاشرے میں سب سے زیادہ قابل رحم ٹریفک پولیس والے ہیں، شرجیل میمن

  • کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ  سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کینڈین ہائی کمشنر مس لیسلی اسکینلن کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ ان کی حکومت کراچی ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے ذریعے شہر میں رہائشی سہولیات کی بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے انفرا اسٹرکچر کو ترقی دے رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں کینیڈا کے اوٹاوا میں ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا میری لوئس حنان اور کینیڈین ہائی کمیشن میں سیاسی، معاشی اور تجارتی کونسلر ڈینیئل ارسنالٹ بھی شریک تھے۔وزیراعلیٰ کے ساتھ ان کے سیکریٹری رحیم شیخ بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوروان اسکینلن نے کہا کہ کراچی بھرپور معاشی مواقع کے ساتھ ایک خوبصورت میگا پولیٹن شہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد اور لاہور میں چلنے والی کینیڈین فوڈ چین اب کراچی میں بھی اپنا فرنچائز کھولنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے زور دے کر کہا کہ کراچی ملک کا تجارتی مرکز ہے۔صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتیں نئے اسپیشل اکنامک زون قائم کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انڈسٹریل ایریاز سمیت شہر کے انفرا اسٹرکچر کو ورلڈ بینک کے کراچی ٹرانفارمیشن پروجیکٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پرورگرام کے تحت بہتر کیا جا رہا ہے۔ بات چیت کے دوروان وزیراعلیٰ سندھ نے کھارے پانی کو پینے کا میٹھا پانی بنانے اور گھریلو نکاس کو گھریلو اور صنعتی دونوں مقاصد کیلیے ٹریٹ کرنے پر حکومتی سرمایہ کاری کو اجاگر کیا۔مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جا رہے ہیں تاکہ ٹریٹڈ سیوریج اور صنعتی فضلہ سمندر میں چھوڑا جائے ، ا?بی اور ماحولیاتی ا?لودگی کا مسئلہ حل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی حکومت نے ساحلی پٹی پر لاکھوں کی تعداد میں میگروز لگا کر کاربن کریڈٹس حاصل کیے ہیں۔ کیٹی بندر پر ایک اور گہرے سمندر کی بندرگاہ بنانے کا منصوبہ ہے۔تھر میں کوئلے سے بجلی بنانے سے متعلق مراد علی شاہ نے بتایا کہ کوئلے سے توانائی حاصل کرنے کیلیے عالمی ماحولیاتی ضابطوں کی پابندی کی جا رہی ہے جس سے تھر کول ملک میں سستی ترین بجلی کا بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ بجلی کے نرخ سے متعلق سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے اسکینلن کو بتایا کہ صنعت کار موجودہ نرخوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت بجلی کے نرخ کم کرنے پر کام کر رہی ہے جبکہ سندھ حکومت کراچی اور حیدرآباد میں ہر ایک 352 میگاواٹ کے پاور پلانٹ لگا رہی ہے اور بجلی کی ترسیل کیلیے پرائیویٹ شراکت دار تلاش کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کینڈین سرمایہ کاروں کو بجلی کی تقسیم، پانی کے منصوبوں اور تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ کینیڈین ہائی کمشنر نے تصدیق کی کہ ان کی کمپنیاں کراچی میں سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے تھر کے عوام کے معیار زندگی میں بہتری ا?ئی ہے۔ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کے منصوبے سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم ا?ہنگ گھروں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔منصوبہ میں پیش رفت جاری ہے اور 2025ء کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ منصوبے سے اکیس لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔ آخر میں وزیراعلیٰ نے سندھ میں اقلیتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں صوبے میں برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل نشستوں پر دو اقلیتی نمائندے منتخب ہوئے ہیں ، ایک صوبائی اسمبلی اور دوسرا رکن قومی اسمبلی ہے جبکہ سندھ کے ڈپٹی اسپیکر بھی مسیحی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو مخلوط سماج ہونے پر فخر ہے جہاں تمام عقائد کے افراد پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

    کراچی پولیس آفس میں آئیڈیاز2024 کی سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد