Baaghi TV

Tag: وزیر اعلیٰ سندھ

  • کراچی: غیر ملکیوں کو پولیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے لوٹ لیا، وزیراعلی کا نوٹس

    کراچی: غیر ملکیوں کو پولیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے لوٹ لیا، وزیراعلی کا نوٹس

    کراچی میں غیر ملکیوں کو مبینہ طور پر پولیس جیسی وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔

    ڈی ایچ اے حکام کے مطابق واقعہ دو روز قبل ڈیفنس خیابان مجاہد کے قریب پیش آیا۔ڈی ایچ اے حکام کے مطابق پولینڈ سے پاکستان آنے والے غیر ملکیوں نے بیان میں بتایا کہ پولیس جیسی وردی میں کار سوار ملزمان نے تلاشی کے بہانے ہمیں روکا اور 1080 ڈالرز لوٹ لیے۔حکام نے بتایا کہ خاتون سمیت تین غیر ملکیوں کو درخشاں تھانے کی حدود میں لوٹا گیا، جن کے پاس نہ ہی سیکیورٹی تھی اور نہ ہی انہوں نے کسی انتظامیہ کو آگاہ تھا۔درخشاں تھانے کی پولیس نے بتایا کہ انہوں نے غیر ملکی باشندوں کے بیانات لے لیے ہیں اور واقعے سے متعلق قانونی کارروائی کےلیے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں غیرملکیوں سے لوٹ مار کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈشنل آئی جی کراچی سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سیاحوں کو لوٹنا اور زد و کوب کرنا نہایت حوصلہ شکن واقعہ ہے۔ غیرملکیوں کو لوٹنے سے ملکی وقار خراب ہوتا ہے۔ حکومت کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے کی وجہ سے سیاح آ رہے ہیں۔مراد علی شاہ نے کراچی پولیس چیف کو ہدایت کی کہ مجرموں کو گرفتار کر کے سخت دی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ مقامی لوگوں کو بھی تحفظ فراہم کریں، گلی محلوں اور اہم شاہراؤں کی نگرانی کیلئے سیف سٹی پروجیکٹ کو یقینی بنائیں۔

    شہرقائد میں سمندری ہوائیں بحال، موسم آج بھی گرم اور مرطوب

    وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت اجلاس، چائنیز شہریوں کی سیکیورٹی کا جائزہ

  • سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    اب انڈسٹری کا پہیہ چلے گا، معیشت بہتر ہوگی اور ملازمتیں بھی میسر آئیں گی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ صنعت کو سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائیٹ) اور سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن ( ایس ایس آئی سی ) کیلیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سائیٹ اور اسمال انڈسٹریز خود انحصار تنظیمیں ہونی چاہئیں تاہم اضافی ملازمتوں، منصوبہ بندی کی کمی اور تجارتی منصوبوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ مالی بحران کا شکار ہیں۔محکمہ صنعت کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری صنعت یاسین شر، ایم ڈی سائیٹ غضنفر قادری اور دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ضرورت سے زیادہ ملازمین کی وجہ سے سائٹ لمیٹڈ تنخواہ اور پنشن کی فراہمی کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ ادارے میں اس وقت 1315 ملازمین اور 754 پنشنرز ہیں۔ تنخواہ، پنشن، ملازمین کے بقایا جات، قرضوں اوردیگر اخراجات کا سالانہ حجم دو ارب، انسٹھ کروڑ سے تجاوز کر جاتا ہے جبکہ کل آمدنی دو ارب روپے سالانہ ہے۔ ادارے کو سالانہ انسٹھ کروڑ، 29 لاکھ، 57 ہزار اور 861 روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔نوری آباد اور کوٹری میں صنعتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ 25-2024 کے ترقیاتی پروگرام کے تحت مختص84 کروڑ، 68 لاکھ اور 90 ہزار روپے کی رقم مسائل حل کرنے کیلیے ناکافی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر صنعت جام اکرام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ لاڑکانہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں سوئی گیس کا مسئلہ جلد حل کرلیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ایس جی سی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ لاڑکانہ انڈسٹریل اسٹیٹ کو گیس کی فراہمی کیلیے تخمینہ منصوبہ ایک ہفتے کے اندر دے دیا جائے گا۔وزیرصنعت نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی کہ وہ سائٹ کی تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ حل کرنے کیلیے 80 کروڑ روپے کی سالانہ امداد کی منظوری دیں جبکہ آپریٹنگ اینڈ مینٹی ننس اخراجات کیلیے ایک مرتبہ 50 کروڑ روپے امداد کی بھی منظوری دی جائے۔وزیراعلیٰ سندھ سے نوری آباد فیز 2 اور کوٹری سائٹ کی بحالی اور انفرا اسٹرکچر کیلیے دو ارب روپے منظوری کی بھی درخواست کی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ کو مزید بتایا گیا کہ سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن 2008 سے 2014 تک ضرورت سے زیادہ ملازمین کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا کرر ہی ہے۔ یہاں تک کہ تنخواہ، پنشن اور ملازمین کے بقایا جات دینے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ادارے میں 656 ملازمین اور 268 پنشنرز ہیں جبکہ 33 سابق ملازمین اب تک اپنے بقایا جات کے منتظر ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسمال انڈسٹریز میں 321 اضافی ملازمین ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ ابھی کرنا باقی ہے۔اسمال انڈسٹیز کے سالانہ اخراجات 93 کروڑ، 48 لاکھ اور 60 ہزار ہیں جن میں سے 49 کروڑ 62 لاکھ اور 30 ہزار روپے تنخواہ، 20 کروڑ ، 77 لاکھ، 70 ہزار روپے پنشن جبکہ 23 کروڑ 8 لاکھ اور اور 60 ہزار روپے ملازمین کے واجبات ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری انڈسٹریز نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ 24-2023 میں 91 کروڑ ، 78 لاکھ اور 50 ہزار اخراجات کے مقابلے میں 22 کروڑ، 93 لاکھ اور 20 ہزار روپے وصولی ہوئی۔اس طرح ادارے کو 50 کروڑ، 48 لاکھ اور 60 ہزار روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سے تنخواہوں اور پنشن کیلیے 40 کروڑ کی سالانہ گرانٹ دینے کی درخواست کی گئی۔وزیر صنعت نے کہا کہ سائیٹ کوٹڑی اور ناردرن بائی پاس کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی صورتحال بھی خستہ حالی کا شکار ہے، بحالی کیلیے فنڈز درکار ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ کراچی، حیدرآباد، نصرپور، کشمور، موہن جو دڑو اور اسلام آباد میں قائم تربیتی مراکز کو بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ادارے کیلیے آمدنی کا ذریعہ بن سکیں۔وزیر صنعت جام اکرام نے وزیراعلیٰ سندھ سے تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 60 کروڑ روپے کے یک وقتہ امدادی پیکیج کی درخواست کی۔ انہوں نے سالانہ گرانٹ بھی 40 کروڑ سے بڑھا کر 60 کروڑ روپے کرنے کی درخواست کی۔ ادارے میں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم بھی متعارف کرائی جاسکتی ہے۔اجلاس کے دوران اسمال انڈسٹریز روہڑی، ناردرن بائی پاس اور سکھر میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر بھی غور کیا گیا جس کیلیے 1 ارب روپے درکار ہوں گے۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سائیٹ کورنگی (فیز2)، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری، ایف بی ایریا ایسوسی ایشن ا?ف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری، لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری سمیت مختلف صنعتی علاقوں میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی کیلیے ایک ارب 20 کروڑ روپے درکار ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صنعت کو مختلف سائیٹس اور اسمال انڈسٹریز کیلیے تفصیلی ترقیاتی منصوبے اور الگ سے امدادی پیکج کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ ضروری فیصلے کیے جاسکیں۔دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو سائٹ اور اسمال انڈسٹریز کی تنظیم نو کی بھی ہدایت کی تاکہ وہ پیشہ وارانہ بنیادوں پر کام کریں اور مالی طورپر مستحکم ہو سکیں۔

    مولانا فضل الرحمن ترامیم میں فعال کردار پر مبارکباد کے مستحق ہیں ، ڈاکٹر نصیر سواتی

    کیماڑی پولیس کا منشیات اڈے پر چھاپہ،لیاری گینگ کمانڈر ساتھیوں سمیت گرفتار

    کراچی پولیس کی انسداد جرائم کے خلاف ہفتہ وار کاروائیوں کی رپورٹ

  • وزیراعلیٰ سندھ نے 7 روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم کا افتتاح کردیا

    وزیراعلیٰ سندھ نے 7 روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم کا افتتاح کردیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 7 روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم کا افتتاح کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاری اعلامیہ کےمطابق افتتاحی تقریب ایس ایم بی فاطمہ جناح سکول گارڈن ویسٹ کراچی میں منعقد کی گئی ،جس میں وزیر اعلیٰ سندھ،صوبائی وزرا اور میئر کراچی نے بچوں کو انسداد پولیو کےقطرے پلائے ،تقریب میں صوبائی وزرا جام اکرام اللہ دھاریجو، جام خان شورو، سردار شاہ، ذوالفقار شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکرٹری سکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکرٹری صحت ریحان بلوچ اور انچارج ای سی او سندھ کوآرڈینیٹر ارشاد سوڈھر اور گلوکار شہزاد رائے بھی موجود تھے۔وزیراعلی نے کہا کہ سندھ کے 30 اضلاع میں انسداد پولیو مہم 28 اکتوبر تا 3 نومبر تک جاری رہے گی،مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے جائیں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پانچ ماہ تا چھ سال کے 95 لاکھ بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کے لئے وٹامن اے کی خوراک بھی دی جائے گی،انسداد پولیو مہم میں 81 ہزار ہیلتھ ورکرز حصہ لیں گے، سکیورٹی کے لئے 19 ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ صحت مند معاشرے کی مضبوط بنیاد رکھی جائے۔وزیراعلیٰ سندھ نےوالدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں،پولیو کے خاتمے کے لیے میڈیا، سول سوسائٹی اور علماکرام عوام کو آگاہی فراہم کریں۔

    پولیو مہم کا آغاز، سندھ کے ایک کروڑ بچوں کو پولیو قطرے پلائے جائیں گے

    کراچی:گاڑی ٹکر سے نجی ٹی وی چینل کا کارکن جاں بحق، ڈمپر نے نوجوان کچل دیا

  • وزیراعلیٰ سندھ سے  سپریم کورٹ  بار کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفد کی سربراہی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت ، جنرل سیکریٹری سید علی عمران، ایگزیکٹیو ممبر مس سامعہ اور دیگر شریک ہوئے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ وزیر قانون ضیا ء الحسن لنجار ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور سیکریٹری وزیراعلیٰ سندھ رحیم شیخ، صدر پیپلزلائرز فورم کےقاضی بشیر شریک تھے.ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سپریم کورٹ کونسل کے وفد نے کراچی میں لائر ہوسٹل کے لیے زمین کی درخواست کی،
    وزیراعلیٰ سندھ نے لائر ہوسٹل کے لیے زمین کا بندوبست کرنے کی یقین دہانی کروائی .وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر قانون ضیاء لنجار کو ہدایت دی کہ زمین کے حصول کے لیے نشاندہی کر کے رپورٹ پیش کریں ۔

    ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ چار ہفتوں میں دوبارہ لینے کا حکم

  • سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایف بی آر نے 2014 سے 2021 کے درمیان سندھ کی 500 صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے ہیں تاہم وہ فنڈز سندھ کو منتقل نہیں کیے گئے، وفاقی حکومت سے رابطہ کریں گے اور محنت کشوں کے پیسے واپس لیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی نے یہ بات محکمہ محنت اور مالیات کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کے دوران کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا سعید غنی، ضیا الحسن لنجار، شاہد تھہیم، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ، سیکریٹری محنت رفیق قریشی اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایف بی آر نے سندھ کی 500 صنعتوں سے سندھ ویلفیئر ورکرز فنڈ ( ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور سندھ ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ ( ایس ڈبلیو پی پی ایف ) کی مد میں 22 ارب روپے کی وصولی کے علاوہ ایف بی آر نے 2017-2016 سے او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایس ایس جی سی اور اینگرو گروپ جیسے بین الصوبائی اداروں سے بھی اربوں روپے وصول کیے ہیں تاہم اب تک حکومت سندھ کو منتقل نہیں کیے۔
    اجلاس میں بتایا گیا کہ اٹھارھویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی یا بین الصوبائی اداروں سے ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ایس ڈبلیو پی پی ایف کی وصولی خالص صوبائی معاملہ ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اس وقت بین الصوبائی اداروں سے جمع کیے گئے ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ کے 25 ارب 36 کروڑ روپے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے اور رقم عدالت میں جمع کرائی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزیراعظم سے درخوست کریں گے کہ وہ معاملے کو حل کرائیں اور یقینی بنائیں کہ سندھ کو اس کا حصہ ٹرانسفر کیا جائے۔ وزیرعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کشوں کےلیے فلیٹس اور گھر بنانے کے ساتھ ساتھ ورکرز ماڈل اسکولوں اور کالجوں میں محنت کشوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ بورڈ ہر ایک بچے کو یونیفارم، جوتوں، کتابوں اور تھیلوں کےلیے 10 ہزار روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ محنت کش کی بیٹی کی شادی کی صورت میں 2 لاکھ روپے جہیز کی مد میں دئے جاتے ہیں۔ میٹرک کے بعد محنت کشوں کے بچوں کو اسکالرشپ اور فوتگی کی صورت میں محنت کش کے قانونی ورثا کو 7 لاکھ روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ اجلاس میں وفاق سے ورکرز ویلفیئر بورڈ ( ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن ( ای او بی آئی ) کے اثاثوں اور بقایہ جات کی منتقلی پر بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے معاملہ بہت جلد وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

    کراچی میں اتوار تک شدید گرمی اور موسم خشک رہے گا

    محکمہ داخلہ سندھ میں اجلاس ،پاک ایران جیل میں قیدیوں کی منتقلی پر غور

    کراچی کی پرائیوٹ یونیورسٹی کی طالبہ تصاویر لیکس کا شکار ہوگئیں

  • وزیراعلیٰ سندھ  سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے پانچ رکنی وفد نے ملاقات کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفد میں حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صافی، ایڈووکیٹ پرویز شاہ، حمید لون، اعجاز شاہ اور مجاہد شیخ شامل تھے جبکہ صوبائی وزراء، سعید غنی اور ضیاء الحسن لنجار ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ شریک ہوئے. اس موقعہ پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو ہمیشہ پیپلز پارٹی قیادت نے ہی آگے بڑھایا ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے معاملے پر اتنی آواز بلند کی کہ اقوام متحدہ کو قرارداد منظور کرنے پڑی،شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں حیثت دلوائی،ہم بھارتی مظالم کے خلاف کشمیر ی عوام کے ساتھ ہیں اور رہیں گے اس موقع پرحریت کانفرنس کے رہنماؤں نے 27 اکتوبر کو ہونے والے اپنے پروگرام کی پیپلز پارٹی کو شرکت کی دعوت دی، کنوینر غلام محمد صفی کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس 27 اکتوبر 1947 کی یاد میں ایک بڑا پروگرام کرنا چاہتی ہے،ہم پیپلز پارٹی کے ساتھ دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو پروگرام میں شرکت کی دعوت دینگے .یاد رہے 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج کشی کی تھی.سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حریت کانفرنس کے پروگرام میں بھرپور شرکت کرے گی، ہم مقبوضہ کشمیر کی مظلوم عوام کے ساتھ ہیں.

    سندھ حکومت و پولیس ناکام، کراچی ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہے،جماعت اسلامی

    کے الیکٹرک نے جنریشن ٹیرف پر فیصلہ اہم سنگ میل قرار دیدیا

  • وزیراعلی سندھ سے ارجنٹائن کے سفیرکی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر بات چیت

    وزیراعلی سندھ سے ارجنٹائن کے سفیرکی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر بات چیت

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ارجنٹائن کے سفیر سیباسٹین سیوس(Sebastian Sayus) نے وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی ہے ۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔سید مراد علی شاہ نے کہاکہ ارجینٹینا کی طرح پاکستان خاص طور پر سندھ ایک زرعی صوبہ ہے۔سندھ میں زراعت کے شعبہ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اور براہ راست سرمایہ کاری کے بڑے مواقع ہیں۔کراچی میں پینے کے پانی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری منافع بخش ہے۔نمکین پانی کو ٹریٹ کرنے کے منصوبے کیلئے سندھ حکومت نے 50 ملین ڈالرز کا ورلڈ بینک سے بندوبست کیا ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ نجی سرمایہ کار آجائیں تو سمندر کے پانی کو ٹریٹ کر کے شہر میں فراہم کیا جاسکتا ہے۔روڈ سیکٹر میں حیدرآباد تا سکھر تک سڑک کی تعمیر کا منصوبہ نجی شراکت داری کے تحت کرنا چاہتے ہیں،آبپاشی کے شعبہ میں کینال لائننگ کا منصوبہ سندھ حکومت نجی شراکت داری کے تحت کرنا چاہتی ہے۔ارجنٹائن سفیر نے کہاکہ اسٹاک ایکسچینج کمپنیاں سندھ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، گداموں کو قائم کرنے کے لئے ارجنٹینا کے سرمایہ کار سندھ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلی سندھ نے انرویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ، محکمہ خوراک اور محکمہ آبپاشی کو ارجنٹائن سفیر کے ساتھ رابطہ کرنے کی ہدایت کردی ۔ملاقات میں طے ہوا کہ جلد ارجنٹائن کے سرمایہ کار سندھ میں آ کر متعلقہ محکموں سے ملیں گے۔ ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے ارجنٹائن فٹبال کے کھلاڑیوں کو لیاری کے ککری گرائونڈ آنے کی دعوت بھی دی ۔ملاقات میں فیصلہ کیاگیاکہ ارجنٹائن فٹبال ٹیم کے اہم کھلاڑی لیاری میں تربیتی میچ کھیلیں گے۔سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ سندھ میں فٹبال ٹیم تیار کرنے پر بھی اتفاق کیاگیا.

    اے این ایف کی کارروائیاں ، 86 کلو سے زائد منشیات برآمد، 7 ملزمان گرفتار

    کراچی کی جیل سے قیدی فرار،غفلت برتنے پرسات پولیس اہلکارگرفتار

  • ڈاکٹر شاہنواز کے واقعہ پر افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ

    ڈاکٹر شاہنواز کے واقعہ پر افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے واقعے پرافسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا،پیپلزپارٹی نے جو موقف لیا شاید دنیا میں پہلی بار ہوا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے کبھی پرامن احتجاج کرنے والوں کو نہیں روکا۔ڈاکٹرشاہنواز کے واقعہ پرافسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ رواداری مارچ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو غلط نعرے لگا رہے تھے اس کے باوجود میں نے خود ان سے رابطہ کیا،معذرت کی اور انکوائری بٹھائی،رواداری مارچ والوں کو بھی قانون کی پابندی کرنا چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ آج 17 سال ہوگئے ہیں اور ہم ہر سال شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے شہدائے کارساز آتے ہیں۔محترمہ بینظیر بھٹو کا 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان کے عوام نے شاندار استقبال کیا۔کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک کا سفر 10 تا 11 گھنٹوں میں ہوا تھا۔ جب پہلا دھماکا ہوا تو ہم نے سمجھا کہ ٹرانسفارمر پھٹا ہے بعد میں دوسرا شدید دھماکا ہوا۔ جہاں سے آواز آئی وہاں دیکھا تو کافی ہمارے جیالے جانثار شہید ہوگئے تھے۔محترمہ بینظیر بھٹو تھوڑی دیر پہلے ہی مزار قائد پر تقریر کو حتمی شکل دینے نیچے گئی تھیں۔ بہادر ہیں ہمارے جیالے جنہوں نے دھماکوں کے باوجود محترمہ بینظیر بھٹو کی حفاظت کی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو جان کو خطرہ ہونے کے باوجود پاکستان آئیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مخالفین بھی مانتے ہیں اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے

    عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

  • وزیرِ اعلی سندھ کے ہیلی کاپٹر کی مرمت کیلئے سوا 2 کروڑ روپے سے زائد طلب

    وزیرِ اعلی سندھ کے ہیلی کاپٹر کی مرمت کیلئے سوا 2 کروڑ روپے سے زائد طلب

    وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ کے ہیلی کاپٹر کی مرمت کے لیے 2 کروڑ 26 لاکھ 72 ہزار روپے طلب کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں چیف انجینئر بلڈنگز کراچی کا سیکریٹری محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو خط لکھ کر رقم کی فراہمی کی گزارش کی گئی ہے۔وزیرِ اعلی سندھ کے ہیلی کاپٹر کی مرمت کے لیے 4 کروڑ 38 لاکھ 35 ہزار روپے مختص تھے تاہم رواں مالی سال اس کے لیے 2 کروڑ 26 لاکھ 72 ہزار روپے منظور کیے گئے۔سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی مرمت کا کام کنٹریکٹر نے پہلے ہی شروع کر دیا ہے، گزشتہ مالی سال ہیلی کاپٹر کی مرمت کی ہدایت کی گئی تھی، اب کام تقریبا مکمل ہو چکا۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کنٹریکٹرز کو تاحال کوئی ادائیگی نہیں کی گئی، رواں مالی سال فنڈ جاری نہیں کیے گئے۔سرکاری مراسلے میں چیف انجینئر نے سیکریٹری ورکس سے استدعا کی ہے کہ اعلی حکام سے رابطہ کر کے رقم جاری کرائیں تاکہ کنٹریکٹر کو ادائیگی کی جا سکے۔مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کنٹریکٹر کو ادائیگی کی جائے گی تاکہ ہیلی کاپٹر وزیرِ اعلی کے استعمال میں لایا جا سکے۔

    پی ٹی آئی کے وفد کا کراچی میں چین کے قونصل جنرل کا دورہ

    ایف بی آر نے جعلی انوائسنگ میں ملوث عناصر کی گرفتاریاں شروع کردیں

    پاکستان اور امریکی بحریہ کی بحیرہ عرب میں مشترکہ مشقیں

  • وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بینہسن کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد کے درمیان سندھ مین چلنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کی تکمیل کے اہداف مقرر کیے گئے۔ ملاقات وزیراعلی ہاس میں ہوئی جس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کی ٹیم میں مختلف شعبوں کے سربراہوں نے شرکت کی جنہوں نے کنٹری ڈائریکٹر کی معاونت کی۔ عالمی بینک کے تحت سندھ میں 3 ارب ، 12 کروڑ اور چالیس لاکھ ڈالر کے 13 ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن کیلیے ایک ارب 36 کروڑ ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔ منصوبوں میں کراچی میں پانی و نکاسی کی بہتری کا منصوبہ، کچرے کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ، سندھ سولر انرجی پروجیکٹ، کراچی موبیلٹی پروجیکٹ، سندھ میں ابتدائی تعلیم کی بہتری کا منصوبہ، کراچی کو قابل رہائش بنانے کا منصوبہ ، سندھ صحت و آبادی منصوبہ، سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ، سندھ میں سماجی تحفظ کی بہتری کا منصوبہ، سیلاب متاثرین کی بحالی کا منصوبہ، بیراجوں کی مرمت کا منصوبہ، سندھ پانی و زرعی ترقیاتی منصوبہ ، سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایگریکلچر سیکٹر ٹرانفارمیشن پروجیکٹ شامل ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی کے ہنگامی پروگرام کے تحت 2022 کے سیلاب متاثرین کیلیے رہائش کے انتظامات اور حکومت سندھ کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بہتر کرنا شامل ہے۔ پروگرام کے چار شعبے ہیں جن میں گھروں کی تعمیر، گذر بسر کیلیے امداد، تکنیکی امداد کیلیے اداروں کو مضبوط کرنا اور پروجیکٹ مینجمنٹ و لاگت کا تخمینہ شامل ہیں۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ گذربسر کیلیے دی جانے والی امداد کے واجبات اس ماہ کے آخر تک ادا کردیے جائیں گے۔ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے تین مراحل ہیں جن میں گھروں کی تعمیر کیلیے امداد دینا، اداروں کی مضبوطی و تکنیکی امداد اور منصوبے کے عملدرآمد میں مدد شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بیزمین متاثرین کو زمین الاٹ کرکے انہیں بسایا گیا ہے۔
    مالکانہ حقوق انہیں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کے تحت مختلف شاہراہوں پر نقل و حمل کی بہتری، رسائی میں آسانی اور تحفظ کی بہتری شامل ہے۔ اس کے تحت ییلو لائن کیلیے سڑک کی تعمیر، بی آر ٹی سسٹم کی تعمیر و روانگی اور استعداد میں اضافے و ٹکنیکی امداد شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ اور نئی جام صادق پل کا ابتدائی خاکہ منظور ہو چکا ہے ، ستمبر 2024 میں حتمی ڈیزائن بھی جمع کرایا جا چکا ہے۔
    چونکہ پلرز کا ڈیزائن منظور ہو چکا ہے اس لیے پلرز کا کام شروع ہو چکا ہے جبکہ بھرائی اور دیگر کام عملدرآمد کے مراحل میں ہے۔ ییلو لائن بی آر ٹی سسٹم کی تعمیر کیلیے 13 اور 19 اگست 2024 کو معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور کام پر پیش رفت جاری ہے۔ ڈپو ون پر ستر اکتوبر 2024 کو کام کا آغاز ہوگا۔ کنسلٹنٹس نے تعمیراتی ماڈلز پیش کردیے ہیں جس پر بحث اور تجاویز کا تبادلہ ہوچکا اور بارہ اکتوبر 2024 کو اپ ڈیٹ رپورٹ پیش کی جائیگی۔
    کلک پروگرام کے تحت شہری انتظام ، خدمات اور کاروباری ماحول کی بہتری اور ہنگامی حالات میں امداد کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ کارکردگی کی بنیاد پر مقامی اداروں کو 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد ، پراپرٹی ٹیکس کے نظام کی بہتری، کاروباری ماحول کی بہتری، کچرا ٹھکانے لگانے کیلیے تکنیکی امداد اور ہنگامی امداد کے آلات کی خریداری شامل ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام نو منصوبوں کے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں۔ تمام 18 منصوبوں پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔25 ٹان میونسپل کمیٹیوں میں دو کروڑ ، 25 لاکھ اور 80 ہزار ڈالر کی 73 اسکیمیں فائنل کردی گئی ہیں۔ 64 اسکیموں کے اشتہارات شایع کردیے گئے ہیں جبکہ 9 منصوبے ٹان میونسپل کمیٹیوں میں منظوری کے مراحل میں ہیں۔ کے ایم سی نے 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی7 منصوبے تجویز کیے ہیں جن میں سے 2 منصوبے ٹھیکیداری کے مرحلے میں ہیں جبکہ پانچ باقی اسکیموں کے ابتدائی ڈیزائن پیش کیے گئے ہیں جن کو فائنل کیا جا رہا ہے۔
    کے ایم سی کی سال 26-2025 کے چھ اسکیموں کی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی ہے جن میں فلائی اوورز، سڑکیں، نکاسی، ایک اسپورٹس کمپلیکس اور ایک فٹ بال اسٹیڈیم شامل ہے جبکہ ٹان کمیٹیوں کی اسکیموں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ کراچی میں پراپرٹی سروے کیلیے 15 سے 22 اگست کے درمیان گلبرگ اور نارتھ ناظم آباد میں سروے کیا گیا، سو سے زیادہ جائدادوں کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔
    اابتدائی سروے کی تفصیلات عالمی بینک کو فراہم کردی گئیں۔ منصوبے کیلیے بولی 25 ستمبر 2024 کو دی گئی تھی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں انتظامی، مالیاتی اور آپریشنل اصلاحات کے منصوبے کی 20 ستمبر 2024 کو منظوری دی گئی ہے۔ تمام بڑی خریداری کے ٹینڈر جاری کیے جاچکے ہیں اور کام تیزی سے جاری ہے۔ 20 اکتوبر 2024 تک تمام معاہدوں پر دستخط کا امکان ہے۔
    اس سلسلے میں اب تک 76 فیصد کام ہو چکا ہے جبکہ 20 اکتوبر تک یہ 95 فیصد تک ہو جائیگا۔ منصوبے کیلیے چیف انفارمیشن ٹیکنالوجی آفسر اور چیف انٹرنل آڈیٹر مقرر کیے جا چکے ہیں جبکہ چیف فنانشل آفسر کا تقرر 15 نومبر 2024 تک ہو جا چاہیے۔ سندھ میں چار سولر پارکس کے قیام، سرکاری عمارتوں کی شمسی توانائی پر منتقلی اور سولر ہوم سسٹم کے بارے میں بتایا گیا کہ سولر پارکس کے قیام کیلیے کامیاب بولی دہندہ اور لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے درمیان زمین کی لیز کا معاہدہ کیا جائیگا۔
    مانجھند میں نیشنل گرڈ کے ساتھ جوڑنے کے منصوبے کی منظوری ابھی باقی ہے۔ 10 ستمبر 2024 کو ایک اجلاس میں این ٹی ڈی سی کی جانب سے جون 2028 تک بجلی کی ترسیل کا زبانی وعدہ کیا گیا تھا تاہم یہ تصدیق تحریری طور پر کرنے کیلیے رابطہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ سولر ہوم سسٹم کی کٹس فراہم کرنے کے پہلے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور نومبر کے اوائل میں پہلی کھیپ پہنچ جائیگی۔
    15 اکتوبر تک دوسرے معاہدے پر بھی دستخط کے امکانات ہیں۔ اس کیلیے انتظامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ پرائمری سطح پر تعلیم کی بہتری کے پروگرام سلیکٹ کے بارے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے پی سی ون کی منظوری دی جا چکی ہے۔ پلاننگ کمیشن سے درخواست کی جائے گی کی اس عمل کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ انہوں نے منصوبے کیلیے 23 لاکھ ڈالرز مختص کیے ہیں۔
    میرپور خاص ضلع کیلیے سول ورک شروع کرنے کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔ ٹھٹہ کیلیے اشتہارات جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ ٹنڈو محمد خان اور مٹیاری کیلیے منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہیں۔ پہلی سے دوسری جماعت کیلیے اشاعتی مواد کی رپورٹ عالمی بینک کو یکم کتوبر 2024 کو فراہم کردی گئی تھی۔ کتب جنوری 2025 تک فراہم کردی جائیں گی۔ تیسری سے پانچویں جماعت کی کتابیں بھی اپریل 2025 تک فراہم کردی جائیں گی۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں آبپاشی نظام کی بہتری کے منصوبے کے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی ٹیمیں متحرک کردی گئی ہیں۔ سندھ واٹر پالیسی عملدرآمد کمیٹی کا پہلا اجالس تین نومبر 2023 کو ہوا۔ پانی کی فراہمی میں بہتری کے منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ اکرام واہ کی بحالی کا کام جاری ہے۔ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کینال کی ڈیزائن میں تبدیلی پر تفصیلی تبادلہ خیال گیا۔
    کینال کی آر ڈی زیرو سے 193 تک لائننگ پر اتفاق کیا گیا۔ اس حوالے سے رپورٹ عالمی بینک کو فراہم کردی گئی ہے۔ بنیادی صحت کی بہتری کے پروگرام کے حوالے سے بتایا گیا کہ موجودہ مالی سل میں 121 مزید گورنمنٹ ڈسپنسریز قائم کردی جائیں گی۔ 171 ڈسپنسریز کے قیام کیلیے ایک ارب 60 کروڑ روپے کا بجٹ جمع کرایا گیا ہے جس کیلیے ادائیگیوں کے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے۔
    متعلقہ فورمز سے مںظوری کے بعد اضافی ایمبولینسز کے حصول کا کام شروع کردیا جائیگا۔ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے بارے میں بنیادی صحت میں بہتری کے حوالے سے رپورٹ عالمی بینک کو فراہم کردی گئی ہے تاہم اس کی نیشنل ٹی بی پروگرام اور گلوبل فنڈ سے توثیق باقی ہے۔ یہ توثیق آ جانے کے بعد رپورٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔ کراچی میں کچرا ٹھکانے لگانے کے منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن کی تعمیر کیلیے یکم فروری 2024 کو ٹینڈر جاری کیا گیا اور 12 اگست 2024 کو منظوری کا لیٹر جایر کیا گیا ۔
    گڈو اور سکھر بیراج سمیت سندھ میں کینالوں کی حفاظت اور محکمہ آبپاشی کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ ہنگامی کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ سکھر بیراج کے گیٹ نمبر 44 اور 47 اگلے سیزن میں دوبارہ تبدیل کیے جائیں گے۔ منصوبے کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر کلیمنٹ کو سکھر بیراج کے دورے کی دعوت دی جا چکی ہے تاکہ گیٹ ٹوٹنے کی وجوہات کا پتہ لگایا جاسکے تاہم ویزہ مسائل کے باعث ان کا دورہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔
    اب وہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں آئیں گے۔ سندھ کے منتخب اضلاع میں زچہ و بچہ سروسز کو بہتر بنانے کے پروگرام کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ سوشل پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے درمیان 27 اگست 2027 کو معلومات کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ اگلے نوے روز میں پی ایس پی کی پہلی قسط جاری ہو جائے گی۔

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے