Baaghi TV

Tag: وزیر اعلیٰ کے پی

  • جیل سے رہا ہو نیوالے کارکن وزیراعلیٰ کے پی سے  ایک ہزار روپے  ملنے پرطیش میں آگئے

    جیل سے رہا ہو نیوالے کارکن وزیراعلیٰ کے پی سے ایک ہزار روپے ملنے پرطیش میں آگئے

    پشاور: جیل سے رہائی پانے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ایک ہزار روپے ملنے پر سیخ پا ہوگئے۔

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں تحریک انصاف کے کارکنان نے احتجاج کیا جیل سے رہائی کے بعد کارکنان وزیراعلیٰ سے ملاقات کیلئے آئے تھے کارکنان کا کہنا تھاکہ وزیراعلیٰ نے تین گھنٹے انتظارکروایا اور 5 منٹ ملاقات کرکے چلے گئے۔

    ذرائع نے بتایاکہ وزیراعلیٰ کے کارکنوں کو ایک ، ایک ہزار روپے دینے پر ورکرزطیش میں آگئے، وزیر اعلیٰ مختصر گفتگو کے بعد واپس جانے لگے تو کارکنان نے نعرے لگائے کارکنوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں کارکن کو عزت دو کے نعرے لگائے کارکنوں کا کہنا تھاکہ ہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک میں گرفتار ہوئے ایک ایک ہزار روپے کیلئے نہیں۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 342 کا سوال …

    اس حوالے سے نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ریجنل صدر پی ٹی آئی ارباب محمد عاصم کا کہناتھاکہ گزشتہ روز کارکنوں کیلئے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تقریب کا اہتمام کیا گیا، تقریب میں کچھ ورکرز ناراض ہوسکتے ہیں ویڈیو دیکھی ہے کچھ ورکرز نعرے لگا رہے تھے، جب وزیراعلیٰ موجود تھے اس وقت کوئی نعرے نہیں لگے، ویڈیو میں اندھیرا ہے اور سی ایم اندھیرا چھانے سے پہلے چلے گئے تھےوسکتا ہے ورکرزکی آپس میں بات ہوئی ہو اور ناراض ہوئے ہوں، ہم نے ورکرزکو عزت دی اور ان کو چائے پلائی، سیاسی پارٹیوں میں ناراض ورکرز معمولی سی بات ہے۔

    معاشی جکڑ بندیوں کی وجہ سے ہم معاشی طور پر آزاد نہیں ہیں،شہباز شریف

  • ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک آمد،سیلاب متاثرین کا عمران خان اور کے پی وزیر اعلیٰ کے رویے پر احتجاج

    ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک آمد،سیلاب متاثرین کا عمران خان اور کے پی وزیر اعلیٰ کے رویے پر احتجاج

    سابق وزیراعظم عمران خان اور کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان نے ٹانک اور ڈی آئی خان سمیت کے پی کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا دورے کے دوران عمران خان اور محمود خان نے متاثرہ اضلاع اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا-

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ آفت سندھ میں 2010 کے سیلاب سے ہونے والی تباہی کو پیچھے چھوڑ چکی ہے 2010 کے سیلاب کے مقابلے اس سال بارشوں نے دس گنا زیادہ نقصان پہنچایا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم 2010 کے سیلاب کو ناقابل تصور تباہی تصور کرتے تھے لیکن اطلاعات کے مطابق اس بار ہونے والی تباہی اور جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ڈیمز تعمیر کر کے ہم سیلاب کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اگر ہمارے پاس ڈیم ہوتے تو سیلابی پانی سے نقصانات کی بجائے ترقی ہوتی-

    عمران خان نے میڈیا سے کہا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، لیکن عملی طور پر انہی آفت زدہ لوگوں نے سابق وزیراعظم اور کے پی کے چیف ایگزیکٹو کے ڈی آئی خان اور ٹانک کی آمد پر احتجاج کیا اور اسے ان کے لیے غیر نتیجہ خیز قرار دیا۔

    سیلاب متاثرین میں سے ایک شخص نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان اور محمود خان نے ان سے ملنے کی زحمت نہیں کی اور خیبرپختونخوا میں سیلاب کی بدترین صورتحال کے باعث ان کے مسائل اور پریشانیوں کو بھی نہیں سنا سانحہ سے متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ کے پی محمود خان کے رویے پربھی احتجاج کیا۔

    دریائے کابل ، سوات، پنجکوڑہ اور دریائے سندھ میں مختلف مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب

    واضح رہے کہ شبقدر کے قریب منڈا کا ہیڈ ورکس پل گرنے سے دریائے سوات کا سیلابی پانی چارسدہ شہر میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

    مقامی لوگ انتہائی پریشان ہیں کیونکہ انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چارسدہ میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ شاہی قلعے کے علاقے میں سیلابی پانی نے 500 مکانات مکمل طور پر ڈوب گئے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق چارسدہ میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور پانچ یونین کونسلوں کے سرکاری سکولوں کو سیلاب زدگان کی رہائش کے لیے خالی کرا لیا گیا۔

    سوات،کالام ،اور بحرین میں سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے متعدد اضلاع میں فوری طور پر 30 اگست تک رین ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

    یہ فیصلہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی سفارش پر کیا گیا جبکہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے دریائے سوات میں خوازہ خیلہ اور اس سے منسلک ندی، نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیش گوئی کی گئی ہے۔