Baaghi TV

Tag: وزیر اعلی پنجاب

  • وزیرریلوے کی ریزرویشن دفاترمیں مری کاسیاحتی پروگرام منسوخ کرنےکے نوٹس آویزاں کرنےکی ہدایت،وزیر اعلیٰ پنجاب کامری میں فضائی دورہ

    وزیرریلوے کی ریزرویشن دفاترمیں مری کاسیاحتی پروگرام منسوخ کرنےکے نوٹس آویزاں کرنےکی ہدایت،وزیر اعلیٰ پنجاب کامری میں فضائی دورہ

    اسلام آباد: وزیر ریلوے سینیٹر اعظم سواتی نے ریلوے کے تمام ریزرویشن دفاتر میں سیاحوں کو مری نہ جانے اور سیاحتی پروگرام منسوخ کرنے کے نوٹس آویزاں کرنے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی : ہفتہ کو مری میں برفباری کی وجہ سے ہونے والی قیمتی جانوں کے ضائع ہونے کے بعد وزیر ریلوے سینیٹر اعظم سواتی نے ریل کمپنی پراکس کو ہدایت کی کہ ریلوے کے تمام ریزرویشن دفاتر میں نوٹس آویزاں کئے جائیں جس میں سیاحوں کو مری نہ جانے اور اپنا سیاحتی پروگرام منسوخ کریں کی تحریر درج ہو تاکہ مزید سانحہ رونما نہ ہو۔

    وزیر ریلوے کی ہدایت کے بعد پراکس نے اپنے ملک بھر کے ریلوے ریزرویشن دفاتر میں نوٹس آویزاں کرنا شروع کردیئے ہیں ۔

    مری، اموات میں اضافہ، جاں بحق افراد کی فہرست جاری

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فضائی دورے میں مری میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری میں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کاجائزہ لیا اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کا مشاہدہ کیا۔

    وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ریلیف کمشنر اورسینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے امدادی سرگرمیوں پربریفنگ دی صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، معاو ن خصوصی برائے اطلاعات حسان خاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ نے سڑکوں کی بحالی اور ریلیف آپریشن میں تیزی ہدایات کی ہیں۔

    مری، اموات 22 ہو گئیں،پاک فوج کے دستے بھی پہنچ گئے

    دوسری جانب مری میں برفباری رکتے ہی امدادی کاموں میں تیزی آگئی۔ اہم شاہداہوں سے برف ہٹا دی گئی۔ نظام زندگی بحال ہونا شروع ہو گئی مری کی اہم شاہراہوں سے برف ہٹا دی گئی۔ سنگل ٹریفک چل پڑی۔لوئر ٹوپہ سے جھیکاگلی روڈ اور کلڈانہ روڈ سے باڑیاں تک سڑک سے برف ہٹا دی گئی ہے۔

    سڑکوں پر پھنسی گاڑیوں کو نکالنے اور سڑکوں پر پارک کی گئی گاڑیوں کو سڑک سے ہٹانے کا کام جاری ہے۔مری شہر کے بیشتر علاقوں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق شدید برفباری کے باعث 20 سے 25 بڑے درخت گرے اور راستے بلاک ہو ئے تمام سیاحوں کو رات سے قبل ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔گزشتہ 24 گھنٹے میں 500 سے زائڈ فیملیز کو ریسکیو کیا گیا۔

    مری: 4 سالہ بچی نمونیا کے باعث دم توڑ گئی،جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہو گئی

    مری میں ایک ہفتے بعد دھوپ نکل آئی لیکن سردی کی شدت برقرار ہے ذرائع کے مطابق اندورن شہر کی سڑکوں سے برف ہٹانے میں ہیوی مشینری تاحال کامیاب نہیں ہو سکی لوکل ٹرانسپورٹ کی بندش کےباعث بازاروں میں اشیا ضروریہ کی قلت سے نظام زندگی متاثر ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز مری میں شدید برفباری اور ٹریفک جام کے باعث سیاح گاڑیوں میں شدید سردی کی وجہ سے بچوں سمیت 23 لوگ جاں بحق ہو گئے ہیں ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ روڈ بند ہونے کی وجہ سے کئی گاڑیاں رات کو کھلے آسمان تلے تھیں اور ان میں شہری پھنسے ہوئے تھے، رات کو برفباری جاری رہی، صبح جب شہریوں نے گاڑیوں کے دروازے کھولنے کی کوشش کی تو کئی گاڑیوں میں شہری یا تو بیہوش تھے یا انکی موت ہو چکی تھی-

    مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے ،چیئرمین این ڈی ایم اے

    مری میں ہونے والی برفباری میں اسلام آباد پولیس کا اہلکار اہلخانہ سمیت جاں بحق ہو گیا ،ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق اسلام آباد پولیس کا اے ایس آئی تھانہ کوہسار میں تعینات تھا ،پولیس اہلکار کی گاڑی میں7سے 8 افراد سوار تھے تمام افراد برف باری اور سردی میں امداد نہ ملنے پر جان کی بازی ہار گئے

    دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا خدشہ،شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات

  • ایک پردیسی زندگی بھر کی کمائی قبضہ مافیا کے ہاتھو ں گنوا بیٹھا:وزیراعلیٰ اوروزیراعظم سے داد رسی کی اپیل

    ایک پردیسی زندگی بھر کی کمائی قبضہ مافیا کے ہاتھو ں گنوا بیٹھا:وزیراعلیٰ اوروزیراعظم سے داد رسی کی اپیل

    لاہور:عمران خان کی حکومت ہوتے ہوئے ایک پردیسی زندگی بھر کی کمائی قبضہ مافیا کےہاتھو ں گنوا بیٹھا،ایک پردیسی زندگی بھر کی کمائی قبضہ مافیا کےہاتھوں گنوا بیٹھا:وزیراعلیٰ اوروزیراعظم سے داد رسی کی اپیل،اطلاعات ہیں‌ کہ ایک پردیسی نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور وزیراعظم سے ایک شکوہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے ڈپٹی سیکریٹری نے امریکہ میں بسنے والے اوورسیز پاکستانی کی زمین جعلسازی اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے اپنے نام کروا لی

    ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    گزشتہ روز نیو یارک میں پاکستان اوورسیز فاونڈیشن کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں محمد یوسف کھوکھر نے میڈیا کوپاکستان میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ موضع جیہ تحصیل و ضلع منڈی بہاؤالدین کے رہائیشی ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ بڑی مشقت اور محنت سے یہاں سے پیسے کما کر پاکستان بھیجتے رہے ہیں۔ جن سے انہوں نے 2004 میں چار ایکڑ قطعہ اراضی خریدی جس پر ملک فرخ عباس جو کہ ایک سابقہ سینئر بیوروکریٹ ہے نے حق شفعہ کر دیا عدالت نے فیصلہ ہمارے حق میں دے دیا۔

    کیا اسطرح بچگانہ انداز سے آپ کام کرتے ہیں؟چیف جسٹس برہم

    محمد یوسف کھوکھر کا کہنا تھا کہ 2017 تک انہوں نے کوئی اپیل نہیں کی مگر 2017 میں انہوں نے ہمارے خلاف ناجائز قبضے کی درخواست دائر کر دی2019 میں سول کورٹ نے یہ فیصلہ بھی ہمارے حق میں سنا دیا۔ اب جبکہ ملک فرخ عباس کا بیٹا بھی وزیراعلی پنجاب کا ڈپٹی سیکریٹری ہے تو ان لوگوں نے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوے میر ے خلاف ایک بار پھر درخواست دے کر نوٹس مجھ تک نہ پہنچا کر انتظامیہ کی ملی بھگت سے میری زمین اپنے نام کروا لی ہے اور اب اداروں کا ناجائز استعمال کر کے قبضہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کھیل میں پٹواری سے کمشنر تک اور کمشنر سے ڈپٹی سیکریٹری تک سب ملوث ہیں۔ اب اس رقبے کا انتقال ڈپٹی سیکریٹری کے اپنے نام ہو چکا ہے جو کہ سراسر دھونس اور دھاندلی ہے۔

    محکمے کا کون والی وارث، کس کو طلب کروں ؟ شہباز کیس میں عدالت کے ریمارکس

    یوسف کھوکھر نے مزید کہا کہ انہوں نے سٹیزن پورٹل بر اپنی شکایت درج کروا دی ہے۔ مذید ہر فورم استعمال کریں گے۔ امریکا میں پاکستانی ایمبیسی کو بھی انفارم کر دیا ہے۔ آئیندہ پاکستان میں امریکی سفارتخانہ کو بھی اپیل کرنے کا ارادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تو پردیسیوں کے دکھ درد سمجھتے ہیں انہوں نے ہمیشہ اوورسیز کے لیے آواز بلند کی ہے اور انصاف کی بات کرتے ہیں۔ خان صاحب یہ بھی جانتے ہیں اس ملک میں طاقتور اور کمزور کے لیے قانون الگ ہیں۔ مگر خان صاحب آپ تو وزیرآعظم ہیں۔ اگر آپ ہمیں انصاف نہ دلوا سکے تو ہم وہی کریں گے جو آپ نے ہمیں سکھایا ہے۔

    سیکیورٹی پوسٹ پر حملہ کا ملزم عارف گل سپریم کورٹ میں پیش

    ہم وزیر اعلٰی ہاؤس کا گھیراو کریں گے اور انصاف نہ ملنے تک دھرنا دیں گے۔اس موقع پر موجود پاکستان اوورسیز فاونڈیشن کے عہدے داران نے بھی خیالات کا اظہار کرتے ہوے اسے اپنے لیے ایک ٹیسٹ کیس قرار دیا اور یوسف کھوکھر کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پوری دنیا کے اوورسیز کو متحرک کرنا پڑا تو کریں گے۔ شرکا نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے یہ مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کی ناک کے نیچے اس لیول پر ہونے والی بددیانتی اور عہدوں کے غلط استعمال کی انکوائری کروائی جاے اور ذمہ دارین کو قرار واقعی سزا دی جاے تاکہ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کا سسٹم پر اعتماد بحال ہو سکے۔

    وزیراعلیٰ بھی ہو گئے کرونا کا شکار

  • یونیورسٹی آف نارووال میں 86 خاندانوں کامعاشی تحفظ کیوں ضروری؟

    یونیورسٹی آف نارووال میں 86 خاندانوں کامعاشی تحفظ کیوں ضروری؟

    یونیورسٹی آف نارووال میں 86 خاندانوں کامعاشی تحفظ کیوں ضروری ہے اور اصل مسئلہ ہے کیا؟

    تفصیلات کے مطابق آج سے سات سال قبل ضلع نارووال میں موجود گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز کو ستمبر 2014 میں یونیورسٹی آف گجرات کے سب کیمپس کا درجہ دے دیا گیاپہلے ایک سال میں اس سب کیمپس میں 35 لوگ عارضی حیثیت میں بطور CTI کام کرتے رہے –

    بعد ازاں اسی سب کیمپس کے لیےیونیورسٹی آف گجرات نے فروری 2016 میں باقاعدہ 65 لیکچرارز سمیت 86 لوگوں کو لانگ ٹرم کنٹرکٹ پر بھرتی کیا جو کہ باقاعدہ اشتہار، سلیکشن بورڈ اور سینڈیکیٹ کے تحت بھرتی ہوئے اس ادارے کا حصہ بنے اور مسلسل اس ادارے میں کام کرتے رہے –

    مارچ 2018 میں یونیورسٹی آف گجرات کے اس سب کیمپس کو باقاعدہ ایک خود مختار یونیورسٹی کا درجہ ملا جسے یونیورسٹی آف نارووال کا نام دیا گیا اور تمام ملازمین کو ایک ایکٹ کے تحت اس نئی یونیورسٹی میں منتقل کر دیئے گئے۔

    موجودہ حکومت نے پنجاب ریگولرائزیشن آف سروسز ایکٹ 2018 کے تحت بے شمار یونیورسٹیز کے سینکڑوں ملازمین کو ریگولر کردیا ہے جن میں یونیورسٹی آف گجرات، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر راولنارووالپنڈی، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اساتذہ اور ملازمین شامل ہیں لیکن یونیورسٹی آف نارووال کے اساتذہ تاحال ریگولر نہ ہو سکے۔

    لیکن پچھلے 6 سال سے نارووال یونیورسٹی میں کسی بھی قسم کی کوئی بھرتی نہیں ہوئی اور یہی لوگ اس ادارے کی مسلسل بھا گ دوڑ سنبھا ل رہے ہیں یونیورسٹی کی انتظامیہ نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان لوگوں کے مستقبل کا تعین کیے بغیر اب نئے سرے سے بھرتیاں شروع کر دی ہیں اب یہ اساتذہ اپنی ملازمت کے چھ سال کی تکمیل کے بعد قانون کے مطابق اپنی جاب کے ریگولر کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور پچھلے دو ہفتوں سے ایک پرامن اجتجاج کئے ہوئے ہیں۔

    یونیورسٹی آف نارووال کے اساتذہ کا وزیر اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور منسٹر ہائر ایجوکیشن پنجاب سے مطالبہ ہے کہ ان 86 افراد کو ریگولر کر کے ان کے خاندانوں کا تحفظ کیا جائے اور ان کے روزگار کا مسئلہ حل کیا جائے۔

  • سائنسدانوں اور انجینئرز کی شاندار کامیابی وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے خراج تحسین

    سائنسدانوں اور انجینئرز کی شاندار کامیابی وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے خراج تحسین

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی بیلسٹک میزائل غزنوی کے کامیاب تجربے پرقوم کو مبارکباد،سائنسدانوں اور انجینئرز کوخراج تحسین
    لاہور4فروری:وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے بیلسٹک میزائل غزنوی کے کامیاب تجربے پرقوم کو مبارکباد دی ہے-وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے میزائل کے کامیاب تجربے پر سائنسدانوں اور انجینئرز کوخراج تحسین کرتے ہوئے کہاکہ بیلسٹک میزائل غزنوی کا کامیاب تجربہ پاکستان کے سائنسدانوں و انجینئرز کی پیشہ وارانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میزائل کے کامیاب تجربہ سے دفاعی صلاحیتوں میں ایک اور سنگ میل عبور کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بیلسٹک میزائل غزنوی کے کامیاب تجربے سے پاکستان کا ناقابل تسخیر دفاع مزید مضبوط ہوا ہے۔ پاکستان کے باصلاحیت سائنسدانوں اور ا نجینئرز نے قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

  • نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ابھی گزشتہ روز ہی وزیراعلی پنجاب نے آئین اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں اردو ذریعہ تعلیم کاحکم یہ کہہ کر دیا کہ انگریزی ذریعہ تعلیم کی وجہ سے طلباء ترجموں میں الجھےرہتے ہیں۔اس لئے علم کے ابلاغ کے لئے پرائمری سطح پر تعلیم اردو میں دی جائے گی۔انگریزی لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جائے گا۔ وزیراعلی پنجاب کے اس فیصلے سے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ۔ جب سے یہ حکومت بر سر اقتدار ائی تھی ۔یہ اس کا اب تک کیا گیا سب سے مقبول فیصلہ تھا لوگوں نے اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شئر کیا۔اس پر تبصرے کئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو ذریعہ تعلیم کرنے کا یہ فیصلہ صرف پرائمری تعلیم تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر ثانوی سطح اور اعلی تعلیم تک بھی لے جایا جائے ۔ابھی لوگ اس فیصلے کو خوش امدید ہی کہہ ہی رہے تھے اس سلسلے میں اج کا روزنامہ جنگ کا اداریہ نے بھی موجودہ حکومت کے اردو ذریعہ تعلیم کرنے پر شاندار اداریہ تحریر کیا’ کہ انگریزی میڈیم اور اشرافیہ کے مفاد کے ” محافظ” وزیرتعلیم پنجاب جناب مراد راس نے آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ
    "اردو میڈیم کا اطلاق صرف سرکاری اداروں پر ہوگا۔”
    سوال یہ ہے کہ کیا وزیرتعلیم صرف سرکاری تعلیمی اداروں ہی کے وزیر تعلیم ہیں؟ کہ ان کی پالیسی کی ذد میں صرف سرکاری ادارے ائیں گے؟ نجی انگریزی میڈیم ادارے اس حکم سے مستثنی ہونگے؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ نفاذ اردو فیصلہ دستور کا تقاضا اور سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ کیا ائین پاکستان کا نفاذ ریاست کے کسی خاص گروہ پر ہوگا؟ اور باقی ” منتخب گروہ” کو ائین سے اسثثنی حاصل ہوگا؟
    کیا ائین پاکستان تمام شہریوں کو تعلیم اور صحت کے مساوی حقوق نہیں دیتا؟
    تیسری بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا نعرہ "یکساں نصاب تعلیم ‘ یکساں نظام تعلیم” تھا۔ کیا وزیرتعلیم مراد راس کا مذکورہ اقدام خود تحریک انصاف کی پالیسی سے انحراف نہیں ہے؟
    سب سے بڑی بات نفاز اُردو کا حکم اس ملک کی سب سے اعلی عدالت دے چکی ہے اب اس حکم کی خلاف ورزی کرنا توہین عدالت ہے۔ اس فیصلے کو دینے والے محسن اردو سابق ایچی سونین چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سب سے پہلے نفاذ اردو فیصلے کو اپنی ذات پر لاگو کیا اس نے لاہور میں ایک سکول قائم کرکے اپنی ال اولاد کو مہنگے انگریزی میڈیم’ سکول سے اٹھا کر اپنے قائم کردہ سکول میں داخل کیا جہاں تعلیم سماجی مساوات کا عملی مظاہرہ ہے
    جہاں غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی ادارے میں تعلیم حاصل کررہا ہے۔۔
    وزیرتعلیم ماشاءاللہ بے حد تعلیم یافتہ اور بیرون ممالک کے ڈگری یافتہ ہے ان سے سوال ہے کہ وہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ لے کر بتائیں کہ اور کتنے ممالک میں پرائمری تعلیم غیرملکی زبان میں دئیے جانے کا تماشا ہورہا ہے؟ نیز اس بات کا بھی جائزہ لیں کے کیا کسی ملک میں سر کاری اور نجی اور تعلیمی اداروں کے ذریعہ تعلیم میں بھی فرق ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر پاکستان کے بائس کڑوڑ عوام کو اپ تعلیم کے نام پر احمق کیوں بنا رہے ہیں؟
    اپ اس ملک کے عوام پر رحم کریں!
    جن .1 فی صد انگریز اشرافیہ نے اج اپ کو ہنگامی پریس کانفرنس کے لئے مجبور کیا ہے ان کو بالکل ائین پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں بالکل ” کورا اور سچا ” جواب دیں کہ ” میں نفاذ اردو فیصلے کے لئے عدالت عظمیٰ کے حکم کا پابند ہوں ‘ تمہارے مفادات کا نہیں۔ تم نے اپنے انگریزی میڈیم ادارے کھولنے ہے تو ان ممالک میں کھولو جہاں کی زبان انگریزی ہے ۔یہ پاکستان ہے یہاں کی زبان اردو ہے لہذا دنیا کے اصولوں کے مطابق یہاں کی عدالت ‘ سرکار ‘ تعلیم کی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی’ اگر اپ نے اپنے سکول قائم کھنے ہیں تو اس اصول پر اپ کو بھی عمل کرنا ہوگا”
    پاکستان میں بہتر سال سے انگریزی جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے
    سرکار ی زبان انگریزی
    عدالت کی زبان انگریزی
    تعلیمی زبان انگریزی
    عسکری اور مقابلے کے امتحان کی زبان انگریزی
    تمام ملازمتوں کے حصول کے لئے انٹرویو کی زبان انگریزی
    اتنی انگریزی مسلط ہونے کے باوجود پاکستان نے علم سائنس ‘ اور ٹیکنالوجی میں کتنی ترقی کی ہے؟ اور جن ممالک نے پاکستان کے ساتھ یا بعد میں جنم لیا وہ اپنی زبان میں تعلیم کے بل بوطے پر کہاں جا پہنچے؟ چین اور کوریا اس میں سر فہرست ہیں۔
    اعلی انگریزی میڈیم ادارے کا پیدا کردہ ایک سائنس دان یا انگریزی کا نوبل پرائز کا حامل ایک ادیب ہی بتادیں۔
    ڈاکٹر عبدا لقدیر’ ڈاکٹر عبد السلام ‘ ڈاکٹر قمر الزماں سب اردو میڈیم ٹاٹ سکول کی پیداوار ہیں۔ اور اگر ان کا زریعہ تعلیم بھی میٹرک کی سطح تک انگریزی ہوتا تو یہ بھی کسی ادارے میں زیادہ سے ” بابو ” کی نو کری کر رہے ہوتے ۔پاکستان کبھی بھی ایک جوہری طاقت نہ بنتا۔ ان کی بنیاد اردو زریعہ تعلیم تھی۔
    انگریزی کو بنیادی زریعہ تعلیم بنانے والوں نے اس ملک کو گونگی ‘بہری ‘ رٹاباز ‘ ٹیوشن مافیا’ ںوٹی مافیا’ اقدار و اخلاق سے عاری ‘ دونمبر ‘ نمود و نمائش ‘ بدعنوانی اور جعلسازی سے بھرپور قوم بنایا ہے ۔
    وزیراعظم صاحب! اپ سے درخواست ہے کہ اپ وزیر تعلیم پنجاب کی اج نفاذ اردو فیصلے سے انحراف کی پریس کانفرنس کی جواب طلبی کریں۔ کیونکہ پاکستانی عوام اپ سے اپ کی اردو کی محبت سے واقف ہے اپ نے اپنی خود نوشت میں خود انگریزی غلامی بیزاری کا اظہار واشگاف الفاظ میں کیا ہے۔
    آپ کا فرمان ہے’
    ” پاکستانیوں سے انگریزی میں بات کرنا بائیس کڑوڑ عوام کی توہین ہے”
    اور ہم اس میں اضافہ کرتے ہیں کہ
    پاکستان میں انگریزی کا ناجائز جبر برقرار رکھنے کی بات کرنا دراصل:
    توہین فرمان قائد اعظم ہے
    توہین آئین ہے
    توہین عدالت ہے
    توہین عوام
    توہین وقار پاکستان ہے!
    وزیراعظم صاحب! لوگوں کی نفاز اُردو کے لئے اپ سے بہت زیادہ امید یں وابستہ ہیں ۔براہ کرم ! انہیں مایوس نہ کیجئے!
    براہ کرم! انگریزی کےناجائز تسلط اور غلامی کے خاتمے کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے!

  • ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ملاحظہ کیجئے
    پاکستان کے سب سے
    پہلے نظریاتی اخبار "نوائے وقت” میں انگریزی غلامی میں لتھڑی ہوئی یہ تحریر! ” اس قوم پر رحم کریں”
    فاضل کالم نگار اکرم چوہدری یا تو انتہائی جاہل مطلق ہے’ جنہیں نہ نفسیات کا علم ہے ‘ نہ اقوام متحدہ کے منشور کا علم ہے جو چیخ چیخ کر اعلان کرتا ہے کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری اور رابطے کی زبان میں دو۔ پرائمری تعلیم کا مقصد صرف اور صرف طلباء کو اپنی مقامی آبادی سے رابطے کے قابل بنانا ہے بعد میں جس کے ارتقاء میں وہ پورے ملک اور پوری دنیا سے رابطہ کرنے کی اہلیت حاصل کرسکتا ہے ۔
    خود موصوف کالم نگار کے دوغلے پن اور غلامانہ روئیے کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ وہ انگریزی کے حق اور اردو کے خلاف اپنے دلی جذبات کا ظہار خود اردو میں کررہے ہیں۔ یا تو وہ انگریزی کا مقدمہ انگریزی میں لڑنے کی اہلیت سے محروم ہیں یا پھر انہیں پتا ہے کہ ” سودا پاکستان میں صرف اردو ہی میں بکتا ہے”
    حیرت ہے کہ موصوف نہ تو سائنسدان ہیں ‘ نہ ماہر تعلیم ہیں’ نہ ہی فطرت اور تعلیمی نفسیات سے واقف ہیں لیکن انگریزی زریعہ تعلیم کء حق میں سر کھپائی یوں کر رہے ہیں۔ جیسے علم و دانش کا سمندر ہو!
    معزز کالم نگار ! اپ پرائمری تعلیم کو انگریزی میں کرنے کا یہ مشورہ چین ‘ فرانس ‘ ایران’ ترکی’ کوریا’ جرمنی کے سر براہوں کو بھی بھیجیں ۔ اور وہاں سے جو جواب موصول ہو اس سے قوم کو بھی اگاہ کریں ۔
    قوم کو بہتر سال سے پاکستان میں انگریزی دن رات مسلط ہے
    مقابلے کے امتحان ‘ عسکری امتحان’ عدالت کی زبان ‘ سرکار کی زبان ‘ زریعہ تعلیم سب ” بین الاقوامی” زبان میں!
    یہ بتائیے کہ پاکستان نے اج تک کتنی ترقی کی ہے؟
    ویسے افسوس تونوائے وقت پر ہے جس نے مجید نظامی مرحوم کے انکھیں بند کرتے ہی ان کے نظرئیے سے نوے ڈگری کا انحراف کرلیا۔ کاش مجید نظامی مرحوم اپنا جانشین اپنی ہی طرح کا کسی نظریاتی پاکستانی کو بنا کر جاتے ! اے کاش !
    اے کاش!
    لارڈ میکالے کے اصلی اور کھرے غلاموں! تم اس قوم پر رحم کرو!
    انگریزی کی مالا جپنے کے لئے تم پاکستان سے نکل جاؤ! وہاں جاکر اس کی رطب اللسانی اور اہمیت کے گن گاو جن ملکوں کی یہ زبان ہے!
    انگریزی کی غلامی کا پرچار کرنا توہین عدالت
    توہین ائین
    توہین پاکستان
    توہین عوام ہے!

  • عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    سردار عثمان بزدار نے پولیٹیکل سائنس مں ایم اے کا ہوا ہے۔عثمان بزدار 2002 سے 2008 تک مسلم لگ۔ ق۔ مشرف دور مں تونسہ کے تحصل ناظم ۔ دوہزار ترہ میں مسلم لگا ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا . مگرپیپلز پارٹی کے امیدوار سے ہار گئے۔پھر 2018 میں عثمان بزدار جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا حصہ بن گئے۔گزشتہ جنرل الیکشن میں عثمان بزدارتونسہ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور پہلی ہی باری میں صوبے کے سب سے بڑے عہدے کے لیے نامزد ہو گئے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ کیا تھے کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ انھں عمران خان نے وزیراعلیٰ کیوں بنایا یہ بات اور بھی کم لوگ جانتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بننا جہانگیر ترین نے تھا وہ نااہل ہوئے تو انھوں نے اپنا بندہ بنوا لیا۔ کوئی کہتا ہے کہ پرچی نکالی گئی ہے۔کسی کا اندازہ ہے کہ کسی دعا یا استخارے کے نتیجے میں یہ وزیر اعلی بنے۔ مگراس بات کو تو عقل ماننے کو تیار نہیں کہ عثمان بزدار کو پسماندہ علاقے سے تعلق ہونے کی بنا پر وزیر اعلی بنایا گیا۔چلیں وجہ جو بھی ہو۔اگر ان کے9 سے 10 ماہ کی کارکردگی کا موزانہ سابق وزراء اعلی سے کیا جائے تو بزدارکا دور شایدپنجاب کی تاریخ کا سب سے خراب اوربدترین دور ہے۔اس میں کسی کوکوئی شک و شبہ نہیں کہ عثمان بزدار نالائق اور نااہل ہیں ۔ بظاہر تو عثمان بزدار پاکستان کے سب سے بڑے اور طاقتور صوبے کے سربراہ ہیں ۔مگر ایسی طاقت کا کیا فائدہ جب آپکو استعمال کرنی ہی نہ آتی ہو۔شاید اگلے چا ر سالوں تک عثمان بزدار اپنے اختیارات کو استعمال کر نا سیکھ جائیں مگر تب تک پنجاب کا بٹھہ ضرور بیٹھا جائیں گے۔کیونکہ کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں جووہ اپنے حلقے کے عوام کے لیے اب تک کر سکے ہوں تو پورے پنجاب کے لیے انھوں نے کیا کرنا ہے۔پنجاب کے سیاسی کلچر میں کمزور اور مسکین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لوگ طاقتور اور مضبوط حکمران چاہتے ہیں۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    سونے پر سہاگہ کہ عثمان بزدار نے اپنے دفاع کے لیے ترجمانوں کا پورا دستہ تیار کر لیا ہے . یعنی 38 ترجمان مقرر کر لے ہیں. اتنے پنجاب میں ڈسٹرکٹ نہیں ہیں۔ان ترجمانوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔وہ اس لیے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی ہی صفر بٹاصفر ہے۔ صاف بات ہے پنجاب کو ایسے نہیں چلایا جا سکتا۔ تحریک انصاف نے خود بھی شعوری طور پر انکو قبول نہیں کیا ہے ایک جانب تو ان کو وزیر اعلی پنجاب لگا دیا دوسری جانب پارٹی کے ورکر اور لیڈر خود ان کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔پنجاب کوئی بلوچستان نہیں، پنجاب کوئی کے پی نہیں۔ یہ کوئی چھوٹا صوبہ نہں بلکہ ساٹھ فیصد پاکستان ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے موثر اور بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کمزور وزیر اعلیٰ کیسے کامیا ب ہو سکتاہے۔

    عثمان بزدار کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ جتنا باہر کاٹتا ہے اتنا ہی اندر کاٹتا ہے۔ ابھی تک تحریک انصاف نے اپنے سیاسی مخالفین کو جائز و ناجائز گندا کرنے کے لیے میڈیا کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ لیکن اب ان کی باری ہے۔
    ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ ہو۔ سانحہ ساہوہال ہو۔ ہیلی کوپٹر کا استعمال ہو۔ وزیر اعلی پنجاب کے پروٹوکول کا معاملہ ہو۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلیاں ہوں۔ شہروں مں کوڑاکرکٹ کے ڈھیر ہوں۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار ہو۔ ساہیوال ہسپتال مں اے سی نہ چلنے سے بچوں کی اموات ہوں۔ اربوں کی سبسڈی کے باوجودرمضان بازار فلاپ ہوں۔اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو۔ بیوروکریسی میں تقرر وتبادلے ہوں۔مارکیٹ پرائس کمیٹیاں ہوں۔عثمان بزدار کے اپنے حلقے تونسہ میں بغرر بورڈ اور متعلقہ افراد کی منظوری کے 102 افراد میں 1 کروڑ 6 لاکھ روپوں کی تقسیم ہو۔لیہ گرلز کالجز کی طالبات کو دوردراز علاقوں سے لانے والی بسوں کو ڈی جی خان شفٹ کرنے کا معاملہ ہو۔ ہر امتحان مں پنجاب حکومت فیل ہی ہوئی ہے اور اس سب کی ذمہ داری صرف اور صرف عثمان بزدارکی ہے۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    عثمان بزدار کا موازنہ اچھا یا برا شہباز شریف سے ہی کیا جائے گا۔ اوراب تک کارکردگی میں شہباز شریف عثمان بزدار سے لاکھ درجے بہتر ہی تھے۔پنجاب میں اگر کوئی تحریک انصاف کو کمزور کر رہا ہے تو وہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ہی ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد عثمان بزدار عمران خان کے نمبر ٹو ہیں۔وہ عمران خان کے بعد سب سے اہم ہیں۔ شاہ محمود، جہانگیر ترین، علیم خان، اسد عمر اب اتنے اہم نہیں جتنے سردار عثمان بزدار اہم ہیں۔وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ بزدار کے بارے میں بار بار فرماتے ہیں. وہ شہباز شریف کی طرح لوٹ مار نہیں کرے گا۔یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مگر ممکن ہے عثمان بزدار کی نااہلی سے پنجاب کو مالی طورپر نقصان شہباز شریف کی لوٹ مار سے زیادہ ہو جائے۔

    مزید پڑھئے: رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    عوام کو عثمان بزدار نے دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔کوئی اصلاحات نہیں ہوئیں . نہ ہی کوئی کا م ہوا ہے پہلے کی طرح بدحالی عوام کا مقدر دیکھائی دے رہی ہے۔ ویسے ہی لوگ سٹرکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ بے روزگاری۔مہنگائی اور فاقوں مں اضافہ ہورہا ہے۔ ویسے ہی جاگر داری اور طاقت کا نظام قائم ودائم ہے۔پہلے سے بھی زیادہ صرف میڈیا اور ٹویٹر پر جعلی کارکردگی جاری وساری ہے۔ عملی کام صفر ہیں۔پہلے کی طرح ہی ہیلی کاپٹر اور پروٹوکول گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ پہلے ہی کی طرح صرف سب اچھا ہے کی رپورٹ ہے۔ یہ ہے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی.

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں