Baaghi TV

Tag: وزیر خارجہ

  • تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’پرامن اور خوش حال جنوبی ایشیا کے عنوان سے ’اسلام آباد کا نکلیو۔2021‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ’انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز‘ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے آج اس مجلس کا اہتمام کیا ہے۔ یہ لائق تحسین اقدام ہے۔ ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے ’وژن 2023‘ پر عمل درآمد کے ضمن میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ’اسلام آباد کانکلیو‘ ان کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے تحقیق اور مکالمے کے ذریعے پاکستان کے نکتہ نظر کے فروغ دینے کے لئے اٹھائے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’اسلام آباد کانکلیو‘ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے پانچ مراکز_ فضیلت (Centers of Excellence) کی پانچ سالہ کاوشوں کا نکتہ عروج ہے۔ اس کے ذریعے ممتاز پاکستانی و بین الاقوامی ماہرین کو دو روزہ مکالمے کے لئے جمع کیاگیا ہے جو مختلف نشستوں میں شرکت اور اظہار خیال فرمائیں گے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہوگی کہ عالمی اور علاقائی منظر نامے کے وسیع بیانیہ کو آپ کی خدمت میں عرض کروں اور پھر امن وترقی کے لئے پاکستان کی سوچ اور بصیرت کا خاکہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ ہماری دنیا تبدیل ہورہی ہے۔ کثیرالقومیت کے نظریہ کو تنہائی پسندی یا یک طرفہ سوچ کی قوتیں توڑ رہی ہیں۔ ممالک قوم پرستانہ ایجنڈوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ طاقت کا اظہار ایک نیا معمول بنتا جارہا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور کشمکش بڑھتی جارہی ہے جو تصادم کی طرف کھنچ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں نئی مخالفتیں اور رقابتیں جنم لے سکتی ہیں اور دنیا کو پھر سے ’دھڑوں‘ کی سیاست کی نذر کررہی ہیں۔ ایک نئی سردجنگ کا ظہور ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ ہتھیاروں کے انباروں میں اضافہ اور نئی ابھرتی ہوئی جنگی ٹیکنالوجی سے حربی امور کے بنیادی تقاضے ہی تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ جارحانہ جنگی نظاموں کے منظر عام پر آنے، اشتعال انگیز نظریات کی رونمائی اور جارحانہ جنگی قوت کا اظہار، کشدگیوں کو بڑھانے اور فوجی مہم جوئی جیسے عوامل، پہلے سے سٹرٹیجک عدم استحکام کے شکار ہمارے خطے کے لئے مزید خطرات کا موجب بن رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں سٹرٹیجک استحکام کے لئے جوہری صلاحیتوں سے متعلق متفقہ طور پر طے شدہ پابندیاں اور روایتی افواج ناگزیر ہیں۔ جنوبی ایشیاءدنیا کی تقریباً ایک چوتھائ آبادی کا مسکن ہے جہاں ’نیٹ سکیورٹی پروائیڈر‘ جیسے نظریات کا فروغ پانا، خطے کے دیگر ممالک کے جائز سیاسی، معاشی اور سلامتی کے مفادات سے کلیتاً صرف نظر کرنا ہے۔یہاں کے عوام کے درمیان استوار تاریخی، ثقافتی، لسانی، نسلی اور جغرافیائی رابطوں سے قطع نظر، جنوبی ایشیاءتنازعات، جنگی جنون اور عدم اعتماد میں پھنسا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر تنازعہ جموں وکشمیر ایک دیرینہ اور قدیم ترین مسئلے کے طورپر موجود ہے جو تا حال کشمیر کے بہادر عوام کی امنگوں کے مطابق حل کا منتظر ہے۔ اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لئے تباہ کن ہوگا۔یہ خطہ چین اور بھارت کے درمیان جنگی محاذ آرائی، نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعے اور بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ کا مشاہدہ بھی کرچکا ہے۔ سری لنکا نے اپنی تاریخ کے 25 سال میں خونریز بغاوت کا سامنا کیا ہے۔ افغانستان چار دہائیوں سے تنازعے سے گزرتا آرہا ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں قومی سلامتی حکمت عملی میں انسانی سلامتی کو مرکزیت دینے کی ضرورت ہے۔ یعنی سلامتی پر مبنی پالیسیز سے خطے میں ترقی اور خوش حالی کی طرف جانا ہوگا۔ یہ ہے وہ حقیقی چیلنج جس کا آج جنوبی ایشیاء سامنا کررہا ہے۔ پاکستان نے اپنی توجہ تبدیل کرکے جیواکنامکس کی طرف مبذول کی ہے۔ خطے کو جوڑنا آج کا وہ لفظ ہے جسے مرکزیت و مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ہمیں قومی اور علاقائی ترقی کے لئے بے پناہ مواقع فراہم کرسکتا ہے۔پاکستان کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے چین کے مغربی حصوں اور وسط ایشیائی جمہوریتوں کی عالمی سمندروں تک رسائی کا مختصر ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کی سدا بہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری کا طرہ امتیاز ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ (سی پیک) رابطوں کی استواری کا ایک بہترین اور مثالی منصوبہ ہے۔ پاکستان کی معاشی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ’سی پیک‘ خطے کو جوڑنے کیلئے بھی ایک اہم راستہ ہے۔جنوبی ایشیاء کی خوش حالی کے لئے خطے میں علاقائی تعاون لازم ہے۔ سارک کو تنگ نظر سیاسی ایجنڈوں سے آزاد کرکے زندہ وفعال کرنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے خطے کے اندر تجارت انتہائی کم ہے، تجارت، شاہراتی نظام اور رابطوں میں حائل رکاوٹیں اور پابندیاں دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے کسی عالمی یا علاقائی تنازعے کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے اور صرف امن وترقی میں شریک کار رہنے کی راہ منتخب کی ہے۔ پاکستان اجتماعیت اور تعاون کی حامل سوچ وفکر پر مبنی وسیع تر معاشی واقتصادی شراکت داری پر زور دے رہا ہے۔

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بہت سارے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو معاشی سٹرکچرل وجوہات سے پیدا ہونے والے بہت سارے غیرروایتی سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے جن میں ماحولیاتی تغیر، غذا، توانائی اور آبی بحران، آبادی میں اضافے، بے محابہ شہروں کے بڑھنے اور غربت جیسے مسئلے شامل ہیں۔ نہایت فوری نوعیت کی تشویش کا باعث بننے والا مسئلہ، ماحولیاتی تغیر کا ہے جس کے براہ راست اثرات غذا اور آبی سلامتی پر ہوتے ہیں۔ عمران خان حکومت قومی سلامتی کے لیے، لاحق اس سنگین خطرے کا اداراک کرتے ہوئے ان اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے کوششیں کررہی ہے۔ تجارت وسرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، انرجی سکیورٹی، زراعت، سیاحت میں تعاون اور عوامی رابطوں میں اضافہ ہماری ترجیحات ہیں۔ ہماری بنیادی دلچسپی پرامن اور مستحکم ’عالمی نظم‘ (انٹرنیشنل آرڈر) ہے جو سب کو اعتماد میں لے کر چلے۔پاکستان پرامن بقائے باہمی، تعاون پر مبنی کثیرالقومیت اور اتفاق رائے کی حامل فیصلہ سازی کے اصولوں کے عزم پر کاربند ہے۔ خطے اور دنیا میں امن، ترقی اور خوش حالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے ہم اجتماعیت کے حامل عالمی نظام (گلوبل آرڈر) کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے۔ ہم بیانیوں کے دور میں جی رہے ہیں۔ پاکستان کے بیانیوں کی تشکیل اور ان کا فروغ ہم سب کے لئے ایک قومی ذمہ داری ہے۔ فیصلہ سازوں اور محقیقین کے درمیان خلیج کو پاٹنا ہوگا اور اتفاق رائے کے حامل بیانیوں کو پیش کرنا ہوگا، ’اسلام آباد کانکلیو‘ جیسے فورمز اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ میں اس مجلس سے سامنے آنے والی سفارشات سے استفادہ کے لئے منتظر ہوں۔

  • پاکستان کی معیشت میں بہتری لانے کیلئے سفراء کا کردار اہم، شاہ محمود قریشی

    پاکستان کی معیشت میں بہتری لانے کیلئے سفراء کا کردار اہم، شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں یورپی ممالک میں معاشی سفارت کاری کے حوالے سے پہلے ورچوئل سفراء اجلاس کا انعقاد کیا گیا- سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران کی اجلاس میں شرکت کی گئی-
    اجلاس میں آسٹریا،بیلجیئم، بیلاروس، بوسنیا ،بلغاریہ، چیک ریپبلک، ڈنمارک، جرمنی، یونان، ھنگری، آئیرلینڈ اور پرتگال میں تعینات پاکستانی سفراء نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اجلاس میں خطاب ترتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یورپ میں معاشی سفارت کاری کے حوالے سے منعقدہ اس ورچوئل اجلاس میں شرکت پر خوش آمدید کہتا ہوں – جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ معاشی سفارت کاری کی اہمیت میں روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے- ہمیں اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ بہترین سفارت کاری کا تعلق مضبوط معیشت کے ساتھ ہے-قبل ازیں ہم نے افریقی ممالک کے ساتھ معاشی سفارت کاری کا آغاز کیا-افریقی ممالک میں تعینات ہمارے سفراء اور سفارت خانوں نے بھرپور محنت کی جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے- نیروبی میں معاشی سفارت کاری کانفرنس کے انعقاد اور افریقی ممالک کی مارکیٹس کے ساتھ معاشی روابط کے بعد افریقی ممالک کے ساتھ ہماری ایکسپورٹ کی شرح میں 7 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا- ہمیں یورپی ممالک میں موجود مارکیٹس اور میسر مواقعوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی-

    یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے- پاکستان کی معیشت میں بہتری لانے کیلئے ہمارے سفراء کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا- کاروبار میں سہولت کی فراہمی(Ease of doing business ) کیلئے ہم نے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں- مجھے خوشی ہے کہ کاروبار کے حوالے سے سہولت کی فراہمی میں، عالمی سطح پر پاکستان کی درجہ بندی میں 39 درجے بہتری دیکھنے میں آئی ہے- یورپ، 500 ملین آبادی پر مشتمل ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے جہاں تجارت کے فروغ کے بہت سے مواقع موجود ہیں-

    وزارتِ خارجہ، متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر معاشی سفارت کاری کے اھداف کے حصول کیلئے اپنی کاوشیں بروئے کار لانے کیلئے پرعزم ہے- یورپ میں پاکستانی کمیونٹی کثیر تعداد میں موجود ہے جو یورپی ممالک کی مارکیٹس کے ساتھ گہری واقفیت رکھتی ہے- یورپ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے تعاون سے معاشی سفارت کاری اہداف کے حصول میں معاونت مل سکتی ہے- یورپی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء نے وزیر خارجہ کو اپنے اپنے سفارت خانوں کی جانب سے معاشی سفارت کاری کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں سے آگاہ کیا-

  • کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا وزیر خارجہ نے کیا دنیا سے مطالبہ

    کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا وزیر خارجہ نے کیا دنیا سے مطالبہ

    اسلام آباد (چنگیز خان جدون و اقراء لیاقت علی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایوان صدر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس امر کو یقینی نہ بنایا جائے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی اقواج کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔یہ اظہارِ یکجہتی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ حق خودارادیت کی فراہمی کا وعدہ ایفا نہیں ہو جاتا۔شاہ نے کہا کہ آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل، 5 اگست 2019 کو بھارت نے جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات اٹھائے تو اسے یہ غلط فہمی تھی کہ کشمیری انہیں قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں گے۔اسے یہ غلط فہمی تھی کہ وہ عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جائے گا۔بھارت کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ کشمیریوں کو ان خوداردایت کے جائز حق سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محروم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔لیکن ایسا نہ ہو سکا اور نہ ہی ہو سکے گا۔ انشاء اللہ۔ بھارت کو اس کے مذموم مقاصد میں ہمیشہ ناکامی ہو گی۔آج کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کرنے والے ہندوستان کا چہرہ، عالمی برادری کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے وہاں کی نام نہاد جمہوریت کی قلعی کھول دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر مذمت کے باوجود بھارت نے اپنی روش تبدیل نہیں کی اور بھارت آج ایک طرف غیرقانونی طورپر اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کےغیرقانونی طورپر تناسب میں تبدیلی کے ذریعے غاصبانہ تسلط کو طول دینے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب اس کی سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگل رہی ہے ۔
    یورپی یونین ڈس انفولیب کی رپورٹ نے پاکستانی موقف کی توثیق کردی ہے کہ بھارت۔جھوٹی اطلاعات پھیلا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش میں ملوث ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے عرصہ دراز سے مظلوم کشمیریوں کو اپنے جبرو استبداد کا نشانہ بنا رہا ہے قابض بھارتی اقواج نے غیر انسانی ہتھکنڈوں سے 80 لاکھ کشمیریوں کا محاصرہ کررکھا ہے۔نہتے کشمیری ایسے کمیونیکیشن بلیک آو¿ٹ،کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی مثال موجودہ دور میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ نام نہاد ”محاصروں، چھاپوں اور تلاشی “ کی کارروائی اور جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل، معمول بن چکا ہے۔کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو غصب کیا جا رہا ہے، انہیں ان کے زندہ رہنے،بنیادی آزادیوں،تعلیم سمیت دیگر حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔پرامن مظاہرین پر پیلٹ گنز کا وحشیانہ استعمال کیا جاتا ہے ، کشمیریوں کو اجتماعی طور پر سبق سکھانے کیلئے ان کے گھروں کو مسمار اور املاک کو تباہ کیا جاتا ہے۔بھارت، غیر قانونی طور پراپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اپنے غاصبانہ تسلط کوطول دینے کیلئے، غیر کشمیریوں کو غیرقانونی طریقے سے کشمیر میں آباد کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی اقواج کے مظالم کی پردہ پوشی کیلئے بھارت کالے قوانین کا سہارا لے رہا ہے نہتے کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔جب بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں لاکھوں کشمیریوں کی نسل کشی کا خطرہ لاحق ہو تو عالمی برادری صورت حال سے نظریں نہیں چرا سکتی۔میں یہ بات وزیر خارجہ کے طورپر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ حقیت ’جینو ا۔سائیڈ ۔واچ ‘جیسے غیر جانبدار مبصر ین بیان کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ’الرٹ‘ بھی جاری ہو چکا ہے۔قریشی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کا انکار، عالمی برادری کی توہین کے مترادف ہے۔تنازعہ جموں وکشمیر کے حل کے حوالے سے، عالمی برادری کی ترجمان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں موجود ہیںجنہیں بھارت ماننے سے مسلسل انکاری ہے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اجتماعی عالمی ضمیر کیلئے لمحہ ءفکریہ ہے۔ہندوستان یہ نہیں کہہ سکتا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اس متنازعہ علاقے میں وہ جو بھی کرے گا، وہ اسکا اندرونی معاملہ ہو گا۔عالمی برادری نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔قریشی نے کہا کہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی علاقائی و عالمی تنظیموں، میڈیا، سول سوسائٹی اور دنیا کی اہم پارلیمانوں کی جانب سے اس حوالے سے سامنے آنیوالی مذمت مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے سامنے آنا والا ردعمل اہمیت کا حامل ہے لیکن محض یہ ردعمل نا کافی ہے۔عالمی برادری کا کوئی بھی ردعمل اس وقت تک موثر ثابت نہیں ہو گا جب تک ہندوستان کو انسانیت کے خلاف ان سنگین جرائم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔کوئی ردعمل اس وقت تک کارآمد ثابت نہیں ہو سکتا جب تک کشمیریوں کو ”خودارادیت“ کا ان کا جائز حق نہیں دلایاجاتا۔ہم ایک دفعہ پھر عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر زور دے کہ:مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلاجواز طورپر جاری مسلسل محاصرے کو فی الفور ختم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے۔کمیونیکیشن (مواصلاتی روابط) بلیک آئوٹ، نقل و حرکت اور پرامن اجتماعات پر عائد پابندیوں ختم کرے۔بھارتی جیلوں میںبلاجواز قید کشمیری قیادت فی الفور رہا کی جائے اور انہیں کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی سے نہ روکا جائے۔تمام گرفتار کشمیری نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لئے نافذ کئے گئے غیرقانونی ڈومیسائل قوانین واپس لے اور غیر کشمیریوں کو جاری ہونے والے ڈومیسائل منسوخ کئے جائیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں تعینات بھارتی قابض فوج کے جرائم کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے نافذ کردہ کالے قوانین کالعدم کرے۔حقائق کا جائزہ لینے کیلئے اقوام متحدہ کے مبصرین، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور بین الاقوامی میڈیا کومقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔جنگ بندی کے معاہدوں اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردوں بند کی جائے۔اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور شفاف استصواب رائے کے ذریعے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دیا جائے
    آخر میں، میں’ ایلس۔ ولز‘ کے اس معروف قول کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ”ہمیں مظلوم کی حمایت کرنی چاہئے کیونکہ ہماری خاموشی مظلوم کا نہیں بلکہ ظالم کا حوصلہ بڑھاتی ہے“ آخر میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئیے۔ یکجہتی کشمیر کے اس دن کے موقع پر ہم عہد کریں کہ بھارتی مظالم کا شکار نہتے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔