Baaghi TV

Tag: وزیر خزانہ شوکت ترین

  • حالیہ ہفتے میں مہنگائی میں 0.22 فیصد اضافہ،33 اشیاء مہنگی،18 سستی

    حالیہ ہفتے میں مہنگائی میں 0.22 فیصد اضافہ،33 اشیاء مہنگی،18 سستی

    اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین نے خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ڈیزل کے کم ذخائر پرتشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ہدایت کردی-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیرصدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں بتایاگیا حالیہ ہفتے میں مہنگائی میں 0.22 فیصد اضافہ ہوا،33 اشیاء مہنگی،18 سستی ہوئیں جبکہ 12کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

    بجلی 0.91 فیصد، انڈے 0.08، سرخ مرچ 0.03 اور دیگر اشیاء 0.06 فیصد سستی ہوئیں جبکہ پٹرول 0.65، چکن 0.19، پارچہ جات 0.18 اور دیگر اشیاء 0.28 فیصد مہنگی ہوئیں، آلو، پیاز، گڑ، چینی، آٹا، ایل پی جی، دال مونگ اور ماش بھی سستی ہوئیں جبکہ پیاز کی قیمت گذشتہ 3 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی-

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے قیمتوں میں استحکام اور دستیابی کیلئے چینی اور گندم کے ذخائر کو تقویت دینے کی ہدایت کی-

    دوسری جانب وزارت اقتصادی امور کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران حکومت نے 13 ارب ڈالر مالیت کے غیرملکی قرضے لیے جب کہ یہ حجم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.4 ارب ڈالر (70 فیصد) زیادہ ہے رواں مالی سال جولائی تا جنوری اس نے 11.8 ارب ڈالرکے قرضے لیے-

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت بلند شرح سود پر 1.3 ارب ڈالر حاصل کیے گئے نئے غیرملکی قرضوں میں سے 82 فیصد بجٹ خسارہ پورا کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے حاصل کیے گئے یعنی 82 فیصد قرضوں سے کوئی ایسے اثاثے قائم نہیں کیے گئے جو ان قرضوں کی واپسی کا ذریعہ بنتے۔

    نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت 1.3 ارب ڈالر 7 فیصد ڈالر میں اور روپے میں 11 فیصد کی بلند شرح سود پر لیے گئے اس کے نتیجے میں رواں مالی سال ، جولائی تا جنوری میں حاصل کردہ بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم ریکارڈ 13.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستان قرض کی دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے اور حکومت قرض حاصل کرنے کے لیے نت نئے راستے تلاش کررہی ہے۔

    وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں اکنامک ایگزیکٹیو کونسل کے اجلاس میں پاکستانی شہریوں کے پاس موجود سونے کے عوض بیرونی قرضے لینے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا تھا۔

  • صدر مملکت نے فنانس ضمنی بل 2022 کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے فنانس ضمنی بل 2022 کی منظوری دے دی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فنانس ضمنی بل 2022 کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فنانس ضمنی بل 2022 پر دستخط کر دئیے ہیں 13 جنوری کو وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس ضمنی بل 2022 کو ایوان میں پیش کیا تھا جسے قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا تھا۔

    صدر مملکت عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت بل کی منظوری دی جس کے بعد فنانس ضمنی بل ایکٹ بن گیا ہے اس کے علاوہ قومی اسمبلی نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل 2022 کثرت رائے سے منظور کیا تھا، اپوزیشن نے بل کی منظوری ‏کے خلاف اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا اور بل کی کاپیاں ہوا میں اچھال کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

    اپوزیشن نے فنانس ضمنی بل کو آئی ایم ایف کی غلامی کرنے سے تعبیر کیا تھا جبکہ اہم قانون سازی پر وزیر اعظم عمران خان نے وزیرخزانہ شوکت ترین کو شاباش دی تھی وزیر اعظم نے شوکت ترین کو ‏اپنی نشست پر بلایا اور بلز کی منظوری میں کامیابی پر ان کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔

    آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ…

    دوسری جانب کراچی کی تاجر برادری اس وقت سخت پریشان ہے ، تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھ نہیں پار ہے کہ کیا یہ فیصلہ آئی ایم ایف کا جبر ہے یا پھربیوروکریسی کی ناہلی ہے کہ وہ ایک طے شدہ بات پر عمل دراًمد نہیں کرواسکتے یا پھر شوکت ترین وزیراعظم پر بھاری ہیں کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود کسی کی رائے کا احترم نہیں کیا گیاعجیب معاملہ ہےکہ حکومت خود ہی قانون اور پالیسیاں بناتی ہے اور خود سرکار نے خود اپنا ہی بنایا قانون توڑ دیا-

    محمد رضوان نے میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف کا تحفہ کیوں دیا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس فری ایکسپورٹ پراسیسنگ زون پر ٹیکس لگادیا، تاجری برادری کا کہنا تھا کہ فنانس بل میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کی درآمدات پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کی گئی ، تاجر برادری کایہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ہونہیں سکتا کیونکہ وزیراعظم ہمیں یقین دہانئی کروا چکے ہیں ، لیکن سوچتے ہیں کہ پھروزیراعظم مجور ہیں کیا یا پھران کو بے خبر رکھا جارہا ہے-

    افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:افغان…

    اس حوالے سے ایکسپورٹرز کا مزید کہنا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات بے نتیجہ رہی, اس کے ساتھ ساتھ کراچی اور سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کی مسئلہ کے حل کیلئے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور وزیراعظم نے ہماری بات کو بڑے غور سے سُنا لیکن وزیرخزانہ شوکت ترین درمیان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہےبرآمدکنندگان کے مطابق سیلز ٹیکس کا نفاذ ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا۔برآمدکنندہ عرفان اخلاص کے مطابق ای پی زیڈ کی تمام تردرآمدات سو فیصد برآمد کردی جاتی ہیں-

    پرویز خٹک کی مجھ سے گفتگو…حماد اظہر بھی بول پڑے

    اس حوالے سے ایکسپورٹرز نے مزید کہاکہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس قانون کے مطابق ریفنڈ کی شکل میں حکومت کو واپس کرنا ہوتا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا ایکسپورٹرز نے اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیا کہ بات چیت کے دوران وزیرخزانہ اپنی بات پرڈٹے رہے اور کہا کہ ای پی زیڈ کے صنعتکار پوری درآمدات برآمد نہیں کررہے ہیں-

    سٹیزن پورٹل پر عوام کے مسائل کا تیزی سے حل حکومت کی ترجیح