Baaghi TV

Tag: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

  • حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو آگے بڑھانے اور پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوگا۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معیشت کے استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو قیادت کرنا ہوگی، جیسے جیسے معیشت سنبھلتی ہے اور ہم مستقل ترقی کی طرف بڑھتے ہیں، ملک کو آگے بڑھانے میں نجی شعبے کا سب سے اہم کردار ہوگا، آج کے دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی وجہ سے ترقی کے کئی نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں، لیکن انسانوں کے لیے محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے، سیاحت پاکستان کا نہایت اہم شعبہ ہے اور اس کے فروغ کے لیے ہر شعبہ فکر اور مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ سیاحت میں بہت سے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے-

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات لائی گئی ہیں، سٹاک ایکسچینج روزانہ نئے ریکارڈ بنارہی ہے، سٹاک مارکیٹ میں تیزی معاشی بہتری کی علامت ہے، توانائی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے درست سمت میں گامزن ہیں،، نوجوان محنت کو اپنا شعار بنائیں، اتارچڑھاؤ آتے ہیں لیکن ٹیلنٹ کو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمیں مستقل گروتھ کی طرف جانا ہے، حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، پوری کوشش ہوگی کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ مزید کم کریں۔

    خیبر پختونخوا،متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے،ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر

  • وزیر خزانہ کی امریکا  میں اہم ملاقاتیں،تجارتی تعلقات بڑھانے پر اتفاق

    وزیر خزانہ کی امریکا میں اہم ملاقاتیں،تجارتی تعلقات بڑھانے پر اتفاق

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا کے دورے کے دوران اپنی سربراہی میں پاکستانی وفد کے ہمراہ امریکی ہم منصب ہاورڈ لٹنک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تجارتی و معاشی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

    ملاقات میں پاک امریکا تجارتی تعلقات کو مستحکم اور جامع بنیادوں پر فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فریقین نے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعلقات کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ ان تعلقات کو مزید گہرا اور متنوع بنایا جائے۔

    ملاقات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات سے مثبت نتائج کی توقع ہے، جن سے دونوں ملکوں کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔واضح رہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس وقت امریکی حکام سے مختلف اقتصادی اور تجارتی معاہدوں پر بات چیت کے لیے امریکا کے دورے پر ہیں، جہاں وہ عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

    حماس کی اسرائیلی یرغمالیوں کی مشروط رہائی کی پیشکش

    بھارت: بہار میں آسمانی بجلی گرنے سے 33 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرخ کھوکھر جمعیت علمائے اسلام میں شامل

  • آئندہ سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری ایف بی آر کی منظوری سے مشروط ہوگی،وزیر خزانہ

    آئندہ سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری ایف بی آر کی منظوری سے مشروط ہوگی،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اسٹیل انڈسٹری میں اصلاحات کا عمل پانچ سال میں مکمل کیا جائے گا-

    چیئرمین ایف بی آر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری ایف بی آر کی منظوری سے مشروط ہوگی، جبکہ نان فائلرز کو سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سینیٹر شبلی فراز نے میڈیا ہاؤسز کے خلاف ایف بی آر میں ٹیکس جمع نہ کرانے کا مسئلہ اٹھا تے ہوئے کہا کہ میڈیا ادارے ملازمین سے ٹیکس تنخواہوں سے کاٹ لیتے ہیں لیکن جمع نہیں کراتے۔

    اجلاس میں اسٹیل انڈسٹری کے نمائندوں نے بھی اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ٹیرف اصلاحات سے انڈسٹری بند ہونے کے خدشات ہیں، لہٰذا ان اصلاحات کو کم از کم ایک سال کے لیے مؤخر کیا جائے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کو بتایا کہ اسٹیل انڈسٹری میں اصلاحات کا عمل پانچ سال میں مکمل کیا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو اصلاحات پر عملدرآمد اور متعلقہ مسائل کے حل کو یقینی بنائے گی۔

    اجلاس میں اسٹاک مارکیٹ، انڈسٹریل پالیسی، اور ایف بی آر کی نگرانی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ حکومتی عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ٹیکس نظام کو شفاف، منصفانہ اور مؤثر بنانے کیلئے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

  • محض معیشت میں بہتری ہماری منزل نہیں، وزیر خزانہ

    محض معیشت میں بہتری ہماری منزل نہیں، وزیر خزانہ

    اسلام آباد:وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے پچھلے سال افراط زر کو23.4 فیصد سے 4.6 فیصد تک کم کیا –

    قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے 15 ویں اجلاس میں وزیر خزانہ نے کمیٹی کو آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کی مالیاتی تجاویز اور جا ری مالی سال میں سپلیمنٹری مالیاتی تجاویز کے نتائج سے آگاہ کیا، وزیر خزانہ نے مالی سال 2026 کے بجٹ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مستقبل کی سمت، ٹیکسوں کی تعمیل اور انہیں یکساں بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا انہوں نے معیشت کے سدھار، معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری اور عالمی اداروں کے پاکستانی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد پر روشنی ڈالی۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے پچھلے سال افراط زر کو23.4 فیصد سے 4.6 فیصد تک کم کیا شرح سود 22 فیصد کی ریکارڈ بلند سطح سے 11 فیصد کی سطح پر آ گئی ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی دفعہ 400 ارب ڈالر کی حد کراس کر گیا پچھلے سال کی نسبت جی ڈی پی میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا ایف بی آر کے محصو لات میں 26 فیصد اضافہ ہوا معیشت کے اعتبار سے ملکی قرضوں میں کمی اور پہلی دفعہ نہ صرف بروقت قرض ادائیگی کی بلکہ ایک ٹریلین روپے قرض مدت سے قبل ادا کیا ترسیلات زر اس سال 38 ارب ڈالر تک ہوں گی پچھلے 2 سالوں میں ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ملکی ایکسچینج ریٹ سال بھر مستحکم رہا۔ زرمبادلہ کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.5 ارب ڈالر ہو گئے۔

    ایران کی عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی میں قرارداد کی منظوری کی شدید مذمت

    بریفنگ میں انہوں نے مزید بتایا کہ پرائمری سرپلس معیشت کے 3 فیصد کر برابر ہو گیا جو پچھلے 20 سالوں کی بلند ترین سطح ہے پچھلے سال کے 1.3 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کی نسبت اس سال کرنٹ اکاؤنٹ 1.9 ارب ڈالر سرپلس ہے ملکی برآمدات میں تقریباً 7 فیصد اور بالخصوص آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ان تمام معاشی کامیابیوں اور حاصل شدہ اہداف کو عالمی مالیاتی اداروں، سروے کمپنیوں اور ریٹنگ ایجنسیوں نے تسلیم کیا ہےفچ اور دیگر ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ محض معیشت میں بہتری ہماری منزل نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی منزل کے حصول کا راستہ ہے ہم اس راستے پر عزم اور یقین سے چلتے رہیں گے اور ایک دیرپا اور پائیدار معاشی خوشحالی کا خواب پورا کریں گے حکومت نے ٹیرف، ٹیکس نظام، توانائی، پنشن اور نج کاری شعبے میں بنیادی اور کلیدی اصلاحات کی ہیں۔ اپوزیشن کے ڈھونڈورے کے باوجود سال بھر میں کوئی منی بجٹ نہیں آیا ہم نے ٹیکس بنیادوں کو وسعت دی، انفورسمنٹ اور کمپلائنس سے ٹیکس لیکیجز کو کم کیا اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا۔

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی میں ایران کے خلاف قرارداد منظور

    وزیر خزانہ نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس میں کمی گئی۔ تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا گیا۔ حکومت متوسط طبقے کو گھروں کی تعمیر کے لیے سستے قرضے دے گی زراعت پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا چھوٹے کاروباروں کو فنانسنگ سپورٹ دی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 700 ارب سے زائد اضافہ کیا جس سے ایک کروڑ سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے ٹیرف اور خام مال کی ڈیوٹیوں میں کمی کے ذریعے ایکسپورٹرز کو فائدہ پہنچا کربرآمدات بڑھائی جائیں گی۔

  • معاشی ترقی کے میدان میں بھی بھارت کو شکست ، اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش

    معاشی ترقی کے میدان میں بھی بھارت کو شکست ، اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے بعد معاشی ترقی کے میدان میں بھی بھارت کو شکست دے دی، معیشت درست سمت میں گامزن ہے-

    اسلام آباد میں قومی اقتصادی سروے 25-2024 پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی مجموعی پیداوار کی شرح میں کمی آئی ہے اور گلوبل جی ڈی پی نمو 2.8 فیصد پر آچکی ہے، پاکستان میں جی ڈی پی گروتھ 2.7 فیصد رہی، گروتھ کے لیے گلوبل جی ڈی پی کو مد نظر رکھنا ہوگا، عالمی افراط زر 4.3 فیصد رہی۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں افراط زر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے، پاکستان میں پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی ہے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہوکر 11 فیصد پر آیا، زرمبادلہ کے ذخائر میں واضح اضافہ ہوا ہے، 2023 میں ریکوری میں بہتری آنا شروع ہوئی، وزیراعظم کے اقدامات سے معیشت میں بہتری آئی، نگراں حکومت نے معاشی ترقی کا تسلسل برقرار رکھا، ہم درست سمت میں جارہے ہیں تاکہ مہنگائی کی شرح کم ہو۔

    20 افراد سے بھرا اسکائی ڈائیونگ طیارہ تباہ

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے سب سے پہلے لیکج کو روکنا ہے، 43 وزارتیں اور400 محکمے ختم کئے جارہے ہیں، رائٹ سائزنگ سے معیشت میں بہتری آئے گی، ٹیکسیشن کے نظام میں اصلاحات جاری ہیں، ٹیکنالوجی کا استعمال ٹیکسیشن نظام کا حصہ ہے، پاورسیکٹر میں وصولیاں ایک سال میں حوصلہ افزا رہیں، تمام ڈسکوز میں نئے بورڈز لگائے گئے، این ٹی ڈی تین میں تقیسم کی، پاورسیکٹر کا گردشی قرض ختم کرنے کے لیے بینکوں کے ساتھ معاہدے ہوئےسرکاری ملکیتی اداروں کا نقصان ایک ٹریلین سے زائد ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ رواں سال برآمدات میں 7 فیصد اضافہ ہوا، رواں مالی سال درآمدات میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے، آئی ٹی برآمدات میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا، مشینری کی امپورٹ میں 16.5 فیصد اضافہ ہوا، مشینری کی امپورٹ میں اضافہ معیشت کے لیے خوش آئند ہے، ترسیلات زر جون کے آخر تک 37 یا 38 ارب ڈالر تک ریکارڈ ہوں گی، 2 سال میں ترسیلات زر میں تقریبا 10 ارب ڈالرکا اضافہ ہوا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں تبدیل ہوچکا ہے۔

    سگی ماں نے دوسری شادی کے لیے 8 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، رواں مالی سال انفرادی فائلرز کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا، پرائیوٹ سیکٹر سے قرضوں کے حصول میں اصلاحات کیں، حکومت پرائیویٹ سیکٹرسے اپنی شرائط پر قرض لے گی، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں تبدیل ہوچکا ہے، پاسکو کرپشن کا گڑھ تھا، پاسکو کے خاتمے سے نمایاں بہتری آئی ہے۔

    وزیرخزانہ کا مزید کہنا تھا کہ ترسیلات زر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جولائی سے مئی میں 26 فیصد ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوا، ریٹیلر کی رجسٹریشن میں 74 فیصد اضافہ ہوا، صنعتوں کی گروتھ میں 6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، خدمات کے شعبے میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبے میں 3 فیصد تک اضافہ ہوا، زرعی شعبے محض 0.6 فیصد تک بڑھا ہے۔

    یونیورسٹی بس کو حادثہ، 15طالبعلم جاں بحق

    انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال میں قرض منیجمنٹ پر ہمارا فوکس ہوگا، کنسٹرکشن سیکٹر میں 6.6 فیصد کا اضافہ ہوا، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں کمی آئی، گاڑیوں کی صنعت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، سروسزسیکٹرمیں 2.9 فیصد کا اضافہ ہوا، فوڈ سروسز میں 2.1 فیصد کا اضافہ ہوا، زراعت میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا، بڑی فصلوں کی پیداوارساڑھے 13 فیصد سے کم رہی۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ افواج پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، معاشی محاذ پر بھی ایک جنگ چل رہی تھی، بھارتی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے میٹنگ نہ ہونے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، معاشی محاذ پر بھی بھارت کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، دوست ممالک نے پاکستان کی بڑی مدد کی۔

    اقتصادی سروے کے مطابق مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، مہنگائی اپریل 2025 میں صرف 0.3 فیصد رہی، مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہوگیا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.9 ارب ڈالرہے، اقتصادی سروے مالیاتی خسارہ کم ہو کر2.6 فیصد رہ گیا، بنیادی مالیاتی توازن میں 3 فیصد بہتری آئی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی تیزی کارجحان برقراررہاجی ڈی پی کی شرح نمو2.68 فیصدرہی، فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا، فی کس آمدنی 1,824 ڈالرہوگئی، فی کس آمدنی گزشتہ سال 1,662 ڈالر تھی۔

    گوجرخان: دیرینہ دشمنی پر باپ اور دو بیٹے قتل، دو مشتبہ افرادگرفتار

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بہتری کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے، نوکریاں دینے کے نعرے لگانے کے حق میں نہیں، کم سے کم تنخواہ پرعملدرآمد کے لیے انفورسمنٹ کا مسئلہ ہے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات پائیدارترقی کی طرف لے جائے گی، فصلوں کی گروتھ پر موسمیاتی تبدیلی کا اثر پڑتا ہے، 6 سے 7 سو ملین ڈالر موسمیاتی تبدیلیوں پر خرچ کرنا ہوں گے، آبادی بڑھنے کی شرح 2.55 فیصد رہی تو ملک کا کیا حشر ہوگا، ترقیاتی بجٹ 4 ہزار ارب روپے سے بڑھ چکا ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں کمی، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ 3 سال سےمسلسل کمی آرہی ہے، صنعتی شعبے میں ترقی کی شرح 4.77 رہی، پاکستان میں اسکولز سے باہر بچوں کی تعداد 38 فیصد ہے، بلوچستان میں 69 فیصد بچے اسکولز سے باہر ہیں، پنجاب میں 32 فیصد، سندھ میں 47 فیصد بچے اسکولز سے باہر ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں 30 فیصد بچے اسکولز سے باہر ہیں، صحت عامہ کے لیے جی ڈی پی کے 9 فیصد اخراجات ہوئے، ملک میں اسپتا لوں کی تعداد ایک ہزار 696 ہے، بنیادی مراکز صحت کی تعداد 5 ہزار 434 ہے، رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد 3 لاکھ 19 ہزار572 ہے۔

    وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس کل طلب

    وزیر خزانہ نے کہا کہ میکرواکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے، اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد جاری ہے، اخراجات میں جتنی کمی کی، اس سے زیادہ ممکن نہ تھی، پرائمری سرپلس کے بڑھنے کی وجہ اخراجات میں کمی ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو 14 فیصد تک لے کر جانا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھائے بغیر کوئی چارہ نہیں، جہاں جہاں بجلی چوری ہوگی وہاں لوڈ شیڈنگ ہوگی۔

    اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال ملک میں کرنسی سرکولیشن میں اضافہ ہوگیا، رواں مالی سال کرنسی سرکولیشن 12.1 فیصد بڑھ گئی، 1108 ارب روپے کی کرنسی سرکولیشن میں رہی، گزشتہ مالی سال 498 ارب روپے کی کرنسی سرکولیشن تھی، زرعی شعبے کی گروتھ سست روی کا شکار رہی، زرعی شعبے میں 0.5 فیصد کی رفتار سے گروتھ ہوئی، صنعت کے شعبے میں 4.7 فیصد گروتھ ہوئی، خدمات کا شعبہ 2.91 فیصد کی رفتار سے گروتھ کرسکا، رواں مالی سال فی کس آمدن میں 144 ڈالرز کا اضافہ ہوا، فی کس آمدن بڑھ کر 1 ہزار 824 ڈالرز پر آگئی، جی ڈی پی کے لحاظ سے سرمایہ کاری 13.8 فیصد بڑھی، جی ڈی پی کے لحاظ سے سیونگ میں 14.1 فیصد اضافہ ہوا۔

    بھارتی میں سنسرشپ کا رجحان ، جرمن نشریاتی ادارے نے بے نقاب کر دیا

    اقتصادی سروے میں مزید کہا گیا کہ رواں مالی سال ٹیکس چھوٹ 5 ہزار840 ارب روپے سے بڑھ گئی، انکم ٹیکس چھوٹ 800 ارب سے تجاوز کرگئی، سیلز ٹیکس چھوٹ 4 ہزار253 ارب روپے سے بڑھ گئی، کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ 786 ارب روپے تک پہنچ گئی، زیرو ریٹڈ شعبے کو 683 ارب روپے سے زیادہ ٹیکس چھوٹ دی گئی۔

    اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق چھٹے شیڈول کے تحت مقامی سپلائی کی ٹیکس چھوٹ 613 ارب سے تجاوز کرگئی، چھٹے شیڈول کی درآمدات پرٹیکس چھو ٹ 372 ارب روپے سےبڑھ گئی، آٹھویں شیڈول کی ٹیکس چھوٹ 617 ارب روپے بڑھ گئی، نویں شیڈول کے تحت ٹیکس چھوٹ 87 ارب سے بڑھ گئی، بار ہویں شیڈول کی ٹیکس چھوٹ 49 ارب روپے تک پہنچ گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی سپلائی پر ٹیکس چھوٹ 1496 ارب سے تجاوز کرگئی، پیٹرولیم پروڈکٹس کی امپورٹ پر ٹیکس چھوٹ 299 ارب سے بڑھ گئی، زیرو ریٹنگ کی مختلف سیکشنز کی ٹیکس چھوٹ 29 ارب سے تجاوزکرگئی۔

    عدالت سمجھتی ہے کہ عمران ضمانت کے حق دار ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے،بلاول

  • امریکا کے ساتھ بڑے پیمانے پر معاشی روابط بڑھانا چاہتے ہیں،وزیر خزانہ

    امریکا کے ساتھ بڑے پیمانے پر معاشی روابط بڑھانا چاہتے ہیں،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا کے ساتھ معاشی روابط اور ٹیرف کے حوالے سے کہاہے کہ امریکی مصنوعات پر پاکستان میں کوئی غیر ضروری جانچ پڑتال یا رکاوٹیں ہیں تو اس کاجائزہ لینے کو بھی تیار ہیں پاکستان میں امریکی فرموں کی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہیں گے۔

    عالمی جریدے بلوم برگ کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم تعمیری انداز میں آگے بڑھیں گے، جلد ہی ایک سرکاری وفد امریکا جائے گا،ہم امریکا کے ساتھ بڑے پیمانے پر معاشی روابط بڑھانا چاہتے ہیں پاکستان امریکا سے مزید کپاس اور سویا بین خریدنے کا خواہش مند ہے اسی طرح غیر ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنےپر بھی بات چیت جاری ہےتاکہ امریکی مصنوعات کے لیے پا کستا نی منڈیوں کے دروازے کھل سکیں۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکی مصنوعات پر پاکستان میں کوئی غیر ضروری جانچ پڑتال یا رکاوٹیں ہیں تو اس کا جائزہ لینے کو بھی تیار ہیں، پاکستا ن میں امریکی فرموں کی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہیں گے،خصوصی طور پر کان کنی اور معدنیات کے نئے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کا خواہشمند ہے، ترقی کے سفر میں سرمایے کے حصول کے لیے عالمی مالیاتی منڈیوں سے رجوع کریں گےپاکستان کو معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر سے نکالنا ہمارا نصب العین ہے پاکستان کو مستحکم ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔