Baaghi TV

Tag: وزیر خزانہ

  • وزیرخزانہ کا ایف بی آر کا دورہ،کارکردگی کو سراہا

    وزیرخزانہ کا ایف بی آر کا دورہ،کارکردگی کو سراہا

    وزیر خزانہ نے مالی سال 2023-24 کے لئے ہدف سے زائد محصولات جمع کرنے پرٹیم ایف بی آرکی کارکردگی کو سراہا۔

    وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات محمد اورنگ زیب نے پیر کے روز ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اورچیئرمین ایف بی آر ملک امجد زبیر ٹوانہ اور بورڈ کے ممبران کے ساتھ ملاقات کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ اور محصولات علی پرویز ملک نے بھی لاہور سے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر خزانہ نے مالی سال2023-24 کے لئے ہدف سے زائد محصولات 9311 ارب روپے جمع کرنے کی مثالی کارکردگی پرٹیم ایف بی آر کی تعریف کی اور مبار ک باد دی۔

    وزیر خزانہ نے ایف بی آر کی صلاحیتوں پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اُمید ظاہرکی کہ ریونیو ڈویژن حکومت کے مالیاتی مقاصد کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ اور محصولات نے بھی مشکلات کے باوجود محصولات کے سالانہ ہدف کو عبور کرنے پر ٹیم ایف بی آر کو سراہا۔وفاقی وزیر خزانہ نے مالی سال 2023-24 کے لئے ہدف سے زائد محصولات جمع کرنے پر چیئرمین ایف بی آر اور بورڈ کے ممبران کے ہمراہ ایف بی آر کی بہترین کارکردگی کو سراہنے کے لئے ایک کیک بھی کاٹا۔

    اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ محصولات کی وصولی، ڈیجیٹائزیشن او ر معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لئے ایف بی آر کے اقدامات کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی وزیر خزانہ

    وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مہنگائی میں مزید کمی اور صنعتوں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اونگزیب کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ نے بجٹ بحث کے دوران مثبت تجاویز دیں، جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، حکومت نے بجٹ نکات پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے، جس میں زراعت، تعلیم، اور صحت حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں،زراعت تعلیم اور صحت کے شعبے حکومت کے لیے اہم ہیں خیراتی ہسپتال کو سیلز ٹیکس سے استثنا پر غور کررہے ہیں جو دکاندار ایف بی آر کی تاجر دوست اسکیم کا حصہ نہیں بنتے ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی،ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،ٹیکس اصلاحات کے ذریعے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھارہے ہیں وقت آگیا ہے تاجر دوست اسکیم کا حصہ نہ بننے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے،قیمتوں میں بگاڑ پیدا کرنے والی سبسڈی کا خاتمہ کیا جائے گا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام کے لیے پیش رفت کررہی ہے اور کوشش ہے کہ اگلا پروگرام پاکستان کے لیے آخری پروگرام ہو، مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، ہمیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینا ہوگا،وفاقی بجٹ کا مقصد مالی خسارے کو کم کرنا ہے، بجٹ میں ان تجاویز کو اہمیت دی گئی ہے جس کے تحت حکومت وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی حکومت کےحجم کو کم کرنے اور وسائل کے ضیاع کو کم کرنے کے اقدامات فوری طور پر کیے جائیں گے،وزیراعظم کی ہدایت پر رواں مالی سال کی طرح اگلے مالی سال میں بھی سرکاری اداروں میں سادگی اور کفایت شعاری کی پالیسی جاری رہے گی،وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مالی استحکام کی کوششیں جاری رکھے گی، حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر ملک کے مجموعی مالی وسائل میں اضافے کی خواہش مند ہے، اس سلسلے میں وفاقی اخراجات کی شیئرنگ پر بھی بات چیت جاری ہے، وفاقی حکومت کے بجٹ میں توازن کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومتیں قومی نوعیت کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالیں، تمام ورائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں بات چیت کو آگے بڑھایا۔

    حکومت معاشی و اقتصادی بحالی میں قومی اتفاق رائے کو نہایت اہمیت دیتی ہے،وزیر خزانہ
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ مسلح افواج ہر وقت قوم و ملک کی حفاظت اور دفاع کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے، ہمیں اپنی افواج کی کارکردگی اور قربانیوں پر فخر ہے، نیشنل سکیورٹی اہم ترین ترجیح ہے، تمام تر مالی مشکلات کے باوجود حکومت ملکی دفاع کے لیے تمام ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے اس میں کسی بھی رکاوٹ کو آڑے نہیں آنے دے گی،ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی نے سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات پر زور دیا ہے، جس کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کررہی ہے اور اس میں سرفہرست سی پیک فیز ٹو پر عمل درآمد کروانا ہے۔ حکومت چینی ماہرین کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔ حکومت جامع منصوبے کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سازشی عناصر کا قلعہ قمع کیا جا سکے جو پاک چین تعلقات کو ٹھیس پہنچانا چاہتے ہیں، وزیراعظم اور ایس آئی ایف سی کی بدولت سعودی عرب، امارات اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے اور مستقبل قریب میں اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آئیں گی،مہنگائی میں مزید کمی لانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت نے پہلے ہی کئی اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کم اور افرط زر 38 سے کم ہوکر 11.8 تک آ چکی ہے۔ حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ مہنگائی کم سے کم ہو اور عوام کو اس کا فائدہ حاصل ہو۔ کچھ ارکان نے صنعتی شعبے کو سہولیات فراہمی پر بھی زور دیا، اس سلسلے میں وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے بجلی کے ٹیرف میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ پالیسی ریٹ اور بجلی کی قیمت میں کمی سے صنعتی شعبے کو مدد ملے گی، بجٹ میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ 81 فی صد وسائل ایسے ہی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ معیشت کو بروقت فائدہ حاصل ہو سکے، حکومتی ترجیحات میں سے ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بھی ہے، جسے فروغ دینے کے اقدامات کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ 1500 ارب میں سے 350 ارب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لیے مختص کیے گئے ہیں،میں ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ حکومت معاشی و اقتصادی بحالی میں قومی اتفاق رائے کو نہایت اہمیت دیتی ہے، اس کے لیے ہم سب کو ہرممکن تعاون جاری رکھنا ہوگا تاکہ پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام ایک بار پھر واپس دلوا سکیں

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 13 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانا ہے،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد ہیومین انٹروینشن کو کم کرنا ہے، نان فائلرز کی اختراع ختم کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے،نان فائلرز کی ٹیکسیشن میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی، مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے کر جانا ہے، سیلری سلیب ہم پہلی بار نہیں لگانے جا رہے،جولائی میں تمام ٹیکسوں کا اطلاق کیا جائے گا، تمام ریٹیلرز کو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہئیے تھا،این ٹی این نمبر ہو گا تو بیرون ملک سفر ہو سکے گا،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جائے گا، پیٹرولیم لیوی میں بتدریج اضافہ ہوگا، 10 فیصد ٹیکس ٹوجی ڈپی کی شرح ناقابل برداشت ہے،تقریباََ 31 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں،ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے،

    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس،پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل صحافیوں کا احتجاج
    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس، صحافیوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل احتجاج کیا،صحافیوں نے کھڑے ہو کر ظالمانہ ٹیکسز کیخلاف اپنا ٹوکن احتجاج ریکارڈ کروایا،صحافیوں کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھتیں، البتہ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے گئے ہیں۔دوران پریس کانفرنس سینیئر صحافی ثنا اللہ خان نے سوال کیا کہ آپ نے وزیراعظم ہاؤس، نیشنل اسمبلی، سینیٹ کا بجٹ بڑھا دیا، میڈیا میں لوگوں کو کیش تنخواہیں ملتی ہیں کیا ایف بی آر نے آج تک پوچھا؟ آپ باتیں کرتے ہیں سسٹم ٹھیک ہی نہیں کرنا چاہتے، اپنے اخراجات کم نہیں کرنا چاہتے، لوگوں پر ٹیکس لگا رہے ہیں،

    اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،علی پرویز ملک
    وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ جو راستہ شہباز شریف نے اختیار کیا وہ مشکل اور کٹھن ضرور ہے، حکومت کو کچھ وقت دیں، مقدس گائے وہ ہوتی ہے جو سسٹم سے باہر نکل کر آمدنی پیدا کررہی ہو اور ٹیکس نہ دے رہی ہو پاکستان کے علاوہ ارجنٹینا کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس قرض لینے جاتی، شہباز شریف 100 گنا ریلیف دینا چاہتے تھے، جب خسارہ بڑھتا ہے تو اس کے لیے آپ نوٹ چھاپیں یا قرض لے کر اگلی نسلوں پر بوجھ ڈالیں، تنخواہ دار طبقے میں امیر طبقہ زیادہ ٹیکس کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جا رہا تھا،نان فائلرز کو وقت دیا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں آئیں، ڈیجیٹائزیشن کے بعد نان فائلرز سے ٹیکس بھی لیا جائے گا اور پوچھا بھی جائے گا،مڈل کلاس پر ہم نے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا، ایک لاکھ روپے تنخواہ والے پر سب سے کم بوجھ ڈالا گیا ہے ،جو بھی پاکستان کی خدمت کے لئے آگے آتے ہیں، کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اسکے خلوص،نیت پر شک کریں، ہمیں دل کو وسیع کر کے مسائل پر بات کرنی ہو گی، اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،مزدور کی پہلے32 ہزار تنخواہ تھی اب 37 ہزار ہوجائیگی،پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں،ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والے پر 1200 روپت تک کا بوجھ بڑھاہے،

    وفاقی بجٹ، وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 روپے مختص
    دوسری جانب وفاقی حکومت نے مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 ارب روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت جاری منصوبوں کے لئے 5936 اور نئے منصوبوں کے لئے 14,315 ملین روپے مختص کر دیے،وفاقی حکومت نے آئندہ مالی بجٹ میں وزیراعظم ڈائرایکٹو کے تحت جموں کشمیر کے 16سو طلباء کے لئے 250 ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 میں پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات کے لئے 3200ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وزیراعظم یوتھ سکل پروگرام کے لئے 4000ہزار ملین روپے مختص کر دیے

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی 141 جاری اور 19 نئی اسکیموں کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت 60,000 ملین روپے رکھے ہیں، بجٹ دستاویز کے مطابق جاری سکیموں کے لیے تقریباً 41,871.792 ملین روپے اور نئی سکیموں کے لیے 18,128.208 ملین روپے رکھے گئے ہیں،جاری سکیموں میں افغان طلباء کو علامہ محمد اقبال کے 3000 وظائف کے لیے 900 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے اکیڈمک بلاک کی تعمیر کیلئے450 ملین روپے ، باچا خان یونیورسٹی، چارسدہ کی ترقی اور نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کی ترقی کے لیے 400 ملین روپے مختص کیے گئے، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے کیمپس کے قیام کے لیے 400 ملین روپے، کامیاب جوان اسپورٹس اکیڈمیز (ہائی پرفارمنس اینڈ ریسورس سینٹرز) اور یوتھ اولمپکس – ایچ ای سی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،بلتستان سکردو یونیورسٹی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں،فلبرائٹ اسکالرشپ سپورٹ پروگرام HEC-USAID (فیز-III) کے لیے 759 ملین روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے،ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی اوورسیز اسکالرشپس کیلئے3890 ملین روپے ، پاک-امریکہ نالج کوریڈور (فیز-I) کے تحت پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام کے لیے 3000 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹس کے قیام کے لیے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔نئی اسکیموں میں وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پروگرام آف پاکستان نے وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 6000 ملین جبکہ نظر ثانی شدہ پروگرام کیلئے 10000 ملین روپے رکھے ہیں،اسی طرح وزیراعظم کے یوتھ انٹرن شپ پروگرام کے لیے 30 ملین روپے، مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور انوویشن سینٹر کے قیام کے لیے 100 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے کے حوالے سے بریفنگ میں کہا ہے کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں تھا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں آئی ایم ایف سے معاہدہ سب سے اہم معاشی کامیابی ہے،دو طرفہ عالمی اور کثیر الجہتی شراکت داری سے بھی مثبت شرح نمو ممکن ہوا،پاکستان میں رواں مالی سال ترقی کی شرح 2.38 فیصد رہی،عالمی سطح پر توانائی اور کھانے پینے کی اشیا ءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا،
    حکومتی اصلاحاتی پالیسی سے بتدریج اقتصادی بحالی ہو رہی ہے، زرعی شعبے میں اچھی کارکردگی کی وجہ سے بھی اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہوا،زراعت کے شعبے میں گزشتہ 19 سال کے دوران سب سے زیادہ ترقی ہوئی،
    مالی سال 2024 کے دوران مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی ہو رہی ہے،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 94.8 فیصد کمی ہوئی،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں 8.1 فیصد اضافہ ہوا،معاشی اصلاحات کے نتیجے میں روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ بھی رک گیا،جون 2023 کے بعد روپے کی قدر میں 2.8 فیصد کا اضافہ ہوا،زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 14 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں،جولائی تا اپریل تجارتی خسارے میں 21.6 فیصد کمی ہوئی،سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی درست سمت کی طرف پیش قدمی ہے،حکومت مہنگائی کی شرح مزید کم کرنے کیلئے انتظامی،ریلیف اور پالیسی سطح پر اقدامات کر رہی ہے،

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب میں پرائیویٹ سیکٹر میں تھا تب میں کہتا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے ،اگر ہم آئی ایم ایف کے پا س نہ جاتے تو صوتحال مختلف ہوتی ، میں شروع سے ہی کہتا آیا ہوں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری ہے، آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،جی ڈی پی گروتھ میں بڑی صنعتوں کی گرؤتھ اچھی نہ رہی، مالی سال 2022-23 میں روپے کی قدر میں 29 فیصد کمی ہوئی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 50 کروڑ ڈالر تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے ،رواں مالی سال ریونیو کلیکشن میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے ، مہنگائی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے کل شرح سود کی کمی ہوئی ،ہمارے پاس 9 ارب ڈالرز کے ذخائر ہیں ،گزشتہ چند ماہ میں معاشی استحکام نظر آرہا ہے ،زراعت اور آئی ٹی کا آئی ایم ایف سے تعلق نہیں ، سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے ،اسلام آباد ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا مراحلہ بھی آگے بڑھا ہے، اسلام آباد ائیرپورٹ کے بعد لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی طرف بڑھیں گے ،پی آئی اے کی نجکاری کیلئے 6 پارٹیز پری کولیفائی ہوچکی ہیں،

    اقتصادی سروے کے اہم نکات کے مطابق حکومت کو اقتصادی،صنعتی ترقی، مہنگائی میں کمی اور بجلی کی پیداواری صلاحیت سمیت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی کا سامنا رہا،شرح سود 22 فیصد تک بڑھانے کے باوجود مہنگائی کم کرنےکا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔

    مالی سال 2024 میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ
    اقتصادی سروے 23-24،مالی سال 2024 میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ کیا گیا
    دوران زچگی بچوں کی اموات کی شرح میں کمی آئی،ملک بھر میں رجسٹرد ڈاکٹروں کی تعداد 2لاکھ 99 ہزار،113 تک پہنچ گئی۔رجسٹرد دانتوں کے ڈاکٹرز 36 ہراز32،نرسز کی تعداد1 لاکھ 27 ہزار 855 ہو گئی،دائیاں 46 ہزار 110، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 24 ہزار 22 ہو گئی۔2023 میں خوراک کی فراہمی کی شرح میں بہتری آئی،گذشتہ سال کے مقابلے میں شرح ساڑھے چار فیصد بہتر رہی۔

    بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 1000 ارب روپے کے اضافے کا فیصلہ
    دوسری جانب نئے مالی سال کے بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 1000 ارب روپے کے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جاری اعلامیے کے مطابق آئندہ مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے، زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 2 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.4 فیصد اور بڑی صنعتوں کی شرح نمو کا ہدف 3.5 فیصد رکھا گیا ہے، خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 4.1 فیصد اور جی ڈی پی میں مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 14.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال افراط زر کا اوسط ہدف 12 فیصد مقرر کیا گیا ہے،نئے مالی سال کے لیے وفاق اور صوبے ملکر ترقیاتی منصوبوں پر 3792 ارب روپے خرچ کریں گے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 1012 ارب روپے زیادہ ہے، وفاقی پی ایس ڈی پی 550 ارب اضافے کے ساتھ 1500 ارب روپے جب کہ چاروں صوبوں کا سالانہ ترقیاتی پلان 462 ارب روپے اضافے سے2095 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے،صوبہ سندھ ترقیاتی منصوبوں پر سب سے زیادہ 764 ارب روپے خرچ کرے گا، پنجاب نے 700 ارب روپے، خیبرپختونخوا نے 351 ارب جب کہ بلوچستان نے 281 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا ہے۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے جس کے پیش نظر چینی، گھی، چائے کی پتی اور میک اپ کا سامان مہنگا ہونے کا امکان ہے،، چینی پر سیلز ٹیکس 18 سے بڑھ کر19 فیصد ہونے سے چینی کے فی کلو نرخ میں 5 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے گھی 5 سے 7 روپے، صابن 2 سے 5 روپے اور شیمپو 15 سے 20 روپے مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

  • وزیر خزانہ  سے پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کے وفد  کی  ملاقات

    وزیر خزانہ سے پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کے وفد نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی: وفد نے معاشی حالات کی بہتری کےلیے حکومتی اقدامات کو سراہا، وفد نے وفاقی وزیر خزانہ کو کاروبار کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا، اس موقع پر وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن سے ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے گا، وفد نے ٹیکس نیٹ میں ٹیکس نہ دینے والے شعبوں کو شامل کرنے پر زور دیا اوردستاویزی کاروبار کی حوصلہ افزائی کےلیے تجاویز بھی دیں۔

    وزیرخزانہ نے وفد کے کاروبار سے متعلق تحفظات کو تسلیم کیا اور کہا کہ کمپنی ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن میں مدد کر رہی ہے، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن سے ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے گا،تاجر برادری کی پیش کردہ تجاویز پر غور کریں گے۔

    کتنے نان فائلرز کی موبائل سمز بلاک کی گئیں،تفصیلات جاری

    جب آپ اپنی عزت کا مطالبہ کرتے ہیں تو دوسروں کی بھی کریں،عرفان صدیقی

    جون کے دوسرے ہفتے سے پری مون سون شروع ہونے کی پیشگوئی

  • وفاقی وزیر خزانہ کا ایف بی آر کا دورہ،اہم اجلاس، اٹارنی جنرل بھی شریک

    وفاقی وزیر خزانہ کا ایف بی آر کا دورہ،اہم اجلاس، اٹارنی جنرل بھی شریک

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور محصولات کی وصولی کےحوالے سے ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ایک اجلاس کی صدارت کی۔

    اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر اور بورڈ کے ممبران نے شرکت کی۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے وفاقی وزیر کو رواں مالی سال کے لیے ایف بی آر کی محصولات اکٹھا کرنے کی کوششوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین نے ایف بی آر کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی بتایا۔وزیر خزانہ نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب کو بڑھانے اور محصولات کی وصولی کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے پر زور دیا۔ وفاقی وزیر نے رواں مالی سال کے محصولات کی وصولی کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے پر زور دیا۔

    اجلاس کے دوران زیر التوا قانونی مقدمات سمیت دیگر مختلف امور بھی زیر بحث آئے اور پھنسے ہوئے محصولات کی جلد از جلد وصولی کے لیے تمام زیر التوا قانونی مقدمات کو فعال طور پر آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • زرداری صاحب، رب کے ہاں سرخرو ہونا ہے تو سود ختم کروائیں، مصطفیٰ کمال

    زرداری صاحب، رب کے ہاں سرخرو ہونا ہے تو سود ختم کروائیں، مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر برائے خزانہ اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے کم از کم اجرت 32 ہزار روپے رکھی گئی ہے جو ادارے اس پر عمل نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور یقینی بنایا جائے گا کہ سرکاری اور پرائیوٹ ادارے کم از کم اجرت کے قانون پر عمل کریں

    ان خیالات کا انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کم از کم اجرت کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر کیا سرکاری اور نجی کاروباری اداروں میں حکومت کی اعلان کردہ کم از کم اجرت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ،پیپلز پارٹی کے رہنما سید آغا رفیع اللہ نے قرارداد پیش کی کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ حکومت سرکاری محکموں اور چھوٹے نجی کاروباری اداروں میں حکومت کی اعلان کردہ کم ازکم اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدمات کرئے ۔وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب خان نے کہا کہ کم ازکم اجرت 32ہزار روپے ہوگئی ہے اس پر عمل کریں گے وفاق کی حد تک اس پر عمل کروائیں گے اور صوبوں سے بھی پوچھیں گے وہاں پر بھی اس پر عملدرآمد ہو رہاہے۔ اس قانون کا نفاذ سرکاری اداروں کے ساتھ پرائیویٹ اداروں پر بھی ہوتا ہے ۔قرارداد ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔

    خدا کیلئے کم از کم قانونی معاملات پر تو سیاست نہ کریں،وزیر قانون کا زرتاج گل سے مکالمہ
    پاکستان کے آبی حقوق پر جارحیت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس زرتاج گل نے پیش کیا ۔وزیرقانون نے کہاکہ بگلیہار ڈیم کیلئے معاملہ ٹیکنیکل ایکسپرٹ کے پاس معاملہ گیا، دریائے راوی کے پانی پر استعمال کا حق بھارت کا ہے،زرتاج گل نے کہاکہ یہاں پر وزیر خارجہ کو ہونا چاہیے تاکہ مسئلے پر بات کرتے، بھارت کو ہم نے نوٹس بھجوانے تھے الٹا انہوں نے ہم بھجوادیئے، وزیر قانون نے کہا کہ خدا کیلئے کم از کم قانونی معاملات پر تو سیاست نہ کریں، حکومت کیوں بھارت کو اختیار دے گی،اس فورم پر ریکارڈ کے مطابق بات کرنی چاہیے بھارت اس ایگریمنٹ سے نکلنا چاہتا ہے تاکہ ہم پر جنگیں ہم پر مسلط کرے۔

    خسارے اب ملک برداشت نہیں کر سکتا ،وزیر خزانہ
    وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 بلین ڈالر پر جا چکے ہیں جون تک 9 سے دس بلین ڈالر تک مبادلہ کے ذخائر ہوجائیں گےہمارے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9فیصد ہے اس کو بڑھانا پڑے گاخطے میں سب سے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہے ٹیکسز لوگوں کو دینے پڑیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا، وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کس چیز پرتقریریں ہو رہی ہیں سود کے حوالے سے فیصلہ ہوچکا ہے پانچ سال کی معیاد بھی متعین ہے پچھلے سال متعدد بنک کنونشن برانچز اسلامک بینکنگ میں منتقل ہو چکی ہیں پرجوش تقریریں کس چیز پر ہو رہی ہیں اب میں اکانومی پر بات کرنا چاہتاپاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 بلین ڈالر پر جا چکے ہیں جون تک 9 سے دس بلین ڈالر تک مبادلہ کے ذخائر ہوجائیں گےہمارے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9فیصد ہے اس کو بڑھانا پڑے گاخطے میں سب سے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہے ٹیکسز لوگوں کو دینے پڑیں گےیہ ٹیکسز کا کام ہمیں کرنا پڑے گاسرکاری اداروں کا خسارہ بہت بڑھ گیا ہے یہ خسارے اب ملک برداشت نہیں کر سکتا سرکاری اداروں کے حوالے سے ہمیں لائحہ عمل طے کرنا ہوگا ملک میں زراعت اور آئی ٹی پر کام کرنے کی ضرورت ہے تقسیم کار کمپنیوں میں نقصان ہورہاہے اس کو کم کرنے کی ضرورت ہے اپوزیشن لیڈر عمرایوب ہماری اس حوالے سے راہنمائی کریں عمرایواب پاور ڈویژن کے وزیر رہے ہیں ان کو لیکیجز کا پتہ ہے،

    ستر سالوں میں ہمارے حالات کیا ہو گئےہم مسلسل اللہ اور اسکے رسول سے جنگ میں ہیں،مصطفیٰ کمال
    ایم کیو ایم کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سود اللہ اور اسکے رسول سے کھلی جنگ ہےیہ سود کی بنیاد پر اکانومی ہےمیں اللہ کی بات مانوں یا فنانس منسٹر کی بات مانوں،ہم دیکھ نہیں رہے، ستر سالوں میں ہمارے حالات کیا ہو گئےہم مسلسل اللہ اور اسکے رسول سے جنگ میں ہیں، انڈیا سے جنگ کرنے کے قابل نہیں ہیں ہم اور ہم اللہ اور اسکے رسول سے جنگ کر رہے ہیں،2022 میں سپریم کورٹ کا آرڈر آیا کہ پانچ سال میں سودی نظام کا مکمل خاتمہ ہوگاسپریم کورٹ کا ابھی تک شریعت اییلٹ بنچ نہیں بنا کسی مفتی صاحب کو یہاں لائیں جو آکے بتائے کہ یہ اللہ اور اسکے رسول سے جنگ نہیں آج ہم منافق ہیں، آج آصف علی زرداری پاکستان کے انتہائی مضبوط ترین شخصیت ہیں آصف زرداری کنگ بھی ہیں کنگ میکر بھی ہیں زرداری صاحب سے کہتے ہوں اپنی پاور کا استعمال کرتے ہوئے یہ اللہ اور اسکے رسول سے جنگ ختم کروائیں ،آج زرداری صاحب یہ کریں تو کل وہ اللہ کے سامنے سرخرو ہونگے،

    قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے تحریک ایوان میں پیش کی اور کہا کہ بلوچستان صرف رقبے کے لحاظ سے نہیں پسماندگی کے اعتبار سے بھی سب سے بڑا صوبہ ہے،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں خواتین کے لئے بہت سے اقدامات ہوئے، بی آئی ایس پی قانونی حیثیت رکھتا ہے، 9.3 ملین خاندانوں کو معاونت فراہم کی جا رہی ہے،پروگرام کی خوبصورتی یہ ہے کہ خاتون کو خاندان کا سربراہ ظاہر کیا جاتا ہے، بلوچستان میں تعلیم کو عام کرنے اور ہیومن کیپٹل کی تعمیر کی ضرورت ہے،ہم اپنی ترجیحات کو درست کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے،

  • عالمی مالیاتی فنڈ کے علاوہ کسی پلان بی کا تصور نہیں کیا جاسکتا،وزیر خزانہ

    عالمی مالیاتی فنڈ کے علاوہ کسی پلان بی کا تصور نہیں کیا جاسکتا،وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے علاوہ کسی پلان بی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف رواں ماہ کے آخر میں قرض کی قسط جاری کرسکتا ہےجون تک زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، معیشت کی بہتری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن کا دورہ مکمل کرکے آیا ہوں، آئی ایم ایف پروگرام ضروری تھا، پاکستان اسٹاک ایکس چینج کبھی نیچے تو کبھی اوپر جاتی ہے، اس وقت مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،معیشت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں، زراعت کا شعبہ 5 فیصد سے گروتھ کررہا ہے، ملکی معیشت میں ٹیکس کا حصہ 9 فیصد ہے جو خطے میں سب کم ہے۔

    دوسری جانب مارچ کے مہینے میں پاکستان میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں گزشتہ 9 برس کے دوران پاکستان میں ایک ماہ میں ہونے والی یہ سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری ہے جب کہ مارچ کے مہینے میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 30 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہیں جو پچھلے 20 ماہ میں سب سے زیادہ ہیں، مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ 619 ملین ڈالر سرپلس رہا جب کہ گزشتہ سال مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ 537 ملین ڈالر سرپلس تھا،اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں مالی خسارے میں 4 ارب ڈالر کمی ہوئی۔

  • وفاقی وزیر خزانہ کی دبئی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں

    وفاقی وزیر خزانہ کی دبئی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے دبئی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں جن میں آیانا ہولڈنگ کے چیئرمین عبداللہ بن لہیج اور محمد ہلال بن تراف المنصوری، چیئرمین ناد الشیبہ ہولڈنگ شامل ہیں۔

    انہوں نے موجودہ اقتصادی شراکت داری کی حمایت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے طریقے تلاش کیے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، انفراسٹرکچر اور ریئل اسٹیٹ کی ترقی کے شعبوں کو شامل کرنے کے لیے مزید تنوع کی تلاش کی۔انہوں نے ان مسابقتی فوائد پر روشنی ڈالی جو پاکستان کو اعلیٰ منافع اور پائیدار ترقی کے خواہاں سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثالی منزل بناتے ہیں۔وزیر خزانہ نے سرمایہ کاروں کو ان کے سفر کے ہر مرحلے میں معاونت کرنے بشمول مارکیٹ ریسرچ، ریگولیٹری رہنمائی، سرمایہ کاری کی سہولت، سرمایہ کاری کے بعد کی مدد اور ایک ہموار تجربے کو یقینی بنانے میں SIFC کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے معاشی نقطہ نظر میں بہتری دیکھ رہے ہیں ، پاکستان کو آئی ایم ایف سے نئے قرض کی توقع ہے. پاکستان نیا قرض حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے، پاکستان کی کرنسی آخر کار مستحکم ہو گئی ہے، اگلے سال تک مہنگائی شرح سنگل ہندے پر آنے کی امید ہے، 3 ارب ڈالر کا موجودہ پروگرام اپریل میں ختم ہو رہا ہے، موجودہ پروگرام اگلے پروگرام پر غور کے لیے مددگار رہا،6 ارب ڈالر قرض کے اعدادوشمار ایک اندازے سے زیادہ ہیں، اگلے ماہ آئی ایم ایف مشن اسلام آباد کا دورہ کرے گا، مشن کی آمد پر قرض کی حتمی تفصیلات کا تعین کیا جائے گا، پاکستان کا ٹیکس اور توانائی شعبوں میں اصلاحات کا ایجنڈہ ہے ، اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے کم از کم تین سال کی مدد درکار ہوگی، بیرون ملک سے پاکستان کی ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے، رواں سال ترسیلات زر 29 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • پاکستان کی آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی درخواست

    پاکستان کی آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی درخواست

    امریکہ میں موجود پاکستان کے حکومتی وفد نے آئی ایم ایف سے باضابطہ طور پر چھ سے آٹھ ارب ڈالر کے ای ایف ایف بیل آؤٹ پیکج کی درخواست کر دی ہے جس میں ماحولیاتی فنانسنگ کے ذریعے مزید بڑھانے کا امکان بھی موجود ہو اگرچہ اس کا حقیقی حجم اور ٹائم فریم تو اسی وقت طے پاسکے گا جب فریقین مئی 2024 میں اس کے بڑے خدو خال پر اتفاق رائے پیدا کریں گے

    نجی ٹی وی کے مطابق نمائندے نے واشنگٹن گئے ہوئے پاکستانی وفد کو ایک پیغام بھجوایا، پاکستان نے مئی 2024 میں آئی ایم ایف کا ریویو مشن پاکستان بھجوانے کی درخواست بھی کی ہےتاکہ آئندہ تین برس کےلیے بیل آؤٹ پیکج کی تفصیلات طے ہوسکیں،پاکستانی حکام آئی ایم ایف کے سامنے پاکستانی معیشت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن آئی ایم ایف نے اپنے ریجنل اکنامک آؤٹ لک برائے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے شعبے نے کہا ہے کہ پاکستان کے بیرونی بفرتباہ حال ہیں اور بشمول یورو بانڈزیادہ ترموجودہ قرض کی ادائیگی کی عکاسی کر رہے ہیں

    قبل ازیں آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس کے ایجنڈے میں فی الحال پاکستان کا اقتصادی جائزہ شامل نہیں کیا گیا ۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا 29 اپریل تک اجلاس کا شیڈول جاری کیا گیا ہے، جس میں پاکستان کا اقتصادی جائزہ شامل نہیں کیا گیا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ 20 مارچ 2024 کو طے پایا تھا۔آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی آخری قسط ملے گی اور آخری قسط کی حتمی منظوری کے ساتھ ہی 3 ارب ڈالر کا سٹینڈ بائی ارینجمنٹ ختم ہو جائے گا۔

    علاوہ ازیں پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ قرض پروگرام اپریل میں ختم ہو جائےگا، پاکستان ایک طویل اور بڑے قرض کی تلاش کر رہا ہے، میکرو اکنامک استحکام، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کیلئے مدد ضروری ہے، توقع ہے آئی ایم ایف کا مشن مئی کے وسط میں اسلام آباد میں ہوگا۔
    نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ نے نئے پروگرام کے سائز کا خاکہ بتانے سے انکار کیا، پاکستان اگلے پروگرام میں کم از کم 6 ارب ڈالر کا نیا ٹیب کھولے گا۔

    قبل ازیں آئی ایم ایف نے پاکستان کو دنیا کے چھ جنگ زدہ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جو شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں پاکستان کو عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا ہے اور کہا ہے کہ تنازعات اور سخت میکرو اکنامک پالیسی حالات ان کی معاشی پیداوار پر اثر انداز ہوں گے

    آئی ایم ایف کا سی پی پیز کیلئے گیس ٹیرف میں آر ایل این جی کی قیمت کے برابر اضافے کا مطالبہ

    سٹینڈ بائی معاہدے کے تحت پاکستان کو 3بلین ڈالر کی ادائیگی کی جائیگی،آئی ایم ایف

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 8 ا رب ڈالر کا نیا قرض پروگرام ملنے کی امید

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے

    قومی اسمبلی اجلاس، 7 آرڈیننس پیش،اپوزیشن کا احتجاج،تاخیر نہیں کر سکتے،سپیکر

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    مردان میں کے ایف سی کو لگے تالے حکومت نے کھلوا دیئے