Baaghi TV

Tag: وزیر خزانہ

  • اگر میں وزیر خزانہ ہوتا تو اتنی مہنگائی نہ کرتا، اسحاق ڈار

    اگر میں وزیر خزانہ ہوتا تو اتنی مہنگائی نہ کرتا، اسحاق ڈار

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وہ وزیر خزانہ ہوتے تو روپے کی قدر نہ گراتے، اتنی مہنگائی نہ کرتے اور روپے کو مینیج کرتے۔

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آپس کی بات میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں ایڈونچر نہ ہوتے تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بھارت کے ساتھ تجارت کے سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے، اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اجلاس میں کیا جائے۔

    دوسری طرف وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بات زیر غور ہے، اس وقت ٹماٹر، پیاز لینے چاہئیں، وزیراعظم سے بھی بھارت سے تجارت کھولنے کے حوالے سے بات کروں گا، اس حوالے سے فیصلے میں دوسے چاردن لگیں گے۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) جانے سے کم ازکم دیوالیہ نہیں ہوئے، سیلاب کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں،عمران خان کی حکومت نے تاریخی قرض لیے،عمران خان نے اپنے دوستوں کوایمنسٹی دی۔ہم نے عام آدمی کوڈیفالٹ سے بچایا ہے،اب ہم مہنگائی کوکم کریں گے، جومشکل فیصلے تھے وہ شہبازشریف نے کرلیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگرتحریک انصاف نے روس سے کوئی تیل لینے کا معاہدہ کیا توہمیں دکھا دیں، اس حوالے سے من گھڑت باتیں کی جارہی ہیں۔ شوکت ترین کی ٹیپ سامنے آنے پر ان کے جھوٹ سامنے آگئے ہیں، ان لوگوں نے ملک کو تماشا بنا دیا تھا، حیرت ہوئی ٹیپ سامنے آنے کے بعد بھی تیمورجھگڑا،اسد عمر پریس کانفرنس کر رہے ہیں

  • مفتاح اسماعیل صاحب عام پاکستانیوں سے بد دعائیں مت لیجئے

    مفتاح اسماعیل صاحب عام پاکستانیوں سے بد دعائیں مت لیجئے

    مفتاح اسماعیل صاحب عام پاکستانیوں سے بد دعائیں مت لیجئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتحادی حکومت کی جانب سے گزشتہ شب پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تو وزیراعظم شہباز شریف کی بھتیجی مریم نواز بھی بول پڑیں اور کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہیں عوام کے ساتھ ہیں، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی حلقوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے کہا گیا ہے کہ اب ڈالر سستا ہو رہا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں لیکن پاکستان میں بڑھا دی گئیں،سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں نے بھی حکومت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ میاں صاحب نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی اور یہاں تک کہ دیا کہ میں مزید ایک پیسے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتا اور اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تو میں اس فیصلے میں شامل نہیں ہوں اور میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم پاکستان میں بڑھ رہی ہیں۔ صرف 2 فیصد اشرافیہ کی عیاشیوں کےلیے پٹرول،بجلی سمیت ہر چیز کی قیمت میں اضافہ کرکے غریب عوام کی جیبیں خالی کی جارہی ہیں۔ پٹرول قیمت میں اضافہ مسترد کرتےہیں۔ عوام کےصبر کا مزید امتحان نہ لیں، قیمتیں اپریل کی سطح پر واپس لائیں

    لال ملہی کہتے ہیں کہ کراچی سے ہارنے والے وزیر خزانہ مفتے نے پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کی سمری پیش کی، ضمانت پر رہا وزیر اعظم نے منظوری دی۔ سزا یافتہ مریم نواز نے اعتراض کیا۔ جیل سے فرار نواز شریف نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ سونے پے سہاگا فیک اکائونٹ کے موجد زرداری نے تشویش کا اظہار کیا۔

    طاہر خان کہتے ہیں کہ میرا خیال ہےکہ وزیر خزانہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق تکنیکی باتوں سے عوام مطمئن نہیں کر سکیں گے۔مفتاح اسماعیل صاحب کا یہ دعوی کی پارٹی قیادت فیصلوں میں شامل ہے لیکن مریم نواز تو کہتی ہے کہ وہ حمایت نہیں کرتی اور میاں صاحب نے بھی مخالفت کی تھی۔وزیر کس قیادت کی بات کرتے ہیں؟

    حامد میر لکھتے ہیں کہ اس سے زیادہ ظلم کیا ہو گا کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہو رہا ہے اور شہباز شریف حکومت نے ایک دفعہ پھر تیل مہنگا کر دیا ہے تیل کی قیمت میں یہ اضافہ عام پاکستانیوں کے لئے ناقابل قبول ہے مفتاح اسماعیل صاحب عام پاکستانیوں سے بد دعائیں مت لیجئے

    سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت سےعوام پوچھتے ہیں کہ جب معشیت اپنے پاؤں پرکھڑی ہو چکی۔ ڈالرسستا ہوچکا اور عالمی منڈی میں پٹرول سال کی کم ترین قیمت پر آچکا تواسکی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں 50روپے کمی ہونی تھی پھر سات روپے مہنگا کیسے کر دیا!نالائقو،لگتا ہے آپ کو عوام کے ہاتھوں ذلیل ہونے میں مزا آتا ہے

    مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی سابق مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرا نقوی نے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے ڈالر کی قیمتوں میں کمی اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر عوام کی توقع تھی کہ حکومت انہیں ریلیف دے گی لیکن حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دے کر اپنا اصل چہرہ عوام پر عیاں کر دیا ہے مہنگائی کا شور مچا کر حکومت میں آنے والی اتحادی جماعتوں کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں حکومت نے عوام کو مزید مشکلات کا شکار کر دیا ہے موجودہ حکومت نے عوام کو مہنگائی کے ہاتھوں خوار کر دیا ہے اتحادی جماعتیں خاص ایجنڈے پر حکومت میں آئی ہیں ان کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور مہنگائی کا جن عوام کو نگل رہا ہے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    بزدار کا لاہور، ایک برس میں خواتین کے اغوا کے 680 مقدمے، 432 قتل

    نیو ایئر نائٹ، پولیس ان ایکشن،سال کے پہلے روز ہی 260 مقدمے درج

    تحریک انصاف کی مرکزی رہنما و چیئر پرسن قائمہ کمیٹی داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود اضافہ کر کے دراصل پی ٹی آئی سے وابستگی دکھانے پر عوام سے انتقام لے رہی ہے ،جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور عالمی منڈی میں قیمتیں تاریخ کی بلند سطح پر تھیں تو پی ڈی ایم والے ایسے دعوے کرتے تھے جیسے پیٹرولیم مصنوعات گوالمنڈی سے نکلتی ہیں، آج قیمتیں کئی گنا نیچے آ چکی ہیں لیکن عوام کی ہڈیوں کو بھی نچوڑا جارہا ہے ۔ اپنے بیان میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ مریم صفدر کا یہ بیان انتہائی مضحکہ خیز اورعوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف مہنگائی کے فیصلوں سے خوش نہیں ۔ پانامہ رانی سے سوال ہے کہ پھر مہنگائی کر کون رہا ہے ۔ نواز شریف جتنے بڑے انقلابی لیڈر ہیں قوم انہیں اچھی طرح جانتی ہے ،ماضی میں بھی ان کی جماعت نے ان کا استقبال کیا تھا جب ان کے چھوٹے بھائی اور مرکزی قیادت نواز شریف کا استقبال کرنے کیلئے پہنچنے کی بجائے کہیں راستہ بھٹک گئی تھی ۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف مفروری کاٹ کر واپس آرہے اور مفروروں اور اشتہاریوں کا اصل ٹھکانہ سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے

  • امریکا کا ایرانی تیل سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان

    امریکا کا ایرانی تیل سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان

    امریکا نے ایرانی تیل سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :بائیڈن انتظامیہ نے تہران کے ساتھ یہ اقدام 2015 میں طے شدہ مگر اب متروک جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے دوحہ میں دونوں ملکوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے حالیہ دور کے بعد کیا ہے۔ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی رابرٹ میلی نے اس بات چیت کو’’ضائع شدہ موقع‘‘قراردیا ہے۔

    ایران چند ہفتوں میں جوہری بم بنا سکتا ہے،امریکی ایلچی

    بدھ کے روز سامنے آنے والے نئے اقدامات میں "افراد اور اداروں کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک” نے خلیج میں قائم فرنٹ کمپنیوں کا استعمال کیا ہے اورایرانی کمپنیوں کی ایران سے کروڑوں ڈالرمالیت کی پِٹرولیم اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی مشرقی ایشیا کوترسیل اور فروخت کو آسان بنایا ہے۔

    یہ پابندیاں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب امریکی اور ایرانی سفارت کاروں نے قطر میں جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کو بحال کرنے کی کوشش کرنے کے لیے بالواسطہ بات چیت کا ایک دور کیا تھا، یہ کثیر جہتی معاہدہ تھا جس میں ایران کے خلاف پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    محکمہ خزانہ کے انڈرسیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن نے کہا کہ امریکا پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے پُرعزم ہے جو مشترکہ جامع ایکشن پلان کی تعمیل میں باہمی واپسی کا خواہاں ہے، ہم ایرانی پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکلز کی فروخت پر پابندیوں کے نفاذ کے لیے اپنے تمام حکام کا استعمال جاری رکھیں گے-

    برٹش ایئرویز نے اکتوبر تک کی اپنی مزید 10,300 پروازیں منسوخ کر دیں

    امریکا کی ان نئی پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور اداروں میں ایران میں قائم جَم پیٹروکیمیکل کمپنی بھی شامل ہے اس پرمحکمہ خزانہ نے پورے مشرقی ایشیا ایران، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ میں مقیم متعدد افراد اور کام کرنے والی کمپنیوں کو کروڑوں ڈالرمالیت کی پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کرنے کا الزام عاید کیا ہے نیزان مصنو عات کو چین بھیجنے کے لیے ایران کی پیٹروکیمیکل کمرشل کمپنی کو پہلے فروخت کیا گیا تھا-

    پابندیوں سے امریکہ میں کمپنیوں کے اثاثے منجمد ہو جائیں گے، انہیں امریکی مالیاتی نظام سے کاٹ دیا جائے گا اور امریکیوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا جائے گا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کے روز ایران، ویتنام اور سنگاپور میں مقیم اداروں کے خلاف اپنی ایران سے متعلق پابندیاں بھی جاری کیں۔

    یوگنڈا میں 120 کھرب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر دریافت:سونا نکالنے کا ٹھیکہ چین…

    سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ "امریکہ بامقصد سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہا ہے تاکہ مشترکہ جامع منصوبہ بندی (JCPOA) کے مکمل نفاذ کی طرف باہمی واپسی حاصل کی جا سکے۔”

    بلنکن نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں ’’مخلص اورثابت قدم‘‘رہا ہے مگر اس کا اسی انداز میں جواب دینے میں ناکام رہا ہے۔اس (مفاہمتی)کوشش کے نتیجے میں دونوں فریق 2015 کے جوہری معاہدے کی مکمل تعمیل میں واپس آئیں گے۔

    انہوں نے ایران پریہ بھی الزام عاید کیا کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا ہےایران کے طرزِعمل میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے ہم ایران سے پِٹرولیم اور اس کی مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کوپابندیوں کے ذریعے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

    چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور ایران کے خلاف پابندیوں کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” مہم کا آغاز کیا۔ بدلے میں، ایرانی حکومت نے اپنے جوہری پروگرام کو JCPOA کی مقرر کردہ حدود سے آگے بڑھانا شروع کر دیا۔

    صدر جو بائیڈن اور ان کے اعلیٰ معاونین کا کہنا ہے کہ وہ باہمی تعمیل کے ذریعے معاہدے کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن انھوں نے ٹرمپ کی پابندیوں کو نافذ کرنا جاری رکھا ہے اور اپنی درجنوں پابندیاں شامل کی ہیں۔

    جیسا کہ بائیڈن اگلے ہفتے اسرائیل اور سعودی عرب کا دورہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، ایران کے معاہدے کو بحال کرنے کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں، امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ معاہدے کو بچانے کا راستہ بند ہو رہا ہے کیونکہ تہران ناقابل واپسی ایٹمی مہارت حاصل کر رہا ہے۔

    گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو عالمی تعاون اور ترقی کا نیا دروازہ کھولےگا:چین

    اپریل 2021 میں شروع ہونے والے ویانا میں مذاکرات کے کئی دور JCPOA میں واپسی کو محفوظ بنانے میں ناکام رہے۔ گزشتہ ہفتے قطر میں دوبارہ شروع ہونے تک مذاکرات مہینوں سے جاری تھے تہران نے اب تک کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کے لیے واشنگٹن کی جانب سے پابندیاں ہٹانے سے انکار کا الزام لگایا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے منگل کے روز یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل کے ساتھ فون کال کے بعد ٹویٹر پر لکھا کہ معاہدہ صرف باہمی افہام و تفہیم اور مفادات کی بنیاد پر ممکن ہے،ہم ایک مضبوط اور پائیدار معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ امریکہ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ معاہدہ چاہتا ہے یا اپنے یکطرفہ مطالبات پر قائم رہنے پر اصرار کرتا ہے۔

    امریکی گلوکارہ ریحانہ دنیا کی پہلی ارب پتی امیر ترین خاتون

  • وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ہی رہنا چاہئے۔ سلیم صافی

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ہی رہنا چاہئے۔ سلیم صافی

    وزیر خزانہ کی تبدیلی بارے سوال پر ملک کے نامور صحافی سلیم صافی نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ہی رہنا چاہئے کیونکہ ملکی معیشت کا معاملہ صرف وزارت معاش کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ اس میں سفارت کاری سمیت اور بھی بہت ساری چیزیں منسلک ہوتی ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ: سفارت کاری سمیت متعدد کرداروں کی کارکردگی کے ساتھ ہی وزارت خزانہ کے کردار کو اچھا یا برا بنایا جاتا ہے کیونکہ یہ ان تمام کی کارکردگی کے ساتھ منسلک ہے۔ لہذا تمام وزارتوں کے کردار اور کارکردگی کو ملا کر ہی وزیر خزانہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
    سلیم صافی سمجھتے ہیں کہ: اس ملک میں حکمرانی اور وزیر بننے کا حق صرف اسے ہونا چاہیے جو اس ملک میں رہے اور مشکلات برداشت کرے۔

    انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مفتاح اسماعیل جیل میں رہے اور سب کچھ برداشت کیا مگر پھر بھی اسی ملک میں رہے اسی طرح احسن اقبال، فواد حسن فواد، اور احمد چیمہ وغیرہ سب اسی ملک میں رہے اور سب کچھ برداشت کیا لیکن اسحاق ڈار کیونکہ لندن چلے گئے اور واپس نہ آئے کیا انہیں واپس  نہیں آنا چاہئے تھا۔ لہذا انہوں نے ایسا کیوں نہ کیا؟

    انہوں نے دعوی کیا: مفتاح اسماعیل کا سارا کاروبار اور سب کچھ اس ملک میں ہے لیکن اسحاق ڈار کے بیٹے دوبئی میں کاروبار کرتے ہیں۔ اور پھر جو شخص خود اپنا کاروبار باہر کرتا ہے اور اولاد بھی ہے مثلا ایک وزیر اپنی اولاد اور اپنے کاروبار کو پاکستان نہیں لاسکتا تو وہ دوسروں کو اس ملک میں سرمایہ پر کیسے آمادہ کرسکتے ہیں۔

  • ن لیگی رہنما کا لندن سے پاکستان واپسی کا فیصلہ

    ن لیگی رہنما کا لندن سے پاکستان واپسی کا فیصلہ

    ن لیگ کے رہنما سینیٹر اسحاق ڈار کی پاکستان واپسی کا فیصلہ ہو گیا ہے

    اسحاق ڈار جولائی کے دوسرے ہفتے میں پاکستان آ سکتے ہیں ،نجی ٹی وی جیو کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان واپس آ کرن لیگی رہنما اسحاق ڈار پہلے بطورسینیٹر اپنا حلف لیں گے جس کے بعد وہ وفاقی وزیرخزانہ کا قلمدان سنبھالیں گے

    اسحاق ڈار علاج کے لئے لندن گئے تھے تا ہم واپس نہیں آئے تھے، اب ان کی واپسی کا پروگرام بن رہا ہے، اسحاق ڈار کو مفتاح اسماعیل کی جگہ وزیر خزانہ بنایا جائے گا، اسحاق ڈار ن لیگ کے سینیٹر ہیں تا ہم انہوں نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا، اسحاق ڈار نے ویڈیو لنک کے ذریعے حلف اٹھانے کی چیئرمین سینیٹ سے استدعا کی تھی جسے مسترد کر گیا تھا،

    موجودہ اتحادی حکومت آئی تو مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے ،رواں برس کا بجٹ بھی مفتاح اسماعیل نے پیش کیا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات بھی مفتاح اسماعیل کر رہے ہیں،مفتاح اسماعیل رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں اس لیے وہ چھ ماہ تک وزارت کے عہدے پر نہیں رہ سکتے اسی لئے اسحاق ڈار واپس آ کر وزیر خزانہ بنیں گے،

    یاد رہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر آمدن سے زائد اثاثے بنانےکا کیس ہے اور وہ نومبر 2017 میں علاج کی غرض سے لندن گئے تھے اور اس کے بعد سے وطن واپس نہیں آئے۔

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

    قبل ازیں ن لیگ کی حکومت آئی تو حکومت پاکستان نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو پاسپورٹ جاری کردیا گیا تھا،اسوقت اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام کیلئے مجھ پر بےبنیاد مقدمات قائم کیے گئے تھے، حلفا کہتا ہوں کہ کبھی ٹیکس چھپایا اور نہ ریٹرن تاخیر سے فائل کی،

    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاسپورٹ کیلئے لندن سفارتخانے میں اپنے دستاویزت جمع کروائی تھیں اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو پاسپورٹ جاری کیا گیا، نواز شریف کو جاری کئے گئے پاسپورٹ کی مدت 10سال ہے، نواز شریف کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا، نواز شریف کو عام پاسپورٹ جاری کیا گیا

  • ہم نے بجٹ میں ٹیکس نہیں بڑھایا اور عالمی سطح پر تیل سستا ہوا تو کریں گے. وزیرخزانہ

    ہم نے بجٹ میں ٹیکس نہیں بڑھایا اور عالمی سطح پر تیل سستا ہوا تو کریں گے. وزیرخزانہ

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے دعوی کیا کہ موجودہ حکومت نے بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں بڑھایا ہے اور ناہی غریب افراد پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا ہے جبکہ کاروباری طبقہ جیسے شوگر ملز وغیرہ پر ٹیکس بڑھایا ہے. جس سے امیروں پر ٹیکس لگارہے ہیں.

    وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ : میں نے پہلے دن سے کہا تھاکہ پیٹرول کی قیمت بڑھانا ضروری ہے، اور ایسے فیصلے کرنا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے لیے بہت مشکل تھے، لیکن ہم ایک ایک چیز کی قیمت کے ذمے دار ہیں چاہے ہماری غلطی ہو یا نہ ہو لہذا اب ہماری ذمہ داری ہےکہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچائیں، اور ہم نے اللہ کے کرم سےپاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے عمران حکومت کو زمہ دار ٹہراتے ہوئے کہا: پاکستان کو دیوالیہ ہونے کی نہج پر چھوڑ نے میں پچھلی حکومت کا کردار ہے۔

    مفتاح کے مطابق: دو سوار ب کا خسارہ ملا لیکن ہم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھاکر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا۔
    وزیرخزانہ نے سابق وزیراعظم عمران خان سے پوچھا کہ : وہ پاکستان کو سری لنکا کیوں بنانے جارہے تھے؟

    انہوں نے کہا: ہم ساری ساری رات بیٹھ کر آئی ایم ایف سے بات کرتے ہیں اسی وجہ سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ: اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آئی تو ہم بھی ضرور پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کریں گے.

  • خوردنی تیل کی درآمد جلد کی جائے، وزیرخزانہ

    خوردنی تیل کی درآمد جلد کی جائے، وزیرخزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملائیشیا اور انڈونیشیا سے خوردنی تیل کی درآمد کے عمل کو تیز کریں تاکہ صارفین کےلئے اس کی آسان فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کی قیمتوں میں استحکام رکھا جا سکے۔

    وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے خوردنی تیل کی دستیابی سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار سید مرتضیٰ محمود، وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین،وزارت صنعت وپیداوار اور تجارت کے سیکرٹریز، وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔

    اس موقع پر سیکرٹری صنعت نے کمیٹی کو ملک میں خوردنی تیل کے سٹاک کی صورتحال اور انڈونیشیا اور ملائیشیا سے خوردنی تیل کی درآمد کی صورتحال سے آگاہ کیا،انہوں نے بتایا کہ ملک میں خوردنی تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور اس ماہ کے دوران ملائیشیا اور انڈونیشیا سے خوردنی تیل کے ٹینکرز پہنچنے سے اسٹاک کی پوزیشن بہتر ہوگی اوراس سے قیمت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس سلسلے میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار انڈونیشیا کے حکام سے اہم بات چیت کے لیے انڈونیشیا روانہ ہو رہے ہیں۔ دریں اثناء رانا تنویر حسین نے وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے کہا کہ وہ اپنی قیمتوں پر نظر ثانی کریں اور عام آدمی کے لئے قیمتوں کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    قبل ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں،1100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی ،500ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا ،16روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے،یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں،رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے سبسڈی دی گئی، 30 ،35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں،ا گر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے ،ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی ترسیلی نقصانات بہت زیادہ ہیں ان پرکام نہیں ہو رہا ہے ،ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے 2 اعشاریہ 4 بلین کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں،پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، ہمیں معیشت سنبھالنا ہوگی،فروری میں آئل اور پیٹرول پر سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی اگر مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا،عمران خان نے پورے ملک کے ساتھ ٹوپی گھمائی ہے،اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ،ہمیں بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے،ہم 90 میں بنگلہ دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پیٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جا رہے،اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں،گیس اورپاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے،ہماری معیشت اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتی

  • مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں،وزیر خزانہ

    مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا گیا ،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں،1100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی ،500ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا ،16روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے،یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں،رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے سبسڈی دی گئی، 30 ،35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں،ا گر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے ،ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی ترسیلی نقصانات بہت زیادہ ہیں ان پرکام نہیں ہو رہا ہے ،ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے 2 اعشاریہ 4 بلین کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں،پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، ہمیں معیشت سنبھالنا ہوگی،فروری میں آئل اور پیٹرول پر سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی اگر مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا،عمران خان نے پورے ملک کے ساتھ ٹوپی گھمائی ہے،اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ،ہمیں بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے،ہم 90 میں بنگلہ دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پیٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جا رہے،اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں،گیس اورپاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے،ہماری معیشت اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتی

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ کوشش کی کہ امیر لوگوں کا حصہ ملک کو مشکل سے نکالنے میں استعمال کریں ،خوردنی تیل کا مسئلہ ہے، وزیر اعظم نے انڈونیشیا کے صدر سے بات کی ،پرسنل انکم ٹیکس کم کرنے کی کوشش کی ہے، انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کو فکس کر کے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے آئندہ 15دن میں اسمبلی اور سینیٹ میں تقاریرہوں گی،بجٹ میں آئندہ 15دن میں کچھ چھوٹی تبدیلیاں ہوں گی، عوام کے پیسوں سے ملک چلتا ہے،بجٹ سے متعلق ہر بات مکمل لکھی ہے،انکم ٹیکساورسیلز ٹیکس کو فکس کر کے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے،ہم نے35 اور40 فیصد بجٹ بڑھایا ہے پام آئل مہنگا ہوگیا اس پرہم سبسڈی دیں گے نہیں لگتا کہ عالمی مارکیٹ میں یل کی قیمتیں کم ہونگی ،25ہزار دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کریں گے دکانداروں پر معمولی ٹیکس عائد کررہے ہیں،ٹیکس لیکیجز پر کمیٹی بنار ہے ہیں،کسٹم کے کچھ سکینرز لگائے ہیں تا کہ لیکج کم سے کم ہو،بجٹ میں ہر جگہ کٹ لگانے کی کوشش کی فوج کا بجٹ بھی تحریری طور پر موجود ہے، کوئی چیز چھپا نہیں رہے پی ڈی ایل کا ٹیکس لگے گا تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا،ای او بی آئی کے معاملے کو ابھی دیکھا نہیں بعد میں دیکھیں گے،فاٹا کے اوپر ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا فاٹا کے آوٹ اسٹینڈنگز ہیں جن پر کام کررہے ہیں،نجکاری کمیشن کی جانب سے جن کمپنیوں کو ریڈی فار سیل رکھا گیا وہ کام مکمل ہوگا کمپنیوں کو نجکاری کی طرف لے جانا وزیراعظم کا عز م ہے کسی وزیراعظم نے اتناقرضہ نہیں لیا جتنا عمران خان نے اپنے دورمیں لیا،عالمی سطح پر معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے میں نااہلی بھی شامل تھی اس وقت تحائف رشوت کے طور پر دیئے جاتے تھے سب ہمارے سامنے ہیں ہماری ترجیح گزشتہ حکومت پرکیسزبنانا نہیں ،معیشت ٹھیک کرنا ہے ،خواہش ہے ملک میں کسی کوبھی 2 ہزاروظیفے کی ضرورت نہ پڑے امید ہے صوبوں کےوزرائےاعلیٰ سستا آٹا اور چینی فراہم کرنے پر غور کریں گے،این ایف سی ایوارڈ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں افسوس ہے کہ این ایف سی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہیں آئے ملک میں 37 فیصد لوگ ماہانہ 40 ہزار سے کم کماتے ہیں،عمران خان ہمیں جیل میں بند کرنے کے علاوہ کام کرتے توبجلی کا بحران نہ ہوتا،بجٹ ڈالر کے کس ریٹ پر بنا ہے اس کا جواب نہیں دونگا،ہم کسی پارلیمینٹرین کے لیے کوارٹر نہیں بنا رہے ہیں،

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا،چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے،وزیر خزانہ

    ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا،چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے،وزیر خزانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جب بھی شرح نمو بڑھتی ہے،کھاتوں کے جاری خسارے میں پھنس جاتے ہیں،

    مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجراکی تقریب ہوئی اس موقع پر وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، وزیرتوانائی خرم دستگیر، وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال،وزیرمملکت عائشہ غوث پاشا بھی موجود تھے ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ جاری کھاتوں کا خسارہ آپے سے باہر ہوگیا ہے درآمدات پچھلے سال کے حساب سے 48 فیصد بڑھی ہے،درآمدات میں پچھلے سال کی نسبت 48 فیصد اضافہ ہوا ،برآمدات 28 فیصد بڑھی ،ہمیں 60 فیصد قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے،5 اعشاریہ6 بلین ڈالرزرمبادلہ کم ہوا، معیشت کی سمت کو سدھارنے کی ضروت ہے،عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے تیل مہنگا کرنا پڑا،مشکل فیصلے لینے پڑے، اب ہم استحکام کے راستے پر آ گئے ہیں،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے،تجارتی خسارہ 45 بلین ڈالر تک پہنچ گیا،ہمیں زیادہ اس طرف جانا ہے جہاں سے برآمدات میں اضافہ ہو سکے،

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں تمام صنعتوں کو گیس دے رہے ہیں جب غریب کو مراعات دیں گے وہ گروتھ انکلوسیو تو ہوگی لیکن مستحکم نہیں ہوگی چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے، اگر سابق حکومت جھوٹ کا بیانیہ چھوڑ دیتی، تو شاید اس وقت اتنی مہنگائی نہیں ہوتی حکومت کوئی طویل المدتی سودے نہیں کر رہی ،شیخ رشید خود کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب نے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں،بارودی سرنگیں کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے تھیں، برآمدات 28 فیصد بڑھی،

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اکنامک سروے کو اوریجنل بیس پر لے جائیں گے تو منظر بدل جائے گا، سروے کی بڑی ہٹ میرے شعبے نے دی ہے،ہماری معیشت میں پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ سے پرائیویٹ سیکٹر چلتی ہے،پاکستان کا دفاعی اورترقیاتی بجٹ ایک ایک ہزار ارب تھا، ہمارے دور میں دونوں شعبے ملک کو ہم پلہ ہو کر مضبوط کر رہے تھے،2013میں ملک بجلی نہیں تھی ، بد امنی تھی،مسلم لیگ ن نے لوڈ شیڈنگ ختم کردی اور امن و امان کو بحال کیا،کوئی حکومت نہیں چاہتی وہ 60روپے تیل کی قیمت اضافہ کریں ،کوئی حکومت اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی،سابق حکومت عوام کے ساتھ دھوکہ کر کے گئی ہے،

    اگلے مالی سال کا بجٹ 10جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

  • وزیر خزانہ آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ کل پیش کریں گے

    وزیر خزانہ آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ کل پیش کریں گے

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ کل پیش کریں گے-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں وفاق کے اخراجات کا تخمینہ 8894 روپے ہوگا،وفاقی بجٹ 2022-23 کا کل حجم 9500 ارب روپے ہونے کا امکان ہے،فیڈرل بورڈ آف ریونیو 7255ارب کا ٹیکس جمع کرے گا،نان ٹیکس کی مد میں 1626 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا-

    مہنگائی کی اوسط شرح 8فیصد کے ہدف کی نسبت 13.3 فیصد تک پہنچ گئی

    ذرائع کے مطابق وفاق سے صوبوں کو 4215 ارب روپے منتقل ہوں گے،دفاعی بجٹ کے لیے 1586 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ،آئندہ مالی سال 1232 ارب روپے کی گرانٹس دی جائیں گے،قرض اورسود کی ادائیگیوں پر3523 ارب روپےکا تخمینہ اور حکومتی امور چلانے کےلیے 550 ارب روپے کا تخمینہ،پنشن کی مد میں 530 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ جبکہ سبسڈیز کی مد میں 578 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا-

    پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 587 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 8894 روپے ہوگا، بجٹ میں توانائی شعبے کےلیے 500 ارب روپے کی سبسڈی کا تخمینہ،بجٹ میں آئی پی پیز کو 190 ارب روپے کی سبسڈی کا تخمینہ لگایا گیا ،بجٹ میں آر ایل این جی کی مد میں 20 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی –

    ذرائع کے مطابق زیرو ریٹڈ سیکٹر کو ایل این جی کی فراہمی پر سبسڈی دی جائے گی جبکہ بجٹ میں صنعتوں کے لیے 52 ارب روپے کی سبسڈی کا تخمینہ لگایا گیا ہے-

    غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے،صدر عالمی بینک