Baaghi TV

Tag: وزیر داخلہ

  • عمران خان کی حراست کے دوران دوسرے کیس میں گرفتاری درست. وزیر داخلہ

    عمران خان کی حراست کے دوران دوسرے کیس میں گرفتاری درست. وزیر داخلہ

    نگران وزیر داخلہ سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی حراست کے دوران دوسرے کیس میں گرفتاری درست ہے جبکہ نجی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر داخلہ سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت جڑانوالہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، واقعے میں ملوث 150 سے زیادہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، واقعے کے ماسٹر مائنڈ کے قریب پہنچ چکے ہیں جلد گرفتار کریں گے، واقعے میں بیرونی سازش کا کہہ کر بری الزمہ نہیں ہو سکتے ہیں۔

    جبکہ نگران وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) کے اجتماع پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی، حملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں ، میرا خیال ہے کسی اور نے حملہ کیا، سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹی ٹی پی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے، ماضی میں ان کے ساتھ مذاکرات کے نام پر وقت ضائع کیا گیا، لڑائی لڑیں گے، آپریشن کریں گے، انہیں بلوں میں جا کر ماریں گے، پاکستان میں داعش کی کوئی آرگنائز موجودگی نہیں، افغانستان کے مختلف علاقوں میں داعش موجود ہے۔

    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو دفاعی اداروں پر حملے کی پلاننگ چیئرمین پی ٹی آئی نے کی، 9 مئی پاکستان، فوج اور اداروں کیخلاف سازش اور تباہ کن منصوبہ تھا، دفاعی اداروں کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا گیا تھا، واقعات میں ملوث ملزم یا ملزمہ دونوں کو قانون کی نظرمیں ایک ہی طرح ڈیل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی کے حوالے سے ہمارے سامنے کوئی چیزنہیں آئی، محسوس ہوتا ہے عدالتیں چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں کام کر رہی ہیں، لگتا ہے چیئرمین پی ٹی آئی عدالتوں کے پسندیدہ شخص ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کیخلاف مہم پر جےآئی ٹی بنادی ہے، مہم چلانے والوں کیخلاف تحقیقات کریں گے، موجودہ حالات سے نکلنے کا پلان موجودہے، انتخابات کرانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، شفاف الیکشن کیلئے حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔

  • کوشش ہے کہ عمران خان کو عدالت سے سزا ہو. وزیر داخلہ

    کوشش ہے کہ عمران خان کو عدالت سے سزا ہو. وزیر داخلہ

    وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ کوشش ہے کہ منافق اعظم یعنی عمران خان کو عدالت سے سزا ہو، لیکن پی ٹی آئی کے چیئرمین کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ نجی ٹی وی بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین لوگوں کو چور کہتا تھا اور خود اس کا عمل کیا تھا، توشہ خانہ کی کرپشن پر کرپشن کو بھی شرم آجائے۔

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ حکومت کے بہت سنجیدہ قسم کےتحفظات ہیں، کچھ لوگوں کی آڈیو سامنے آنے کے بعد ان کے خیالات پر کوئی شک شبہ نہیں رہ گیا، پہلے ہی پتہ ہوتا ہے کہ یہ بینچ بنا اور یہ فیصلہ ہوگا، فیصلے سے پہلے کہا جائے یہ فیصلہ آئے گا تو پھر کیا چیز رہ جاتی ہےِ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین کو اب بھی ریلیف ملنے کا امکان ہے، تاہم کوشش ہے کہ منافق اعظم کو عدالت سے سزا ہو۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے پاس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی تمام پراکسیز کے ثبوت موجود ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک سے باہر بیٹھا فسادی ٹولہ اداروں کے خلاف مہم جوئی کرتا ہے، اس ٹولے نے لسبیلہ ہیلی کاپٹر کے شہدا کے خلاف مہم جوئی کی، آرمی چیف اور اہم شخصیات کے خلاف خطرناک سوشل میڈیا مہمات چلائیں، یہ تمام لوگ سابق وزیراعظم کی پراکسیز ہیں اور ایف آئی اے کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں، اس پر کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایکسپریس ٹرینوں کی وقت کی پابندی 59فیصد سے کم
    عالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کا بھی ذکر
    سونا ایک بار پھر مہنگا ہونے لگا
    سوات مینگورہ لینڈ سلائیڈنگ ،چار بچوں کی دب جانے کی اطلاع
    ڈالر 250 روپے کی سطح پر آنے کی پیش گوئی
    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر آزادی اظہار رائے کا سہارا لے کر خطرناک کھیل کھیلتے ہیں ان کے خلاف ثبوت آچکے ہیں، ایسی حرکتوں سے اگر کوئی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ داری یہ ہی شخص ہو گا۔

  • اسلام آباد اور پنجاب سے فوج واپس بلانے کا فیصلہ

    اسلام آباد اور پنجاب سے فوج واپس بلانے کا فیصلہ

    اسلام آباد اور پنجاب سے فوج واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وفاقی دارالحکومت میں فوج تعیناتی کے حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ نے شہر میں فوج کی تعیناتی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا،چیف کمشنر آفس نے وزارت داخلہ کو مراسلہ بھیج دیا-

    مراسلے میں وزرات داخلہ سے کہا گیا کہ عوامی مفاد میں 10 مئی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج لگائی گئی تھی، اسلام آباد میں امن و امان صورتحال اطمینان بخش ہے۔

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے 10 مئی کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صوبے میں فوج کی تعیناتی کا آرڈر واپس لے لیا محکمہ داخلہ پنجاب نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا نوٹیفکیشن کے مطابق 10 مئی کو فوج کی تعیناتی کا آرڈر آرٹیکل 245 کے تحت جاری کیا گیا تھا، جو صورتحال معمول پر آنے کے واپس لے لیا گیا ہے۔

    جبکہ خیبرپختونخوا سے فوج کو واپس بلانے کے لیے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

    یاد رہے کہ 10 مئی کو وفاقی وزارت داخلہ نے امن وامان کے قیام کے لیے اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں فوج تعینات کرنے منظوری دی تھی جس کے بعد 15 مئی کو بلوچستان میں بھی فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی اسلام آباد میں آرٹیکل 245 کا اطلاق 10 مئی کو کیا گیا تھا۔

  • آئین اور عدالتی فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی گئیں،عمران خان

    آئین اور عدالتی فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی گئیں،عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے رانا ثنااللہ کی پریس کانفرنس پر ردعمل د یا ہے-

    باغی ٹی وی: وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہناتھاکہ اگر کسی کو جیلوں میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کیےجانے کی اطلاعات پر کوئی شک تھا تو اب اس سند یافتہ (سرٹیفائیڈ) مجرم کی اس پریس کانفرنس کے بعد سارے شکوک و شبہات دور ہو جانے چاہیے۔


    عمران خان نے کہا کہ یہ شخص یقینی طور پر ان خوفناک کہانیوں کو (ایک سازش کے جواز میں) چھپانے اور قبل از وقت ان کا پردہ چاک کرنے کی آڑ میں ذمہ داری سے فرار کی کوششیں کررہا ہے، جو عنقریب منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔

    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نہایت واجب الاحترام خواتین کو آج سے پہلے ریاست نے کبھی اس طرز کی بدسلوکی اور ہراسگی کا نشانہ نہیں بنایا جیسے پر امن احتجاج کے اپنے بنیادی حق کے استعمال کی پاداش میں انہیں اس فسطائی حکومت کی جانب سے بنایا جا رہا ہے۔


    عمران خان نے رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمر ایوب اور شہزاد اکبر جو اس وقت ملک میں نہیں ہیں ان کے گھروں میں بھی رات کے وقت چھاپے مارے گئے آج ہم تاریک دور میں رہ رہے ہیں، جس میں آئین اور عدالتی فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی گئیں، بغیر وارنٹ کے گھروں کو توڑا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی، میڈیا کو دبایا گیا اور ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے والا کوئی نہیں۔


    عمران خان نے کہا کہ حکام کی جانب سے علی نواز اعوان کی رہائشگاہ کو منہدم کرنے اور ان کے گھر کے مرکزی دروازے کو گرانے کیلئے کی جانے والی افسوسناک اور نہایت بزدلانہ کارروائی ہوئی جس کی شدید مذمت کرتا ہوں علی نواز کی ضعیف والدہ اور ان کی ہمشیرہ جن کا شمار خصوصی افراد میں ہوتا ہے، معذوری کے باعث اس رہائش گاہ میں مقیم ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ اب تک کے اقدامات سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم سرکار اخلاقیات نام کی کسی شے سے واقف نہیں مگر کم از کم اللہ کے غضب سے تو ڈرے، جسے یہ اپنے ان فسطائی اقدامات کے ذریعے دعوت دے رہے ہیں۔

  • ایجنسیوں نے پی ٹی آئی کی نئی منصوبہ بندی ناکام بنا دی ،رانا ثنااللہ

    ایجنسیوں نے پی ٹی آئی کی نئی منصوبہ بندی ناکام بنا دی ،رانا ثنااللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی ایجنسیوں نے ایک گفتگو پکڑی ہے جس میں دو طرح کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی اور اس پر آج رات ہی عمل ہونا تھا۔

    باغی ٹی وی: پریس کانفرنس میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملک کی ایجنسیوں نے ایک گفتگو پکڑی ہے جس میں دو طرح کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی اور اس پر آج رات ہی عمل ہونا تھا گفتگو پی ٹی آئی کے کسی ایک رہنما کے گھر چھاپے سے متعلق ہے اور دوسرا ڈرامہ یہ تھا کہ ریپ ایکٹ کیا جائےمقصد تھا کہ ریپ ایکٹ کا الزام قانون نافذ کرنےوالے اداروں پر لگایاجائے اور ریپ ایکٹ کا معاملہ عالمی سطح پر لاکر تحریک انصاف کیخلاف زیادتی کا پراپیگنڈہ کیا جاسکے۔


    انہوں نے کہا کہ منصوبہ بنایا گیا کسی پی ٹی آئی رہنما کے گھر چھاپے کے دوران فائرنگ بھی ہو، انھوں نے اب انتہائی گھٹیاڈرامہ رچانے کی منصوبہ بندی کی ہے، عمرانی فتنے کا مقصد تھا کہ لوگوں کو گمراہ کیاجائے، یہ ڈرامہ آج رات کیے جانے کا امکان تھا لیکن ایجنسیوں نے بروقت اسے ناکام بنایا، اسی لئے ضروری سمجھا کہ اس شیطانی پلان سے قوم کو آگاہ کیا جائے-

    فیصل آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے 9 مئی کئے واقعات سے متعلق رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو یہ خوف کہ جو مقدمے بنے ان پر انہیں سزا نہ ہو جائے جناح ہاؤس میں قائد اعظم رہتے رہےحملہ آؤر وہاں سے لیپ ٹاپ اور دیگر چیزیں اٹھا کر لے گئےعمران خان کی گرفتاری کے خلاف پرتشدد احتجاج کے دوران لوٹ مار کے تمام ثبوت موجود ہیں، یہ کہتے تھے عمران کی گرفتاری ریڈ لائن ہوگی جس کا مطلب تھا ہم فوج کے خلاف احتجاج کریں گے وزیر آباد حملے میں عمران خان نے اپنے قتل کا الزام فوج کے سینئر آفسر پر لگایا، انہوں نے نفرت کا بیج نوجوان نسل کے ذہنوں میں بویا اور اب کہہ رہے ہیں جلدی سے جلدی مذاکرات کرو۔

    خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی گروپ بندی شروع

    وزیر داخلہ نے کہا کہ تمہارے ساتھ بات چیت کریں تو شہدا کی فیملیز ہمیں نہیں چھوڑیں گی؟ لانگ مارچ کے دوران کسی نے عمران سے کہا کہ شہباز شریف نے مذاکرات کا کہا ہے جس پر انہوں جواب دیا تمہاری اوقات کیا ہے جو مجھے مذاکرات کا کہو۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جو کہتے تھے ہم اسلام آباد آرہے ہیں، رانا ثنا تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملےگی جس پر میں نےکہاتھا آؤ تمہیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے اور آج وہ ٹی وی پر آکر کہتے ہیں 8 دن قید تنہائی کاٹی ہے اور پی ٹی آئی کو چھوڑ رہا ہوں جب کہ کوئی کہتا ہے 12 دن جیل کاٹی ہے، اب سیاست کو ہی خیرباد کہہ رہا ہوں حوصلہ کرو، اب اپنے کئے پر کھڑے ہو-

    عمران خان سمجھ رہے تھے بہت اسمارٹ پولیٹکس کر رہے ہیں،فیصل واوڈا

    انہوں نے کہا کہ ملک میں الیکشن کی آمد ہے، نظر آرہا ہے مسلم لیگ ن حکومت بنائے گی۔

  • عمران خان کا مقصد ملک میں انارکی پھیلانا ہے،ایک سال سے ان لوگوں کی ٹریننگ کررہا تھا،راناثناءاللہ

    عمران خان کا مقصد ملک میں انارکی پھیلانا ہے،ایک سال سے ان لوگوں کی ٹریننگ کررہا تھا،راناثناءاللہ

    اسلام آباد: وزیر داخلہ راناثناء اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کا مقصد ملک میں انارکی پھیلانا ہے، اس فتنے نے ملک کو نقصان پہنچایا۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اس فتنے نے ایک کلٹ تیار کیا ہے، اس نے اپنی جماعت میں نفرت و عناد، جلاؤ گھیراؤ، اوئے توئے کا کلچر، کسی کو نہیں چھوڑوں گا کا کلچر متعارف کرایا۔

    کاش عمران خان جیسا ریلیف ہمیں بھی ملتا،خواجہ آصف

    وزیردخلہ نے کہا کہ یہ احتجاج کسی سیاسی کارکنوں کانہیں تھا،سیاسی مخالفین کے گھروں پر حملے کرنا پاکستانی کلچر نہیں ہےپیپلزپارٹی اور ن لیگ نے کبھی ایک دوسرے کے گھروں پرحملے نہیں کیےمخالفین کے گھروں پر حملے کا کلچر تحریک انصاف نے شروع کیا،تحریک انصاف کے لوگوں نے پہلے لوٹ مار شروع کی پھر آگ لگائی

    انہوں نے کہا کہ شہداء کی یادگاروں کو آگ لگانے میں کون سی سیاست ہے، دفاعی تنصیبات کا آگ لگانا ہمارا کلچر نہیں، کون سا سیاسی ورکر ایمبولینس اور اسکولوں کو آگ لگا سکتا ہے پشاور میں مویشی منڈی کو لوٹا گیا اور جانوروں کو آگ لگا دی، ایسا کون کرتا ہے؟، ہم کہتے رہے یہ سیاسی لیڈر نہیں فتنہ ہے عمران خان کا کام ملک میں افراتفری پھیلاناہےعمران خان ایک فتنہ ہےتین دن ملک میں فتنہ فساد، حساس تنصیبات کے اوپر حملے کیے گئے-

    رانا ثناءاللہ نے کچھ اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار پوری ذمہ داری سے دے رہا ہوں مئی کو آئی سی ٹی (اسلام آباد) میں 12 جگہوں پر مظاہرے ہوئے، ان مظاہروں میں 700 تک افراد شریک تھے،پنجاب میں 9 مئی کو 221 جگہوں پر مظاہرے ہوئے، پورے پنجاب میں 18 ہزار تک لوگ ان مظاہروں میں شریک ہوئے، کے پی کے میں 126 مقامات پر مظاہرے ہوئے، ان میں 22 ہزار تک مظہرین شریک تھے-

    عمران خان رہا، پارٹی رہنما جیلوں میں، خواتین رہنماؤں کو رہا کرنیکا حکم

    انہوں نے کہا کہ 11 مئی کو آئی سی ٹی میں 4 جگہ، پنجاب میں 12 اور کے پی میں 39 جگہ پر احتجاج ہوا، ان مظاہروں میں 7 سے 8 ہزار کے قریب افراد تھے 9 مئی کو پورے پاکستان میں 45 ہزار لوگ باہر نکلے، 10 مئی کوان کی تعداد میں کمی ہوئی، 23 کروڑلوگوں میں سے 40 سے 45 ہزار لوگ احتجاج کے لیے باہر آئے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان ایک سال سے ان لوگوں کی ٹریننگ کررہا تھا، ان کو پیٹرول بم بنانے کے طریقے سمجھائے جارہے تھے، ہر جگہ پر ایک ہی طرز کی غلیلیں ہیں، مخصوص غلیلوں میں بنٹے ڈال کرپھینکیں توشدید زخم آتا ہےجن لوگوں نے حملے کیے ان کے گھر یہاں نہیں ہیں ؟-

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قوم کے 60ارب روپے لوٹے جس کے دستاویزاتی ثبوت موجود ہیں ، وہ کہہ بھی نہیں سکتا کہ میں نے نہیں لوٹے خزانے میں پیسے جمع کرانے کے بجائے ایک ٹائیکون کو دے دیئے، اس کے بدلے 6 سے 7 ارب کی پراپرٹی لی، دو ارب ان کا فرنٹ مین شہزاد اکبر لے اڑا، اب وہ موج میلہ کررہا ہے۔عمران خان سے پوچھنا ہے یہ کونسی سیاست ہے یہ باقاعدہ کہتا رہا اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو اس طرح ردعمل کرنا ہے ۔

    سلمان خان کو دھمکی آمیزای میل کرنے والا کون ہے پولیس نے پتہ لگا لیا

    انہوں نے مزید کہا کہ دکانوں، منڈیوں، اسلحہ کی دکان کو لوٹا گیا، کئی مقامات پربینکوں کر لوٹنے کی کوشش کی گئی،جناح ہاؤس لاہور سے کپڑے تک لوٹے گئے، جو ہاتھ لگا لوٹ لیا گیا، لوٹ مار کے بعد آگ لگا دی گئی۔

    وزیرِ داخلہ نے کہا کہ جب ملزم سامنے آتا ہے تو چیف جسٹس کہتے ہیں ویلکم ،اتنا ریلیف تو پاکستان کی آئینی تاریخ میں کسی کو نہیں ملا، سرکاری رہائش گاہ پر مہمان بنانے کے انتظامات کیے جاتے ہیں، اس کی مرضی کے مہمان بلانے کا بھی انتظام کیا جاتا ہے، جب چیف جسٹس خوش آمدید کرے اور جاتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کرے، اس کے بعد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس کی کیا مجال ہوتیَ-

    وزیرداخلہ نے کہا کہ انہوں نے وہاں (عدالت میں) جو مانگا انہیں دیا گیا، شکر ہے کہ انہوں نے اپنی ضمانت پر ہی اکتفا کیا ہے، کہا گیا کہ جن مقدمات کا معلوم بھی نہیں ان میں بھی ضمانت دے دیں قوم کو اس فتنے کو ووٹ کی طاقت سے نکالنا ہوگا۔

    حریم شاہ کی رانا ثنا اللہ کو دھمکی،انٹر نیٹ بحال،عوام ٹک ٹاکر کی مشکور

    ان کا کہنا تھا کہ ویلکم کیا تو ہمیں اندازہ ہوگیا تھاکہ کیا ہوگا، بلینکٹ ریلیف کے بعد بھی ہم نے کہا کہ آپ کی سیکیورٹی ہمارے ذمہ ہے توہین عدالت لگتی ہے تو دیکھ لیں گے۔ بلاول نے کہا کہ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کی پالیسی کوہم اچھا نہیں سمجھتے، لیکن اگر ان کا رویہ اور طریقہ یہی رہا تو میں افسوس سے کہتا ہوں کہ پھر ہمیں اس پر مجبور ہونا پڑے گا شرپسندوں کامحاسبہ کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔

  • عمران خان وہ فتنہ ہے جو ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف لے جارہا. رانا ثناءاللہ

    عمران خان وہ فتنہ ہے جو ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف لے جارہا. رانا ثناءاللہ

    عمران خان وہ فتنہ ہے جو ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف لے جارہا ہے. رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے بعد عدالت کے مقام پر جانبداری کا سایہ آ گیا، موجودہ صورت حال ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف لے کر جا رہی ہیں۔ جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے خلاف 50 سے 60 ارب خرد برد کا الزام ہے، چیف جسٹس نےعمران خان کےلیےنیک خواہشات کا اظہارکیا، چیف جسٹس نے اپنےمنصب کے شایان شان بات نہیں کی، انصاف کی دھجیاں اڑانےوالےفیصلےعدم استحکام کاباعث بنتےہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ آج جو ہوا اس کے بعد کسی بھی بات کی توقع کی جا سکتی ہے، عدالت کے مقام پر جانبداری کا سایہ آ گیا، ایسے تو فیصلے میز اور عدالت پر نہیں، سڑکوں پر ہوں گے، موجودہ صورت حال ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف کے کر جا رہی ہیں۔

    رانا ثناء اللہ نے مزید کہا ہے کہ فتنے کی شناخت نہ کی گئی تو یہ ملک کو انارکی کے سپرد کر دے گا، فتنے نے ثابت کر دیا وہ ملک میں انارکی اور افراتفری چاہتا ہے، فتنہ ملک کو کسی حادثے سے دو چار کرنا چاہتا ہے، گزشتہ 2 روز میں بھی عوامی ردعمل نہیں آیا، ان کی کال پر کل اسلام آبادمیں نہ لوگ پہنچیں گے نہ عوام پہنچے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ کل ہائیکورٹ جانے کی کوشش کرنے والوں کو روکا جائے گا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا عمران کو دیکھ کر خوشی ہوئی، چیف جسٹس نے عمران خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا، یہ بات ان کے منصب کے شایان نہیں ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انصاف کی دھجیاں اڑانے والے فیصلےعدم استحکام کا باعث بنتے ہیں، آج جو ہوا اس کے بعد کسی بھی بات کی توقع کی جاسکتی ہے.

  • وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے،

    عدالت نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کر دی، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج رانا زاہد اقبال نے فیصلہ سنایا اور وفاقی وزیر داخلہ ،ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے، عدالت نے رانا ثنا اللہ کو 28 مارچ کو پیش کرنے کا حکم دے دیا،

    پولیس نے عدالت کو وارنٹ کی عدم تعمیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی تعمیل کروانے کے لیے فیصل آباد گئے لیکن رانا ثنا اللہ نہیں مل سکے ،ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کے وکلا کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی،جسے عدالت نے مسترد کر دیا،

    پی ٹی آئی کی اتحادی سابقہ حکومت پنجاب نے 2021 اپریل اور جنوری 2022 میں عدلیہ اور سرکاری افسران کو دھمکیاں دینے کے الزام میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا تھا،درج ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 15 اپریل 2021 اور 29 جنوری 2022 کو اپنی تقاریر میں رانا ثناء اللہ نے عدلیہ کو اپنا فرض ادا کرنے سے روکنے اور پنجاب پولیس کے افسران کے بچوں کو مارنے کی دھمکی دی تھی

  • عمران خان کو پیش ہونا پڑے گا،ورنہ پیش کر دیا جائے گا،وزیر داخلہ

    عمران خان کو پیش ہونا پڑے گا،ورنہ پیش کر دیا جائے گا،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ صحافیوں پر حملے کی انکوائری کرنے کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت کا جو فیصلہ آیا وہ قبول ہوگا،ہمارے جوان دہشتگردی کے خلاف اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں،13 زخمی اور3 افراد کی حالت تشویشناک ہے،8پولیس اہلکار اور ایک شہری واقعے میں شہید ہوا،دہشتگردی کا ناسور ختم کرنے سے پیچھے نہیں ہٹاجائے گا، صوبائی حکومتوں کے تمام وسائل برقرار رکھے ہیں صوبوں سے جو جو وعدہ کیا گیا اسے پورا کیا جارہا ہے،دہشتگردی کی موجودہ لہر کو جلد سے جلد قابو اور ختم کیا جائے گا، مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے انتہائی سینئررہنما ہیں، مولانا فضل الرحمان کی رائے پر اجلاس ہونے جارہا ہے، کابینہ بھی الیکشن سے متعلق موقف پیش کر سکتی ہے، مولانا کی رائے قابل قدر ہے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ن کی رائے اہم ہے،ان حالات میں الیکشن کمپین کرنا تو کم از کم ممکن نہیں،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کامزید کہنا تھا کہ الیکشن سے متعلق فیصلہ تو الیکشن کمیشن نے کرنا ہے ،ان حالات میں الیکشن مہم کرنا تو کم از کم ممکن نہیں،الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ الیکشن مہم کے دوران جلسے جلوسوں پر پابندی لگائے،اگر کوئی امیدوارپابندی نہ کرے تو انہیں نااہل قرار دیا جائے، جو ٹیم کل لاہوروارنٹ لے کرگئی تھی،اس پر پی ٹی آئی والوں نے بڑا ڈرامہ کیا،پہلے سنا وہ دیوار پھلانگ کر کہیں ہمسائے کے گھر چلے گئے، بعد میں وہ کھڑے ہوگئے اور لمبی چوڑی تقریر بھی جھاڑ دی،پولیس تو انہیں آگاہ کرنے گئی تھی،انہوں نے آگے سے ڈرامے شروع کردیے جو رات گئے تک جاری رہے ،جس دن اُسے گرفتار کرنا ہوا اور عدالت پیش کرنا ہوا، زیادہ دور نہیں ہے، پیش کر دیا جائے گا، کچھ چیزیں اتنی واضح ہیں، کون انہیں تبدیل کر سکتا ہے ،انہوں نے پاکستان کے خزانے کو 50 ارب کا ٹیکہ لگایا اور القادر ٹرسٹ کے نام زمین کروائی یہ کہہ دے رجسٹری جعلی ہے، میں نے ایسا نہیں کیا، ایک دن یہ بیان سامنے نہیں آیا، عمران خان کو عدالت میں جواب دینا پڑے گا اسے عدالت پیش ہونا ہوگا،عمران خان کو چاہیے اپنے الزامات کا جواب دے، عدالت بری کرتی ہے ہم تسلیم کریں گے، عدالت سزا دیتی ہے تو بھگتے، اپنی باری آئی ہے تو سامنے آئے، عدالت کو فیس کرے، جو فیصلے آئے اُسے قبول کرے،آئندہ آنے والی تاریخوں میں عمران خان کو پیش ہونا پڑے گا، ورنہ اِسے پیش کر دیا جائے گا، فرح خان کو ای سی ایل سے نکال کر نہیں بھیجا گیا، وہ فرار ہوئیں،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں پوری کوشش کے باوجود افغان بارڈرسے ڈالر کی اسمگلنگ نہیں روک سکے،اسی لیے وہاں پر اور پاکستان میں ڈالر کے ریٹ اتنا بڑا فرق ہے،اس میں اسحاق ڈار کی کارکردگی کا قصور نہیں ہے،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • سانحہ پشاور کے بعد ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے،خواجہ آصف

    سانحہ پشاور کے بعد ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پشاور پولیس لائنز دھماکہ سانحہ اے پی ایس سے کم نہیں، اس وقت بھی تمام سیاستدان اکھٹے ہوئے تھے، اس وقت بھی قوم کو تمام تر اختلافات کے باوجود اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پشاور پولیس لائنز میں 100افراد کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی گئی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی ایوان میں دعا کی گئی، جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے دعا کروائی۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ روز پشاور میں سانحہ پیش آیا،آرمی پبلک اسکول کا سانحہ بھی نہیں بھولے، 2010 سے2017 تک دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی، مسلم لیگ ن نے اپنے دور میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پشاور پولیس خودکش حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے تاہم اس کا فیصلہ قومی سلامتی کی کمیٹی کرے گی امید ہے وزیراعظم آپریشن ضرب عضب جیسا کوئی فیصلہ کریں گے ماضی کی طرح اس وقت بھی قومی سطح پر دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب جیسے آپریشن کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پشاور پولیس لائن مسجد پر خود کش دھماکے میں 100 افراد کی شہادت سانحہ آرمی پبلک اسکول سے کم نہیں۔ اس وقت قوم کو تمام تر اختلافات کے باوجود اتفاق رائے کی ضرورت ہے اے پی ایس سانحہ کے وقت بھی تمام سیاستدان اکٹھے ہوئے تھے لیکن ہمیں ماضی پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ جب روسی فوج افغانستان میں داخل ہوئی تو ضیا دور میں ہم امریکی جنگ میں کود گئے۔ روس واپس چلا گیا اور امریکا خوش ہوگیا لیکن خمیازہ ہم نے بھگتا اور پھر مشرف دور نائن الیون میں دوبارہ اس حصہ کا بن گئے پریڈ لین میں جو کچھ ہوا ہم بھول گئے-

    خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چن چن کے وہ بچے شہید کئے گئے جن کے والد سوات آپریشن میں حصہ لے رہے تھے، ایک دو سال پہلے ان لوگوں کو یہاں لا کر بسانا تباہ کن فیصلہ ثابت ہوا،دہشت گردوں کا کلمے یا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، عبادت کے وقت حملہ ہمارے دشمن ممالک میں بھی نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈیڑھ دو سال قبل جو بھی فیصلے کئے تھے وہ اس ہاؤس نے قبول نہیں کئے تھے، کل پشاور میں بہائے جانے والے خون کا حساب کون دے گا؟ یہ کون بتائے گا کہ کون آکر لوگوں کے پیاروں کی جان لے گیا؟

    وزیر دفاع نے کہا کہ اس پوری جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہم نے بھگتا پشاور پولیس لائنز سانحہ اے پی ایس سانحے سے کم نہیں پھر ان دہشت گردوں کو واپس لانے کی باتیں ہوئیں اور اب ہم کیسے شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو کیسے بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی جتنی مذمت کی جانی چاہئے اتنی آواز نہیں آ رہی، دہشت گردی کے خلاف ساری قوم کو متحد ہونا چاہیے، اس جنگ میں کوئی لکیر نہیں کھینچی گئی، دہشت گردی کسی مذہب یا فرقے کی پہچان نہیں رکھتی، ایوان میں اس مسئلے پر صرف تقریر نہیں ہونی چاہیے، ہماری افواج نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

    خواجہ آصف نے فرقہ واریت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کی مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسا دنیا میں کہاں ہوتا ہے اسرائیل میں بھی مساجد میں ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہوا، نمازیوں پر مسجد میں حملہ نہ بھارت میں ہوتا ہے نہ اسرائیل میں، نائن الیون میں ہمیں دھمکی ملی ہم ڈھیر ہوگئے، افغانستان کی جنگ ہماری دہلیز پر آگئی-

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ ساڑھے چار لاکھ افغانی قانونی دستاویزات پر پاکستان آئے اور اب وہ واپس نہیں جائیں گے۔ معلوم نہیں ان میں سے کون معصوم شہری ہے اور کون دہشت گرد ہے ہمیں امریکا کا حواری بننے کے بجائے پہلے اپنا گھر درست کرنا چاہیے۔ دوحہ مذاکرات میں طالبان نے لکھ کر یقین دلایا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر 126 ارب ڈالرز لگا دیا، فوج اور سول افراد کی 83 ہزار قربانیاں ہیں، اب تو ہم آپس میں بھی دہشت گردی کرتے ہیں، اب تو سیاست، زبان اور اعمال کی بھی دہشت گردی آگئی ہے، پچھلے پانچ سال میں عوام کا جس طرح مزاج بدلا اس کی گواہی سوشل میڈیا سے مل جائے گی، پاکستان میں آج کل ایک شخص باؤلا ہوگیا ہے، کبھی کہتا ہے کہ خطرناک ہوجاؤں گا اور کبھی کچھ اور ہوجائے گا 126 بلین ڈالرز ہم نے کھویا ہے جب کہ ہم ہی 400 اور 500 ملین ڈالرز کیلئے ساری دنیا میں بھیک مانگتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے اپنا پورا کا پورا ملک گروی رکھ دیا ہے، ہمیں سپر پاورز کا آلہ کار بننے کا شوق بڑا پرانا ہے، ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے، ہمیں امریکہ کے کہنے پر جنگ نہیں لڑنی چاہیے، چاہتے ہیں امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں مگر ان کی باتوں پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر قیمت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پشاور واقعے پر ہر پاکستانی افسردہ ہے، ہمیں مجاہدین تیار کرنے کی ضرورت نہیں تھی، لوگوں کو مجاہدین ہم نے بنایا اور وہ خود دہشت گرد بن گئے، روزانہ فوج اور ایف سی کے لوگ قربانیاں دے رہے ہیں، قوم فوج اور قانون نافذ کرنے والوں کےساتھ ہے۔

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ یہاں وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی آئیں گے، پہلے کی طرح پارلیمنٹیرینز کو بریفنگ دی جائےگی، وزیراعظم اور عسکری قیادت بھی ایوان کی رہنمائی حاصل کریں گے، اب کم و بیش وہی صورتحال ہے جو دس بارہ سال پہلے تھی، ہماری پالیسی آج بھی اے پی ایس سانحےکے بعد والی ہے۔