اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی-
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی چار پانچ زبانیں بولتی ہے،ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں، ہمیں بتائیں ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخواحکومت الگ اوراسمبلی میں بیٹھنے والے الگ زبان بول رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جولوگ باہربیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے، باہربیٹھ کر جولوگ پاکستان کےخلاف بولتے ہیں یہ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے، یہ صرف پی ٹی آئی کی نیت کا فتور ہے، پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایاگیا ہے وہ بھائی ہے اپنا اور میں محمود اچکزئی کا بڑا احترام کرتا ہوں، میرا ان کی سیاست سے اختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن میرا ان سے بڑا برادرانہ تعلق ہے، بہت اچھی بات ہےکہ وہ اپوزیشن لیڈر بنےہیں میں ان کو ویلکم کرتا ہوں، نواز شریف اور شہباز شریف مجھےحق دیتے ہیں کہ میں ان سے اختلاف کرسکتا ہوں حالانکہ کوئی وزیر اعظم اپنے وزرا کو یا ورکرز کو اتنی اسپیس نہیں دیتاجتنی شہبازشریف دیتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں یہ لوگ ایک رول ماڈل ہیں۔
دریں اثنا قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں کراچی میں جو واقعات ہو رہے ہیں، وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں ایک موثر نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے ضلع، تحصیل اور وارڈ کی سطح پر منتقل ہوں۔
خواجہ آصف کے مطابق نہ تو کہیں مؤثر لوکل گورنمنٹ ہے، اور جہاں ہے وہاں بھی اختیارات نہیں ہیں۔ پاکستانی عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے لیے ملک میں ایک مضبوط اور مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹم لانا ضروری ہے،جب تک آپ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو بااختیار نہیں بنائیں گے تب تک یہ ہاؤس بے معنی ہوگا۔ اگر ہم نے واقعی پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرنی ہے تو پہلے عوام کو گلی محلے میں نمائندگی دیں۔ جب تک گلی محلے والوں کی نمائندگی نہیں ہوگی تو وہاں کوئی فائربریگیڈ نہیں ہوگا۔ پھر وزارت دفاع کا فائر بریگیڈ آ کر آگ بجھائے گا۔‘
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ 28ویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے اور اس کے مؤثر نظام کے قیام کی تجویز دی گئی تھی، اور اس پر اتفاق رائے بھی موجود تھا۔ تاہم حکومت کو اس سے پیچھے ہٹنا پڑاستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی فوجی ڈکٹیٹرز آئے تو انہوں نے بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرایا۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف تینوں نے یہ نظام متعارف کرایا۔ ہر 5 سال بعد باقاعدگی سے انتخابات ہوتے رہے ہم لوگ الیکشن ہی نہیں کرواتے اگر شیڈول آ جائے تو ہمارے صوبائی دارالحکومت کسی نہ کسی حیلے بہانے سے اختیارات نیچے منتقل کرنے سے ہچکچاتے رہتے ہیں بلکہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ یہ پاور گراس روٹ لیول پر نہ جائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ لوکل گورنمنٹ سے اوپر آئے اور ملک کے صدر بنے ایک پراسیس سے گزر کر چینی قیادت سامنے آئی وہ پیرا شوٹ کے ذریعے نہیں اتری،کراچی میں آگ بجھانے میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ملک کو ایک ایسے سسٹم کی ضرورت ہے تمام ضلعو ں، تحصیلوں، محلوں میں لوکل گورنمنٹ کا نمائندہ ہو اور لوگوں کو شکایت ہو تو وہ اس کے گریبان پر ہاتھ ڈال سکیں اس طرح لوگوں کے مسائل حل ہوں گے، لوگ بااختیار ہوں گے انہیں حقوق ملیں گے کراچی کا واقعہ خطرے کی گھنٹی ہے ہمیں کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں بامعنی آئینی ترمیم منظور کرکے پوری قوم کو بااختیار کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرائیں۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت تک یکساں نصاب تعلیم ہو، تاکہ ہماری نئی نسل پاکستانیت کے ساتھ ساتھ اپنی صوبائیت کو بھی پہچانے۔ اس میں کوئی مفادات کا تصادم نہیں تھا۔ نصاب تعلیم ایک قومی شناخت دیتا ہے۔ لیکن اسے بھی ہمیں ڈراپ کرنا پڑا کیونکہ اس پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔




