Baaghi TV

Tag: وسائل

  • وسائل سے محروم علاقوں کو ترجیح دی جائے گی،محسن خان لغاری

    وسائل سے محروم علاقوں کو ترجیح دی جائے گی،محسن خان لغاری

    صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ خزانہ کی وزارت بہت بڑی ذمہ داری ہے،ان کی کوشش ہوگی کہ فنڈز صوبہ کی مساوی ترقی کےلئے استعمال ہوسکیں ،وسائل سے محروم علاقوں کو ترجیح دی جائے گی .

    نذیر چوہان کی ضمانت کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    ڈیرہ غازی خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن منصوبوں پر کام ہوچکا ہو،ان کو روکنا سب سے بڑا ظلم اور نالائقی ہے۔ن لیگ کی حکومت نے چوہدری پرویز الہی کے دور میں وزیر آباد میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ اور پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت پر دس سال تک کام روکے رکھا اور اس کےلئے خریدی گئی مشینری باہر پڑی زنگ آلود ہوکر خراب ہوگئی،یہ منفی سوچ نہیں رکھنی چاہیئے ۔

     

    پی ٹی آئی کا نیا چیئرمین منتخب کیا جائے،عمران سے صلح ملک سےغداری ہوگی،راجہ ریاض

     

    ڈیرہ غازی خان میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ سمیت صوبہ بھر میں شروع کئے گئے منصوبے سردار عثمان بزدار کے ذاتی کام نہیں بلکہ یہ علاقہ کی بہتری اور ضرورت کے کام ہیں،انشاء اللہ عاشورہ کی چھٹیوں کے بعد چارج سنبھالتے ہی ان کی پہلی ترجیح ہوگی کہ ان منصوبوں کی تکمیل کو دیکھا جائے۔

    صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ کوہ سلیمان،پوٹھوہار کے علاقے جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں وہاں ڈیم بنانے سے قبل اعدادوشمار اکٹھے کئے جاتے ہیں اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کام کرکے رود کوہیوں کا پانی جو یہاں نقصان کرتا ہے اس کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ رود کوہیوں کے پانی کو دریا تک محفوظ راستہ دینا ہوگا۔پانی کی گذرگاہوں میں تجاوزات اور رکاوٹیں کھڑی کرنے سے مسائل بڑھے۔قدرت کو ہم روک نہیں سکتے۔پہاڑوں اور راستوں میں سٹرکچر تعمیر کرکے سیلابی پانی کے تیز بہاؤ کو کنٹرول اور محفوظ راستہ دینے کےلئے کام کرنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری کو سیلاب سے متعلق معاملات کی نگرانی کےلئے ضلع ڈیرہ غازی خان کی ذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں اسی سلسلے کے تحت انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس میں قائم کنٹرول روم کا معائنہ کیا ۔رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی ،ڈہٹی کمشنر محمد انور بریار اور دیگر موجود تھے۔

  • ملکی ترقی کیلئے ہنرمند افرادی وسائل میں جلد اضافہ ضروری ہے، صدرعارف علوی

    ملکی ترقی کیلئے ہنرمند افرادی وسائل میں جلد اضافہ ضروری ہے، صدرعارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جامعات کو آن لائن ذریعہ تعلیم کی جانب منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامعات یونیورسٹی ایڈوائزری بورڈز تشکیل دے کر ان میں انڈسٹری، زراعت اور خدمات کے شعبوں سے ماہرین کو بطور ممبران شامل کریں، تیز رفتار ملکی ترقی کیلئے قلیل مدتی آن لائن اور ہائبرڈ کورسز کی مدد سے ہنرمند افرادی وسائل میں جلد اضافہ ضروری ہے۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی اور یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    صدر مملکت نے زور دے کر کہا کہ وژن اور تزویراتی رہنمائی کی فراہمی کیلئے جامعات کی سینیٹ کو فعال بنایا جائے، جامعات یونیورسٹی ایڈوائزری بورڈز تشکیل دے کر ان میں انڈسٹری، زراعت اور خدمات کے شعبوں سے ماہرین کو بطور ممبران شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایڈوائزری بورڈز کے قیام سے جامعات کے نصاب میں مسلسل بہتری لانے میں مدد ملے گی، انڈسٹری اور جامعات میں روابط سے نجی شعبے کو مارکیٹ ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کیلئے تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں میں مدد ملے گی اور ہماری مصنوعات اور خدمات کے معیار اور قیمتوں کے تناظر میں علاقائی اور عالمی منڈیوں میں مسابقت میں مدد ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ کی یونیورسٹیوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے اور اپنی مہارتوں اور علم کو مؤثر بنانا چاہیے، پبلک سیکٹر جامعات کو نجی شعبے اور صنعت کے ساتھ مل کر مارکیٹ کی ضروریات پر مبنی تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ جامعات کو چار سالہ ڈگری کورسز اور پی ایچ ڈی پروگراموں کے علاوہ کم مدتی ہنرمند تربیتی ڈگریاں اور ڈپلومہ پروگرام شروع کرنے چاہیئں، جامعات چیمبرز آف کامرس کے تعاون سے تیار کردہ مختصر مدتی ڈپلومہ پروگرام بھی شروع کریں۔

    صدر مملکت نے کہا کہ صنعتکار طلب اور رسد کے فرق سے تیزی سے نمٹنے کیلئے ہنرمند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی فراہمی میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تعلیمی ادارے تیزی سے سیکھنے اور طالب علموں کی تعداد میں اضافہ کیلئے فزیکل ایجوکیشن سے ہائبرڈ اور آن لائن ایجوکیشن کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، پاکستانی جامعات کو ترقی یافتہ ممالک کے بہترین آن لائن تعلیمی طریقوں کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنی آن لائن اور فاصلاتی تعلیمی پالیسی پر مسلسل نظرثانی کرے، ایچ ای سی جامعات کو آن لائن تعلیم کی طرف راغب کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی اپنے فیکلٹی ممبران اور طالب علموں کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں اپنے 24 ہزار کورسز کو بھرپور انداز میں پیش کرے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی اپنے نصاب اور طریقہ کار میں مزید بہتری لائیں اور ایسے ممالک کو اپنی اکیڈمک اور تعلیمی مصنوعات کی پیشکش کریں جن ممالک بالخصوص اسلامی ممالک میں آن لائن اور ورچوئل تعلیمی نظام غیرفعال یا موجود نہیں ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ طلبا اور فیکلٹی ممبران میں تنازعات، بے چینی اور تقسیم کی بنیادی وجوہات جاننے کیلئے جامعات اپنے نصاب اور تعلیمی نظام کا جامع جائزہ لیں، جامعات یقینی بنائیں کہ فیکلٹی اور طلباء پوری توجہ علم حاصل کرنے پر مرکوز رکھیں جو کہ یونیورسٹیوں کا کلیدی مقصد ہے۔ صدر مملکت نے معاشرے اور مسلم امہ کے مفاد میں تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدت کے فروغ کیلئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔

    قبل ازیں ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے مسلسل سرپرستی اور رہنمائی پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے تمام شعبوں میں بہتری کیلئے دی گئی ہدایات کے تناظر میں یونیورسٹی کی جانب سے عملدرآمد کیلئے کئے گئے اقدامات سے متعلق آگاہ کیا۔

  • انتظامی نا اہلی اور علاقائی تعصب ۔۔۔ زین خٹک

    انتظامی نا اہلی اور علاقائی تعصب ۔۔۔ زین خٹک

    ضلع کرک خٹک قوم کا مسکن ہے۔ جہاں پر اکثریت خٹک قوم کی ہے۔ 1982 میں جب کرک کو علیحدہ ضلع بنا یا جارہا تھا۔ تو اس کی پشت پر یہ سوچ حاوی تھی کہ یہ خٹک اکثریت ضلع ہوگا جہاں پر مساوات اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو گی۔ لیکن یہاں کی نااہل سیاسی قیادت نےذاتی مفادات کےلئے خٹک قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ نتیجتاً یہاں کی عوام آج خٹک کی شناخت سے زیادہ نصرتی، لنڈ، عیسک، ماشی خیل، وژدے، بانڈہ وال کی شناخت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔لیڈر کا کام عوام کو لیڈ کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر لیڈر نہیں بلکہ ذاتی مفادات پرست، لالچی، خودغرض،تنگ نظر، معتصب اور بیو پار قابض ہیں۔ جن کو یہاں کی عوام سے کچھ غرض نہیں صرف انتخابات میں علاقہ پرستی، تنگ نظری اور تعصب پھیلاتے ہیں۔ یہ اب ہمارا پیدائشی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب 90 کی دہائی میں لتمبر میں ڈگری کالج قائم ہوا تو ان سیاسی پنڈتوں نے کالج لتمبر کی بجائے ایک اور علاقے میں منتقل کر دیا۔ کالج کے لیے شاندار بلڈنگ تعمیر ہوئی۔ 1996 میں ہائی سکول لتمبر کو کالج بلڈنگ میں منتقلی کا حکم نامہ جاری ہوا۔ لیکن اہلیان لتمبر ڈھٹ گے بالآخر 2001 میں مشرف دورہ حکومت میں لتمبر کو جائز حق مل گیا۔ یہ ایک واحد مثال نہیں بلکہ ان سیاسی پنڈتوں کی تنگ نظری اور متعصبانہ رویہ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ طبقہ عوام مفادات اور اجتماعی کاموں کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ کرک کی مثال ماں ہے اور ہر باسی بیٹا ہے۔ ہر بیٹے کی ضروریات کو پورا کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج تحصیل بانڈہ داؤد شاہ اور لتمبر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ گڈی خیل میں کینسر کی وباء ہے۔ تھل اور بہادر خیل میں پانی کی قلت ہے۔ کرک شہر میں اعلی یونیورسٹی اور ہسپتال کی ضرورت ہے۔ چونترہ میں تعلیمی اداروں اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔ آج ان سطور کی وساطت سے کرک کے تعلیم یافتہ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان پنڈتوں کی متعصبانہ، تنگ نظری اور خود غرضانہ سوچ کو شکست دے کر کرک کے تمام باسیوں کو اپنائیت کا پیغام دیں۔ ہم ان پنڈتوں کی تقسیم کو نہیں مانتے ہماری پہچان کرک ہے۔ آئیں ملکر کرک کو عظیم ضلع بنائیں۔ ہر باسی اپنے حصہ کا کردار ادا کریں۔