Baaghi TV

Tag: وسیم عباس

  • لاہور میں علی عباس کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری

    لاہور میں علی عباس کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری

    لاہور میں علی عباس کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری
    وسیم عباس کے بیٹے علی عباس آج کل لاہور میں موجود ہیں اور یہاں ان کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری ہے ۔علی عباس کا سپیل 30تاریخ سے شروع ہو گا لیکن باقی کاسٹ کے ساتھ لاہور سے باہر شوٹنگ چل رہی ہے ۔علی عباس کے ساتھ اس کی کاسٹ میں منیب بٹ ،میکال ذوالفقار ، کاشف محمود ،کومل میر ،علی طاہر ،اسماءعباس و دیگر شامل ہیں ۔ڈرامہ سیریل قلندر کے ڈائریکٹر کا نام صائمہ وسیم ہے لکھاری ثمرہ بخاری ہیں جبکہ پرڈیوسر میکال ذوالفقار ہیں ۔علی عباس اس ڈرامے میں ایک اہم کردار میں نظر آرہے ہیں ۔علی عباس کا شمار پاکستان کے ڈرامہ انڈسٹری کے ان فنکاروں میں ہوتا ہے

    جو یہ نہیں دیکھتے کہ جو کردار ان کو آفر کیا گیا ہے وہ منفی ہے یا مثبت بلکہ وہ کردارکو دیکھتے ہیں اس میں اداکاری کی کتنی گنجائش ہے ۔علی عباس نے منفی کرداروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ علی عباس بہت زیادہ بولڈ اور بلنٹ بھی ہیں جو چیز اچھی نہ لگے بول دیتے ہیں لگی لپٹی نہیں رکھتے ۔وہ کہتے ہیںپاکستان میں جو ایوارڈز دئیے جاتے ہیں وہ سفارشی ہوتے ہیں یوں وہ ایوارڈز دئیے جانے کے عمل پر اکثر انگلی اٹھاتے ہیں ۔علی عباس کہتے ہیں کہ وہ جو بھی پراجیکٹ سائن کرتے ہیں سوچ سمجھ کر کرتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسا کوئی کردار یا کہانی نہ ہو جو شائقین کے لئے بوریت کا باعث بنے ۔علی عباس چند دن تک قلندر کی شوٹنگ کےلئے لاہور میں ہی موجود رہیں گے ۔

  • والد عنایت حسین بھٹی ہم سے عشق کرتے تھے:وسیم عباس

    والد عنایت حسین بھٹی ہم سے عشق کرتے تھے:وسیم عباس

    فوک گلوکار عنایت حسین بھٹی کی 23ویں برسی کے موقع پر ہم نے ان کے بیٹے وسیم عباس سے خصوصی گفتگو کی ۔وسیم عباس نے کہا کہ ان کے فن پر کیا بات کروں میں بطور بیٹا ہی بات کروں گا ۔انکی یادیں دل میں آج تک زندہ ہیں اورہر وقت دل و دماغ پر چھائی رہتی ہیں ماں باپ کا یقینا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ماں باپ کا سایہ درخت کے سائے کی طرح ہوتا ہے ، چھن جائے تو دنیا ہی اجڑ جاتی ہے ہمارے والد اپنی اولاد سے پیار نہیں عشق کرتے تھے پیار تو بہت ہی چھوٹا لفظ ہے۔مجھے یاد ہے کہ میرے پاس اپنے والد کی نسبت چھوٹی گاڑی تھی اور میرے والد مجھے کہا کرتے تھے کہ تم بڑی گاڑی لو تو میں کہا کرتا تھا کہ اچھا لے لوں گا اب میں نے اگر کہیں دور دراز شوٹنگ کے سلسلے میں جانا ہوتا تھا

    تو وہ اُس دن کیا کرتے کے میرے اٹھنے سے پہلے ہی میری چھوٹی گاڑی لیکر جا چکے ہوتے مقصد یہ ہوتا کہ میںان کی گاڑی میں جاﺅں میں نے ایک دن امی سے پوچھا ابو ایسا کیوں کرتے ہیں تو امی بولیں کہ تمہارے والد چاہتے ہیں کہ تم محفوظ گاڑی میں جاﺅ۔اسی طرح سے ان کو جب معلوم پڑتا کہ میرے کسی بچے کی طبیعت خراب ہے تو کہیں بھی ہوتے چاہے شہر سے باہر ہی کیوں نہ ہوتے اپنا کام چھوڑ کر واپس گھر آجاتے اورگھر آکر کہہ دیتے کہ میرا تو کام ہی جلدی ختم ہو گیا ۔تو اس طرح سے وہ ہماری کئیر کرتے تھے ہوتے ہیں سبھی کے باپ ایسے لیکن میرے باپ کی خصوصیات ایسی تھیں کہ رشک آتا ہے کہ کوئی باپ اتنا بھی اچھا ہو سکتا ہے۔عنایت حسین بھٹی کے دور کے تمام فنکار ہی سونا تھے میرے والد عوامی گلوکار تھے جو بھی گیت گایا وہ آج تک سپر ہٹ ہے ۔