Baaghi TV

Tag: وسیم عباس

  • وسیم عباس نے صبا حمید کے ساتھ طلاق کی تصدیق کر دی

    وسیم عباس نے صبا حمید کے ساتھ طلاق کی تصدیق کر دی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار وسیم عباس نے اداکارہ صبا حمید سے اپنی طلاق کی تصدیق کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دونوں کئی برس پہلے ہی الگ ہو چکے تھے، جبکہ قانونی طور پر ان کی شادی 29 سال بعد ختم ہوئی۔

    شوبز کی دنیا میں وسیم عباس اور صبا حمید کو ایک بہترین اور مضبوط جوڑی مانا جاتا تھا ، لیکن اب وسیم عباس نے تصدیق کر دی ہے کہ وہ دونوں کئی سالوں سے ایک دوسرے سے الگ رہ رہے تھے وسیم عباس نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ صبا حمید کے ساتھ ان کی یہ دوسری شادی 29 سال تک چلی، انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ دونوں پچھلے 14 سال سے ایک دوسرے سے الگ رہ رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ الگ ہونے کے باوجود انہوں نے ایک ساتھ کام بھی کیا دونوں کے درمیان تعلقات خوشگوار رہے اور کبھی کبھار دوستوں کی طرح باہر کھانا کھانے بھی جاتے تھے اگر آگے بھی انہیں کسی ڈرامے میں ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو وہ ضرور کریں گے اور ان کے دل میں ایک دوسرے کے لیے کوئی برائی یا رنجش نہیں ہے۔

    وسیم عباس نے کہا کہ مجھے اس طلاق سے بالکل بھی دکھ نہیں ہوا کیونکہ ہمارے درمیان اب وہ جذبا ت ہی نہیں بچے تھےانہوں نے بتایا کہ ان دونوں کی آپس میں کوئی اولاد بھی نہیں ہے ان کے صباحمید کے گھر والوں کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقا ت رہے ہیں میں نے ہمیشہ محبت سے زیادہ عزت کو اہمیت دی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ فیصلہ بالکل صحیح تھا ہم دونوں نے کبھی بھی میڈیا یا عوام میں ایک دوسرے کے خلاف کوئی بری بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔

    دوسری شادی کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنی اس دوسری شادی کو کوئی بہت بڑی غلطی تو نہیں کہتا، کیونکہ مجھے اس وقت یہ فیصلہ بہت اچھا لگتا تھا مگر اگر آج میں پیچھے مڑ کر دیکھوں تو شاید یہ ایک غلطی ہی تھی اور مجھے اس رشتے کے ختم ہونے کا رتی بھر بھی افسوس نہیں ہے۔

    تیسری شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا ایسا کوئی پلان نہیں ہے ان کے پاس ان کے بچے ہیں، وہ دادا بن چکے ہیں، جبکہ پہلی بیوی بھی اسی گھر میں رہتی ہیں اس لیے ان کی نظر میں اب شادی کرنا مناسب نہیں ہے۔

    وسیم عباس کے انکشاف کے بعد شوبز حلقوں اور سوشل میڈیا پر اس خبر پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، جبکہ مداح دونوں فنکاروں کے باوقار انداز میں علیحدگی اختیار کرنے کو سراہ رہے ہیں، تاہم صبا حمید کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  • لاہور میں علی عباس کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری

    لاہور میں علی عباس کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری

    لاہور میں علی عباس کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری
    وسیم عباس کے بیٹے علی عباس آج کل لاہور میں موجود ہیں اور یہاں ان کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری ہے ۔علی عباس کا سپیل 30تاریخ سے شروع ہو گا لیکن باقی کاسٹ کے ساتھ لاہور سے باہر شوٹنگ چل رہی ہے ۔علی عباس کے ساتھ اس کی کاسٹ میں منیب بٹ ،میکال ذوالفقار ، کاشف محمود ،کومل میر ،علی طاہر ،اسماءعباس و دیگر شامل ہیں ۔ڈرامہ سیریل قلندر کے ڈائریکٹر کا نام صائمہ وسیم ہے لکھاری ثمرہ بخاری ہیں جبکہ پرڈیوسر میکال ذوالفقار ہیں ۔علی عباس اس ڈرامے میں ایک اہم کردار میں نظر آرہے ہیں ۔علی عباس کا شمار پاکستان کے ڈرامہ انڈسٹری کے ان فنکاروں میں ہوتا ہے

    جو یہ نہیں دیکھتے کہ جو کردار ان کو آفر کیا گیا ہے وہ منفی ہے یا مثبت بلکہ وہ کردارکو دیکھتے ہیں اس میں اداکاری کی کتنی گنجائش ہے ۔علی عباس نے منفی کرداروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ علی عباس بہت زیادہ بولڈ اور بلنٹ بھی ہیں جو چیز اچھی نہ لگے بول دیتے ہیں لگی لپٹی نہیں رکھتے ۔وہ کہتے ہیںپاکستان میں جو ایوارڈز دئیے جاتے ہیں وہ سفارشی ہوتے ہیں یوں وہ ایوارڈز دئیے جانے کے عمل پر اکثر انگلی اٹھاتے ہیں ۔علی عباس کہتے ہیں کہ وہ جو بھی پراجیکٹ سائن کرتے ہیں سوچ سمجھ کر کرتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسا کوئی کردار یا کہانی نہ ہو جو شائقین کے لئے بوریت کا باعث بنے ۔علی عباس چند دن تک قلندر کی شوٹنگ کےلئے لاہور میں ہی موجود رہیں گے ۔

  • والد عنایت حسین بھٹی ہم سے عشق کرتے تھے:وسیم عباس

    والد عنایت حسین بھٹی ہم سے عشق کرتے تھے:وسیم عباس

    فوک گلوکار عنایت حسین بھٹی کی 23ویں برسی کے موقع پر ہم نے ان کے بیٹے وسیم عباس سے خصوصی گفتگو کی ۔وسیم عباس نے کہا کہ ان کے فن پر کیا بات کروں میں بطور بیٹا ہی بات کروں گا ۔انکی یادیں دل میں آج تک زندہ ہیں اورہر وقت دل و دماغ پر چھائی رہتی ہیں ماں باپ کا یقینا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ماں باپ کا سایہ درخت کے سائے کی طرح ہوتا ہے ، چھن جائے تو دنیا ہی اجڑ جاتی ہے ہمارے والد اپنی اولاد سے پیار نہیں عشق کرتے تھے پیار تو بہت ہی چھوٹا لفظ ہے۔مجھے یاد ہے کہ میرے پاس اپنے والد کی نسبت چھوٹی گاڑی تھی اور میرے والد مجھے کہا کرتے تھے کہ تم بڑی گاڑی لو تو میں کہا کرتا تھا کہ اچھا لے لوں گا اب میں نے اگر کہیں دور دراز شوٹنگ کے سلسلے میں جانا ہوتا تھا

    تو وہ اُس دن کیا کرتے کے میرے اٹھنے سے پہلے ہی میری چھوٹی گاڑی لیکر جا چکے ہوتے مقصد یہ ہوتا کہ میںان کی گاڑی میں جاﺅں میں نے ایک دن امی سے پوچھا ابو ایسا کیوں کرتے ہیں تو امی بولیں کہ تمہارے والد چاہتے ہیں کہ تم محفوظ گاڑی میں جاﺅ۔اسی طرح سے ان کو جب معلوم پڑتا کہ میرے کسی بچے کی طبیعت خراب ہے تو کہیں بھی ہوتے چاہے شہر سے باہر ہی کیوں نہ ہوتے اپنا کام چھوڑ کر واپس گھر آجاتے اورگھر آکر کہہ دیتے کہ میرا تو کام ہی جلدی ختم ہو گیا ۔تو اس طرح سے وہ ہماری کئیر کرتے تھے ہوتے ہیں سبھی کے باپ ایسے لیکن میرے باپ کی خصوصیات ایسی تھیں کہ رشک آتا ہے کہ کوئی باپ اتنا بھی اچھا ہو سکتا ہے۔عنایت حسین بھٹی کے دور کے تمام فنکار ہی سونا تھے میرے والد عوامی گلوکار تھے جو بھی گیت گایا وہ آج تک سپر ہٹ ہے ۔