Baaghi TV

Tag: وفاقی

  • ٹف ٹائم ملے گا تو حکومت کی کارکردگی بہتر ہوگی،خورشید شاہ

    ٹف ٹائم ملے گا تو حکومت کی کارکردگی بہتر ہوگی،خورشید شاہ

    پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ تین ماہ میں سول اسپتال کے تمام مسائل کا خاتمہ ہوگا،صورتحال تبدیل ہوجائے گی،

    سید خورشید شاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ٹف ٹائم ملے گا تو حکومت کی کارکردگی بہتر ہوگی،اگر ہم زراعت پر توجہ دیں تو معیشت کی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے،افسران کی تعیناتی کے معاملے پر وفاق اور پنجاب حکومت میں کسی تنازعے کو چچا بھتیجی کا تنازعہ نہیں سمجھتا ،انتخابات میں نگراں حکومت کی جانب سے توجہ نا دینے کے باعث امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی ہے،جب تک سندھ پولیس کو جدید اسلحہ نہیں ملے گا امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہوسکے گی،

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

  • وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تمام توجہ بحالی کاموں پر مرکوز رکھنا ہوں گی، زاہد اکرم درانی

    وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تمام توجہ بحالی کاموں پر مرکوز رکھنا ہوں گی، زاہد اکرم درانی

    ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر وفاقی اداروں کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی کوآرڈینیشن اور مانیٹرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔

    ڈپٹی سپیکر نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی تمام توجہ بحالی کاموں پر مرکوز رکھنا ہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی بڑی آبادی حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔کمیٹی کے ارکان نے زور دیتے ہوے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے خیمے ، کھانے پینے کے اشیا ء، مچھر دانی اور طبی سامان کی فراہمی کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومت میں ہم آہنگی ضروری ہے ۔کمیٹی ممبران نے سیلاب متاثرین کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر افسوس کا اظہار کیا ۔

    ڈپٹی سپیکر نے دیر بالا کی ضلعی انتظامیہ کی غیر پیشہ ورانہ روش کا نوٹس لیتے ہوے انہوں نے دیر بالا میں سڑک کھولنے کیلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو این او سی کی عدم فراہمی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ونگ کو خط لکھنے کی ہدایت کی ۔کمیٹی ممبران نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی امداد کی عدم فراہمی پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ سیلاب اور بارشوں سے مرنے والوں کو مالی معاوضہ جلد از جلد ادا کیا جائے ۔

    کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز اور ہیومن ڈویلپمنٹ ساجد حسین طوری ، ممبر قومی اسمبلی مولانا محمّد انور ، سینیٹر ہدایت الرحمان ، پی پی پی کے صوبائی صدر نجم الدین خان ، سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی ، این ڈی ایم اے کے اعلی افسران اور خیبر پختونخوا کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب،عمران خان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا

    وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب،عمران خان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کر لیا جس میں آرمی چیف کی تقرری سے متعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    پاک فوج میں چیئرمین پی ٹی آئی کے بیان پر شدید غم و غصہ ہے، آئی ایس پی آر

    وزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج صبح 11 بجے ہوگا، کابینہ اجلاس میں سیلاب کی صورت حال اور ریلیف سرگرمیوں پر بریفنگ دی جائے گی،ذرائع کے مطابق عمران خان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک کی معاشی اور سیاسی صورت حال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

     

    عمران خان کے فوج مخالف بیانات،حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے کی شدید مذمت

     

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اداروں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کی عمران نیازی کی مہم ہر روز ایک نئی انتہا کو چھو رہی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ عمران نیازی کی اداروں کوبدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کی انتہائی قابل مذمت مہم ہر روز نئی انتہا کو چھو رہی ہے، عمران خان اب براہ راست فوج اور فوجی قیادت پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور زہریلے الزامات لگا رہے ہیں۔


    شہباز شریف نے کا مزید کہا کہ عمران خان اب فوج اور فوجی قیادت کے بارے میں براہ راست کیچڑ اچھال رہے ہیں اور زہریلے الزامات لگا رہے ہیں، عمران خان کا مذموم ایجنڈا واضح طور پر پاکستان کو نقصان پہنچانا اور کمزور کرنا ہے۔

  • وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئےساڑھے 5 کھرب روپے سے زائد  فنڈز

    وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئےساڑھے 5 کھرب روپے سے زائد فنڈز

    نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی) کے تحت وفاقی وزارتوں ،ڈویژنز،کارپوریشنز ، سرکاری ونجی شعبہ کے اشتراک کیلئے وائبلیٹی گیپ فنڈ اورصوبائی پی ایس ڈی پیز کامجموعی حجم 2263000 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے.

    سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مجموعی طورپر5 کھرب، 64 ارب، 96 کروڑ، 33 لاکھ 60 ہزارروپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں 16 ارب، 72 کروڑ، 65 لاکھ 73 روپے کی غیرملکی امدادشامل ہیں، سرکاری کارپوریشنز کی ترقیاتی منصوبوں کیلئے 161536.664 ملین روپے ، جس میں 43273.42 ملین روپے کی غیرملکی امدادشامل ہیں، کے فنڈز مختص کرنے کی تجویزہے، مجموعی وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 727000 ملین روپے کے فنڈزمختص کرنے کی تجویزہے۔

    سرکاری ونجی شعبہ کے اشتراک کیلئے فائبلیٹی گیپ فنڈ کی مدمیں 73000 ملین روپے کے فنڈزمختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی پی ایس ڈی پی کامجموعی حجم 1463000 ملین روپے ہے، وفاقی وزارتوں ،ڈویژنز،کارپوریشنز ، سرکاری ونجی شعبہ کے اشتراک کیلئیوائبلیٹی گیپ فنڈ اورصوبائی پی ایس ڈی پیز کامجموعی حجم 2263000 روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پی ایس ڈی پی 2022-23 کے تحت شہری ہوابازی ڈویژن کے منصوبوں کیلئے 2484.8 ملین روپے

    ، سرمایہ کاری بورڈکیلئے 807.5 ملین روپے، کابینہ ڈویژن کیلئے 70058.8 ملین روپے، موسماتی تبدیلی ڈویژن کیلئے 9600 ملین روپے، وزارت تجارت کیلئے 1174.4 ملین روپے، مواصلات 180 ملین روپے، ڈیفنس ڈویژن 2232 ملین روپے، دفاعی پیداوارڈویژن 2200 ملین روپے، ایسٹبلشمنٹ ڈویژن 900 ملین روپے، وفاقی تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت 7239.5 ملین روپے، خزانہ ڈویژن کیلئے 1659.9 ملین روپے، صوبوں وخصوصی علاقہ جات 135855.6 ملین روپے،

    آزادکشمیروگلگت بلتستان کیلئے 52644.7 ملین روپے، ضم شدہ اضلاع (خیبرپختونخوا) 50200 ملین روپے، صوبائی منصوبوں کیلئے 33010.8 ملین روپے، ہائیرایجوکیشن کمیشن کیلئے 44178 ملین روپے، ہاوسنگ اینڈورکس ڈویژن 13985.2 ملین روپے، انسانی حقوق ڈویژن 184.6 ملین روپے، صنعت وپیداوارڈویژن کیلئے 2850 ملین روپے، انفارمیشن وبراڈکاسٹنگ ڈویژن 2100 ملین روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کام ڈویژن 6330.6 ملین روپے،

    بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کیلئے 3472.4 ملین روپے، داخلہ ڈویژن کیلئے 9093 ملین روپے، قانون وانصاف ڈویژن 1813.8 ملین روپے، میری ٹائم افئیرز 3465.3 ملین روپے، نیشنل فوڈ سیکورٹی ریسرچ ڈویژن 10129.1 ملین روپے، نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن 207.9 ملین روپے، نیشنل ہیلتھ سروس ریگولیشنز 12650.9 ملین روپے، قومی ادبی ورثہ ڈویژن 550 ملین روپے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن 25990.6 ملین روپے،پاکستان نیوکلئیرریگولیٹری اتھارٹی 289.8 ملین روپے،

    پیٹرولئیم ڈویژن کیلئے 1480.5 ملین روپے، منصوبہ بندی ترقی ڈویژن 42176.5 ملین روپے، تخفیف غربت ڈویژن 500 ملین روپے، ریلویز ڈویژن کیلئے 32648 ملین روپے، مذہبی امورڈویژن 600 ملین روپے، ریونیوڈویژن 3188.6 ملین روپے، سائنس وٹیکنالوجی ڈویژن 5716.3 ملین روپے، سپارکو 7395 ملین روپے، آبی وسائل ڈویژن 99572.4 ملین روپے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کیلئے 118403.4 ملین روپے اورپاورڈویژن کیلئے 43133.2 ملین روپے ، ایرا کیلئے 500 ملین روپے ، کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    وائبلیٹی گیپ فنڈ کیلئے 73000 ملین روپے اورصوبوں کیلئے 1463000 ملین روپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایس ڈی پی میں 171 جاری اور902 نئے منصوبوں کوشامل کیاگیاہے جس کا تناسب 89:11 بنتاہے۔ 80 فیصداخراجات کی تکمیل کے حامل منصوبوں کو جون 2023 تک مکمل کیاجائیگا،جدیدبنیادی ڈھانچہ کی تعمیراورغیرملکی سرمایہ کاری کوراغب کرنے کیلئے کل پی ایس ڈی پی کا 55 فیصد مختص کیاگیاہے۔

    پانی کے شعبہ کی ترقی کیلئے 83 ارب روپے اور توانائی کے شعبہ کیلئے 84 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے،نئے مالی سال کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سماجی شعبہ، صحت وبہبودآبادی کیلئے 23 ارب روپے اورہزاریہ اہداف کے حصول کیلئے 60 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویزدی گئی ہے۔ نئے مالی سال 2022 کیلئے پی ایس ڈی پی کی تشکیل میں جامعیت اور تمام متعلقہ شراکت داروں سے مشاورتی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے جاری اقتصادی صورتحال اورمالیاتی رکاوٹوں کے منطرنامہ میں مساویانہ ترقی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    وزارت خزانہ نے نئے مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی کی مد میں وفاقی وزارت منصوبہ بندی کو ابتدائی طورپرانڈیکٹیوبجٹ سیلینگ (آئی بی سی) کے تحت 500 ارب روپے مختص کرنے سے مطلع کیا۔تاہم جاری منصوبوں پرعملی پیش رفت کی رفتارکوبرقراررکھنے کیلئے وزارت منصوبہ بندی نے وزارت خزانہ سے دوبارہ رابطہ کیا تاکہ پی ایس ڈی پی کے حجم کو800 ارب روپے تک بڑھایا جاسکے،

    وزارت منصوب بندی ترقی وخصوصی اقدامات کے مطابق نئے مالی سال کی پی ایس ڈی پی کی تشکیل میں چھ اعشاری تین ٹریلین روے کے تھروفاروڈ منصوبوں،بیرونی امدادسے چلنے والے منصوبوں کیلئے 250 ارب کی ڈیمانڈ،صوبائی طرز کے منصوبوں کی شمولیت، صوبائی نوعیت کے منصوبوں کی مالی معاونت کیلئے قومی اقتصادی کونسل کے رہنمااصول، منصوبوں پروقت اورلاگت کی نظرثانی، سالان ترقیاتی پروگرام کی تنزلی اوراس کے نتیجہ میں جاری منصوبوں کے حوالہ سے ڈی ڈی ڈبلیو پی سطح کے منصوبوں کیلئے اختیارکو60 ملین سے بڑھاکر2000 ملین کرنا نئے مالی سال کی پی ایس ڈی پی کی تشکیل میں اہم چیلنجزرہے

  • وفاقی بجٹ،پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکیورٹی سخت،سرکاری ملازمین سراپا احتجاج

    وفاقی بجٹ،پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکیورٹی سخت،سرکاری ملازمین سراپا احتجاج

    وفاقی بجٹ 2022-23 آج پیش کیا جائے گا، اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہاؤس اور اطراف کی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ ریڈ زون سیل کردیا گیا جبکہ ایکسپریس چوک ، نادرا چوک پہلے ہی بند ہے،سرینا ہوٹل کا راستے پر بھی کنٹینرز لگا دئیے گئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی بجٹ اجلاس کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایوان کے باہر پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق غیر متعلقہ افراد کی پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی ہوگی جب کہ اجلاس میں صرف وہی شریک ہو سکیں گی، جنہیں اس سلسلے میں باقاعدہ مدعو کیا گیا ہے۔

    قبل ازیں وفاقی بجٹ میں اپنے مطالبات منظور کروانے کے لیے سرکاری ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس تک احتجاج کیا. رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے سرکاری ملازمین نے احتجاجی مارچ کی کال دی تھی

    مارچ کے سلسلے میں سرکاری ملازمین نے وزارت خزانہ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کیا، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو شاہراہ دستور کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑا۔ اس موقع پراسلام آباد پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش بھی کی گئی جب کہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا ہے۔