Baaghi TV

Tag: وفاقی آئینی عدالت

  • پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا معاملہ، وفاقی آئینی عدالت میں جلد سماعت کی درخواست

    پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا معاملہ، وفاقی آئینی عدالت میں جلد سماعت کی درخواست

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر وفاقی آئینی عدالت میں کیس کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔

    ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس کو رواں ہفتے ہی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جبکہ حالات معمول پر آنے کے باوجود پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جا رہی۔

    درخواست گزار کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے اثرات براہِ راست عام آدمی پر پڑ رہے ہیں اور اس کے باعث اشیائے خورونوش سمیت دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر رواں ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

  • سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رہ سکتی،وفاقی آئینی عدالت

    سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رہ سکتی،وفاقی آئینی عدالت

    وفاقی آئینی عدالت نے سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بنوں اور دیگر کے خلاف اساتذہ کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق کیس میں فیصلہ جاری کر دیا-

    وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایک ہی معاملے پر سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رہ سکتی، کیونکہ دونوں عدالتوں سے متضاد فیصلوں کی صورت میں انصاف متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے عدالت نے واضح کیا کہ اگر ملکیتی تنازع یا متنازع دستاویزات کا معاملہ سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو فوجداری عدالت کو سول عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے،

    کیس میں سابق ای ڈی او اور دیگر افسران کے خلاف بوگس دستاویزات کی بنیاد پر اساتذہ کو بھرتی کرنے کے الزام میں فوجداری کارروائی شروع کی گئی تھی، جبکہ جعلی اور متنازع دستاویزات کی قانونی حیثیت کا معاملہ سول عدالت میں زیرِ التوا تھا۔

    جسٹس علی باقر نجفی کے تحریر کردہ فیصلے میں آئینی عدالت نے قرار دیا کہ متنازع دستاویزات یا سرٹیفکیٹس کی اصلیت اور قانونی حیثیت کا تعین سول عدا لت کے اختیار میں ہے ، متنازع سرٹیفکیٹس کی تصدیق اور ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ ہونے سے قبل درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ سول عدالت کے فیصلے کے بعد ہی درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری یا انتظامی کارروائی شروع کی جا سکے گی،اگر سول اور فوجداری مقدمات ایک ہی معاملے سے گہرا تعلق رکھتے ہوں تو انصاف کے تقاضوں کے تحت فوجداری کارروائی روکنے کی گنجائش موجود ہےتاہم عدالت نے واضح کیا کہ بدنیتی سے دائر کیے گئے سول مقدمے کو محض فوجداری کارروائی روکنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

    فوجداری کارروائی روکنے کا فیصلہ متعلقہ حالات، مقدمے کی نوعیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا،وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایک ہی معاملے میں سول اور فوجداری عدالتوں کیجانب سے مختلف نتائج سامنے آنے سے انصاف کے نظام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، اس لیے متنازع دستاویزات سے متعلق بنیادی سوال کا فیصلہ پہلے سول عدالت سے کرایا جانا ضروری ہے۔

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل

    نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل

    سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے،سپریم کورٹ نے 30 صفحات کا فیصلہ جاری کردیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعتیں کیں،بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا،نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی،نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

    سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا،اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت،وفاقی آئینی عدالت نے صوبا ئی حکومت کی اپیل خارج کر دی

    ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت،وفاقی آئینی عدالت نے صوبا ئی حکومت کی اپیل خارج کر دی

    وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے صوبا ئی حکومت کی اپیل خارج کر دی۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیےسماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا اب ایم اے پاس کرنے والا شخص سوئیپر کا کام کرے گا؟‘ انہوں نے کہا کہ اگرچہ متعلقہ شخص گزشتہ 10 برس سے ملازمت کر رہا ہے، اس لیے اب اسے نوکری سے نکالنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔

    عدالت نے تجویز دی کہ صوبائی حکومت شکایت کنندہ کو کسی دوسری مناسب جگہ ملازمت فراہم کرےاس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں سوئیپر کی کوئی خالی آسامی موجود نہیں ہے، اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے، کیا خیبرپختونخوا اتنا صاف ستھرا ہو گیا ہے کہ سوئیپر کی ضرورت ہی نہیں؟ صاف ستھرا تو کسی اور صوبے کا سنا تھا۔

    دورانِ سماعت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے دریافت کیا کہ متعلقہ ملازم سے کیا کام لیا جاتا ہے، جس پر ایجوکیشن آفیسر نے بتایا کہ اس کی ذمہ داریوں میں جھاڑو لگانا اور صفائی کرنا شامل ہے۔

    اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کیا اس کے جھاڑو لگانے پر کسی کو شرم نہیں آتی؟ ایم اے پاس شخص کا سوئیپر کی نوکری کرنا ایک المیہ ہے،ایسے نظام کو تو شاباش دینی چاہیے،بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل مسترد کر دی۔

  • وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پیرسوہاوہ مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالت نے سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن سٹی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے حکم امتناع بھی ختم کردیا،آئینی عدالت نے کہا کہ ملکیت کا فیصلہ ٹرائل کورٹس عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیرکریں گی جب کہ انتظامی معاملات کا فیصلہ ریگولیٹری باڈیز کریں گی۔

    وفاقی آئینی عدالت نےٹرائل کورٹس کو جلد از جلد کیسز کےفیصلوں کی ہدایت بھی کردی،دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نےکہاکہ سپریم کورٹ کےفیصلے میں بہت سے نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا، کیس دائر کرنے یا نظرثانی دائر کرنے پر بھی عدالت نے غصہ کیا، ہم نے جذباتی فیصلہ نہیں کرنا۔

    وکیل احسن بھون نےکہا کہ عدالت نے کیس کو بہت اچھا پڑھا ہےجس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نےکہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں، جو سما عت ہوئی وہی حکم دیں گے، الف لیلیٰ کی کہانی فیصلے میں نہیں لکھیں گے، فیصلہ پڑھا تو اندازہ ہوا بہت کچھ عدالتی کارروائی سے باہر کا لکھا گیا۔

    بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے پیرسوہاوہ مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

  • جسٹس حسن اظہر رضوی نےوفاقی آئینی عدالت  کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

    جسٹس حسن اظہر رضوی نےوفاقی آئینی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، حلف برداری کی تقریب کراچی رجسٹری میں منعقد ہوئی-

    اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق جسٹس کے کے آغا خان نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے عہدے کا حلف لیا تقریب میں عدالتی شخصیات اور متعلقہ حکام نے شرکت کی،چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان سرکاری دورے پر روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں موجود ہیں، جہاں وہ بین الاقوامی قانونی فورم میں شرکت کر رہے ہیں۔

    وفاقی آئینی عدالت کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی غیر موجودگی میں جسٹس حسن اظہر رضوی قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض انجام دیں گے اور عدالتی امور کی نگرانی کریں گے بین الاقوامی قانونی فورم عدالتی تعاون، آئینی اور قانونی امور پر عالمی سطح کے مکالمے کے فروغ کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف ممالک کے قانونی اور عدالتی ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔

  • وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا

    وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا

    وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے، جبکہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔

    چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ 16 جون کو اس مقدمے کی سماعت کرے گا،یہ اپیل وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی کا حکم دیا گیا تھا،وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے، جس پر اب وفاقی آئینی عدالت آئندہ سماعت میں غور کرے گی۔

  • وفاقی آئینی عدالت میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی بحالی کیلئے درخواست دائر

    وفاقی آئینی عدالت میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی بحالی کیلئے درخواست دائر

    وفاقی آئینی عدالت میں خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی بحالی کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے-

    درخواست شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ غیر آئینی اور دباؤ کے تحت لیا گیا، لہٰذا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وزیراعلیٰ کے استعفے کو ایک سزایافتہ نااہل فرد کی ڈکٹیشن پر قبول کیا گیا، جو آئینی اصولوں کے منافی ہےاس کے ساتھ ہی ان کی ڈی نوٹیفکیشن کو بھی غیر قانونی اور آئین سے متصادم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیا جائے، جبکہ علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بحال کیا جائے، استعفیٰ دباؤ کے تحت دیا گیا تھا اور اس کی قانونی حیثیت موجود نہیں، لہٰذا اس بنیاد پر کیے گئے تمام سرکاری اقدامات بھی غیر مؤثر قرار دیے جائیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ غیر آئینی اقدامات کے نتیجے میں جاری ہونے والےتمام سرکاری فیصلے بھی منسوخ کئے جائیں-

  • سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کے نفاذ کو آئینی قرار دے دیا ہے۔

    293 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سپر ٹیکس کو انکم ٹیکس سے الگ اور ایک علیحدہ ٹیکس رجیم کے طور پر تصور کیا جائے گا، فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سیکشن 4C کے خلاف دیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہو ئے کہا گیا کہ ٹیکس کے نفاذ کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔

    تفصیلی فیصلے کے مطابق سیکشن 4C کا اطلاق ٹیکس سال 2022 اور اس کے بعد کے سالوں پر ہوگا، عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو سرکلر جاری کرنے کی ہدایت دائرہ اختیار سے باہر تھی، سپر ٹیکس عام انکم ٹیکس کا متبادل نہیں بلکہ اس کے علاوہ ایک اضافی ٹیکس ہے، جو مخصوص آمدنیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سیکشن 4C کا اطلاق ان تمام آمدنیوں پر ہوگا جو علیحدہ ٹیکس نظام کے تحت آتی ہیں، جبکہ سرمایہ میں اضافہ پر بھی یہ ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر سپر ٹیکس کا اطلاق مخصوص قانونی حدود اور معاہدوں کے مطابق ہوگا عدالت نے واضح کیا کہ فلاحی اور پنشن فنڈز کو استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے، تاہم انہیں متعلقہ سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرانا لازمی ہوگا قانون سازی کے ذریعے ماضی سے ٹیکس لگانا قانونی طور پر جائز ہے اور مخصوص شعبوں پر زیادہ شرح سے ٹیکس لگانا امتیازی سلوک نہیں بلکہ قانون سازوں کا اختیار ہے۔

    عدالت نے کہا کہ سپر ٹیکس صرف اسی آمدن پر لاگو ہوگا جس پر بنیادی انکم ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ جو آمدن قانون کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہے وہ سپر ٹیکس سے بھی مستثنیٰ رہے گی جائیداد، شیئرز کی فروخت، وراثت یا مخصوص مدت کے بعد حاصل ہونے والی آمدن اور زرعی زمین سے حاصل آمدن پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا،یہ فیصلہ ملک کے ٹیکس نظام اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے ایک اہم قانونی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

    وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کر دی، جس میں درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے 2022 میں 2 رکنی بینچ نے تبدیل کر دیا۔

    عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد بھی وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں ہوا آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہوتا ہے زمین کے معاوضے کا جھگڑا عوامی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے۔

    عمران خان کو علاج کیلیے شفاء اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا عدالت نے کہا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست بھی پہلے ہی خارج ہو چکی ہے وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ