Baaghi TV

Tag: وفاقی اردو یونیورسٹی

  • اردو یونیورسٹی احتجاج کرنے پر ملازمین کے خلاف کاروائیوں سے باز رہے،ایسوسی ایشن

    اردو یونیورسٹی احتجاج کرنے پر ملازمین کے خلاف کاروائیوں سے باز رہے،ایسوسی ایشن

    عباس علی سینئر نائب صدر کے خلاف فیڈرل اردو یونیورسٹی عبد الحق کیمپس و گلشن اقبال کیمپس کے 3 انجمنوں نے شیخ الجامعہ کے نام خط میں تادیبی کاروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق شیخ الجماع کے نام خط میں کہا گیا کہ فیڈرل اردو یونیورسٹی کافی عرصے سے مالی بحران ہے جس کی وجہ سے ملازمین مالی دشواری کا شکار ہیں اور اس سلسلے میں دو ماہ سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے انتظامی مالی مسائل حل کرنے کہ بجائے ملازمین کو مختلف ذرائے سے ہراساں اور خوف ذدہ کر رہی ہے اور اپنے مضمون مقاصد حاصل کرنے کہ لئے احتجاج کرنے والے اکثریتی ملازمین کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے اور نام نہاد کمیٹیاں بنا کر انکوائریاں کی جا رہی ہیں جس کی ہم شدید الفاظ میں پُر زور مذمت کرتے ہیں اور جناب آصف علی زرداری صدر پاکستان و چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی، جناب خالد مقبول صدیقی،وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تعلیم و پرو چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی اور ڈاکٹر مختیار ایس ای سی،چیئر مین اور وفاقی سیکریٹری تعلیم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ وفاقی اردو یونیورستی کو مالی محران سے نکالنے کے لئے ہنگامی اقدامات کریں نیز ملازمین کے خلاف انتقامی کاروائیاں بند کرنے کے احکامات صادر کریں انجمن کے سینئر نائب صدر جناب عباس علی کے خلاف ہونے والی ذیادتیوں کے خط چند دن قبل مذکورہ بالا افراد کو درخواستیں بذریعہ پاکستان پوسٹ ارسال کر دیئے گئے ہیں لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔اگر انجمن کے سینئر نائب صدر کے خلاف ہونے والی انتقامی کاروائیوں کے خطوط منسوخ نہیں کئے گئے تو اپنا نیا لائحہِ عمل بنایا جائے گا۔ خط لکھنے والی انجمنوں میں انجمنِ اساتذہ عبدالحق کیمپس انجمنِ اساتذہ گلشن اقبال کیمپس اور انجمن غیر تدریسی عمال گلشن اقبال کیمپس اور دیگر میں سینئر استاد و سابقہ ٹریثرار اور موجودہ سینٹ کے نامزد ممبر اور سینٹ کے نامزد ممبر اور انچارج بزنس ایڈ منسٹریشن اور انجمن اساتذہ کے جنرل سیکریٹری شامل ہیں۔

    تین سال میں 4ہزار بھکاریوں کو پاکستان واپس بھیجا گیا، ڈی جی ایف آئی اے

    سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا

    ملی یکجہتی کونسل کے نئے مرکزی تنظیمی زمہ داران کا اعلان

  • کراچی: اردو یونیورسٹی میں حالات انتظامیہ کے قابو سے باہر، رینجرز طلب

    کراچی: اردو یونیورسٹی میں حالات انتظامیہ کے قابو سے باہر، رینجرز طلب

    وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی میں بغیر اضافے کے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ انتظامیہ کے قابو سے باہر ہوگیا ہے، پیر کی صبح کراچی کے دونوں کیمپسز کے اساتذہ گلشن اقبال سائنس کیمپس میں احتجاج کے لیے جمع ہوئے اور انتظامی بلاک کو تالے لگا دیئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ جان شنواری کو انتظامی عمارت اور ان کے دفتر میں داخلے سے روک دیا، وائس چانسلر نے انتظامی عمارت کا تالا نہ کھولے جانے پر اپنے ہاتھ میں اینٹ اٹھا لی اور خود تالا کھولنے کی کوشش کی جس کو آگے بڑھ کر خواتین اساتذہ نے ناکام بنا دیا۔اس موقع پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور پولیس اہلکار بھی انتظامیہ کے بلانے پر وائس چانسلر کی مدد کو پہنچ گئے لیکن دوپہر ڈیڑھ بجے تک تھانہ پولیس بھی وائس چانسلر کو انتظامی عمارت کا تالا کھلوا کر ان کے دفتر میں بٹھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی جس کے بعد رینجرز کو طلب کر لیا گیا۔واضح رہے کہ وائس چانسلر کئی روز کے بعد کراچی آئے تھے، وہ زیادہ تراسلام آباد سے کراچی کے دونوں کیمپسز چلاتے ہیں۔ادھر ذرائع کے مطابق اساتذہ نے وائس چانسلر کی ان کے دفتر میں موجودگی کو تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ادائیگی سے مشروط کر دیا ہے۔اساتذہ نے کہاکہ جب اسلام آباد کیمپس کی جولائی اور اگست کی تنخواہیں اضافے کے ساتھ جاری کر دی گئی ہیں تو کراچی کے دونوں کیمپس کے ملازمین کو بجٹ میں اضافہ کی گئی تنخواہوں سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ وائس چانسلر نے گلشن کیمپس پہنچ کر موقف اختیار کیا کہ وہ اگست کی صرف 35 فیصد تنخواہ جاری کر سکتے ہیں جس میں بجٹ میں کیا گیا اضافہ شامل ہوگا اور نہ ہی ہائوس سیلنگ دی جا سکے گی جس پر اساتذہ اور وائس چانسلر میں ڈیڈ لاک باقی تھا اور وائس چانسلر تالا کھلوا کر انتظامی عمارت میں داخل نہیں ہو سکے تھے۔ادھر اساتذہ نے اس معاملے پر وفاقی وزیر تعلیم سے بھی فوری مداخلت کی گزارش کی ہے۔یاد رہے کہ اردو یونیورسٹی میں تدریسی سلسلے میں گزشتہ پانچ روز سے تعطل ہے اور دونوں کیمپسز احتجاج پر چلے گئے ہیں، تنخواہوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے اضافے کو واپس لینے اور آئندہ تنخواہ میں اسے روکنے کے خلاف جمعرات کو بھی یونیورسٹی کے دونوں کیمپسز کے اساتذہ نے تدریسی عمل جبکہ غیر تدریسی ملازمین نے دفتری عمل کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ اس سے قبل ایچ ای سی کراچی ریجن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا گیا تھا تاہم تاحال اس سلسلے میں وفاقی وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کی جانب سے کوئی ایکشن سامنے نہیں آیا ہے۔واضح رہے کہ چیئرمین ایچ ای سی خود اپنی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کروا کر کام کر رہے ہیں۔

    اینٹی کرپشن عدالت کی سابق چیئرمین انٹربورڈ اور دیگرملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع

    کراچی میں ماں، بہن، بھانجی اور بھابھی کے قاتل کے لرزہ خیز انکشافات

    وزیراعلی سندھ سے ارجنٹائن کے سفیرکی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر بات چیت