Baaghi TV

Tag: وفاقی حکومت

  • وفاقی حکومت کا تمام سرکاری ملازمین کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا تمام سرکاری ملازمین کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گریڈ ون سے گریڈ 22 کے افسران اور ملازمین کو 33 سوالات پر مشتمل سوالنامہ ارسال کر دیا جس میں ملازمین سے ذاتی و پروفیشنل معلومات مانگی گئی ہیں، ان میں ملازمت کی نوعیت، تعلیمی قابلیت، ڈومیسائل، کیڈر،مدت ملازمت سمیت دیگر تفصیلات شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ ملک کے اندر یا بیرون ملک، لازمی ٹریننگ اور کسی شعبہ میں اگر سپیشلائزیشن کی ہوتو اس کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

    دوسری جانب بیرون ملک 51نئے ٹریڈ افسران کی تعیناتی کا عمل آغاز پر ہی متنازع ہوگیا ہے ذرائع کے مطابق آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے 26 افسران کی درخواستیں مسترد کی گئیں جس پر کچھ افسران نے عدالت سے رجوع کرنا شروع کر دیا، نجی شعبے سے بھی بڑی تعداد میں درخواستیں مسترد کی گئیں ہیں، امیدواروں کا تحریری امتحان ایک ہفتے کیلیے ملتوی کردیا گیا۔

    وزیراعظم نے وزارت تجارت کو تعیناتیوں کا عمل شفاف اورمیرٹ پر کرنے کی ہدایت کی تھی ذرائع کے مطابق وزارت تجارت نے 300 امیدواروں کی درخواستیں تحریری امتحان کیلئے منظور کیں۔

    لوئرکوہستان میں غیرت کے نام پر15 سالہ طالب علم قتل

    واضح رہے کہ حکومت آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے افسران کو روکنے کے لیے کوشاں ہےجس کی وجہ سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے-وزیراعظم عمران خان نے آڈیٹرجنرل آف پاکستان کے دفتر کی طرف سے آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ کے اختیار کی وسعت جاننے کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے سمری پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا

    جبکہ اس اقدام سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے جو پہلے ہی آڈٹ کو محدود کرنے کے کسی بھی اقدام کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے۔

    فواد چوہدری کا میڈٰیا سے متعلق بیان ایک”سازش” ہے،صحافتی تنظیمیں

    ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ وفاقی کابینہ سمری کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل 100 کے تحت اٹارنی جنرل کے دفتر کو فیڈرل آڈیٹرز کے دائرہ کار پر نظرثانی کے لیے ریفرنس بھیجے گی تاہم اٹارنی جنرل پہلے ہی یہ رائے دے چکے ہیں کہ اے جی پی کا کام اکاؤنٹس کے آڈٹ تک محدود ہونا چاہیے اور انھیں گورنمنٹ انٹرپرائزز کے پرفارمینس آڈٹ سے دور رہنا چاہیے۔

    پاکستان کی ابوظبی ایئرپورٹ پر بزدلانہ دہشتگرد حملے کی شدید مذمت

  • آئی پی پیز معاہدوں کے آڈٹ،وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان

    آئی پی پیز معاہدوں کے آڈٹ،وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان

    اسلام آباد: حکومت آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے افسران کو روکنے کے لیے کوشاں ہےجس کی وجہ سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس کے لئے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے آئینی ریفرنس کے ذریعے باضابطہ رائے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے وزیراعظم عمران خان نے آڈیٹرجنرل آف پاکستان کے دفتر کی طرف سے آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ کے اختیار کی وسعت جاننے کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے سمری پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    جبکہ اس اقدام سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے جو پہلے ہی آڈٹ کو محدود کرنے کے کسی بھی اقدام کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے۔

    ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ وفاقی کابینہ سمری کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل 100 کے تحت اٹارنی جنرل کے دفتر کو فیڈرل آڈیٹرز کے دائرہ کار پر نظرثانی کے لیے ریفرنس بھیجے گی تاہم اٹارنی جنرل پہلے ہی یہ رائے دے چکے ہیں کہ اے جی پی کا کام اکاؤنٹس کے آڈٹ تک محدود ہونا چاہیے اور انھیں گورنمنٹ انٹرپرائزز کے پرفارمینس آڈٹ سے دور رہنا چاہیے۔

    ملکی معیشت اسٹیٹ بینک کے حوالے کردی گئی،شاہد خاقان

    ذرائع کے مطابق اے جی پی نے یہ مشورہ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا دستاویزات کے مطابق تنازع کی جڑ آڈیٹرجنرل آف پاکستان کا آئی پی پی سے کیے گئے معاہدوں، نیپرا کے مقررکردہ ٹیرف اور آئی پی پی پیز کو کی جارہی ادائیگیوں کا خصوصی آڈٹ کرنے کا فیصلہ ہے۔

    واضح رہے کہ 2020ء کے وسط میں حکومت اور 47 آئی پی پیز نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے اور پھر 2021 ء میں باضابطہ معاہدے طے پائے تھے جن کے متعلق حکومت نے کہا تھا کہ ان سے 10 سے 12 سال کے عرصے میں 836 ارب کی بچت ہوگی۔ اس کے عوض حکومت نے آئی پی پیز کو 450 ارب ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس رقم میں سے وفاقی کابینہ 224 ارب روپے کی ادائیگیوں کی منظوری دے چکی ہے۔ اس تمام عرصے میں حکومت نے آئی پی پی پیز کی جانب سے کی گئی بے ضابطگیوں سے چشم پوشی اختیار کی۔

    واضح رہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو آئی پی پیز کے آڈٹ کا حکم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دیا تھا۔

    عمران خان نے معاشی بحران کو مذہب کی ڈھال بنا لیا ہے جس پر تشویش ہے،شہباز شریف

  • وفاق نے پنجاب حکومت سےنوازشریف کی میڈیکل رپورٹس پر ماہرانہ رائے مانگ لی

    وفاق نے پنجاب حکومت سےنوازشریف کی میڈیکل رپورٹس پر ماہرانہ رائے مانگ لی

    اسلام آباد: وفاق نے پنجاب حکومت سے سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس پر ماہرانہ رائے مانگ لی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب حکومت کو خط لکھا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں جمع ہونے والی رپورٹس پر متعلقہ ماہرین سے رائے لی جائے ماہرین کی رائے ملنے پر نوازشریف کی واپسی سے متعلق آئندہ لائحہ عمل اپنایا جائے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہرین نے نوازشریف کی صحت بہتر قرار دی تو سابق وزیراعظم کے معالج سے رابطہ کیا جائے گا۔

    کیوں نامیڈیا کو جیلوں میں قیدیوں تک رسائی کی اجازت دی جائےتاکہ انفارمیشن سامنے آئے،اسلام آباد ہائی…

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اطلاعات فواد حسین چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہباز شریف کی شخصی ضمانت پر نواز شریف باہر گئے، نواز شریف کا باہر جانا مکمل فراڈ تھا، نواز شریف نے 17 ماہ سے علاج نہیں کرایا پاکستانی سفارتخانےنے 2 بارشریف فیملی سے رپورٹس سےمتعلق رابطہ کیا، شریف فیملی نےرپورٹس سفارتخانے کے ڈاکٹرزسے شیئر کرنے سے انکارکردیا –

    باغی ٹی وی کی ذمہ دارانہ و جراتمندانہ رپورٹنگ کے دس سال مکمل .تحریر: طہ منیب…

    فواد چوہدری نے کہا تھا کہ نواز شریف ملک سے فراڈ کے ذریعے نکلے ہیں نوازشریف کے معاملے پراٹارنی جنرل ہائیکورٹ میں درخواست دیں گےنوازشریف باہر بیٹھ کر ملک اور قانون کا مذاق آرا رہے ہیں- پنجاب حکومت نے نواز شریف کی صحت کی رپورٹس مسترد کردیں، نواز شریف کے باہر بھیجنے کے فراڈ کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں اور شہباز شریف کی لاہور ہائی کورٹ طلبی پر درخواست دی جائے گی۔

    اسلام آباد: تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات سپلائی کرنے والے تین ملزمان گرفتار

    دوسری جانب وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو شہباز شریف نااہل ہوسکتے ہیں اپنے ایک بیان میں فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ نوازشریف کیس میں پٹیشن دائرہوئی تو دیکھیں گے نوازشریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت لی تھی،17ماہ گزرگئے نواز شریف 4 ہفتے کا کہہ کرگئےتھے برطانوی ہوم آفس نےنوازشریف کی درخواست مسترد کردی ہےبرطانیہ نوازشریف کی رپورٹ ماننے کو تیارنہیں ہےنوازشریف ہسپتالوں کی بجائےپولومیچ دیکھتےنظرآتے ہیں نوازشریف کےڈاکٹرملک عدنان واپس آگئے مگر نوازشریف نہیں آئے۔

    وسیم اکرم ساحل پر گندگی پھیلانے والوں پر پھر برس پڑے

    فرخ حبیب نے کہا کہ اٹارنی جنرل عدالت جانےسے متعلق پراسس مکمل کررہےہیں شہبازشریف نےبھائی کی واپسی کی گارنٹی دی تھی،اسی چیزکو بنیاد بنا کرعدالت جائیں گے، نوازشریف علاج کرارہے ہیں توثابت کرنا ہوگا۔

    کورونا وبا:ملک میں اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

  • کورونا وبا: وفاقی حکومت کا آج سے بوسٹر ویکسین لگانے کا فیصلہ

    کورونا وبا: وفاقی حکومت کا آج سے بوسٹر ویکسین لگانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت کاعالمی وبا قرار دیئے جانے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بوسٹر ویکسین لگانے کا فیصلہ، ابتدائی طور پر 50 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کو بوسٹر ویکسین لگائی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیس اسلام آباد ڈاکٹرزعیم ضیا کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بوسٹر ویکسین آج سے لگائی جائے گی عالمی وبا کورونا سے بچاؤ کے لیے فی الحال بوسٹر ویکسین، سائنوفارم، سائنو ویک اور فائزرکی لگائی جائے گی۔

    ویرینٹ اومی کرون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی:سندھ میں‌ پھرپابندیاں

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے کہ جب جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومی کرون نے دنیا بھر ایک مرتبہ پھر لوگوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے سندھ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے پیش نظر صوبے بھر میں نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

    محکمہ داخلہ سندھ نے اومی کرون کے خطرات کے پیش نظر بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے ہنگامی بنیادیوں پر اقدامات شروع کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ محکمہ داخلہ کا نئے ویرینٹ کو پھیلائو کو روکنے کے لیئے 10 دنوں میں اقدامات مکمل کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کو انتظامات اور اقدامات کا حکم دیا ہے۔

    چیف سیکرٹری سندھ ممتاز شاہ نے کہا ہے کہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی والوں کو سختی سے نمٹا جائے، کورونا پھیلائو کو روکنے کے لیے ویکسنیشن عمل دوبارہ ہنگامی بنیادوں پر تیز کی جائیں اور رپورٹ جمع کروائی جائے۔

    کورونا ایس او پیز سے متعلق محکمہ داخلہ سندھ کے حکمنامہ کے مطابق سی کیٹگری میں شامل اضلاع کے ہوٹلز میں 50 فیصد نشستیں خالی رکھنے کی پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈویژن میں ان ڈور ڈائننگ کے لئے 70 فیصد کی اجازت ہو گی، سینما ہالز میں ویکسینیٹڈ افراد کے داخلے کی اجازت ہو گی ۔

    محکمہ سندھ کے مطابق کاروباری مراکز رات 10 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی، لاڑکانہ، میرپور خاص 300افراد سے زائد کے شادی بیاہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے، حیدرآباد ڈویژن، خیرپور اور گھوٹکی میں بھی 3 سوسےزائد کے شادی بیاہ کےاجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    حکمنامے کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں تعلیمی اداے بدستور کھلے رہیں گے، کراچی ڈویژن میں 500 افراد کے ان ڈور تقریبات کی اجازت ہوگی، سیاحت، تفریح پارکس، سوئمنگ پولز اور فلائٹ میں سفر کورونا ویکسین سے مشروط ہوگا، کراچی ڈویژن، سانگھڑ اور سکھر اضلاع میں ویکسی نیشن مہم بہتر ہے، کراچی ڈویژن، سانگھڑ اورسکھر اضلاع کو بی کیٹگری میں شامل کیا گیا، نئی پابندیاں 15 دسمبتر تک نافذ العمل رہیں گی۔

    کورونا وائرس کی ویکسنیزاومیکرون ویرئنٹ پر موثر نہیں ہوں گی، سی ای او موڈرنا نے ڈرا کردنیا کی امیدیں…

  • کوئی رول آف لا نہیں ،تباہی کی جاری ہے،صرف طاقتوروں کو سہولت کیوں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    کوئی رول آف لا نہیں ،تباہی کی جاری ہے،صرف طاقتوروں کو سہولت کیوں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    کوئی رول آف لا نہیں ،تباہی کی جاری ہے،صرف طاقتوروں کو سہولت کیوں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مارگلہ نیشنل پارک میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    مارگلہ نیشنل پارک کی 8 ہزار ایکٹر زمین کی الاٹمنٹ بادی النظر میں غیر قانونی قرار دے دی گئی،عدالت نے وفاقی حکومت کو 2016 میں زمین دینے کے نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کا حکم دے دیا .اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو ہدایت کر دی،عدالت نے مارگلہ کی پہاڑی پر قائم ریسٹورنٹ کی پٹشن واپس لینے کی درخواست مسترد کردی ،عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت ماحولیاتی تبدیلی کا ذکر کرتی ہے لیکن نیشنل پارک بے یارو مددگار ہے،کوئی رول آف لانہیں ہے وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کا کام ہے کہ وہ نشاندہی کرے،وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈکی توجہ صرف ٹریل فور فائیو اور سکس پر مرکوز ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انوائرمنٹل ایجنسی مکمل بے یارو مدد گار ہے، 8ہزار ایکٹر زمین دے دی گئی جو قانونی طور پر نہیں دے سکتے،عدالت وفاقی حکومت کو کہتی ہے کہ آئندہ نسلوں کو بچائیں،پروفیسر زیڈ بی مرزا نے کتابیں لکھی ہیں لیکن ایسے لوگوں کو کوئی نہیں پوچھتا، وفاقی حکومت نے کس طرح 8ہزار ایکٹر زمین الاٹ کردی؟ مارگلہ نیشنل پارک میں جو کچھ بچ گیا وفاقی حکومت بہتر اقدامات اٹھائے،وفاقی حکومت سروے کرائے اور نیشنل پارک میں ہر قسم کی تعمیرات روکے،کیوں نہ ہدایت کرے کہ مارگلہ نیشنل پارک پر قبضہ کرنے والوں کےنام پبلک ہونے چاہییں،انوائرمنٹل ایجنسی نہ ہی وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اپنا کام کر رہا ہے،سی ڈی اے نے لوگوں کو سوائے پلاٹ دینے کے کچھ نہیں کیا، خیبر پختونخوا کی جانب اسلام آباد کے بارڈر پر نیشنل پارک میں تباہی کی جاری ہے، کوئی غریب ، کمزور نہیں بلکہ سارے طاقت ور یہ قبضے کر رہے ہیں،آرٹیکل 173 کے تحت صرف وفاقی حکومت جگہ لے سکتی ہے مارگلہ کی پہاڑ ی پر ہوٹل کی تعمیر کسی کی خواہش پر کی گئی تھی یہ بھی ایک ہسٹری ہے،سی ڈی اے صرف طاقتوروں کو سہولت دیتی آئی ہے، عدالت نئ اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں میں بیٹھا ہوں آپ بیٹھیں تو جان جائیں کتنی لاقانونیت ہے، عدالت نے معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجتے ہوئے سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کردی

    میرا کچرا،میری ذمہ داری،برطانوی ہائی کمشنر ایک بار پھر مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہنچ گئے

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

  • ۔دو سال سے زائدعرصہ گذر  گیا، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کیا!!

    ۔دو سال سے زائدعرصہ گذر گیا، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کیا!!

    کراچی: جنرل اسپتال کراچی کی ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے ایم ٹی آئی آرڈی ننس کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدارتی آرڈی ننس کے تحت جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر،قومی ادارہ امراض قلب اور قومی ادارہ اطفال کو اپنی تحویل میں لے ۔جناح اسپتال میں ڈاکٹر نعیم خان کی زیر صدارت ڈاکٹرایسوسی ایشن کے اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایم ٹی آئی آرڈی ننس کی بھرپور حمایت کا فیصلہ کیا گیا ۔ڈاکٹر نعیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے تینوں اسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ،قومی ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) اور قومی ادارہ اطفال (این آئی سی ایچ)وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوگئے تھے مگر جنوری 2019میں سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں ان تینوں اسپتالوں کو واپس وفاق کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے ۔دو سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کرتے ہوئے ان تینوں اسپتالوں کا انتظامی کنٹرول حاصل نہیں کیا ۔انہوںنے کہا کہ نومبر 2020میں وفاقی حکومت نے صدارتی آرڈی ننس جاری کیا جس کے تحت جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر،قومی ادارہ امراض قلب اور قومی ادارہ اطفال کو بورڈ آف گورنرز کے تحت انتظامی طور پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اس فیصلے کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ کراچی کے ان اسپتالوں کا انتظامی کنٹرول جلد سے جلد حاصل کرے ۔

  • مسلم یگ(ن) رکن حناپرویز بٹ کے وفاقی حکومت اوراقوام متحدہ سے مطالبے

    مسلم یگ(ن) رکن حناپرویز بٹ کے وفاقی حکومت اوراقوام متحدہ سے مطالبے

    کشمیریوں کی پرامن جدوجہد آزادی کی تحریک کو سلام پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع
    قرارداد مسلم یگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی. پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان ”کشمیر ڈے“پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے. نہتے کشمیر بھائی کئی دہائیوں سے اپنی آزادی کےلئے جدوجہد کررہے لیکن افسوس اقوام متحدہ اپنی پاس کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہے:بھارت طاقت کے زور پر کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کی ناکام کوشش کررہا ہے. یہ ایوان کشمیری خواتین کی جرات و بہادری کو بھی سلام پیش کرتا ہے. مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے تمام عالمی فورمز کا بھرپور استعمال کیا جائےکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق دنیا کو آگاہ کیا جائے : وفاقی حکومت سے مطالبہ
    یہ ایوان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جلد از جلد آزادی کےلئے دعا گو ہے.