Baaghi TV

Tag: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری

  • بجلی کی خرید و فروخت کیلئے مسابقتی مارکیٹ متعارف کرانے کا فیصلہ

    بجلی کی خرید و فروخت کیلئے مسابقتی مارکیٹ متعارف کرانے کا فیصلہ

    وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری سے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے سینٹرل اینڈ ویسٹ ایشیا ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر کی ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کے توانائی شعبے کو درپیش چیلنجز اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وفاقی وزیرِ توانائی نے اے ڈی بی کے وفد کو آگاہ کیا کہ حکومت نے مزید بجلی خریدنے کا فیصلہ نہیں کیا اور بجلی کی خرید و فروخت کے لیے مسابقتی بجلی مارکیٹ متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ نظام میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے،پاور سیکٹر کے قرضوں کی ادائیگی ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے-

    اویس لغاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے کو فنڈنگ اور ابتدائی اخراجات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے،پاور ٹرانسمیشن سیکٹر میں نجی سرمایہ کاری لانے کے لیے سرمایہ کاروں سے رابطے جاری ہیں، جبکہ اضافی بجلی کی پیداواری صلاحیت کو نظام سے نکال دیا گیا ہے تاکہ غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔

  • ملک میں 7 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی دستیاب، اویس لغاری کا  انکشاف

    ملک میں 7 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی دستیاب، اویس لغاری کا انکشاف

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں تقریباً 7 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی موجود ہے۔

    اویس لغاری نے کہا کہ نیشنل گرڈ پر ساڑھے 3 کروڑ کے قریب صارفین رجسٹرڈ ہیں جبکہ کرپٹو کے لیے بجلی کا کوئی ریٹ تاحال مقرر نہیں کیا گیا۔ تقریباً 1 کروڑ 85 لاکھ صارفین کو صفر سے 100 یونٹ پر 90 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ 100 سے 200 یونٹ والے صارفین کو 70 فیصد سبسڈی ملتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 60 سے 70 لاکھ سے بڑھ کر 1 کروڑ 83 لاکھ ہو گئی ہے۔

    وفاقی وزیر کے مطابق پچھلے 9 ماہ میں 200 یونٹ سے کم صارفین کے لیے بجلی مزید 60 فیصد سستی کی گئی، جبکہ پروٹیکٹڈ صارفین کے ٹیرف میں 58 فیصد کمی آئی۔ جون 2024 میں انڈسٹری سے 255 ارب روپے کی کراس سبسڈی لی جاتی تھی جو اب کم ہو کر 94 ارب رہ گئی ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی کا ٹیکس سمیت ٹیرف 48.7 روپے سے کم ہو کر 38.4 روپے ہوا ہے، اور نان پروٹیکٹڈ صارفین کے ریٹ میں بھی سلیب کے مطابق 11 سے 17 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ کراس سبسڈی کا بوجھ کم کر کے گھریلو صارفین کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں کمی کا امکان

    شمس اسلام قتل کیس: خواتین سمیت 4 مشتبہ افراد گرفتار

    امریکہ نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ دہشتگرد قرار دے دیا

  • نیٹ میٹرنگ ختم نہیں ہو رہی، شفاف اور پائیدار نظام کی طرف جا رہے ہیں، اویس لغاری

    نیٹ میٹرنگ ختم نہیں ہو رہی، شفاف اور پائیدار نظام کی طرف جا رہے ہیں، اویس لغاری

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نیٹ میٹرنگ کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی بلکہ اس کے موجودہ طریقہ کار کو زیادہ مؤثر، شفاف اور پائیدار ماڈل میں تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے، تمام فیصلے قومی مفاد اور توانائی نظام کی طویل مدتی پائیداری کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔

    اویس لغاری نے یہ بات پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) میں نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ میں منتقلی سے متعلق مشاورتی اجلاس کے دوران کہی۔ اجلاس میں سولر انڈسٹری کے ماہرین، سرکاری اداروں، صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

    انہوں نے کہا کہ 2017-18 میں نیٹ میٹرنگ کے آغاز میں خود ان کا کردار رہا ہے، اور اب اس نظام کے گرڈ پر اثرات دیکھے جا رہے ہیں جن کا بروقت حل ناگزیر ہے۔ حکومت کسی بھی صارف یا کاروبار کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی بلکہ قیمتوں میں خودکار ایڈجسٹمنٹ جیسے آپشنز پر بھی غور جاری ہے تاکہ نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے مطابق نظام خود کو ایڈجسٹ کر سکے۔

    اویس لغاری کے مطابق اگر نیٹ میٹرنگ صارفین تین سال یا اس سے کم عرصے میں سرمایہ واپس حاصل کر رہے ہیں تو یہ ایک موزوں تجارتی ماڈل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات حوصلہ شکنی کے لیے نہیں بلکہ ایک متوازن اور مستحکم نظام کی بنیاد رکھنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مہنگے اور غیر ضروری 9000 میگاواٹ کے منصوبے بند کیے، جبکہ کیپٹو پاور صارفین پر لیوی عائد کر کے انہیں گرڈ کی طرف لایا گیا جس سے طلب میں اضافہ ہوا۔ جون 2024 سے اب تک صنعت کو دی جانے والی 174 ارب روپے کی کراس سبسڈی کے باعث صنعتی نرخوں میں 31 فیصد کمی آئی ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ مختلف صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 14 سے 18 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بڑے آئی پی پیز سے معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کی جس کے نتیجے میں نرخوں میں واضح کمی آئی ہے، اور طویل المدتی منصوبوں میں صرف ضروری منصوبے شامل کیے جا رہے ہیں۔

    اویس لغاری کے مطابق حکومت کے پاس 7000 میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے، جو بغیر کسی سبسڈی کے 7 سے 7.5 سینٹ میں صنعت و زراعت کو دی جا سکتی ہے۔ اس اسکیم کی منظوری کے لیے چھ ماہ سے آئی ایم ایف سے مشاورت جاری ہے، جس کا مقصد بجلی کی رسد و طلب کا توازن قائم رکھنا اور صارفین کو فائدہ پہنچانا ہے۔

    ایران میں قتل ہونے والے 8 مزدوروں کے لواحقین کو 10 لاکھ فی خاندان امداد

    گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ متعدد بلوں کی توثیق کر دی

    برطانیہ، موسم سرما ایندھن ادائیگی اسکیم میں توسیع کا عندیہ، مزید افراد مستفید ہوں گے

    کراچی میں ٹینکر ڈرائیور کی ٹریفک اہلکار کو اغوا کرنے کی کوشش، تصادم میں 3 اہلکار زخمی