اسلام آباد- وفاقی وزیر انسداد منشیات اعجاز احمد شاہ کی ڈی چوک سے پارلیمنٹ ہاوس تک انسداد منشیات واک میں شرکت- اس موقع پر ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عارف ملک بھی موجود تھے.
اسلام آباد انسدادِ منشیات واک کے دوران وفاقی وزیر اعجاز شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسداد منشیات پوری قوم کا مسلہ ہے اس پر ہمیں مل کر سوچنا ہو گا- ان کا کہنا تھا کہ اس واک سے آگہی حاصل ہو گی کہ منشیات ایک خطرناک چیز ہے جس سے بچاؤ ممکن اور ضروری ہے- وفاقی وزیر انسداد منشیات اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ ہر آدمی کو منشیات جیسی لعنت کے خلاف اٹھنا ہو گا- وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں منشیات کی وباء پھیل رہی ہے اور نشہ ایک بہت بڑی لعنت ہے جس سے ہماری آنے والی نسلیں تباہ ہو سکتی ہیں- ان کا کہنا تھا کہ اس مارچ کا مقصد نشے کے خلاف آگاہی پھیلا نا ہے- وفاقی وزیر اعجاز کا کہنا تھا کہ
اسکول اور یونیورسٹیوں میں یہ وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اوراپنی نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانا ہمارا فرض ہے-
اس واک کا مقصد اس بات کا احساس دلانا تھا کہ نشے کی عادت انسان کی زندگی خطرے میں ڈال دیتی ہے اور اس سے چھٹکارا پانے کے لئے ہم سب کو مل کر نشے سے انکار کرنا ہوگا- یہ پیغام دینے کے لئے اس موقع پر واک کے شرکاء نے نشے سے انکار- زندگی سے پیار کے بینر اٹھا رکھے تھے-
وزارت انسداد منشیات اور اے این ایف تین سطح کی پالیسی کے تحت منشیات کے خاتمے کے لئے کام کر رہی ہے، جس میں ڈیمانڈ میں کمی لانا، سپلائی کو کم/ختم کرنا اور عالمی سطح پر باہمی تعاون کے ذریعے منشیات کے خلاف کام کرنا شامل ہیں-
اس واک میں وفاقی وزیر انسداد منشیات اعجاز احمد شاہ، میجر جنرل عارف کے ساتھ ساتھ وزارت انسداد منشیات اور اے این ایف کے افسران نے بھی شرکت کی- واک کے دیگر شرکاء میں عام عوام، مختلف سکول، کالجز، یونیورسٹیز کے طلباء، پاکستان بوائز سکاوٹز، گزلز گائیڈز، سول سوسائٹی، یو این او ڈی سی اور این جی اوز کے نمائندے شامل تھے- واک کا آغاز ڈی چوک اور اختتام پارلیمنٹ ہاوس پر ہوا- واک کے شرکاء میں انسداد منشیات سے متعلق کتابچے تقسیم کئے گئے-
Tag: وفاقی وزیر

ہر آدمی کو منشیات جیسی لعنت کے خلاف اٹھنا ہو گا, وفاقی وزیر

وفاقی وزیرکی یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پریس کانفرنس:اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد پر زور
وفاقی وزیرامور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کیا- علی امین گنڈاپورنے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں- مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی بھارتی سازشیں انتہائی قابل مزمت ہیں- مقبوضہ کشمیر میں سترا لاکھ غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا ہے-
اقوامِ متحدہ بھارت کی سازشوں کا فوری نوٹس لے- اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد ممکن بنائے- وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے وکیل اور سفیر کے طور پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے- مسلہ کشمیر پر عالمی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے- یورپی پارلیمنٹ اور برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے کشمیریوں کے حقوق کی آواز اٹھانا خوش آئیند ہے-

افغان مہاجرین اور پاکستانی عوام کے مابین تعلقات سے متعلقہ نت نئے انکشاف ظاہر
وفاقی وزیر برائے سیفران نے کہا کہ یو این ایچ سی آر افغان مہاجرین کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہو سکتا۔
اسلام آباد – وفاقی وزیر برائے سیفران صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا کہ یو این ایچ سی آر اور بین الاقوامی ادارے افغان مہاجرین کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار افغانستانی سفیر برائے پاکستان جناب نجیب اللہ علی خیل سے ملاقات کے دوران کیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان مہاجرین کے بارے میں نقطہ نظر بہت واضح ہے اور یہ کہ پاکستان افغان مہاجرین کی سہولت کے لئے کوشاں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی او آر کارڈ کی مدت ختم ہونے پر درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ کے توسط سے تمام سیکیورٹی ونگز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ مہاجرین کو ہر طرح کی تکلیف سے بچنے میں مدد کریں۔
"پاکستان افغان مہاجرین کو زندگی کے ہر شعبے میں اپنے شہریوں کے برابر مواقع فراہم کرکے ان کی پرورش کر رہا ہے۔ نتیجتاً آج بہت سے مہاجرین پاکستان کی معیشت اور معاشرے میں تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ محبوب سلطان نے کہا کہ مہاجرین کے وقار کی دیکھ بھال ہماری اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی ادارے افغان مہاجرین کو نظرانداز نہیں کر سکتے، اس حقیقت کے پیش نظر کہ دنیا گذشتہ 41 برس سے چالیس لاکھ افغان باشندوں کی میزبانی میں پاکستان کی قربانیوں کو فراموش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانیوں کو کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچنے کے لئے ویزا اور آمد پر تمام فیسوں اور ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مہاجرین کے ساتھ اپنے وسائل بانٹ رہا ہے جب کہ پاکستان کو کوئی خاطر خواہ غیر ملکی مدد فراہم نہیں کی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجر بچوں کو ملازمت فراہم کی گئی ہے اور انہیں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ترجیحی بنیادوں پر داخلہ دیا گیا ہے۔
سفیر نجیب اللہ نے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں اور افغانستان میں قیام امن کے عمل میں پاکستان کے نمایاں کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستیں گہرے ثقافتی بندھن میں منسلک ہیں ، یہ دونوں ریاستوں کے مابین تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان میں نے سفیر کے طور پر دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔ افغان سفیر نے کہا کہ گذشتہ سال نومبر میں عبد اللہ عبد اللہ کے دورہ نے دوطرفہ تعلقات اور امن کے عمل کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے بہت کچھ کیا جا چکا ہے اور دونوں ریاستیں بالآخر صحیح سمت کی طرف گامزن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام سے عوام کا رابطہ افغان حکومت کی پہلی ترجیح ہے اور موجودہ سیاسی ماحول تعلقات کو ایک مثبت سمت میں آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت مہاجرین کے مسائل کے حل کے لئے بات چیت کو مزید آگے بڑھانے کے لئے کسی بھی طرح کی مدد کو تیار ہے۔


