Baaghi TV

Tag: وقار ستی

  • وقار ستی کیخلاف توہین مذہب کا مقدمہ خارج

    وقار ستی کیخلاف توہین مذہب کا مقدمہ خارج

    سینئر صحافی وقار ستی کیخلاف توہین مذہب کا مقدمہ خارج کر دیا گیا

    راولپنڈی پولیس نے سینئر صحافی وقار ستی کیخلاف توہین مذہب کی ایف آئی آر خارج کر دی ہے، مقدمہ اخراج رپورٹ ہفتے کے اندر علاقہ مجسٹریٹ کے پاس جمع کرائے گی، جسٹس چودھری عبدالعزیز کی عدالت میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن عامر خان نیازی نے یقین دہانی کروائی جس کے بعد عدالت نے وقار ستی کی اپیل نمٹا دی، ممتاز قانون دان ملک غلام مصطفیٰ کندوال نے کیس کی پیروی کی،

    مقدمہ ختم ہونے کے بعد وقار ستی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور لکھا "الحمدللہ”

    ایک اور ٹویٹ میں وقار ستی کا کہنا تھا کہ بہت بہت شکریہ ملک صاحب۔آپ کی شفقت ، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ اللہ پاک آپ کی صحت،عمر اور رزق میں بے پناہ اضافہ فرمائے۔ آمین۔ آپ مظلوموں کی آواز اور جابرحکمرانوں کے لیے ننگی تلوار ہیں۔ ہمیشہ خوش رہیں ۔

    واضح رہے کہ وقار ستی کے خلاف مقدمہ آر اے بازار تھانہ میں کیبل آپریٹر چوہدری ناصر قیوم کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ وقار ستی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کئی باتیں کی ہیں جن کا عمران خان کے خطاب سے کوئی تعلق نہیں ہے عمران خان سے منسوب وقار ستی کی باتیں حقائق کے منافی ہیں اور ان کی باتوں سے میرے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے.

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    صحافیوں کی جانب سے وقار ستی کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی مزمت کی گئی ہے ،وقار ستی کے خلاف سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ٹرینڈ بھی چلایا تا ہم پاکستان بھر کے صحافیوں نے وقار ستی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور انکے خلاف مہم اور اندراج مقدمہ کی مذمت کی گئی،

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

  • توہین مذہب کے مقدمہ میں نامزد وقار ستی کی ضمانت کنفرم

    توہین مذہب کے مقدمہ میں نامزد وقار ستی کی ضمانت کنفرم

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے توہین مذہب کے مقدمہ میں نامزد سینئر صحافی کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی

    عدالت نے بار بار طلب کرنے کے باوجود مقدمہ کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کو عدالت میں ریکارڈ پیش کرنے میں کیا چیز مانع ہے پولیس عدالتوں اور قانون کو مذاق نہ سمجھے ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں چند کلو میٹر کے فاصلے پر موجود شخص سے رابطہ ممکن نہیں تو پھر عوام کو انصاف کیسے ملے گا ،عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ضمانت کنفرم کرنے کا حکم جاری کیا

    گزشتہ روز سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل قاضی حفیظ الرحمان ایڈووکیٹ اورپراسیکیوٹر نغمانہ بشیرکے علاوہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ، نیشنل پریس کلب کے صدر انور رضا، سیکریٹری راجہ خلیل احمد،سینئرجوائنٹ سیکریٹری شکیلہ جلیل،سابق صدر طارق چوہدری،آر آئی یو جے کے صدرعابد عباسی، فنانس سیکریٹری کاشان اکمل،ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کےصدریوسف خان، سیکریٹری ملک زبیر اعوان سمیت جڑواں شہروں کی مختلف صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی

    مقدمہ مدعی،اس کا وکیل اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہ ہوئے اس موقع پر عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم موجودگی پر پراسیکیوٹر سے استفسار کیا تو پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر ابھی ریکارڈ لے کر نہیں پہنچا جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ تفتیشی افسر ریکارڈ لے کر ایک گھنٹے میں عدالت پہنچے عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد ریکارڈ طلب کرتے ہوئے پراسیکیوشن کو ایک گھنٹے کا وقت دیا تاہم ایک گھنٹے کا وقت ختم ہونے پر بھی تفتیشیافسر ریکارڈ لے کر حاضر نہ ہوا جس پر عدالت نے اپنے عملے سے دریافت کیا کہ کہ متعلقہ پولیس حکام اورتفتیشی کو آگاہ کیا تھاتو عدالتی عملے نے بتایا کہ تفتیشی افسر کے ساتھ متعلقہ مجاز حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوشن عدالتوں اور قانون کو مذاق نہ بنائے عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کو عدالت میں ریکارڈ پیش کرنے میں کیا چیز مانع ہے جس پر پراسیکوٹر نے موقف اختیار کیا کہ تفتیشی سے رابطہ نہیں ہو رہا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگرٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں چند کلو میٹر کے فاصلے پر موجود شخص سے رابطہ ممکن نہیں تو پھر عوام کو انصاف کیسے ملے گا جس پر پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہانہیں رابطے کے لئے مزید وقت دیا جائے جس پر عدالت نے مزید 2 گھنٹے کا وقت دیتے ہوئے 11 بجے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا تا ہم دوبارہ مہلت ختم ہونے پر بھی تفتیشی ریکارڈ لے کر حاضر نہ ہوا جس پر عدالت نے وقار ستی کی ضمانت کنفرم کر دی

    قبل ازیں درخواست گزار کے وکیل قاضی حفیظ الرحمان نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو بے بنیاد الزامات کے تحت مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے حالانکہ درخواست گزار نے ایسے کسی فعل کا ارتکاب نہیں کیا اور درخواست گزار مکمل بے گناہ ہے درخواست گزار کے خلاف درج مقدمہ تعزیرات پاکستان کی سیکشن 196کی خلاف ورزی ہے مقدمہ کے اندراج سے قبل وفاقی یا صوبائی حکومت سے منظوری نہ لینا مقدمہ کا ادراک نہ ہونے کے مترادف ہے جبکہ مقامی پولیس نے بھی پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016کی خلاف ورزی کی ہے جس سے پولیس اور مقدمہ کے مدعی کی بدنیتی عیاں ہوتی ہے درخواست گزار مکمل بے گناہ ہے اور مقدمہ میں عائد الزامات بے بنیاد ہیں اگر مقدمہ کے مدعی کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو اسے یہ الزامات درخواست گزار کی بجائے اپنے لیڈر سے منسوب کرنے چاہئے درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کا سابق صدر اور نیشنل پریس کلب کا سابق سیکریٹری فنانس رہ چکا ہے جو ایسے فعل کا تصور بھی نہیں کر سکتا اس طرح پولیس اس بے بنیاد مقدمہ میں درخواست گزار کو گرفتار کرنا چاہتی ہے درخواست گزار کو سیاسی انتقام کے طور پر مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے جبکہ پراسیکیوشن کے پاس درخواست گزار کے خلاف اس مقدمہ میں کوئی ٹھوس شواہد بھی موجود نہ ہیں درخواست گزارایک قابل عزت اور قانون پسند شہری ہے جو آج تک کسی بھی کیس میں ملوث یا نامزد نہیں رہا، درخواست گزارایک راسخ العقیدہ مسلمان، محب وطن پاکستانی اور ایک عامل صحافی ہونے کے ناطے ایسے فعل کا تصور بھی نہیں کر سکتا اس طرح پولیس اس بے بنیاد مقدمہ میں درخواست گزار کو گرفتار کرنا چاہتی ہے درخواست گزار کو سیاسی انتقام کے طور پر مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے

    وقار ستی کے خلاف مقدمہ آر اے بازار تھانہ میں کیبل آپریٹر چوہدری ناصر قیوم کی مدیت میں درج کیا گیا تھا، درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ وقار ستی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کئی باتیں کی ہیں جن کا عمران خان کے خطاب سے کوئی تعلق نہیں ہے عمران خان سے منسوب وقار ستی کی باتیں حقائق کے منافی ہیں اور ان کی باتوں سے میرے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے.

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    صحافیوں کی جانب سے وقار ستی کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی مزمت کی گئی ہے ،وقار ستی کے خلاف سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ٹرینڈ بھی چلایا تا ہم پاکستان بھر کے صحافیوں نے وقار ستی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور انکے خلاف مہم اور اندراج مقدمہ کی مذمت کی گئی،

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

  • پنجاب حکومت کا سینیئر صحافی پر مذہب کے نام پر مقدمہ درج،صحافی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار

    پنجاب حکومت کا سینیئر صحافی پر مذہب کے نام پر مقدمہ درج،صحافی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار

    مذہب کارڈ کے مخالف دعویداروں کا اصل چہرہ بے نقاب،پنجاب حکومت صحافی وقار ستی پر مقدمہ درج کر کے نئی تاریخ رقم کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عمران خان کی سیاست پر تنقید کی وجہ سے مذہبی کارڈ کا استعمال کیا گیا، سینیئر صحافی پر مذہب کے نام پر مقدمہ درج ہونے پر صحافی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    عمران خان کے خلاف ٹویٹ،صحافی وقار ستی کیخلاف مقدمہ درج

    مذہبی ٹچ سے مذہب کارڈ کا سفر سابق وزیر اعظم کے چہرہ پر سیاہ دھبہ قرار دیا جا رہا ہے صحافی برادری کی جانب سے وقار ستی کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کا عظم کیا گیا ہے-

    صحافی برادری نے عمران خان اور چوہدری پرویز الہی کے اقدامات پر بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ٹویٹر پر ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر سینئر صحافی وقار ستی کے خلاف جعلی ایف آئی آر درج کی گئی ہے-

    مریم اورنگزیب کی صدرلاہور پریس کلب اعظم چوہدری کو دھمکی کی مزمت

    ایف آئی آر راولپنڈی کے آر اے بازار تھانہ میں کیبل آپریٹر چوہدری ناصر قیوم کی مدیت میں درج کی گئی ہے ، ایف آئی آر میں چوہدری ناصر قیوم کا کہنا ہے کہ وقار ستی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کئی باتیں کی ہیں جن کا عمران خان کے خطاب سے کوئی تعلق نہیں ہے –

    درخواست گزار کا مذید کہنا تھا کہ عمران خان سے منسوب وقار ستی کی باتیں حقائق کے منافی ہیں اور ان کی باتوں سے میرے مزہبی جزبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے-

    صحافیوں کی جانب سے وقار ستی کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی مزمت کی گئی ہےصحافی اسد علی طور نے وقار ستی کے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی بھی اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر شائع کی اور کہا کہ وقار ستی کے خلاف مقدمے کا اندراج قابل مزمت ہے.

    آرمی چیف آج سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے

  • عمران خان کے خلاف ٹویٹ،صحافی وقار ستی کیخلاف مقدمہ درج

    عمران خان کے خلاف ٹویٹ،صحافی وقار ستی کیخلاف مقدمہ درج

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ٹویٹر پر ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر سینئر صحافی وقار ستی کے خلاف جعلی ایف آئی آر درج کر دی گئی.


    ایف آئی آر راولپنڈی کے آر اے بازار تھانہ میں کیبل آپریٹر چوہدری ناصر قیوم کی مدیت میں درج کی گئی ہے ، ایف آئی آر میں چوہدری ناصر قیوم کا کہنا ہے کہ وقار ستی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کئی باتیں کی ہیں جن کا عمران خان کے خطاب سے کوئی تعلق نہیں ہے ، درخواست گزار کا مذید کہنا تھا کہ عمران خان سے منسوب وقار ستی کی باتیں حقائق کے منافی ہیں اور ان کی باتوں سے میرے مزہبی جزبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے.

    صحافیوں کی جانب سے وقار ستی کے خلاف مقدمہ کے انراج کی مزمت کی گئی ہےصحافی اسد علی طور نے وقار ستی کے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی بھی اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر شائع کی اور کہا کہ وقار ستی کے خلاف مقدمے کا اندراج قابل مزمت ہے.


    اسلام آباد سے سینئر صحافی عون شیرازی لکھتے ہیں کہ جب پنجاب ڈوب رہا ہے اور لاشیں تیر رہی ہیں تو عمران خان کی پنجاب حکومت صحافیوں کے خلاف توہین مذہب کی ایف آئی آرز درج کرا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ سینئر صحافی سابق صدر آر آئی یو جے وقار ستی کے خلاف راولپنڈی میں توہین مذہب کی ایف آئی آر کا اندرج قبل مزمت ہے.

  • مخصوص صحافیوں کو پریس کانفرنس میں بلانے پر بیٹ رپورٹرز کا عمران خان کو احتجاجی خط

    مخصوص صحافیوں کو پریس کانفرنس میں بلانے پر بیٹ رپورٹرز کا عمران خان کو احتجاجی خط

    اسلام آباد:مخصوص صحافیوں کو پریس کانفرنس میں بلانے پر بیٹ رپورٹرز کا عمران خان کو احتجاجی خط ،اطلاعات کے مطابق جیو کے نیوزرپورٹر وقار ستی نے سابق وزیراعظم سے شکوہ کرتے ہوئے خط لکھاہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پریس کانفرنس میں صرف پسندیدہ اور چاپلوس صحافیوں کوبلاتے ہیں

    وقار ستی کہتےہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ، اپنے پسندیدہ صحافیوں کو کیوں ہی بلایا جاتا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرٹ پر سوالات کرنےوالوں کونظر انداز کرنےکےخلاف پاکستان کے 15سے زائد TVچینلزکے پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز نے پی ٹی آئی کی کوریج کےبائیکاٹ کااعلان کردیااوراس بارےعمران خان کوخط بھی لکھ دیاہے۔

     

    ادھراس سے پہلے وقار ستی نے وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے خطاب کے حوالے سے اپنے جزبات کا اظہار کیا اورکہا کہ بلاول بھٹو کاانتہائی پر اعتماد خطاب واضع پیغام ہے کہ حکومت عوام کو مسائل سے نکالنے کے لیےپرامید ہےاور مصمم ارادہ رکھتی ہےکہ مہنگائی کے جن کو جلد از جلد بوتل میں بند کیا جائے ۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ خان صاحب جلدانتخابات کو اب بھول جائیں۔

    وقار ستی نے بلاول کی تقریرپرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے خطاب سے ایسا کیوں محسوس ہو رہا کہ عمران خان کی گرفتاری عمل میں لائے جانے والی ہے ؟

    کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟ وقار ستی مزید کہتے خطاب میں بلاول بھٹو کا زور تو نشہ خانہ کے حوالے سے تھا اس کے بعد ان کا اشارہ گوگی ، پنکی اور پنجاب کے معاملات بھی تھے۔