Baaghi TV

Tag: ولادی میر پوتن

  • سابق سویت یونین صدرگورباچوف کی آخری رسومات:روسی صدرولادی میرپوتین کی شرکت سے معذرت

    سابق سویت یونین صدرگورباچوف کی آخری رسومات:روسی صدرولادی میرپوتین کی شرکت سے معذرت

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سابق سوویت یونین کے پہلے اور آخری صدر میخائل گورباچوف کی آخری رسومات ریاستی اعزاز کے ساتھ کرنے سے روک دیا۔ بتایا جارہاہےکہ یہ فیصلہ سیکورٹی کی وجہ سے کیا گیا ہے

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق سویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف کی آخری رسومات کل ہونی ہیں تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے آنجہانی رہنما کو ریاستی اعزاز کے ساتھ آخری دفنانے سے محروم کردیا البتہ خیال کیا جا رہا ہے کہ میخائل گورباچوف کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    ادھر روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی صدر اپنے کام کے شیڈول کے باعث سابق سوویت صدر گورباچوف کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ میخائل گورباچوف کی تدفین ہفتے کے روز ہال آف کالمز میں ایک عوامی تقریب کے بعد کی جائے گی جس میں سوویت یونین کے رہنما ولادیمیر لینن، جوزف اسٹالن اور لیونیڈ بریزنیف کریں گے۔

    دوسری جانب سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ماسکو کے سینٹرل کلینیکل اسپتال میں ولادیمیر پوٹن نے رسمی طور پر میخائل گورباچوف کے تابوت پر سرخ گلاب بھی رکھا۔ تابوت کو ہاتھ لگایا اور صلیب کا نشان بنایا۔

    واضح رہے کہ 2 روز قبل سابق سوویت یونین کے پہلے اور آخری صدر میخائل گورباچوف 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

  • امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    تہران :امریکہ کوہرحال میں مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلنا ہوگا:آستانہ اجلاس کااعلامیہ جاری کردیا گیا ہے ، اس حوالے سے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ مشرقی فرات کے علاقے میں امریکہ کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے اور امریکہ کو ہر حال میں اس علاقے سے نکلنا ہوگا۔

     

    سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان: طیب اردوان،ولادی میرپوتن

    تہران میں آستانہ سربراہی کانفرنس کے ساتویں دور کے اختتام کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں ایران کے صدرسید ابراہیم رئیسی نے ان مذاکرات میں روس اور ترکی کے صدور کی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نشست کے دوران شام کی موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت اور اقتدار اعلی پر زور دیا گیا۔

    صدر ایران نے مزید کہا کہ شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں امریکہ کی موجودگی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اورامریکی افواج کو ہر حال میں ان علاقوں کو چھوڑنا ہوگا۔ انہوں نے شام کے تمام علاقوں پر اس ملک کی مرکزی حکومت کے اقتدار اعلی پر زور دیا۔

    ایرانی اور روسی صدر سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ میں

    سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ آستانہ سربراہی اجلاس کے شرکا کی اس نشست میں دہشت گردی کے مقابلے اور اس سلسلے میں تمام ممالک کے تعاون پر بھی اتفاق ہوا۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے بھی اس موقع پر آستانہ مذاکرات کے سربراہوں کی ملاقات اور بات چیت کو شام کے مسئلہ کے حل کے لئے انتہائی مفید اور موثر قرار دیا۔ پوتین نے اس نشست کے اختتامی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک نے شام کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے مستحکم تعاون پر زور دیا ہے اور اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ شام کے بحران کا حل صرف اور صرف سیاسی طریقے سے ممکن ہے۔

    پوتین نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لئے ایرانی اور ترک حلیفوں سمیت شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ تعاون جاری رہے گا اور اس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے

    پاکستان، ترکی ،آذربائیجان میں سہ فریقی ملاقات :آج اہم فیصلے متوقع

    مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بھی آستانہ نشست کے شرکا کے درمیان تعاون جاری رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقے کے مستقبل میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

  • مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ داربھی یہی ہیں:ولادی میرپوتن

    مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ داربھی یہی ہیں:ولادی میرپوتن

    ماسکو:کیا دنیا کو یہ احساس نہیں ہورہا کہ مغرب نے ساری دنیا میں معاشی تباہی پھیلائی ہے اور یہ سلسلہ اب رُکنے کا نام ہی نہیں‌ لے رہا ، ان خیالات کا اظہارکرتےہوئےسینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) سے قبل ایک خطاب کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ مغربی ممالک نے عالمی معیشت کو غلط طریقے سے سنبھالا ہے، اور پوری دنیا اب ان کی نااہلی کی قیمت چکا رہی ہے۔

     

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    ولادی میر پوتین نے یہ حقیقت اس وقت بیان کی جب سالانہ بین الاقوامی ایونٹ اس سال 25 ویں مرتبہ منعقد ہو رہا ہے۔ شرکاء سے استقبالیہ خطاب میںجو فورم کے آغاز سے ایک ہفتہ قبل شائع ہوا،ولادی میر پوتن کہتے ہیں کہ ساری دنیا اس کی قیمت چُکا رہی ہے

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ "مغربی ممالک کی طرف سے اپنی اقتصادی پالیسی میں کئی سالوں کی غلطیوں اور ناجائز پابندیوں کی وجہ سے مہنگائی کی عالمی لہرپیدا ہوئی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ لاجسٹک اور مینوفیکچرنگ چین میں بدنظمی ، غربت میں اضافہ اور خوراک کے خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔”

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے پاکستان کے کپتان عمران خان کے موقف کی تائید کردی

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے پیشین گوئی کی کہ موجودہ دہائی ایک ایسا وقت بن جائے گی جب روس اپنے بنیادی ڈھانچے اور مینوفیکچرنگ بیس کی تعمیر، اپنے کارکنوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کرکے اور ایک آزاد مالیاتی نظام تشکیل دے کر "اپنی اقتصادی خودمختاری کا دعویٰ کرے گا”۔ ملک کی معیشت وسیع دنیا کے لیے کھلی رہے گی،

    یاد رہے کہ یہ فورم اگلے ہفتے بدھ سے ہفتہ تک ہو گا۔ منتظمین کے مطابق، 1،000 سے زیادہ سی ای اوز سمیت 2,700 سے زیادہ کاروباری رہنماؤں نے اس فورم میں‌ یکم جون تک اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔اس اجتماع کا مقصد روس کی مغربی دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور اسے سفارتی اور اقتصادی طور پر باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرنا ہے

    امریکہ کا ایران کے خلاف طاقت کا استعمال تباہ کن ہو گا، روسی صدر ولادی میر پوتین

    یاد رہے کہ فروری کے آخر میں ماسکو کی جانب سے یوکرین کے خلاف فوجی حملے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر اقتصادی پابندیوں کا ایک بے مثال سلسلہ عائد کر دیا تھا۔ چین اور بھارت جیسے اقتصادی طاقتوں سمیت کئی غیر مغربی ممالک نے دباؤ کی مہم میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

  • روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    ماسکو:روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا،اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی رہائش گاہ مولوٹوو کاک ٹیل (پیٹرول بم) سے حملے کی اطلاعات ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کریملن بھی اب حملے کی زد میں ہے۔

    ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ماسکو میں قلعہ بند سرکاری عمارت کی دیواروں پر ایک شخص کو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ایک ٹک ٹاک صارف نے چلتی گاڑی کے اندر سے بنائی گئی ایک شخص کی ویڈیو کلپ کو اپ لوڈ کیا، جس میں ایک نامعلوم حملہ آور کو روسی صدر کی رہائش گاہ پر مولوٹوو کاک ٹیل مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    خیال رہے کہ ولادی میر پیوٹن اس عمارت میں رہتے اور دیگر سرکاری امور انجام دیتے ہیں۔حملے کے بعد کریملن کی دیواروں کی بنیاد پر کم درجے کی آگ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔اس حملے کو مقامی خبر رساں اداروں بشمول بیلاروسی میڈیا چینل نیکٹا لائیو نے بھی شیئر کیا۔

    دوسری جانب یوکرین میں ایک ٹک ٹاکر کو روسی فوج کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔یہ گرفتاری ٹک ٹاکر کی جانب سے ایک ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد عمل میں آئی جس میں کیف میں ایک شاپنگ مال کے پاس کھڑی یوکرینی فوجی گاڑیوں کے بیڑے کو دکھایا گیا تھا۔

    جس کے فوراً بعد عمارت کو روسی فضائی حملے سے نشانہ بنایا گیا۔اتوار کو ہونے والی اس فضائی کارروائی میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

    روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے بتایا کہ یوکرینی شاپنگ مال کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    مذکورہ ٹک ٹاکر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے یوکرینی فوج کا مقام دکھا کر “دشمن کے لیے سہولت کار کے طور پر کام کیا”۔

    یوکرینی سیکیورٹی سروس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “ایک ٹک ٹاکر نے حال ہی میں کیف میں یوکرینی فوج کے مقام کے بارے میں انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا۔“بعد میں، شاپنگ سینٹر، جہاں ہمارے محافظ تھے، روسی قابضین کی طرف سے ایک طاقتور میزائل حملے کا نشانہ بنے۔

    “جانے انجانے میں اس شخص نے دشمن کے لیے سہولت کار کا کام کیا، اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔”

    بعد ازاں، ایک ویڈیو میں اس شخص نے معافی مانگتے ہوئے دوسرے یوکرین کے باشندوں کو متنبہ کیا کہ وہ ایسی ٹک ٹاک ویڈیوز پوسٹ نہ کریں جو روسی افواج کو اسٹریٹجک معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

    کیف کے میئر وٹالی کلِٹسکو نے بھی اس حوالے سے کہا کہ یوکرینی باشندوں کو “فوجی سازوسامان، چوکیوں، اسٹریٹجک اشیاء کی نقل و حرکت” سے متعلق کسی بھی چیز کی فلم بندی یا تصویر کھینچنے سے گریز کرنا چاہیے۔