Baaghi TV

Tag: ووہان

  • سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    کورونا وائرس کے حوالے سے سائنسدان ابھی تک جاننے کی تگ و دو میں ہیں کہ آخر یہ بیماری کس طرح کیسے اور کہاں سے پھیلی،اب تک اس حوالے سے سائدسدانوں نے دو خیالات کا اظہار کیا تھا ایک تو یہ تھا کہ کسی لیبارٹری سے وائرس لیک ہوا اور دوسرا یہ کہ کسی جنگلی جانور سے یہ انسانوں میں منتقل ہوا۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کا شروع سے ماننا ہےکہ یہ وائرس چین کے شہر ووہان کی وائلڈ لائف مارکیٹ سےکسی جانورکےذریعے انسانوں میں منتقل ہوکر پھیلنا شروع ہوا مگر اب تک اس کا ثبوت نہیں مل سکا تھا۔

    مگر اب سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے اب اس وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی ہے ان سائنسدانوں نے ووہان کی اس مارکیٹ میں موجود جانوروں کےجینیاتی نمونوں کےڈیٹاکا تجزیہ کیا اور ان کےخیال میں جو جانوراس عالمی وبا کوپھیلانےوالے وائرس کا باعث بنا وہ ریکون ڈوگ نامی ایک ممالیہ جاندار ہے۔

    سائنس دانوں نے ووہان، چین کی مارکیٹ سے نئے جینیاتی شواہد دریافت کیے ہیں، جہاں 2019 کے آخر میں کوویڈ کےکیسز پہلی بار کلسٹر ہوئے تھے۔ ان نتائج سے SARS-CoV-2 کے جانوروں کی اصل میں مدد ملتی ہے، یہ وائرس جو کوویڈ کا سبب بنتا ہے۔ انہیں اس ہفتے کے شروع میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے بلائے گئے ایک مشاورتی گروپ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

    وائرل آر این اے پر مشتمل نمونے، جو 2020 کے اوائل میں ہوانان سمندری غذا کی ہول سیل مارکیٹ میں جمع کیے گئے تھے، ان میں ایک قسم کا جانور کتوں کا جینیاتی مواد بھی شامل تھا، جو بظاہر بازار میں فروخت ہونے والی لومڑی کی طرح کی کینیڈ کے ساتھ ساتھ دوسرے جانوروں پر مشتمل تھا۔ جینیاتی مواد مارکیٹ کے انہی علاقوں سے آیا جہاں SARS-CoV-2 پایا گیا تھا-

    اس مارکیٹ کو وائرس کے پھیلاؤ کے بعد یکم جنوری 2020 کو بند کر دیا گیا تھا اور وہاں موجود جانوروں کے جینیاتی نمونے اس بندش کے 2 ماہ بعد اکٹھے کیے گئے تھے اس ڈیٹا کو گزشتہ سال چینی سائنسدانوں نے عالمی ڈیٹابیس کے لیے جاری کیا تھا۔

    تحقیقی ٹیم نے اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ریکون ڈوگ کے نمونوں میں کوویڈ 19 کی تصدیق کیدیگر ممالیہ جاندار جیسے civets کے نمونوں میں بھی کورونا وائرس کو دریافت کیا گیا اس دریافت سے یہ ٹھوس طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ ریکون ڈوگ کی وجہ سے کووڈ کی وبا متحرک ہوئی مگر محققین کا ماننا ہے کہ زیادہ امکان اسی بات کا ہے۔

    سائنسدانوں نے اپنی تحقیقی کام کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ماہرین کے سامنے پیش کیا ہے اس تحقیقی ٹیم میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ اس ڈیٹا سے ووہان کی مارکیٹ سے وائرس کے آغاز کے خیال کو تقویت ملتی ہےانہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ چینی سائنسدانوں نے اس جینیاتی ڈیٹا کو پہلے جاری کیوں نہیں کیا۔

    سائنسدانوں کے مطابق وہ اس دریافت پر ایک رپورٹ مرتب کر رہے ہیں جس کو جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ ریکون ڈوگ میں وائرس کی موجودگی سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

    عالمی ادارہ صحت نے اس دریافت پر کہا ہے کہ اس سے وبا کے آغاز کے حوالے ٹھوس جواب تو نہیں ملتا مگر یہ ڈیٹا بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے ہم جواب کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

    فرانسیسی نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ کی ایک ارتقائی ماہر حیاتیات فلورنس ڈیبارے نے وائرس کے جینیاتی سلسلے دریافت کیے جنہیں چین میں محققین نے جن کی سربراہی چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سابق سربراہ جارج گاؤ کر رہے تھےنے ایک عوامی جینومک ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کیا تھا۔

  • کورونا وبا کا ووہان کی لیب سے پھیلنے والا امریکی دعویٰ مضحکہ خیزہے،چین

    کورونا وبا کا ووہان کی لیب سے پھیلنے والا امریکی دعویٰ مضحکہ خیزہے،چین

    چین نے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے کورونا وبا کے چینی شہر ووہان کی لیب سے پھیلنے والے دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: چین نے ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ چین کی جانب سے سیاسی مقاصد کیلئے حقائق کو مسخ کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انٹیلیجنس کا فراڈ اور دھوکہ دہی پر مبنی ماضی کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے ان کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کی کوئی ساکھ باقی نہیں رہتی ہم امریکا سے امید کرتے ہیں کہ وہ سائنس اور حقائق کا احترام کریں گے۔

    واضح رہے کہ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وائرس نے چین کے شہر ووہان کی ایک لیب سے نکل کر عالمی وبا کی صورت اختیار کی تھی۔

    امریکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کرسٹوفر رے کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی کے حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی وبا چین کی ایک لیب حادثے کا نتیجا تھی۔

    ایف بی آئی ڈائریکٹر کا ایسا بیان امریکی جریدے میں محمکہ توانائی کے ایک جائزے کی اشاعت کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ کورونا وبا چین میں پیش آنے والے ایک غیر ارادی لیب واقعے کا نتیجہ تھی۔

    امریکی جریدے میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل انٹیلیجنس پینل سمیت چار اداروں کی تحقیق کے نتائج مختلف ہیں، ان کا خیال ہے کہ وبا قدرتی طریقے سے پھیلی تھی اور اس کے پیچھے دو اور محرکات بھی ہوسکتے ہیں جو ابھی تک واضح نہیں ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے بھی پیر کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وبا کی پھیلنے کے حوالے سے امریکی حکومت تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے۔

    ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے اپنے انٹرویو کے دوران خفیہ معلومات کا جواز بتاکر مزید تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے چینی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امریکا اور دیگر ملکوں کی جانب سے وبا کے اسباب کا پتا لگانے اور وبا کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی رہی ہے۔