Baaghi TV

Tag: وکلا کنونشن

  • عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    سابق صدر عارف علوی نےوکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان چاہئے جس میں قائداعظم نے کہا تھا کہ انصاف ہو،عمران خان کو رہا اور عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،میرے لئے سب سے اہم آئین پاکستان ہے، پاکستان میں کسی سےاثاثوں کا سوال کریں توکہتےہیں بات یہاں سےشروع نہیں ہوتی، یہاں آڈیو، ویڈیو ریکارڈنگ ہوتی ہے،اہلخانہ کی گفتگوکو ریکارڈکرلیا جاتا ہے، معاشرے کو تباہ کیاجارہا ہے،عمران خان کو رہا اور عوامی مینڈیٹ کی قدرکیجائے،عمران خان جھوٹ نہیں بولتے۔انصاف ہی معاشرے کو قائم رکھتا ہے۔ اسلام میں قاضی اور عدل و انصاف کے تمام معیارات بالکل واضح ہیں۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کا فلسفہ پاکستان بھی انصاف پر ہی منحصر تھا۔ آج اس نظام عدل کو بلاشبہ خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

    تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نےوکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تصدق جیلانی صاحب اپنی عزت بچائیں،،اپنی باقی زندگی عزت سے گزاریں، چھ ججز کو یقین دلاتا ہوں پورے پاکستان کے وکلاء آپکے ساتھ کھڑے ہیں۔ آپ کی بہادری پر ہمیں فخر ہے .افراد کی زندگی میں کبھی کبھی وہ لمحے آتے ہیں جب افراد کو قوم بننا پڑتا ہے، وہ لمحہ آن پہنچا ہے ،آج چادر چار دیواری کی کوئی عزت نہیں ہے ،آج عدالتیں بھی خوف کا شکار ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے تناظر میں لاہور ہائیکورٹ میں وکلا کنونشن کا انعقاد کیا گیا ہے،کنونشن میں سردار لطیف کھوسہ، حامد خان ، خرم نواز گنڈاپور نے شرکت کی،ابوذر سلمان نیازی ، فیصل چودھری سمیت دیگر وکلا بھی شریک ہوئے،لاہور وکلاء کنونشن میں عمران خان کی رہائی کے لیے وکلا نے بھرپور نعرے بازی کی،

    ساری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ نظامِ عدل کو زنجیروں میں لپیٹ کر رکھا ہوا ہے، لطیف کھوسہ
    پی ٹی آئی رہنما سردار لطیف کھوسہ نےوکلا کنونشن سے خطاب میں کہا کہ جب پاکستان کے پہلے چیف جسٹس لاہور آئے تو وہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کو نہیں ملے، آپ کیسے چیف جسٹس ہیں قاضی فائز عیسیٰ صاحب ؟ آپ کیوں وزیر اعظم کو ملے ؟آج ساری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ نظامِ عدل کو زنجیروں میں لپیٹ کر رکھا ہوا ہے، ساری عوام کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے،ہمیں آزادی تو قائد اعظم نے دلوائی تھی کیا ہمیں آزادی میسر آئی بھی ہے ابھی تک، پہلے مارشل لاء سے اب تک اگر سویلین حکومت ملی تو وہ بھی اپنے دیکھا کیا تھا، آپ کیسے چیف جسٹس ہو کہ آپکو 6 ججز شکایات کر رہے ہیں، ججز نے لکھا کہ ہمارے بیڈ روم میں کیمرہ لگا ہوا ہے، ججز کے رشتہ داروں کو اٹھا لیا گیا ایک جج کے گھر پٹرول بم گریا اور اسکی کو ہی او ایس ڈی کر دیا، یہ صرف ایسا اسلام آباد ہائیکورٹ میں نہیں بلکہ لاہور، پشاور سمیت دیگر ہائیکورٹ میں بھی ایسے ہی یرغمال بناکر رکھا ہے،بھٹو کے کیس میں 45 سال بعد یہ کہتے ہیں کہ یہ مس ٹرائل تھا انہوں نے کہا کہ غلطی ہوگئی، اب 45 سال نہ لینا اور 9 مئی جیسا ڈارمہ نہ کرنا،ایک ریٹائرڈ جج کو کیسے چنا گیا ہے حیران کن بات ہے یہ نواز شریف کو 8 سال کیس التوء کر کے جتوایا، اس جج نے شہباز شریف کو بھی ریلیف دلوایا ہے انکے تعلقات شریف فیملی سے بہتر ہے،ہم کہتے ہیں اس معاملے کو فل کورٹ سنے، 9 ججز سپریم کورٹ کو اس معاملے کو دیکھانا ہوگا، یہ مٹی پاؤ والا کام نہیں ہونے دیں گے،

    ہمیں بار ایسوسی ایشن کے ساتھ باہر نکلنا ہوگا،شاداب جعفری
    انصاف لائرز کے سیکرٹری شاداب جعفری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ انصاف کے لیے وکلاء سڑکوں پر آتے ہیں، ایسا رول اف لاء ہے پاکستان میں کے ہر دس سال بعد وکلاء کو سٹرکوں پر آنا پڑتا ہے، یہ خط جو ججز کی جانب سے لکھا گیا ہے یہ پاکستان کی عدلیہ کے لیے ایک اہم موڑ ہے، چیف جسٹس پاکستان کو اس حوالے آگاہ کیا گیا انہوں نے اسے کیوں چھپا کر رکھا، 2 سال سے اس ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑاری جارہی ہیں، اس حوالے جو کمیشن بنایا جائیگا اس پر بھی اعتماد کرنا ممکن نہیں، ہمیں بار ایسوسی ایشن کے ساتھ باہر نکلنا ہوگا،

    6 ججز کے خط کا آنا ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے،سلمان اکرم راجہ
    انصاف لائرز وکلاء کنونشن سے سلمان اکرم راجہ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ افراد کی زندگی میں کبھی کبھی یہ لمحہ بھی آتا ہے ایک قوم بنانا پڑتا ہے، آج ہم سے الیکشن چھین لیا گیا، ہزاروں لوگ جیلوں میں اور انہیں باہر آنے کی امید بھی نہیں، اسی ماحول میں 6 ججز کے خط کا آنا ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے، سپریم کورٹ نے اس پر کچھ نہیں کیا اس پر عدلیہ اعلان کرتی کہ وہ آزاد ہے، پورا معاشرہ اٹھے اور مطالبہ کرے، ہم اپنی آزادی کے لیے باہر نکلیں گے، ہم آپکے ساتھ ہیں آپ ہمارا ساتھ دیں،

    سپریم کورٹ کو وزیراعظم کو طلب کرنا کرنا چاہیے تھا، ولید اقبال
    لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کنونشن سے ولید اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 6ججز کا خیر مقدم کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے ناموں کو پاکستان کی تاریح میں لکھا دیا، جن لوگوں کو حرکت میں آنا چاہیے تھا انہوں نے کچھ نہ کیا ، ججز کے عزیز اقارب کو گرفتار کیا یہ انتظامیہ کی بنائی ہوئی کمیشن کو یہ تحقیقات دے دی گئی ہے،6 ججز کا خط انتظامیہ کی نظر کر دیا گیا سپریم کورٹ کو وزیراعظم کو طلب کرنا کرنا چاہیے تھا، انتظامیہ کو طلب کرنا چاہیے یہ کہتے ہیں جب شوکت عزیز پر ہوا تھا تب یہ 6 ججز کہاں تھے یہ لوگ عجیب باتیں کر رہے ہیں، انہوں نے سب انتظامیہ کے حوالے کر دیا،

    وکلاء کنونشن سے لاہور ہائیکورٹ کے صدر اسد منظور بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومت وقت کو واضع کرنا چاہتا ہوں کہ جو آپ کا رویہ ہے، عوام آپکے ان حرکتوں سے اکٹھے ہوگئے، یہ پہلا قطرہ ہے جہاں سے آئین اور قانون کی بالادستی کا آغاز ہوگا،یہاں ناصرہ اقبال ,ولید اقبال موجود ہے جہاں سے اس تحریک کا آغاز کرینگے، یہ تاریح میں لکھا جائیگا،

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، لہذا چیف جسٹس مستعفی ہو ، پی ٹی آئی

    6 ججز کا خط ،پی ٹی آئی کا کھلی عدالت میں اس پر کارروائی کا مطالبہ

    6ججزکا خط،سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

  • عدالتیں احکامات منوا نہیں سکتیں تو گزارش ہے ان کو تالہ لگا دیں،صدر سپریم کورٹ بار

    عدالتیں احکامات منوا نہیں سکتیں تو گزارش ہے ان کو تالہ لگا دیں،صدر سپریم کورٹ بار

    آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن کا اسلام آباد وکلاء آڈیٹوریم میں سپریم کورٹ بار کی زیر صدارت کنونشن کا آغاز قومی ترانے سے ساتھ ہوگیا ہے

    وکلا کنونشن میں ملک بھر سے وکلا بڑی تعداد میں موجود ہیں،سٹیج پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری سمیت دیگر وکلاء راہنما موجود ہیں ،زندہ ہیں وکلا زندہ ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے منعقدہ وکلاء کنونشن کے آغاز پر وکلاء نے نعرے بازی کی ،

    سب سے پہلے آرٹیکل 6 چیف الیکشن کمشنر پر لگنا چاہیے،صدر سپریم کورٹ بار
    صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے آل پاکستان وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں اپنے احکامات کو منوا نہیں سکتیں تو گزارش ہے کہ ان کو تالہ لگا دیں ،جو کچھ ہماری بچیوں، بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں ایک اسلامی ریاست میں رہ رہا ہوں،اس ظلم اور نا انصافی کے لئے آواز اٹھائیں یہ نہ ہو کہ کل آپ کے لئے بھی آواز اٹھانے والا کوئی نہ ہو.سب سے پہلے آرٹیکل 6 چیف الیکشن کمشنر پر لگنا چاہیئے کیونکہ اصل میں انہوں نے الیکشن نہیں ہونے دیا وہ ذمہ داری پوری نہیں کر سکے، صرف باقی 5 لوگوں پہ توہیں عدالت سے کچھ نہیں ہوگا،ملٹری کورٹس کے بارے میں کیس دائر کیا اس کی سماعت نہیں ہو رہی،ہم آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے متعلق بھی کیس دائر کرنے کا اعلان کرتے ہیں

    پاکستان میں آئین کی کوئی عملداری نہیں،لطیف کھوسہ
    ممتاز قانون دان لطیف کھوسہ نے وکلا کنونشن سے خطاب میں کہا کہ خان صاحب کو سونے نہیں دیتے، ساری رات پروانے اور دن میں مکھیاں ہوتی ہیں،3،3 دن جگایا جاتا ہے مگر پھر بھی شکایت نہیں کی،پاپولر لیڈر عوام کے دل کی دھڑکن ہوتا ہے کیوں مار دیا جاتا ہے، کیوں 77 سال یہ مذاق ہو رہا ملک کے ساتھ،پاکستان میں آئین کی کوئی عملداری نہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کی جاتی ہے، میں چیف جسٹس سے کہتا ہوں اسوقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، وزیر خزانہ سمیت پانچ لوگوں کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، بیشک چند سیکنڈز کی سزا سنائیں،اسکے بعد کوئی عدالتی فیصلے کی توہین نہیں کریگا ،امریکہ کے تھرڈ کلاس بیوروکریٹ ڈونلڈ لو نے کہا کہ وزیراعظم کو چلتا کرو،وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو اندر رکھا ہے، کون سا آفیشل سیکرٹ ایکٹ جسے صدر نے سائن ہی نہیں کیا؟

    چیف جسٹس صاحب! جاتے جاتے اہم فیصلے کر جائیں تاریخ آپکو یاد رکھے گی،اعتزاز احسن
    ممتازقانوندان اعتزاز احسن نے وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں، آپ نے ابھی کئی فیصلے دینے ہیں ،خدارا انکو چھوڑنا نہیں ہے،چیف جسٹس صاحب فوجی عدالتوں کے کیس کا فیصلہ کریں،میں کہتا ہوں آپکا وہ فیصلہ روایت بنا دیگا،بے شک فیصلہ ہمارے خلاف کریں مگر کریں ضرور۔قوم کو پتا چلنا چاہیے کون محترم جج جسٹس اے آر کارنیلیس کی پیروی کر رہا ہے اور کون سا جج جسٹس منیر کی میراث لیکر چل رہا ہے۔آج پاکستان کے آئین پر حملے کیے جا رہے ہیں اور عدالتوں کو بے توقیر کیا جا رہا ہے۔فیصلہ دینے کے بعد چیف جسٹس صاحب آپ گھر چلے جائیں اور آرام کریں۔ اپ کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکے گا، چیف الیکشن کمشنر انتخابات نہ کرا کر سہولت کار بنا، وہ آئین شکن ہے،ان سہولت کاروں نے عدالتوں کو بے توقیر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، سپریم کورٹ کہتی ہے کہ 14 مئی کو الیکشن کروائیں یہ نہیں کرواتے،سپریم کورٹ کہتی ہے کہ 90 دن میں الیکشن کروائیں یہ کہتے ہیں کہ نہیں کروانے۔نازک وقت ہے، آئین پر حملے، عدالتیں بے توقیر ہو رہی ہیں، عدالتیں حکم دیتی ہیں گرفتار نہیں کرنا پھر بھی پکڑ لیا جاتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں پر یہ لوگ عمل نہیں ہونے دیتے

    میں واحد ایک شخص زندہ رہ گیا ہوں جس نے آئین پاکستان کو بنایا، احمد رضا قصوری
    سابق ممبر اسمبلی احمد رضا قصوری نے وکلاء کنونشن سے خطاب میں کہا کہ میں واحد ایک شخص زندہ رہ گیا ہوں جس نے آئین پاکستان کو بنایا ،آج تو ایک دن میں چار چار قانون بن جاتے ہیں لیکن آئین ایک ہی بار بنتا ہے ،میں دنیا کی سیاست میں واحد سیاست دان ہوں جس پر 18 حملے ہوئے ،اس وقت حالات بہت خراب ہیں، افراتفری کا عالم ہے جب اس طرح کے حالات ہوتے ہیں تو قومیں غلام بن جاتی ہیں، مجھے پوری امید ہے کہ ایسے حالات میں بھی کوئی لیڈر ابھرے گا،

    پروفیشنل گروپ کے سربراہ حامد خان نے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ چھوٹی چھوٹی مجبوری چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر خاموش ہے، بڑے دکھ کی بات ہے چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہوا، بچیوں کو پانچ پانچ ماہ سے گرفتار کر کے رکھا ہوا ہے

    پاکستان وکلاء کنونشن سے سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "آئین کی بحالی،قانون کی حکمرانی آور عدلیہ کی آزادی کیلئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں .اب اس قوم کی قسمت کے فیصلے بند کمروں میں نہیں ہوں گے.ہم سب نے ملکر پاکستان کے آئین کو بچانا ہے کیونکہ پاکستان کا قیام آئین کی بالادستی سے مشروط ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کو قانون کی حاکمیت سے ہٹا کر فسطائیت کے نظام کی طرف لے جایا جا رہا ہے”

    آل پاکستان وکلاء کنونشن سے سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار راجہ جاوید عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی سرزمین بے آئین ہو چکی ہے عدالتیں بے اختیار ہو چکی ہیں اور سول آرڈر ختم ہو چکا ہے ، اعلی عہدوں بیٹھے ہوئے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ عارضی منصب لیکر بیٹھے ہیں، منصب تو آنا جانا ہے ، اس پاکستان کے ساتھ آپ نے بہت کچھ کر لیا اب خدا کا خوف کریں ،

    وکلا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئین کہتا ہے 90 دن میں الیکشن تو اُسکا مطلب 90 دن ہی ہے ایک دن بھی آگے گیا تو وکلاء دیوار بنیں گے

    آل پاکستان لائرز کنونشن سے نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ربیعہ باجوہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین روند دیا گیا ہے، سپریم کورٹ بار سے کہتی ہوں کہ باہر نکلنے کا لائحہ عمل دیں، اس نظام سے بغاوت کا اعلان کریں،

    چیف جسٹس پاکستان کو کہتا ہوں اس ملک کی بیٹیاں 5 مہینوں سے جیلوں میں قید ہیں نوٹس لیں، بابر اعوان
    وکلا کنونشن میں بابر اعوان نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ سیاسی انتقام میں جیلوں میں بند خواتین کے حوالے سے ایکشن لیں،اس سے پہلے ملک کو اتنی بُری حالت میں میں نے کبھی نہیں دیکھا قوم کی بیٹیاں 5 مہینوں سے ضمانت کے لیے بیٹھی ہیں لیکن پتہ نہیں سپریم کورٹ کس چیز کا انتظار کر رہی ہے چیف جسٹس پاکستان کو کہتا ہوں اس ملک کی بیٹیاں 5 مہینوں سے جیلوں میں قید ہیں نوٹس لیں، ملک کو دلدل سے نکالنے کا واحد راستہ آئین کی پیروی میں ہے، آئین کہتا ہے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں،

    وکلا تحریک کا آغاز پشاور سے ہوگا

    شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ نے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری معیشت کے علاوہ مقننہ میں مداخلت کی جا رہی ہے، سیاسی سسٹم پوری طرح متاثر ہو چکا ہے،ہمیں جو کام کرنا ہے اس میں ہمارا نمبر ون آئین کو ختم کرنے یا کوشش کرنیوالوں کے خلاف اقدام ہونا چاہئے،

  • پاکستان بار کونسل کا 9 ستمبرکو ملک گیرعدالتی ہڑتال کا اعلان

    پاکستان بار کونسل کا 9 ستمبرکو ملک گیرعدالتی ہڑتال کا اعلان

    پاکستان بار کونسل کے عہدیداروں نے سپریم کورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 9 ستمبر کو ملک گیر عدالتی ہڑتال کا اعلان کر دیا

    پاکستان بار کونسل کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 9ستمبر کوکوئی وکیل کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوگا ، وکلا پروٹیکشن بل پر فی الفور عمل کیا جائے ہمارا مطالبہ ہے کہ وکلا کے گھروں پر غیر قانونی ریڈ ختم کرے وکلا اپنا قانونی حق استعمال کرکے اپنے موکل کا موقف عدالت میں پیش کرتے ہیں جن ججز پر ریفرنسز دائر ہیں ان پر کاروائی عمل میں لائی جائے ،نامزد چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے مطالبہ ہے کہ ریفرینسز پر کاروائی کرے ،

    پاکستان بار کونسل ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق 90 روز کے اندر انتخابات کا اعلان کیا جائے، صدر مملکت عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں، صدر کسی سے مشورہ مت کریں ،جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جائے، فوج، ججز اور سول بیوروکریسی کو حاصل مراعات کا فوری خاتمہ کیا جائے،

    پاکستان بار کونسل نے 5 ستمبر کو وکلا تنظیموں کی کانفرنس کا اعلان کیا ہے،

  • عوام کے لیے بڑے بڑے سسٹم کوچیلنج کریں گے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ

    عوام کے لیے بڑے بڑے سسٹم کوچیلنج کریں گے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کراچی کے تحت مہنگائی اور بجلی کی اوور بلنگ کے خلاف قانونی مشاورت کے لیے وکلاء کنونشن کا انعقاد کیاگیا۔

    باغی ٹی وی: وکلاء کنونشن شاہراہ فیصل پر واقع مرکزی مسلم لیگ کےصوبائی سیکٹریٹ میں منعقد ہوا۔کنونشن میں سندھ بارایسویسی ایشن اور کراچی بار کے نامور وکلاء شریک ہوئے۔وکلاء نے بجلی کے بلوں میں ٹیکسز اور اوور بلنگ کے خلاف قانونی مشورے اور اپنی خدمات کی پیشکش کی۔اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے تحت اتوار کوہونے والے اینٹی مہنگائی مارچ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

    وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر فیصل ندیم کا کہنا تھا کہ اس ملک میں طاقتور طبقہ کی شنوائی ہوتی ہے پاکستان مرکزی مسلم لیگ عوام کے لیے بڑے بڑے سسٹم کوچیلنج کرے گی بجلی کا بل دینے کے لیے لوگوں کے پاس کچھ نہیں ہے اس صورت میں وہ نہ گھر چلا سکتا ہے اور نہ قانونی جنگ لڑ سکتا ہے ہم وکلاء کے ذریعے لوگوں کو ان کے حقوق سے روشناس کرائیں گے گلی محلے کی داستانیں اور مسائل حل کرنے کے لیے آپ کو دعوت دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ جڑیں اور قانونی تعاون کریں۔ہم جو اپنے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا اس مظلوم کی آواز بنیں گے۔

    امریکا نے متحدہ عرب امارات میں اپنا سفیر مقرر کر دیا

    ہمیں آپ ظالم کے ساتھ نہیں دیکھیں گےکراچی کے صدر احمدندیم اعوان نے کہا کہ وکلاء عدل و انصاف کی علامت ہیں ۔اور معاشرے میں قانون کی عمل داری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ عوام کی آواز بنے گی۔ اور قانون کے دروازے کھٹکھٹائے گی۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ مہنگائی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء کا کہنا تھا کہ وکلاء عوام کے ساتھ ہیں اور عوام کی قانونی معاونت کریں گے۔

    مسلمان اور سائنس ، تحریر:حیدرعلی صدّیقی

    وکلاء برادری مرکزی مسلم لیگ کراچی کے اینٹی مہنگائی مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔کے الیکڑک کی اوور بلنگ اور مہنگائی کے خلاف مرکزی مسلم لیگ کو یقین دلاتے ہیں کہ وکلاء ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔سول سوسائٹی کی تمام تنظیموں کے ساتھ مل کرمہنگائی اور کے الیکڑک کے خلاف مل کر تحریک چلائیں گے۔مہنگائی کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں قومی مسئلہ ہے ۔سندھ کورٹ بار ایسوسی ایشن مرکزی مسلم لیگ کی جدوجہد کے ساتھ شریک ہوگی۔

    پٹرول پمپس پرمقررہ نرخ سے زائد وصولی