Baaghi TV

Tag: وکلا

  • وکلاء رہنماؤں کی وفاقی وزارت کے منصب پر فائز ہونے پر محسن نقوی کو مبارکباد

    وکلاء رہنماؤں کی وفاقی وزارت کے منصب پر فائز ہونے پر محسن نقوی کو مبارکباد

    وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی کے اعزاز میں مقامی ہوٹل میں خصوصی تقریب ہوئی

    سابق صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون، وفاقی وزیر قانون سینٹر اعظم نذیر تارڑ، پاکستان و پنجاب بار کونسل کے عہدیداران نے تقریب میں شرکت کی،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور مختلف بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران بھی تقریب میں شریک ہوئے ،وکلاء رہنماؤں نے وزیر اعلی پنجاب کی حیثیت سے بے مثال کارکردگی پر محسن نقوی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ محسن سپیڈ نے ہر سطح پر خود کو منوایا۔محسن نقوی نے مختصر عرصے میں حیران کن رفتار کے ساتھ عوامی منصوبوں کو مکمل کیا ۔ وکلاء رہنماؤں نے وفاقی وزارت کے منصب پر فائز ہونے پر محسن نقوی کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا .

    اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اللہ تعالٰی نے جو ذمہ داری دی ہے اسے بطریق احسن ادا کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔ وکلاء برادری کے لئے جو کچھ کر سکتے تھے کیا۔ وکلاء برادری میرے دل کے قریب ہے۔ ٹیم ورک پر یقین رکھتا ہوں اور ٹیم ورک سے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔وکلاء رہنماؤں نے وکلاء برادری کی فلاح وبہبود کیلئے ریکارڈ کام پر محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا

  • پنک بس کی ٹکٹ چیکر کے یونیفارم پر خواتین وکلاء کا اعتراض

    پنک بس کی ٹکٹ چیکر کے یونیفارم پر خواتین وکلاء کا اعتراض

    سندھ ہائیکورٹ: پنک بس کی ٹکٹ چیکر کے یونیفارم پر خواتین وکلاء نے اعتراض کر دیا

    خواتین وکلاء نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ، سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،درخواست میں سندھ حکومت ، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور ڈائریکٹر پنک بس سروس کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے خواتین کے پنک بس سروس شروع کرنا قابل تعریف ہے،پنک بس کی ٹکٹ چیکر کا یونیفارم خواتین وکلاء کی طرح ہے ،پنک بس کی ٹکٹ چیکر کا یونیفارم سفید شلوار قمیض اور بلیک کوٹ ہے جو کہ خواتین وکلاء کا آفیشل یونیفارم ہے،پنک بس سروس کی ٹکٹ چیکر کا یونیفارم تبدیل کرنے کے لیے بار ایسوسی ایشن سے بھی رجوع کیا مگر کوئی مثبت جواب نہیں ملا ،عدالت پنک بس کی ٹکٹ چیکر کا یونیفارم تبدیل کرنے کا حکم دیا جائے

    واضح رہے کہ پنک بس سروس کا شہر قائد کراچی میں پی پی رہنما، سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن نے افتتاح کیا تھا،پنک پیپلز بس سروس کے پہلے روٹ کے لیے ماڈل کالونی ، شاہراہِ فیصل ، تا ٹاور روٹ کا انتخاب کیا گیا تھا ، پنک بس سروس دفتری اوقات میں صبح اور شام کے اوقات میں ہر 20 منٹس کے بعد چل ہی ہے،،دفتری اوقات کے بعد معمول کے اوقات میں ہر ایک گھنٹے کے بعد پنک بس سروس چل رہی ہے،

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    سندھ کی جیلوں میں افغانی بچوں کی تصاویر، شرجیل میمن نے حقیقت بتا دی

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

  • معاشی بحران،انتخابات،پاکستان بار کونسل نے وکلا کنونشن بلا لیا

    معاشی بحران،انتخابات،پاکستان بار کونسل نے وکلا کنونشن بلا لیا

    پاکستان بار کونسل نے 5 ستمبر کو وکلا تنظیموں کی کانفرنس کا اعلان کیا ہے،

    پاکستان بار کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان کی تمام وکلاء تنظیموں کی کانفرنس پانچ ستمبر کو پاکستان بار کونسل کے دفتر سپریم کورٹ بلڈنگ میں ہو گا ، اجلاس ساڑھے گیارہ بجے ہو گا، جاری ایجنڈہ کے مطابق پاکستان میں موجودہ آئینی بحران، وکلاء کے گھروں پر چھاپے اور مقدمے، عام انتخابات ،بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے حوالہ سے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی،

    پاکستان بار کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وکلاء تنظیموں کے نمائندگان کو دعوت نامے بھجوا دیئے گئے ہیں،

    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے وکلا کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام آل پاکستان وکلا کنونشن 5 ستمبر کو اسلام آباد میں ہو گا اور لائرز کنونشن میں چار نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا جبکہ کنونشن کے انعقاد بارے پاکستان بار کونسل نے تمام صوبائی بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کو آگاہ کر دیا ہے.

    قبل ازیں پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور حسن رضا پاشا نے وکلاء کی رہائش گاہوں پر چھاپوں اور ان کی گرفتاریوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کو کسی سیاسی جماعت سے منسلک نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ وہ قانون کے مطابق صرف اپنے متعلقہ مؤکلوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ . انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر چھاپے بند کریں اور وکلاء کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کریں اور ان پر دباؤ ڈالنے سے گریز کریں، قانون نافذ کرنے والے ادارے وکلاء کے اہل خانہ کو کسی بھی طرح سے ہراساں نہ کریں، ایسا نہ کرنے کی صورت میں پاکستان بار کونسل مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی،

  • 14 مئی کو الیکشن نہ کروانے والے تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔حامد خان

    14 مئی کو الیکشن نہ کروانے والے تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔حامد خان

    پروفیشنل گروپ کے سربراہ حامد خان نے لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیشنل گروپ آئین کی بالادستی قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا ر ہے گا۔

    حامد خان کا کہنا تھا کہ آئین کی بالا دستی سے مراد ہے پاکستان کے تمام افراد اور ادارے آئین کے تابع ہیں اور اس سے ذرہ برابر روگردانی نہیں کر سکتے۔ آئین جمہور بیت ، جمہوری اقدار اور سویلین بالادستی پرمبنی ہے جو آئینی حدود میں رہتے ہوئے آزادانہ، منصفانہ اورشفاف انتخابات کرانے کی ضمانت دیتا ہے، قانون کی حکمرانی سے مراد ہے کہ پاکستان تمام شہری آئین کے تحت مساوی ہیں اور دوسرے شہریوں پر خصوصی یار عانتی درجے کا دھوئی نہیں کر سکتے،ہر شہری آئین کے تحت عدالتوں کے سامنے پیش ہونے کا پابند ہے اور فوجی عدالتوں کے تحت اس پر جرح نہیں ہو سکتی،جو منصفانہ ٹرائل اور آئین سے محفوظ قانونی عمل کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی سول ملٹری یا جوڈیشل افسر قانون سے بالا تر نہیں۔ کوئی بھی ٹیکس دہندگان کے خر پے پر خصوصی مراعات یعنی مفت فیول بجلی ، گیس وغیرہ کا دعوی نہیں کر سکتا۔ اور یہ کہ ایسی مراعات اور پروٹو کول کو فی الفور واپس لیا،

    حامد خان کا کہنا تھا کہ جج اپنے سامنے پیش مقدمات پر آئین اور قانون کا پاس رکھیں گے اور کوئی بھی بینچ قانون کے علاوہ دیگر معاملات کو زیر غور لانے کا مجاز نہ ہے۔ کسی بھی حکومت یا اس کے کسی  افسران کو اپنے من پسند فیصلے لینے کے لئے اثر انداز ہونے ، انہیں مشورہ دینے یا دباؤ میں لانے کی اجازت نہ ہوگی اور ایسی کوشش کرنے والے مرتکب افراد سزا کے حقدار ہوں گے۔ کسی بھی عدالت کے تمام تر جوڈیشل فیصلوں پر مقننہ من و عن عمل کروائے گی اور حکومت کی مقننہ اور قانون ساز اداروں کے اراکین کو ایسے کسی فیصلے کی خلاف ورزی کی اجازت نہ ہوگی ،

    حامد خان کا کہنا تھا کہ تمام نگران حکومتیں90 روز کےاختتام پر غیر فعال ہو جائیں گی فوجی عدالتوں کے سامنے شہریوں کا ٹرائل بندہونا چاہئے . فوجی حکام کے پاس گرفتار افراد کو سول حکام کے حوالے کیا جائے۔ سپریم کورٹ کےحکم کے باجود 14مئی کو الیکشن نہ کروانے والے ذمہ داروں کو سزا دی جائے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • وکلا کو ہراساں کرنا بند،مقدمے واپس لئے جائیں،پاکستان بار کونسل

    وکلا کو ہراساں کرنا بند،مقدمے واپس لئے جائیں،پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں وکلاء کے خلاف درج مقدمات واپس لئے جائیں، نہیں تو مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا

    پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور حسن رضا پاشا نے ملک بھر میں وکلاء کی رہائش گاہوں اور دفاتر پر پولیس کے بلاجواز چھاپوں اور ایف آئی آر کے اندراج کی شدید مذمت کی ہے۔ اور کہا ہےکہ پاکستان بار کونسل وکلاء اور انکے اہلخانہ کے خلاف پولیس کی غیرقانونی کاروائیوں پر خاموش نہیں رہ سکتی

    پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور حسن رضا پاشا نے وکلاء کی رہائش گاہوں پر چھاپوں اور ان کی گرفتاریوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کو کسی سیاسی جماعت سے منسلک نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ وہ قانون کے مطابق صرف اپنے متعلقہ مؤکلوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ . انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر چھاپے بند کریں اور وکلاء کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کریں اور ان پر دباؤ ڈالنے سے گریز کریں، قانون نافذ کرنے والے ادارے وکلاء کے اہل خانہ کو کسی بھی طرح سے ہراساں نہ کریں، ایسا نہ کرنے کی صورت میں پاکستان بار کونسل مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی،

    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    دوسری جانب لاہور کے وکلاء نے پولیس کے چھاپوں کے خلاف سیشن کورٹ میں سائلین اور پولیس کا داخلہ بند کردیا عدالتوں میں سیکٹروں کیسز بغیر کاروائی ملتوی کردیے گئے،‏لاہور کی سیشن کورٹ میں لاہوربار کی کابینہ اور وکلاء نے تالہ بندی کردی ہے ‏وکلاء کا کہنا ہے کہ پولیس کیجانب سے وکلاء کے گھروں پرچھاپے مارے جا رہے ہیں،‏چادراورچار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے پولیس کیجانب سے کئی وکلا کے گھر چھاپہ مارا گیا ہے،صدر لاہوربار انتظار حیسن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وکلاء کے گھروں پر چھاپوں توڑ پھوڑ کو فوری طور پر بند کیا جائے

  • پنجاب بار کونسل کے 57 تحصیل صدور ڈی نوٹیفائی

    پنجاب بار کونسل کے 57 تحصیل صدور ڈی نوٹیفائی

    پنجاب بار کونسل نے 57 تحصیل صدور کو ڈی نوٹیفائی کر کے نائب صدور کو صدر مقرر کر دیا ہے

    پنجاب بار کونسل نے 57 ضلعی اور تحصیل بارز کے صدور کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ،چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے نوٹفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں 57 ضلعی اور تحصیل بارز کے صدورکو معطل کرنے کے بعد بارز کے نائب صدور کو عہدہ سنبھا لنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل طاہر شبیر چوہدری نے نوٹیفکیشن جاریکیا، پنجاب بار کونسل نے بارز کے صدور کو چارج سنبھالنے کے بعد الیکشن بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے

    57 بارز کے صدور کو الیکشن بورڈ کا تقررنہ کرنے کی وجہ سے معطل کیا گیا ہے، ۔پنجاب بار کونسل نے جن بارز کے صدور کو معطل کیا ان میں منچن آباد، احمد پور شرقی،خان پور، صادق آباد، ڈی جی خان، تونسہ، جام پور، روجھان، کوٹ ادو، مظفر گڑھ،شجاع آباد، لودھراں، دنیا پور، فیصل آباد، شیخوپورہ، میانوالی، جہلم ، سیالکوٹ، نارووال، ،حافظ آباد، خانیوال، ننکانہ صاحب، پاکپتن، شکر گڑھ، مری ،کامونکی، ڈسکہ،پسرور،نارووال،کوٹ مومن، کلور کوٹ، دریا خان، سمیت دیگر بارز شامل ہیں

  • 90 روز میں الیکشن نہ ہوئے تو قانون کسی کی حفاظت نہیں کرپائےگا،عمران خان

    90 روز میں الیکشن نہ ہوئے تو قانون کسی کی حفاظت نہیں کرپائےگا،عمران خان

    لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے آئین و قانون کی خاطر عوام اور وکلاء کو سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق زمان پارک سے ویڈیو نیوز کانفرنس میں عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم کہہ رہی ہےکہ وہ سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ نہیں مانےگی،جب یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانیں گے تو اس کا کیا مطلب ہوگا؟ جو فیصلہ حق میں آئے انہیں مانیں جو حق میں نہ آئے اس کو نہیں مانیں گے؟، پی ڈٖی ایم کو خدشہ ہے کہ الیکشن ہار جائیں گے اس لیے فیصلہ نہیں مان رہی۔


    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کام ہی آئین پر عمل درآمد کرانا ہے، الیکشن کرالیں، عوام کو فیصلہ کرنے دیں وہ کس کو چاہتےہیں؟ ملک میں آئینی بحران پیدا ہوچکا ہے اگر عوام آئین کے ساتھ نہ کھڑے ہوئے تو یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہےگا، اس طرح کے طاقتور مفرور لوگ اوپر بیٹھ کر فیصلے کریں گے،عوام کو آئین کےلیے باہرنکلنا پڑے گا،یہ حقیقی آزادی کا جہاد ہے۔


    عمران خان نے عوام سے درخواست کی کہ آپ سڑکوں پر باہر نکلنے کیلئے تیار ہوں اپنے آئین اور قانون کی حفاظت کیلئے ہم سب کو تیار ہونا چاہیئے ہم سب کو وڑکوں پر نکلنا چاہیئے خاص طور پر وکلا کو کیونکہ وکلا کے اوپر سب سے زیادہ ذمہ داری ہے آپوہ لیگل کمیونٹی ہیں جو جانتی ہے کہ آئین اور قانون کیا ہے آپ کو پتہ ہے کہ یہ کوششیں کیا ہو رہی ہیں یہ 90 دن سے باہر نکل کر کس طرف جا رہے ہیں میں آپ سب کو آج کہتا ہوں کہ یہ حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لئے اصل جہاد ہے آزادی آتی ہے انصاف سے اور انصاف آپ کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہے پاکستان میں کوئی بنیادی حقوق نہیں ہیں ہمارے 3100 ورکرز پکڑے ہیں یہ کسی بھی جمہوری ملک میں نہیں ہو سکتا کہ آپ پکڑ کر ان کو اغوا کر کے جیلوں میں ڈال دیں کیونکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ایک دفعہ یہ اس طرف نکل گئے تو یہاں مجھے افسوس ی0ہ ہے کہ وہ پاکستان کے اندر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا قانون کسی کی بھی حفاظت نہیں کرے گا-


    انہوں نے مزید کہا کہ ان کو اندازہ نہیں نوے دن میں الیکشن نہ ہوئے تو ملک کس طرف جائےگا؟ میرا سوال ہےکیااکتوبرمیں ملک کےحالات ٹھیک ہوجائیں گے؟اس وقت فنڈز کی کمی ہے تو اکتوبر میں بھی فنڈز کی کمی ہوگی، یاد رکھیں انصاف نہیں ہوگا ملک میں جنگل کا قانون ہوجائےگا۔


    سابق وزیراعظم نواز شریف کی گذشتہ روز کی جانے والے نیوز کانفرنس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ لندن میں بیٹھا مفرور برملا کہ رہا ہے کہ وہ تین ججز کا فیصلہ نہیں مانیں گے، میں قوم کے سامنے سوال رکھتا ہوں کہ نواز شریف کون ہوتے ہیں فیصلہ ماننے اور نہ ماننے والے،اسی نوازشریف کو عدالت نے بھی ‘سسلین مافیا’ کہا، جان لیں کہ نوازشریف کا مفاد پاکستان نہیں بلکہ ان کا پیسہ ہے۔

  • ہڑتال کرنے والے وکیلوں کا لائسنس ختم کرنا چاہیئے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ہڑتال کرنے والے وکیلوں کا لائسنس ختم کرنا چاہیئے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک کیس کی سماعت میں ہڑتال کرنے والے وکلا پر برہم ہو گئے-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل آباد کی ایک فیکٹری کے خلاف 6 کروڑ 78 لاکھ روپے سے زائد گیس چوری کے کیس کی سماعت کی-

    دوران سماعت ٹرائل کورٹ کے آرڈر میں وکلا کے 2 سے 3 بار ہڑتال کے باعث پیش نہ ہونے کا تذکرہ کیا گیا جس پر جسٹس قاضی فائز نے وکلا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کیسے ہڑتال کرسکتے ہیں؟ ایسے وکیلوں کا لائسنس ختم کرنا چاہیے-

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ کوڈ آف کنڈکٹ وکلا کا اپنا بنایا ہوا ہے جس پرخود عمل نہیں کرتے، ایسے ججزکوبھی ہٹانا چاہیے جو آرڈرپریہ لکھ رہے ہیں کہ وکلا ہڑتال پرہیں۔

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کیخلاف توہین عدالت…

    جسٹس فائز نے کہا کہ وکیل ہڑتال کیوں کررہے ہیں؟ یہ بھی نہیں بتایا گیا، کیا عدالت وکیل کو گھر سے اٹھا کر لائے؟ جو چاہتا ہے مرضی سے ہڑتال کرتا ہے، ایسے عدالتی نظام کوپھر بند کردیں، پورے سسٹم کو خراب کرکے رکھ دیا ہے، ہر آدمی اپنا اپنا کام کرے تو ملک کا سسٹم بہتر ہوسکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ کنڈکٹ کا قانون وکلا نے خود بنایا ہے، ججز یا پارلیمنٹ نے نہیں، ہم عدالت میں آئین و قانون کے مطابق چلتے ہیں، انصاف اوپر والا کرتا ہے۔

    بعد ازاں عدالت کے 2 رکنی بینچ نے کیس میں فیکٹری کی اپیل خارج کردی۔

  • وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    کراچی: سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ وکلا کو حکومت کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہیے، حکومت سے پیسے لیں گے تو آپ آزاد نہیں ہوں گے اور حکومت جو آپ کو پیسہ دے رہی ہے وہ عوام کے ٹیکس کا ہے۔

     

     

    تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اداروں پر تنقید نہ کریں شخصیات پر تنقید کریں، جب ہم نے آئین کا دامن چھوڑا تو ملک دو لخت ہوا۔

     

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 950 پیراگراف پر مشتمل ایک فیصلہ تھا جس پر شرمندگی ہوتی ہے، اس فیصلے میں وزیر اعظم کو سزا موت سنائی گئی، ججز کو کسی کے دباؤ میں آکر سزائے موت نہیں دینا چاہیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر شہری عدلیہ کی آزادی چاہتا ہے، عدلیہ کا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، وکلا کا لہو پاکستان کا تحفظ کرتا ہے، ہمیں سوال کرنے کا حق دیں ہھر آپ ہمارے فیصلے پر بھرپور تنقید کریں۔

     

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کا کہ میں نے سوائے ایک کے توہین عدالت کا کوئی کیس نہیں سنا، آپ کو حق ہے آپ مجھ سے سوال جواب کرسکتے ہیں، میرے کیس کے بعد وومن ایکشن فورم کہا کہ ججز اثاثے ظاہر کریں، میں نے اور اہلیہ نے اپنے اثاثے ظاہر کردیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ججز ترقی پر وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کا پہلےاور بعد کا موقف مختلف تھا، اس کے متعلق دلائل نہیں دیے گئے، شاید کچھ پریشر ہو؟، افسران سے گاڑیاں واپس لی جائیں تو پبلک ٹرانسپورٹ اچھی ہوجائے گی۔

     

    اس موقع پر جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی پر مبارکباد دینے کی خواہش ہے، ہم 75 برس سے ایسا نہیں کرسکے، یہ سب غیر سیاسی قوتوں کی نظام میں مداخلت ہے، اس کی ذمے داری سیاسی لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

     

    انہوں نےکہا کہ ہم خوشحال معاشرہ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں،ملک میں جمہوری عمل کو کبھی پنپنےنہیں دیا گیا،بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ بروقت نہیں ہوا اور وہ غیر موثر ہوگئیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • منڈی بہا الدین: وکلا کا کمرہ عدالت میں سیشن جج  پر تشدد اور گالم گلوچ

    منڈی بہا الدین: وکلا کا کمرہ عدالت میں سیشن جج پر تشدد اور گالم گلوچ

    منڈی بہاء الدین میں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو سزا سنانے والے سیشن جج کو وکلا نے کمرہ عدالت میں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راؤ عبدالجبار نے چند روز قبل منڈی بہاء الدین میں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرجس پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جج راؤ عبدالجبار کی مدعیت میں تھانا سول لائن میں وکلا کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

    سیشن جج نے مقدمے کی درخواست میں موقف اپنایا کہ ان کے کمرے میں وکیلوں نے گھس کر دھمکیاں دیں، وکلا نے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف کارروائی واپس لینے پر زور دیا، انکار پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنرمنڈی بہاؤالدین کی تین ماہ قید کی سزا کا حکم معطل

    ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی پی او کو او ایس ڈی بنادیا گيا جبکہ ڈی ایس پی کو بھی عہدے سے ہٹادیا گيا ہے، تینوں افسران مقدمے میں نامزد ہیں۔

    واضح رہے کہ سیشن جج نے 26 نومبر کو توہینِ عدالت پر منڈی بہاء الدین کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو تین ماہ کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا منڈی بہاؤالدین کنزیومر کورٹ کے جج اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راؤ عبدالجبار نے ایک شہری کی درخواست کی سماعت کے دوران ڈی سی اور اے سی کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر طارق بسرا اور اسسٹنٹ کمشنر امتیاز علی کو تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی پولیس نے مجرموں کو جیل لے جانے کے بجائے ڈی سی ہاؤس منتقل کردیا تھا جس کے بعد دونوں افسران لاہور چلے گئے تھے۔

    ڈپٹی کمشنر طارق بسرا نے ذاتی طور پر جج کو فون کرکے ان سے بدتمیزی کی جبکہ اے سی امتیاز علی نے عدالت میں پیش ہوکر جج سے بدتمیزی کی تھی-

    بعد ازاں ہائیکورٹ میں کنزیومر کورٹ منڈی بہاؤالدین کی جانب سے ڈی سی اور اے سی کی تین ماہ قید کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی لاہور ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کی اپیل منظور کرتے ہوئے کنزیومر کورٹ کے جج راؤ عبدالجبار کا ڈی سی اور اے سی منڈی بہاؤالدین کو تین ماہ قید کی سزا کا فیصلہ معطل کردیاعدالت نے آئندہ سماعت پر کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کیا –

    ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنر منڈی بہاءالدین کو جیل بھیجنے کا حکم