Baaghi TV

Tag: وکیل قتل

  • وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں وکیل قتل کیس چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع کردی

    مدعی مقدمہ کے وکیل کی عدم موجودگی پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل موسم گرما کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچھلی سماعت پر جو بدمزگی ہوئی اس پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا، آج شکر ہے پرسکون ماحول ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر کیا آپ شامل تفتیش ہوئے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شامل تفتیش ہونا بھی نہیں ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ آپ نے طے کرنا ہے کہ شامل تفتیش ہوں گے یا نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی پر دہشتگردی کی دفعات نہیں لگتیں، جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے افسران شامل ہیں وہاں پیش نہیں ہوں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اور بھی سوالات ہم نے سوچ رکھے ہیں،شکایت کنندہ کی غیر موجودگی میں کیس نہیں سن سکتے، لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،عدالت نے کہا کہ کیس کو عدالتی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    پی ٹی آئی وکیل علی اعجاز بٹر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ وکیل قتل کیس میں دوسری طرف مدعی کے وکیل آج بیماری کی وجہ سے پیش نہیں ہوۓ اس وجہ سے کیس ملتوی ہو گیا لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے عبوری حکم کو برقرار رکھا ہے،اس کیس میں خان صاحب کو گرفتار نہیں کیا جائے گا،

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • وکیل قتل کیس، عمران خان کو 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    وکیل قتل کیس، عمران خان کو 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے عمران خان کو وکیل قتل کیس میں 24 اگست تک گرفتار کرنے سے روک دیا

    کوئٹہ میں وکیل قتل کیس، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے 24 اگست تک چیئرمین پی ٹی آئی کو وکیل قتل کیس میں گرفتاری سے روک دیا ،شکایت کنندہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے ججز پر اعتراض اٹھا دیا ،عدالت نے کہا کہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کوگرفتارنہ کرنے کا حکم برقرار رہے گا،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی

    دوران سماعت مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی اور جسٹس مظاہر نقوی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ،دوران سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وکیل امان اللہ کو بیٹھنے کی ہدایت کی ،جسٹس مظاہر نقوی کی ہدایت کے بعد وکیل امان اللہ کنرانی نے بینچ ممبران پر اعتراضات اٹھا دئیے ،جسٹس مظاہر علی اکبر نے استفسار کیا کہ کیا اپ نے ایف آئی آر پڑھی ہے ؟ وکیل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ میں نے آپکا فیصلہ بھی پڑھا ہے ،غلام محمد ڈوگر کیس میں جسٹس مظاہر علی اکبر نے از خود نوٹس لینے کا لکھا جسٹس حسن اظہر رضوی کے خلاف بھی سندھ ہائیکورٹ میں کیس زیر التواء ہے ،

    جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں ایسے بات کرنے والے؟ امان اللہ کنرانی نے کہا کہ جج بنیں گے تو ہم حاضر ہیں، ججز پارٹی بنیں گے تو پھر ہم کیا کریں گے ،جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو آج یہ ذمہ داری دی گئی ہے ؟ کیا وکیل کا یہ رویہ ہوتا ہے، جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا کہ
    آپ کے جو اعتراضات ہیں وہ تحریری طور پر لکھ کر دیں، ہم کیس ملتوی کررہے ہیں،

    جسٹس مظاہر علی اکبرنے کہا کہ ہم بے جان نہیں اپنی بات کا جواب نہ دیں،امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ہم بھی غلام نہیں، ججز تنخواہ لیتے ہیں،اپ ڈنڈا ماریں گے تو پھر ہم کیا ہم کھڑے رہیں

    امان اللہ کنرانی بولے "اگر آپ پارٹی بنیں گے تو ہم بات کریں گے” جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "آپ کو یہاں یہ سب کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے؟ ہم کمزور نہیں ہیں آپکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ امان اللہ کنرانی بولے ” جج صاحب آپ شاوٹ نا کریں میں کوئی غلام نہیں ہوں”جسٹس مظاہر نقوی نے کہا "ہم بھی غلام نہیں ہیں”

    جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ جب تک عدالت کی عزت نہیں کریں گے ہم آپکو نہیں سنیں گے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اپنے الزامات واپس لیں، ہم نے 35 سال عزت سے گزارے ہیں، آپ نے الزامات لگائے اب بتائیں میرے اوپر کوئی ایف آئی آر ہے، جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل امان اللہ کنزانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بینچ سے معافی مانگیں ،وکیل امان اللہ کنزانی نے کہا کہ میں معافی مانگتا ہوں ،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہمیں آپکی معافی قبول کرتا ہوں ،جسٹس یحیی آفریدی نے جسٹس مظاہر نقوی سے استفسار کیا کہ آپکی کیا رائے ہے ؟ جسٹس مظاہر نقوی نے جواب دیا کہ میں زبانی معذرت قبول نہیں کرتا ،،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں قبول کرتا ہوں ،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ
    امان اللہ کنرانی صاحب آپ بیان تحریری طور پر غیر مشروط معافی مانگیں ،امان اللہ کنرانی نے کہا کہ میں تحریری طور پر معافی نہیں مانگوں گا آپ میرے خلاف کاروائی چلائیں ،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے پر تحریری حکمنامہ جاری کریں گے،

    وکیل امان اللہ کنرانی نے کمرہ عدالت میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی اور کہا کہ آپ تو بڑے ہیں میں معافی مانگ لیتا ہوں، آپ جج بنیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر پارٹی بنیں گے تو میں بولوں گا، وکیل امان اللہ کنرانی نے جسٹس مظاہر نقوی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بننا ہے تو آپ کرسی سے اتر جائیں،

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں۔

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • وکیل قتل کیس، عمران خان کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    وکیل قتل کیس، عمران خان کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    سپریم کورٹ ،کوئٹہ میں وکیل قتل کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے چئیرمین پی ٹی آئی کو پیر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی پیر کی صبح ساڑھے دس بجے سپریم کورٹ میں پیش ہوں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو سب سے پہلے عدالت میں پیش ہونا پڑے گا،یہ زرا مناسب طریقہ کار ہو گا، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    چئیرمین پی ٹی آئی کو ابھی بلا لیتا ہوں، جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ آج پیش ہوسکتے ہیں؟ جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ آج نہیں آپ پیر کی صبح ساڑھے دس بجے انہیں عدالت لے آئیں، ریلیف لینے کے لیے درخواست گزار کو ذاتی حثیت میں پیش ہو کر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوتا ہے، جسٹس یحیٰ آفریدی نے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کو کہیں کہ وہ خود عدالت میں پیش ہوں،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ کیا چئیرمین پی ٹی آئی آج پیش ہو سکتے ہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی ایک گھنٹے میں سپریم کورٹ آ جائیں گے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کو آج آنے کا کہہ دیتے ہیں، جسٹس یحیٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا پہلے حکومتی وکیل کا اس کیس میں جواب آ جائے پھر چئیرمین پی ٹی آئی پیش ہوں،

    وکیل شکایت کنندگان امان اللہ کنرانی نے عدالت میں کہا کہ وکیل قتل کیس میں معاملہ چئیرمین پی ٹی آئی کے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا ہے، وکیل چئیرمین پی ٹی آئی لطیف کھوسہ نے کہا کہ وکیل قتل کیس میں بنائی گئی جے آئی ٹی کو ہم تسلیم نہیں کرتے،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عبوری ریلیف لینے کے لیے درخواست گزار کو ہر صورت عدالت میں پیش ہونا ہو گا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ دیکھیے آپ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں،ضمانت اور ایف آئی آر ختم کرانے کے لیے درخواست گزار کو خود آنا پڑتا ہے،دوران سماعت وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے کیس کیس کاروائی روکنے کی استدعا کی گئی جس پر جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ پہلے درخواست گزار کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہو گا ،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بنائی گئی جے ائی ٹی قانون کے مطابق نہیں ،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ
    عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا اہم ہے،

    پراسیکوٹر جنرل بلوچستان کی جانب جواب جمع کروانے کیلئے مہلت طلب کی گئی،عدالت نے فریقین کو جواب جمع کروانے کیلئے مہلت دے دی،کیس کی سماعت جسٹس یحییٰ خان آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی

    دوران سماعت جسٹس یحیٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ پہلے اس سوال کا جواب دیں کہ ایف آئی آر ختم کرانے کے لیے چئیرمین پی ٹی آئی نے متعلقہ فورم سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ سے ہو کر ہی سپریم کورٹ آئے ہیں اور یہی متعلقہ فورم ہے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی درخواست میں ایف آئی آر کی کاپی موجود ہی نہیں ہے، آپ کی درخواست میں درج ہونا چاہئے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمہ بےبنیاد ہے، جب تفتیشی افسرنے چئیرمین پی ٹی آئی کو ملزم کہا ہی نہیں تو مقدمہ کیسا؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کا مقدمہ درج ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ تفتیشی کا موقف ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی تفتیش میں تعاون ہی نہیں کر رہے، چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ آف گرفتاری کس نے اور کیسے نکالے ہیں؟ وکیل بلوچستان حکومت نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف ایسے کوئی وارنٹ نہیں ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا ابھی بھی شکایت کنندہ چئیرمین پی ٹی آئی کو ملزم ٹھہراتے ہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ مقتول کی بیوہ نے کہا ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کا ان کے شوہر کے قتل سے کوئی تعلق نہیں،عبدالرزاق شر کے سوتیلے بیٹے نے چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا عبدالرزاق شر کے سوتیلے بیٹے کے خلاف کوئی انکوائری ہوئی؟ وکیل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ عبدالرزاق شر کا بیٹا اس کیس میں مدعی ہے بیوہ نہیں،عدالت نے حکم دیا کہ چئیرمین پی ٹی آئی24 جولائی کو صبح 10:30 بجے ذاتی حثیت میں پیش ہوں، کیس کی سماعت 24 جولائی تک ملتوی کر دی گئی

    جسٹس مظاہر نقوی نے تحریک انصاف کے چیئرمین کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو پوری ایف آئی آر ختم کرانا چاہتے ہیں،وکیل نے کہا کہ میرے خلاف ایف آئی آر افواہوں پر کاٹی گئی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ اپنی استدعا پڑھیں کہ آپ نے کیا مانگا ہے،ایف آئی آر میں اپنے متعلق معاملے کو چیلنج کرتے تو الگ بات تھی، آپ نے تو پوری ایف آئی آر کو ہی چیلنج کر رکھا ہے، قتل کی ایف آئی آر بھلا کیسے کالعدم قرار دی جاسکتی ہے،

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • وکیل قتل کیس ،عمران خان کی 14 روز کے لیے حفاظتی ضمانت منظور

    وکیل قتل کیس ،عمران خان کی 14 روز کے لیے حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، کوئٹہ وکیل قتل کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بنچ نے سماعت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ کہاں کی ضمانت چاہیئے ؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کوئٹہ کے کیس میں حفاظتی ضمانت چاہیئے ،

    سربراہ پی ٹی آئی کی 14 روز کی حفاظتی ضمانت منظورکر لی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو اس مقدمہ میں عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • وکیل قتل کیس،تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر

    وکیل قتل کیس،تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر

    سپریم کورٹ ،چیئرمین تحریک انصاف نے وکیل قتل کیس میں تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست دائر کردی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وکیل قتل کیس میں جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی مین دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دو رکنی بینچ نے کیس میں حکم امتناع جاری کرنے پر بے بسی کا اظہار کیا دو رکنی بینچ نے تجویز دی کی تین رکنی بینچ کیلئے چیف جسٹس کو درخواست دی جائے،معاملہ حساس اور فوری سماعت کا متقاضی ہے۔ موکل کیخلاف سخت اقدامات اور گرفتاری کا خدشہ ہے فریقین اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے تو موکل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ معاملہ پر فوری تین بینچ تشکیل دیکر آج ہی سماعت کی جائے  چیئرمین تحریک انصاف کی طرف سے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے درخواست دائرکی.

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے کوئٹہ کا سفر نہیں کر سکتا،عمران خان کی درخواست

    سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے کوئٹہ کا سفر نہیں کر سکتا،عمران خان کی درخواست

    سپریم کورٹ، کوئٹہ میں وکیل کے قتل میں نامزدگی کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے کیس کی جلد سماعت کے لیے متفرق درخواست دائر کردی

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کا وکیل قتل کیس میں نامزدگی کے خلاف کیس زیر التوا ہے،مقتول کے بیٹے نے درخواست گزار کے خلاف سازش کے الزام کے تحت مقدمہ درج کرایا، درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت کی مدت آج ختم ہو رہی ہے،سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے درخواست گزار کوئٹہ کا سفر نہیں کر سکتا، درخواست گزار کی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے مزید کاروائی روکی جائے،انصاف کی فراہمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کل سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 3 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی تھی، وکیل قتل کیس میں عمران خان لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے تھے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • وکیل قتل کیس،عمران خان کی حفاظتی ضمانت پر آیا فیصلہ

    وکیل قتل کیس،عمران خان کی حفاظتی ضمانت پر آیا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وکیل قتل کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ضمانت لاہور ہائیکورٹ نے منظور کر لی

    عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے اور حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، لاہور ہائیکورٹ میں وکیل کے قتل سے متعلق درج مقدمے میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی ، لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 3 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اشتیاق اے چوہدری کی خدمات حاصل کر لیں، اشتیاق اے چوہدری حفاظتی ضمانت کیس میں جسٹس علی باقر نجفی کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں

     

    دوسری جانب بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی ،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا،انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • عمران خان کے خلاف وکیل کے قتل کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    عمران خان کے خلاف وکیل کے قتل کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ ، بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی ،

    بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا،انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کوقتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • قتل کے مقدمے میں عمران خان کی ضمانت پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    قتل کے مقدمے میں عمران خان کی ضمانت پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف سنگین غداری کیس کے درخواست گزار سینئر وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کے مقدمے میں عمران خان کی ضمانت منظور کرلی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست ضمانت پر سماعت کی، عدالت نے عمران خان کی 14 دن کی ضمانت مںطور کی،عدالت نے عمران خان کو دو ہفتوں میں متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ کوئٹہ میں ایئر پورٹ روڈ پرعالمو چوک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سپریم کورٹ کے وکیل رزاق شر جاںبحق ہوگئے تھے جس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ کرنے والے وکیل کو قتل کروایا، اس کیس کی سماعت ہونا ہے، اور امکان ہے کہ عمران خان کیخلاف آرٹیکل 5 اور آرٹیکل 6 کا فیصلہ آجائے. لیکن سماعت سے ایک دن پہلے وکیل کو قتل کروا دیا گیا ،حکومتِ پاکستان عبدالرزاق کے قتل کے مقدمے میں عمران خان کو نامزد کرے، مقدمے میں نامزدگی کے بعد گرفتاری مطلوب ہوئی تو وہ بھی ہوگی،

    سویڈن نے سیکس کو کھیل کا درجہ دیتے ہوئے مقابلے کروانے کا اعلان کر دیا

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    کوئٹہ میں وکیل عبدالرزاق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے قتل کا مقدمہ عمران خان کے خلاف درج کیا گیا ہے،مقدمہ انکے بیٹے کی مدعیت میں درج کرایا گیا .عبدالرزاق بانی تحریک انصاف کے خلاف آرٹیکل 6 لگانے کے مقدمے کے پٹیشنر تھے، مقدمہ میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں،مقدمہ شہید جمیل کاکڑتھانے میں درج کیا گیا ہے،

  • عبدالرزاق شرکا قتل،مقدمہ وزیراعظم اور وزیرِ داخلہ کیخلاف ہونا چاہئے،تحریک انصاف

    عبدالرزاق شرکا قتل،مقدمہ وزیراعظم اور وزیرِ داخلہ کیخلاف ہونا چاہئے،تحریک انصاف

    عطاءاللہ تارڑ کی پریس کانفرنس پر  تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے

    پاکستان تحریک انصاف نے عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ وزیراعظم اور وزیرِ داخلہ کیخلاف درج کرنے کا مطالبہ کردیا ،سپریم کورٹ سے سرکاری پریس کانفرنس میں عمران خان کیخلاف ایک اور جھوٹے مقدمے کے اندراج کی کوشش کا فوری نوٹس لینے کی بھی استدعا کر دی، تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عطاءاللہ تارڑ کے الزامات مکمل طور پر لغو، بے بنیاد اور بیہودہ قرار دیکر مسترد کئے جاتے ہیں، عبدالرزاق شر کا قتل تحریک انصاف کو کچلنے کیلئے پہلے سے جاری شرمناک، غیرآئینی اور غیرقانونی مہم کا تسلسل قرار دیا گیا،

    مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف رؤف حسن کا کہنا تھا کہ عطاءاللہ تارڑ کی پریس کانفرنس ایک وکیل کے مجرمانہ قتل پر پردہ پوشی کی سفاک کوشش ہے عبدالرّزاق شر کا خون انہی ہاتھوں پر ہے جنہوں نے 9 مئی کو آگ اور خون کا شرمناک کھیل کھیلا، عبدالرزاق شر کے قتل میں وہی کردار ملوّث ہیں جنہوں نے 9 مئی کو 25 بےگناہ پاکستانیوں کو قتل، سینکڑوں کو زخمی کیا، ملک میں لاقانونیت اور آئینی و انتظامی دہشتگردی میں ملوث حکمران گروہ نے 9 مئی کو جمہور کی بالادستی کو ذبح کرنے کی کوشش کی،عبدالرزاق شر کے قتل پر بلا تحقیق 2 گھنٹوں میں چیئرمین تحریک انصاف پر الزام اسی شرمناک منصوبے کا شاخسانہ ہے، قتل و غارت گری کے واقعات اور بلاتحقیق تحریک انصاف اور چیئرمین تحریک انصاف پر الزام اب ایک روایت کی شکل اختیار کر چکی ہے، 3 نومبر کو وزیرآباد میں عمران خان کو گولیاں ماری گئیں، مقدمہ درج ہوا نہ آج تک کوئی تحقیقات کی گئیں، 9 مئی کو پرامن احتجاج کا فائدہ اٹھا کر جلاؤ گھیراؤ کیا گیا اور سینکڑوں شہریوں کو گولیاں ماری گئیں مگر ابھی تک کوئی تحقیق نہیں کی گئی،عبدالرزاق شر کے آج کے قتل پر بھی بلاتحقیق عمران خان کو ایک اور جھوٹے مقدمے میں نامزد کرنے کا سرکاری اعلان کیا گیا، خود پر قاتلانہ حملے کے بعد عمران خان نے وزیراعظم، وزیر داخلہ کو نامزد کیا،عمران خان ڈیڑھ سو سے زائد جھوٹے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں،عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ عمران خان کی بجائے وزیراعظم اور وزیرِداخلہ کیخلاف درج کیا جائے، دونوں کو عہدوں سے ہٹا کر شاملِ تفتیش کیا جائے، سپریم کورٹ عبدالرزاق شر کے قتل اور سرکاری پریس کانفرنس کا نوٹس لے اور ذمہ داروں کیخلاف فوری کارروائی کا اہتمام کرے،

    واضح رہے کہ کوئٹہ میں ایئر پورٹ روڈ پرعالمو چوک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سپریم کورٹ کے وکیل رزاق شر جاںبحق ہوگئے۔ جس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ کرنے والے وکیل کو قتل کروایا، اس کیس کی کل سماعت ہونا ہے، اور امکان ہے کہ عمران خان کیخلاف آرٹیکل 5 اور آرٹیکل 6 کا فیصلہ آجائے. لیکن سماعت سے ایک دن پہلے وکیل کو قتل کروا دیا گیا ،حکومتِ پاکستان عبدالرزاق کے قتل کے مقدمے میں عمران خان کو نامزد کرے، مقدمے میں نامزدگی کے بعد گرفتاری مطلوب ہوئی تو وہ بھی ہوگی،

    سویڈن نے سیکس کو کھیل کا درجہ دیتے ہوئے مقابلے کروانے کا اعلان کر دیا

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام