Baaghi TV

Tag: ویانا

  • جنید صفدر  کے ویانا جانے کی خبر بے بنیاد قرار

    جنید صفدر کے ویانا جانے کی خبر بے بنیاد قرار

    ترجمان شریف فیملی نے واضح کیا ہے کہ جنید صفدر اپنی اہلیہ کے ہمراہ رائیونڈ میں اپنے گھر پر موجود ہیں اور ویانا جانے کی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں۔

    ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ جنید صفدر جھوٹ اور فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں،یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع پر جنید صفدر کے ویانا جانے کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔

    شریف فیملی کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے جنید صفدر کی بیرون ملک موجودگی کے حوالے سے گردش کرتی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہےترجمان کی جانب سے عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر بھروسہ نہ کریں۔

    نیتن یاہو زندہ ہیں تو وہ ایران کے اہم اہداف میں شامل ہیں،پاسداران انقلاب

    سی ٹی ڈی کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، کالعدم تنظیم کا دہشتگرد گرفتار

    سوئٹزرلینڈ نے امریکی فوجی طیاروں کو فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

  • امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،اسحاق ڈار

    امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،اسحاق ڈار

    سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور اجتماعی عالمی تعاون کے نظام سے اپنی پختہ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے

    نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ویانا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں منعقدہ ایک اہم تقریب سے خطاب کیا، تقریب کا موضوع تھا ’پائیدار ترقی: عالمی امن اور خوشحالی کے راستے‘، تقریب میں ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں کے سربراہان، مختلف ممالک کے سفارتکاروں، تحقیقی اداروں کے نمائندوں اور ذرائع ابلاغ کے افراد نے شرکت کی۔

    انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور اجتماعی عالمی تعاون کے نظام سے اپنی پختہ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہےنائب وزیرِاعظم نے امن اور ترقی کے فروغ میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، یونائیٹڈ نیشنز انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائمز اور یونائیٹڈ نیشنز آفس فار آؤٹر سپیس افیئرز کے کردار کو سراہا،

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے،عالمی امن اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے تمام ممالک اور اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان اس مقصد کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع ترین مواقع موجود،حکومت  ہر ممکن تحفظ فراہم کرے گی ،وزیراعظم

    پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع ترین مواقع موجود،حکومت ہر ممکن تحفظ فراہم کرے گی ،وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے –

    ویانا میں پاک آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور آسٹریا کے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات دہائیوں پر محیط تاریخی حقائق پر مبنی ہیں فورم میں شرکت سے پاکستان اور آسٹریا کے اقتصادی تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوگاپاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں اور حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات اور تحفظ فراہم کرے گی پاکستان میں توانائی، آئی ٹی اور زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں جبکہ قابل تجدید توانائی اور کان کنی کے شعبے میں آسٹریا کا تعاون قابل تعریف ہے۔

    انہوں نے کہاکہ آسٹریا کے چانسلر کرسچن سٹاکر کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے اور ان کے ساتھ بہت مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی، پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے حکومت نے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر آئی ٹی کی تعلیم اور تربیت کیلئے کوشاں ہے نوجوانوں کی ترقی کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں، غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے پر یورپی پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

    عمران خان کی بینائی سے متعلق میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری

    قبل ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے فورم کا انعقاد اہمیت کا حامل ہے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی سفارتکاری پر توجہ مرکوز ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور چانسلر کرسچن سٹاکر کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی اپنے محل وقوع اور معاشی مواقع کی وجہ سے پاکستان اہم مارکیٹ ہے معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے فورم کا انعقاد اہم ہے۔

    محسن نقوی کی سری لنکن پولیس کو پاکستان میں ٹریننگ کی پیشکش

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آسٹریا کے دورے میں میزبان ملک کے ساتھ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ، ثقافت اور عالمی سفارت کاری کے شہر ویانا میں پہنچ گئے ہیں جہاں پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ اپنی ملاقات کا منتظر ہوں ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے ساتھ بھی بات چیت کا خواں ہوں اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کی قیادت کے ساتھ پرامن جوہری توانائی، انسداد منشیات اور جرائم پر قابو پانے، پائیدار صنعتی ترقی اور مشترکہ پیش رفت میں اپنے تعاون کو گہرا کرنے کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہوں۔

  • ایران جوہری معاہدہ: ویانا میں ایک نئے دور کا آغاز، کچھ رکاوٹوں پر پیشرفت ہو رہی ہے،یورپی یونین عہدیدار

    ایران جوہری معاہدہ: ویانا میں ایک نئے دور کا آغاز، کچھ رکاوٹوں پر پیشرفت ہو رہی ہے،یورپی یونین عہدیدار

    ایران کے جوہری پروگرام پرویانا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے،یورپی یونین کےعہدیدار کاکہنا ہےکہ کچھ رکاوٹوں پر پیش رفت ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق "امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل” نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک سینیر یورپی یونین کے عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اب پاسداران انقلاب کو دہشت گرد ادارے کی امریکی فہرست سے نکالنے کے اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر راضی ہوگیا ہے لیکن وہ اب بھی اس بات کی مضبوط ضمانت چاہتا ہے کہ واشنگٹن دوبارہ جوہری معاہدے سے پیچھے ہٹ کر معاہدے کو ختم نہیں کرے گا۔

    ایران جوہری معاہدہ: ایرانی ،یورپی اور امریکی نمائندے ویانا پہنچ گئے

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ویانا میں جوہری معاہدے کے مذاکرات کی بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جوہری معاہدے کے مذاکرات میں اس ہفتے کے آخر تک ایک معاہدہ طے پا جانا چاہیے اگر مذاکرات کاروں میں اتفاق رائے ہو گیا تو وزرائے خارجہ کو ویانا مین مذاکرات کے لیے طلب کیا جائے گا۔

    یورپی یونین کے عہدید نے مزید کہا کہ جمعرات کو ویانا میں ہونے والی بات چیت جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے حتمی نکات پر اتفاق کرنے کاایک موقع ہے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات کے نئے دور کے ممکنہ نتائج کے لیے میری توقعات بہت کم ہیں، کیونکہ مجھے شک ہے کہ ایران مذاکرات کے نئے دور میں دستیاب موقع سے فائدہ اٹھانا چاہے گا-

    دوسری جانب ونگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکومت کے ایک سینیر اہلکار نے ویانا میں ہونے والے جوہری معاہدے کے مذاکرات کی آئندہ میٹنگ کے بارے میں بتایا کہ ہم اس وقت دوبارہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور ہمیں جلد از جلد جان لینا چاہیے کہ آیا معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔

    ادھرایرانی میڈیا کے مطابق ویانا جوہری مذاکرات میں شرکت کرنے والے ایرانی وفد کے ایک ذرائع نے جمعرات کو کہا کہ تہران نے پاسدا ران انقلاب کو امریکی دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کی درخواست کو ترک نہیں کیا ہےمیڈیا میں جو کچھ نشر کیا گیا وہ بے بنیاد ہے گیند اب امریکیوں کے کورٹ میں ہے اور اگر وہ کسی اتفاق رائےتک پہنچنا چاہتے ہیں، تو انہیں معاہدے کےارکان کی طرف سے دیئے گئے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    امریکا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیوں مؤخر کیا؟

    واضح رہے کہ عالمی طاقتوں اور ایران کےدرمیان یہ رواں برس مارچ کے بعد پہلی ملاقات ہے اس سے قبل 2021 میں امریکا کو معاہدے میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئےتھے-

    ایران کے لیے امریکی خصوصی ایلچی رابرٹ میلے کا کہنا تھا کہ امریکا معاہدے تک پہنچنے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ کوشش کررہا ہےایران کی اس سلسلے میں دلچسپی بہت جلد واضح ہو جائے گی۔ رابرٹ میلے بھی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے ویانا میں ہیں-

    اُدھر روسی ایلچی میخائل اولیانوف نے مذاکرات کی بحالی سے متعلق کہا تھا کہ جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن کی بحالی جلد دوبارہ شروع ہوگی۔ فریقین پانچ ماہ کے بعد ویانا واپس آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے روس بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تعمیری بات چیت پر تیار ہے۔

    یورپی یونین کےنمائندہ اینرک مورا نے روانگی سے متعلق اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ہم ویانا مذاکرات کے لیے آسٹریا حکام کے شکرگزار ہیں انہوں نے کہا کہ ویانا جاتے ہوئے میں ایران کے ساتھ ماضی میں ہونے والے پلان آف ایکشن’ ہماری کوشش ہےکہ کوآرڈینیٹرز کی طرف سے20 جولائی کو پیش کیے گئے مسودے کی بنیاد پر پورا عمل درآمد کیا جائے۔

    برطانیہ میں نئے وزیراعظم کا انتخاب سیکیورٹی خدشات کے باعث تاخیر کا شکار

  • ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    تہران :ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی ،اطلاعات کے مطابق ایران نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی سمیت 50 سے زائد امریکی افراد پر پابندیاں عائد کر ‏دیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پابندی کے فیصلے کے تحت ایران میں موجود جنرل مارک ملی سمیت 50 ‏سے زائد امریکیوں کے اثاثے ضبط کیے جائیں گے۔

    مذکورہ افراد پر پابندی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عائد کی گئی ‏ہے۔ اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پابندی والے افراد میں دہشتگردی کو بڑھاوا دینے والے بھی ‏شامل ہیں۔

    وزارت خارجہ نے بیان میں بتایا ہے جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں زیادہ تر کا تعلق امریکی فوج ‏سے ہے۔ پابندی کے تحت ایران میں موجود ان کے اثاثے اور املاک ضبط کی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ امریکی جانب سے ایران پر کئی بار معاشی، اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ‏ایرانی کمپنیوں، تجارتی و کاروباری افراد سمیت اعلیٰ حکومت ارکان بھی پابندی والے افراد میں شامل ہیں۔

    ایران نے بھی ردعمل میں امریکی اہلکاروں، تاجروں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کو پابندی والی فہرست میں شامل ‏کر رکھا ہے۔

    جنوری 2020 میں عراقی دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی ‏جنرل سمیت 9 افراد ‏ہلاک ہوئے تھے۔ فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے ‏سربراہ تھے۔

    ادھرویانا میں ایران کے خلاف غیر قانونی و ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے مقصد سے جاری مذاکرات میں اختلافی نکات میں کمی آ رہی ہے۔ ویانا مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سینیئر مذاکرات کار علی باقری نے یہ بات کہی۔

    علی باقری نے گروہ 4+1 کے نمائندوں کے ساتھ متعدد اجلاس کے بعد سنیچر کی رات کو بتایا کہ اختلافی مسائل کم ہو رہے ہیں۔

    ان مذاکرات میں شامل قریب سبھی ممالک نے مذاکرات کے عمل کو مثبت اور رو بپیشرفت قرار دیا۔

    ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں روس کے مستقل مندوب میخائیل اولیانوف نے حال ہی میں کہا کہ نہ صرف روس بلکہ باقی فریقوں کا یہ خیال ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہ