Baaghi TV

Tag: ویلز

  • سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    لندن: ایک سمندری ٹیکنالوجی اور ریسرچ فرم ڈیپ(DEEP) ریسرچ لیبز کے سائنسدانوں نے ویلز کے ساحل پر سطح سے 660 فٹ نیچے ایک بیس بنانے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے جہاں محققین ایک وقت میں 28 دن تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی ماہرین نے ویلز اور برطانیہ کےقریب پانی کی گہرائی میں ایک مستقل تحقیق اسٹیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جو ’ڈیپ‘ کے نام سے 2027 تک مکمل ہو جائے گا جو 80 میٹر گہرے پانی میں بنایا جائے گا اس کی کل لمبائی600 میٹر ہوگی برطانیہ اور ویلز کےدرمیان ایک مناسب، پرسکون اور اونچی امواج سے محفوظ مقام کا انتخاب کیا گیاہے یہاں پانی بہت صاف ہے اورمحلِ وقوع کی بنا پر سمندری ٹیکنالوجی کے کئی اداروں کے قریب واقع ہوگا اطراف میں ہی برطانیہ کی کمرشل اور ڈائیونگ صنعتیں بھی واقع ہیں۔

    ڈیپ پروجیکٹ کا مرکزی منصوبہ ’سینٹینل‘ ہے جو ایک کیپسول نما ڈیزائن ہے اسے چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے، بار بار تبدیل کیا جاسکتا ہے اور دوبارہ بحال کیا جاسکتا ہے، سائنسدانوں کی انفرادی ضروریات کے لحاظ سے اس میں ردوبدل ممکن ہوگا، کمپنی نے اسے سمندری دیہات کا نام دیاہےسب سے بڑھ کر یہ سمندری لہروں اور اتھل پتھل سے محفوظ رہے گا اور اطراف کے ماحول کو بھی نقصان نہیں پہنچائے گا یہ ‘ایپیپلاجک زون’ تک وسیع رسائی فراہم کرے گا، جہاں 90 فیصد سمندری حیات پائی جاتی ہے۔

    شمالی وزیرستان :دہشتگردوں اورسیکیورٹی فورسزکےدرمیان فائرنگ،نوجوان شہید

    ڈیپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صرف سطح سے دراندازی کرنے کے بجائے سمندر کے اس حصے کے مکمل طور پر دریافت کرنے کے قابل ہونا سائنسدانوں کے سمندروں کا مشاہدہ، نگرانی اور سمجھنے کے طریقے میں ایک قدمی تبدیلی کی نمائندگی کرے گا،ایپی پیلیجک زون کو اکثر سورج کی روشنی کا زون کہا جاتا ہے، اور یہ سطح سے نیچے 660 فٹ (200 میٹر) تک پھیلا ہوا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن نے وضاحت کی کہ یہ اس زون میں ہے جہاں زیادہ تر نظر آنے والی روشنی موجود ہےاس کے ساتھ سورج کی روشنی سورج سےگرمی آتی ہے جو موسموں اور عرض البلد دونوں کے ساتھ اس زون میں درجہ حرارت میں وسیع تغیرات کے لیے ذمہ دار ہے سمندر کی سطح کا درجہ حرارت خلیج فارس میں 97F (36C) سے لے کر قطب شمالی کے قریب 28F (-2C) تک ہے۔

    آئندہ 24 گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی

    اگرچہ سائنسدان اس زون کو آبدوزوں پر تلاش کر سکتے ہیں، لیکن یہ عام طور پر ایک وقت میں گھنٹوں پانی کے اندر رہ سکتے ہیںDEEP کے صدر سٹیو ایتھرٹن نے کہا کہ ہمیں سمندروں کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے دنیا کو جن نسلی چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں سے بہت سے سمندروں کے مرکز میں ہیں، اور وہ ایسے مواقع بھی پیش کرتے ہیں جن کو ہم نے سمجھنا بھی شروع نہیں کیا ہے۔

    پہلے روبوٹک بازوؤں سے فولادی انفراسٹرکچر پانی میں اتاراجائےگا جس میں تھری ڈی پرنٹنگ سے بھی مدد لی جائےگی یہاں سائنسدانوں کے رہنے اور تحقیق کی جگہیں بھی بنائی جائیں گی اس میں ہرکیپسول نما ماڈیول کا قطر 6 میٹر تک ہوگا جو بوئنگ 777 ہوائی جہاز کی طرح ہی ہوگا یہاں تک کہ سیاح بھی یہاں آسکیں گےلیکن اس کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ زمین کی طرح سائنسداں پانی میں رہ کرآسانی سے تحقیق کرسکیں جو بین الاقوامی مرکز بھی ہوگا۔

    کاروباری افراد ویزا آسانی سے حاصل کرسکیں گے،نگران وزیراعظم

  • انگلینڈ اور ویلز میں شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال کر دی گئی

    انگلینڈ اور ویلز میں شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال کر دی گئی

    انگلینڈ اور ویلز میں شادی کی قانونی عمر بڑھا کر 18 سال کرنے سے متعلق نئے قانون کا نفاذ شروع ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: پہلے لوگ والدین کی رضامندی سے 16 یا 17 سال کی عمر میں شادی کر سکتے تھے اور ایسے بچوں کی شادیوں کی، جو مقامی کونسلوں میں رجسٹرڈ نہیں ہوتی تھیں، شادیوں کے خلاف کوئی قانون نہیں تھا۔

    انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے روسی صدر پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے

    نیا قانون ان شادیوں کا احاطہ بھی کرتا ہے جن پر قانونی پابندی نہیں ہے حکام کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں سے بچوں کی زبردستی شادی کو رو کنے میں مدد ملے گی۔

    اس سے پہلے جبری شادی صرف اس صورت میں جرم تھی جب یہ دھمکیاں دے کر کی گئی ہو۔

    لیکن میرج اینڈ سول پارٹنرشپ (کم سے کم عمر) ایکٹ کے تحت اب کسی بھی حالت میں بچوں کی شادی کرنا غیر قانونی ہے، چاہے جبر کا استعمال کیا جائے یا نہ کیا جائے اس جرم میں ملوث پائے جانے والوں کو سات سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا شہزادی ڈیانا کے بارے غیر اخلاقی تبصرہ، چارلس اسپینسر کا شدید ردعمل

    ان تبدیلیوں کا اطلاق سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں نہیں ہوگا، جہاں شادی کی کم سے کم عمر 16 سال رہے گی۔ شمالی آئرلینڈ میں 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے والدین کی رضامندی ضروری ہے لیکن سکاٹ لینڈ میں نہیں۔

    شمالی آئرلینڈ کے وزراء پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ شادی کی کم سے کم عمر کو بڑھا کر 18 سال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن بعض وجوہ کی بنا پر فی الحال قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔

    اس تبدیلی کے بہت بڑے اثرات ہیں اورممکنہ طور پران لوگوں کے وسیع زمرے کو پکڑتے ہیں جو کوئی ایسا طرز عمل انجام دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ اپنی اٹھارہویں سالگرہ سے پہلے شادی کر سکتا ہےوالدین کے بہن بھائی دوسرے رشتہ دار گواہ امام اوردیگر مذہبی تقاریب منعقد کرنے والے وزراء کو اس شق سے پکڑا جائے گا اگر وہ شادی کو انجام دینے میں کردار ادا کریں گے۔

    لارنس بشنوئی کی سلمان خان کو ایک اور دھمکی

    لیگل رائٹ پارٹنرشپ ایکٹ کے تحت شادی کا مطلب ہے کوئی بھی شہری شادی کی تقریب جس میں نکاح بھی شامل ہے چاہے اس شادی کو برطانیہ میں قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہو یا نہیں۔ شادی یا نکاح بیرون ملک ہونے کے باوجود جرم کا ارتکاب کیا جائےاس جرم کی سزا 7 سال تک قید ہے۔

    ایل آر پی کے مطابق تمام مساجد اور دیگر مذہبی اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان پالیسیوں پر عمل درآمد کریں جن میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے نکاح کی تقریبات پر پابندی لگائی جائے اگر انہوں نے پہلے ہی ایسا نہیں کیا ہے۔

    ایل آر پی کے مطابق اگر آپ کو مزید معلومات درکار ہوں تو براہ کرم ہماری امیگریشن ٹیم سے رابطہ کریں۔

    بھارت کی سب سے بڑی ائیر لائن نے 50 طیارے انڈر گراؤنڈ کر دیئے

  • فیفا ورلڈکپ 2022:  امریکا اور ویلز کے درمیان میچ ایک، ایک گول سے برابر

    فیفا ورلڈکپ 2022: امریکا اور ویلز کے درمیان میچ ایک، ایک گول سے برابر

    قطر میں جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ 2022 میں امریکا اور ویلز کے درمیان میچ ایک، ایک گول سے برابر ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : امریکا کی جانب سے ٹموتھی ویا نے 36ویں منٹ میں گول کیا جبکہ ویلز کا گول کپتان گریتھ بیل نے 82 ویں منٹ میں پنالٹی کک پر بنایا۔

    قطر نے فیفا ورلڈ کپ کو دعوت اسلام کا ذریعہ بنا دیا


    مقررہ وقت تک دونوں ٹیمیں ایک ایک گول کرنے میں کامیاب رہیں، یوں امریکا اور ویلز کا میچ برابر ہوگیا۔


    اس سے قبل گزشتہ روز فیفا ورلڈکپ 2022 کے تیسرے میچ میں نیدرلینڈز نے سینیگال کو دو صفر سے ہرا یا جبکہ ایک اور میچ میں انگلینڈ نے ایران کو 2 کے مقابلے 6 گول سے شکست دی افتتاحی میچ میں ایکواڈور نے میزبان ملک کو 0-2 سے شکست دے دی۔میگا ایونٹ کا پہلا میچ قطر کے شہر الخور کے البیت اسٹیڈیم میں کھیلا گیا-

    واضح رہے کہ قطر گزشتہ 12 سال میں ورلڈ کپ کی تیاریوں پر تقریباً 300 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے جس کیلئے 8 نئے اسٹیڈیمز اور جدید ترین نیا میٹرو سسٹم بنایا گیا فٹبال ورلڈ کپ کیلئے قطر میں شاہراہیں تعمیر ہوئیں اور مرکزی ہوائی اڈے کو بھی وسعت دی گئی، 15 لاکھ فینز کے قیام کے لیے 100 نئے ہوٹلز بھی تعمیر کیے گئے۔

    فیفا ورلڈ کپ 2022 :انگلینڈ نے ایران کو شکست دے دی

    فیفا ورلڈ کپ میں 32 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن کو آٹھ گروپس (اے ٹو ایچ) میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے صرف دو ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں جائیں گی، اس میگا ایونٹ میں فٹ بال کی دنیا کے بڑے بڑے نام کو ایکشن میں نظر آئیں گے۔

    تمام 64 میچ 29 ایام کے دوران کھیلے جائیں گے جو 32 ٹیموں کے حساب سے فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ کا کم ترین عرصہ ہے۔ شروع کے دو روز چھوڑ کر باقی کے تمام دنوں کے دوران چار میچ کھیلے جائیں گے۔

    32 ٹیموں میں سے ہر ایک ٹیم ناک آؤٹ مرحلے سے قبل اپنے گروپ میں تین میچ کھیلے گی۔ ناک آؤٹ مرحلہ سے قبل ہونے والا پری کوارٹر فائنل راؤنڈ تین دسمبر سے شروع ہو گا۔ ٹائٹل کا دفاع کرنے والا فرانس اپنا پہلا میچ 23 نومبر کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گا جبکہ پانچ بار ورلڈ چیمپیئن رہنے والا برازیل 25 نومبر کو سربیا کے خلاف میدان میں اترے گا، سیمی فائنل تین دسمبر کو کھیلے جائیں گے جبکہ فائنل 18 دسمبر کو ہوگا۔

    فیفا ورلڈکپ 2022: نیدرلینڈز نے سینیگال کو 0-2 سے شکست دے دی