Baaghi TV

Tag: ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ

  • ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاک بھارت ٹاکرا کل ہو گا

    ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاک بھارت ٹاکرا کل ہو گا

    ویمنز ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اپنا پہلا میچ روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گا۔

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم اپنا پہلا میچ کل 14 جون کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گی یہ اہم اور سنسنی خیز مقابلہ برمنگھم کے تاریخی ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام ٹی 20 ویمن ورلڈ کپ 12 جون سے 5 جولائی تک جاری رہےگایہ ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سےبڑا ایونٹ ہےٹورنامنٹ میں پہلی بار 12 ٹیمیں حصہ لےرہی ہیں ۔

    ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر 7 مختلف مقامات پر 33 میچز کھیلے جائیں گے، جبکہ فائنل 5 جولائی کو لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا روایتی حریف بھارت کے خلاف پہلے میچ کے بعد پاکستان اپنا دوسرا میچ 17 جون کو جنوبی افریقہ، تیسرا میچ 20 جون کو بنگلادیش، چوتھا میچ 23 جون کو آسٹریلیا اور پانچواں میچ 27 جون کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا۔

    پاکستانی ٹیم کو ’گروپ ون‘ میں رکھا گیا ہے، جہاں اسے 6 مرتبہ کی چیمپیئن آسٹریلیا، بھارت، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور نیدرلینڈز کا چیلنج درپیش ہوگا، ’گروپ ٹو‘ میں دفاعی چیمپیئن نیوزی لینڈ، میزبان انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں۔ دونوں گروپس کی ٹاپ 2 ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی، جو 30 جون اور 2 جولائی کو کھیلے جائیں گے۔

    قومی ٹیم کی قیادت نوجوان آل راؤنڈر فاطمہ ثنا کر رہی ہیں، جو مسلسل دوسرے ٹی20 ورلڈ کپ میں کپتانی کے فرائض انجام دیں گی 24 سالہ فاطمہ ثنا حالیہ عرصے میں شاندار فارم میں ہیں،انہوں نے گزشتہ ماہ کراچی میں زمبابوے کے خلاف سیریز کے دوران صرف 15 گیندوں پر نصف سنچری بنا کر ویمنز ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کی ’تیز ترین ففٹی‘ کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کیا تھا۔

    پاکستان ویمنز ٹیم کے مینٹور وہاب ریاض نے ٹیم کی صلاحیتوں پر پختہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کھلاڑیوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران سخت محنت کی ہے اور یہ نوجوان و پُرجوش ٹیم ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ہماری توجہ ’بے خوف‘ اور مثبت کرکٹ کھیلنے پر ہے اگر کھلاڑی اپنی اصل صلاحیتوں کے مطابق کھیلے، تو ٹیم سیمی فائنل تک لازمی رسائی حاصل کر سکتی ہے۔