Baaghi TV

Tag: ویڈیو لنک

  • توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    اسلام آباد: سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف کیس کی سماعت آج (پیر) کو ہوئی، جس کی سربراہی ممبر سندھ نثار درانی نے کی۔

    تین رکنی بینچ کے سامنے کیس کی سماعت جاری تھی، تاہم عمران خان کی حاضری کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے عمران خان کی پیشی کے حوالے سے جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت 15 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عمران خان کی پیشی کے حوالے سے عدالت میں ایک نیا موڑ آیا، جب وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ عمران خان کو ویڈیو لنک پر پیش ہونے دیا جائے گا، جس پر ممبر سندھ نثار درانی نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ آیا ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کی پیشی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ "ہماری طرف سے تمام انتظامات مکمل ہیں، لیکن جیل حکام کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ہو رہا۔ جیمرز کی وجہ سے ویڈیو لنک فعال نہیں ہو سکا، اور جیل حکام بالکل تعاون نہیں کر رہے ہیں۔” وکیل فیصل چوہدری نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن نہیں تو الیکشن کمیشن عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل حکام کی جانب سے عدم تعاون پر توہین کا کیس بنتا ہے۔ تاہم ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ "آپ تو کیس لڑ رہے ہیں، ہم کیس کو کیسے ڈراپ کر سکتے ہیں؟”الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔ اس دوران وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ممکن ہے کہ کوئی تکنیکی مسئلہ ہو جس کی وجہ سے پیشی میں تاخیر ہو رہی ہو، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ملزم کی حاضری کے بغیر شواہد ریکارڈ نہیں کیے جا سکتے۔

    یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب اگست 2022 میں الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن کی توہین اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق عمران خان نے متعدد بار اپنے بیانات، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں الیکشن کمیشن اور اس کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 30 اگست 2022 کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے مختلف مواقع پر اپنی تقاریر میں الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی اور سکندر سلطان راجا پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19 جولائی، 20 جولائی اور 7 اگست 2022 کو عمران خان کے بیانات مرکزی ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے، جن میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ 15 جنوری 2024 تک یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے، اور آیا جیل حکام اپنی جانب سے تعاون کرتے ہیں یا نہیں۔ اس کیس میں ایک طرف تو عمران خان کے خلاف توہین کا الزام ہے، جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو اس کیس میں ذاتی طور پر پیش کیا جائے یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن بنائی جائے۔

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

  • نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    نیب ترامیم کیس، سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنماوں ، وکلا کی بڑی تعداد سپریم کورٹ میں موجود ہے،عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ کا حصہ ہیں،‏وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ ایڈووکیٹ ، فیصل چودھری ،بیرسٹر علی ظفر بھی موجود ہیں،اظہر صدیق ایڈووکیٹ،نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ سمیت پی ٹی آئی کے 15 کے قریب وکلاء و رہنما سپریم کورٹ میں موجود ہیں،سینیٹر فیصل جاویدخان ،سابق سینیٹر اعظم سواتی ،سینیٹر شبلی فراز ،رکن قومی اسمبلی علی محمد خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں.

    عمران خان نے نیلے رنگ کی قمیض زیب تن کر رکھی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر بلا لیا۔‏سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکم نامہ طلب کرلیا،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ کیا بطور وکیل آپ نے فیس کا بل جمع کرایا،خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے فیس نہیں چاہیے،

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی نے دلائل دیئے،‏، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ اصل کیس میں وکیل تھے،آپ کے نہ آنے پر مایوسی تھی، ہم آپ کے موقف کو بھی سننا چاہیں گے، عمران خان مخدوم علی خان کے دلائل سنے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل مخدوم علی سے کہا کہ ‏مخدوم علی خان اونچی آواز میں بولیں تاکہ عمران خان سُن سکیں،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کا معاملہ زیر التواء ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ‏کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں وہ درخواست سماعت کے لیے منظور ہوچکی تھی،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی وہ درخواست سماعت کےلیے منظور ہوچکی تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیخلاف کیس کا مکمل ریکارڈ منگوا لے،

    کیس کی سماعت براہ راست نہیں دکھائی جا رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا آپ اس کیس میں وکالت کریں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ جی میں عدالت کی معاونت کروں گا، عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ترمیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکم نامہ طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا نیٹ چل رہا ہے؟مخدوم علی خان اونچا بولیں تا کہ عمران خان سن سکیں،

    imran supreme

    ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسےقابل سماعت ہوا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا،مخدوم علی خان آپ کیس میں موجود تھے اتنا عرصہ کیوں لگا دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست 4جولائی2022کوآئی ،سپریم کورٹ میں 6جولائی 2022کو کو نمبر لگا ،سماعت 19جولائی کو ہوئی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ مرکزی کیس پر اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا تھا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2022کا پورا سال درخواستگزاڑ کے وکیل نے دلائل میں لیے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کا پورا آرڈیننس بنانے میں کتنا عرصہ لگا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشرف نے 12 اکتوبر کو اقتدار سنبھالا اور دسمبر میں آرڈیننس آچکا تھا،مشرف نے دوماہ سے کم عرصے میں پورا آرڈیننس بنا دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسےقابل سماعت ہوا؟کیا مرکزی کیس کے فیصلے میں عدالت نے اس سوال کا جواب دیا تھا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی ہاں عدالت نے فیصلے میں اس معاملے کا ذکر کیا تھا، مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ پیراگراف عدالت میں پڑھ دیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ مرکزی کیس کی کل کتنی سماعتیں ہوئیں؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مرکزی کیس کی مجموعی طور پر 53 سماعتیں ہوئی تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا،مخدوم علی خان آپ کیس میں موجود تھے اتنا عرصہ کیوں لگا دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مارش لاء کے فوری بعد ایک ماہ کے اندر نیب قانون بن گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تو بڑا تعجب ہے کہ نیب ترامیم کیس 53 سماعتوں تک چلایا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ترامیم سے متعلق پشاور ہائی کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں کیسز زیر التوا تھے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست ہائیکورٹس میں کیس زیر سماعت ہونے کے باجود الیکشن کیس بھی سنا ،

    الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی نوے روز میں الیکشن ہوں،عدالتی فیصلے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس کا آرڈر آف کورٹ کدھر ہے،جب ایک آرڈر آف کورٹ ہی نہیں تو اسے فیصلہ کیوں کہہ رہے ہیں، وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ میں پھر اسے سات جج کی رائے کہوں گا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بنچ دوبارہ تشکیل دیا گیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے براہ راست درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوال آئینی تشریح سے متعلق ہے،اگر ایک جج اپنی رائے دے تو وہ دوبارہ کیسے بنچ میں رہ سکتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2023میں الیکشن کیس میں ایسی ہی وجوہات پر ہم دو ججز نے ناقابل سماعت کردیا تھا،ہم نے کہا تھا جو کیس ہاٸیکورٹ میں زیر التوا ہے اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،اگر تب لاہور ہاٸیکورٹ کے فیصلے پر عمل ہوتا تو الیکشن بروقت ہو جاتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنچ سے الگ ہوجانا الگ معاملہ ہے،اگر پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ بھی کہہ دیا جائے تب بھی یہ سوال ہے کہ آرڈر آف دی کورٹ کہاں ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی نوے روز میں الیکشن ہوں،عدالتی فیصلے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس زیر التو ہونے کے باجود سپریم کورٹ براہ راست کیس سننے پر ججز میں اختلاف آیا،

    دوران سماعت عمران خان نے ورزش کے انداز میں سر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر سٹریچنگ کی،بازوؤں کو ورزش کے انداز میں ہلایا اور گردن کو دائیں بائیں حرکت دیتے رہے،عمران خان نے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں کو پاس بلا لیا اور اپنے چہرے پر تیز روشنی پڑنے کی شکایت کی کہ اسکو سہی کرو جس پر اہلکاروں نے فوراً لائٹ کو ایڈجسٹ کر دیا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ مسکراتے ہوئے مکالمہ کیا اور کہا کہ آپ جب میرے ساتھ بینچ میں بیٹھے ہم نے تو 12 دن میں الیکشن کروادیے،آپ جس بینچ کی بات کررہے ہیں اس میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں نہیں تھا، کیا چیف جسٹس کسی بھی جج کو بنچ سے الگ کرسکتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سات رکنی بنچ نے کہا نوے دونوں میں الیکشن ہوں مگر نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری سربراہی میں تین رکنی بینچ نے صرف بارہ دونوں میں الیکشن کرانے کا فیصلہ دیا،پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا ہم نے آرڈر آف دی کورٹ دیا،

    ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے عدالتی کارروائی لائیو نہ ہونے کا نکتہ اٹھا دیا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی کاروائی براہ راست نشر نہیں ہو رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایڈوکیٹ جنرل کے پی کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی

    ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں، ہم قانون توڑیں یا ملٹری توڑے ایک ہی بات ہے،چیف جسٹس
    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کیس جیسے مختلف فیصلے بھی موجود ہیں،ہائی کورٹ میں زیرسماعت درخواست سپریم کورٹ نہیں سن سکتی، نیب ترامیم کیس بھی سپریم کورٹ میں قابل سماعت نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں سرگوشیوں پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ جس نے باتیں کرنی ہیں کمرہ عدالت سے باہر چلا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا نفاذ کب سے ہوا؟ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد نیب ترامیم کی کتنی سماعتیں ہوئیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد کئی سماعتیں ہوئیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا،پریکٹس اینڈ پروسیجر معطل کرنا درست تھایا غلط مگر بہر حال اس عدالت کے حکم سے معطل تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک قانون کو معطل کرنے پھر اس کیس کو سناہی نہ جائے تو ملک کیسے ترقی کرے گا ،آپ کو قانون پسند نہیں تو پورا کیس سن کر کالعدم کردیں ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بل کی سطح پر قانون کو معطل کرنا کیا پارلیمانی کارروائی معطل کرنے کے مترادف نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں، ہم قانون توڑیں یا ملٹری توڑے ایک ہی بات ہے،ہم کب تک خود کو پاگل بناتے رہیں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اچھا تھا یا برا تھا لیکن پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو عدالت نے معطل کر رکھا تھا، ایکٹ معطل ہونے کے سبب کمیٹی کا وجود نہیں تھا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بنچ کے ایک رکن منصور علی شاہ نے رائے دی کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کو طے کیے بغیر نیب کیس پر کارروائی آگے نہ بڑھائی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون درست نہیں ہے تو اسے کلعدم قرار دے دیں،اگر قوانین کو اس طرح سے معطل کیا جاتا رہا تو ملک کیسے ترقی کرے گا،ہم کب تک اس بے وقوفانہ دور میں رہتے رہیں گے،اگر مجھے کوئی قانون پسند نہیں تو اسے معطل کردوں کیا یہ دیانتداری ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کمرہ عدالت میں درخواست گزار موجود ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ لیکن پہلے مخدوم علی خان کو سن لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو سن لیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل مخدوم علی سے سوال کیا کہ مخدوم علی خان ابھی کتنا وقت دلائل دینگے، مخدوم علی خان نے کہا کہ مجھے ابھی وقت لگے گا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپیل متاثرہ فریق دائر کر سکتا ہے اور وہ کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے،حکومت اس کیس میں متاثرہ فریق کیسے ہے؟پریکٹس ایند پروسیجر کے تحت اپیل صرف متاثرہ شخص لائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صرف متاثرہ شخص نہیں قانون کہتا ہے متاثرہ فریق بھی لاسکتا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ دو تشریحات ہو سکتی ہیں کہ اپیل کا حق صرف متاثرہ فریق تک محدود کیا گیا،متاثرہ فریق میں پھر بل پاس کرنے والے حکومتی بنچ کے ممبران بھی آسکتے ہیں،

    آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں،کیا ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف نہیں۔چیف جسٹس
    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں وزیراعظم خود آرڈیننس جاری کرواتے رہے، پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ میں نیب ترامیم کی مخالفت نہیں کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس حکومت کے سیاست دانوں کو مجرم ٹھہرا رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں۔آرڈیننس کے زریعے آپ ایک شخص کی مرضی کو پوری قوم پر تھونپ دیتے ہیں۔کیا ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف نہیں۔ کیا آرڈینس کے ساتھ تو صدر مملکت کو تفصیلی وجوہات نہیں لکھنی چاہیں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمان کو مضبوط بنانا سیاستدانوں کا ہی کام ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگلے ہفتے بنچ دستیاب نہیں ہوں گے، عمران خان کی موجودگی آئندہ سماعت پر بھی ہوگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے عمران خان کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عمران خان سے مخدوم علی خان کے سوالوں کے جواب لیں گے، عمران خان یہ نکات نوٹ کر لیں، عمران خان بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی مسکراہٹ دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دیے

    سابق چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان آج کی سماعت میں دلائل نہ دے سکے ،مخدوم علی خان کے دلائل جاری ، سپریم کورٹ کو بتایا کہ انہیں دلائل کے لئے مزید کچھ گھنٹے درکارہونگے، نیب ترامیم کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ، عمران خان کی تصویر لیک ہونے پر تحقیقات شروع،پولیس کی دوڑیں
    سپریم کورٹ انتظامیہ نے عمران خان کی تصویر وائرل ہونے پر تحقیقات شروع کردیں،پولیس نے انتظامیہ اسٹاف کو سی سی ٹی وی کیمرے دیکھ کر تصویر وائرل کرنے والے کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کر دی،پولیس تصویر کو وائرل کرنے والے کے خلاف ایکشن لے گی،تصویر کورٹ روم رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لی گئی،عمران خان کی کمرہ عدالت سے تصویر وائرل ہونے پر سپریم کورٹ میں دوڑیں لگ گئیں ،عدالتی عملہ اور پولیس پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تصویر کس نے کھینچی ہے ،عمران خان کی کمرہ عدالت میں تصویر بنانے والے کی تلاش شروع کردی گئی،کمرہ عدالت میں نصب بڑی سکرین سے عمران خان کی تصویر چند لمحوں کیلئے ہٹا دی گئی تھی پھر دوبارہ لگا دی گئی،سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ون جانے والے افراد کی چیکنگ مزید سخت کر دی گئی،بانی پی ٹی آئی کی تصویر کمرہ عدالت کے بائیں جانب بیٹھے افراد میں سے کسی نے بنائی، کمرہ عدالت کی بائیں جانب موجود افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی گئی،کمرہ عدالت میں جانے والے افراد کی تلاشی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔

    نیب ترامیم کیس میں کمرہ عدالت سے بانی پی ٹی آئی کی تصویر وائرل ہونے کا معاملہ ،شوکت بسرا کا تصویر لیک ہونے کے حوالے سے کہنا ہے کہ میں نے کوئی تصویر لیک نہیں کی، بانی پی ٹی آئی کی تصویر میں نے نہیں بنائی ، سوشل میڈیا پر میرے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،اگر میں نے تصویر بنائی ہوتی تو میں اسے تسلیم کرتا ،

    سپریم کورٹ میں سیکورٹی سخت،موبائل فون لے جانے پر پابندی
    سپریم کورٹ نے کورٹ رپورٹر، صحافی ، اینکر پرسن اور کسی بھی فرد کو کورٹ میں موبائل فون لے جانے سے منع کر دیا تاکہ کوئی کیمرے سے بھی عمران خان کی تصویر نہ بنا سکے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں،سپریم کورٹ میں آج عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے انتظامات مکمل کیے گئے تھے، جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سے متعلق آگاہ کردیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے عملے اور جیل اتھارٹیز کے مابین ویڈیو لنک کے کونیکشن بارے رابطہ بھی کیا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے

    نواز شریف جیل میں قید تھے انہیں مچھر کاٹنے کی شکایت پر بلایا گیا،بابر اعوان
    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ بانی چئیرمین کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے، ذوالفقار علی بھٹو شہید کو عدالتی قتل کے بعد یہاں سنا گیا، نواز شریف جیل میں قید تھے انہیں مچھر کاٹنے کی شکایت پر بلایا گیا، آئین کے آرٹیکل 10 کے مطابق فئیر ٹرائل کا حق دیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سپریم کورٹ کی آج کی سماعت بھی لائیو نشر ہونی چاہیئے،

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، انہیں سائفر کیس، توشہ خانہ کیس اور دوران عدت نکاح کیس میں سزا ہوئی تھی، توشہ خانہ کیس کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر رکھی ہے تا ہم سائفر اور دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہو رہی ہے، عمران خان کی گزشتہ روز القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت ہوئی ہے، عمران خان کو نومئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے، بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کیس میں سزا ہوئی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان کو مقامی عدالتوں نے پیشی کا حکم دیا تھا تاہم کسی بھی عدالت میں عمران خان کو پیش نہیں کیا گیا، بلکہ عمران خان کے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے، اب سپریم کورٹ نے عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی.

    عمران خان کی سزاؤں کے حوالے سے سکرپٹ لکھا ہوا ہے،علیمہ خان
    عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سپریم کورٹ آمد پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اِنہوں نے نہیں دکھانا اس وقت تک عمران خان کو جیل میں رکھیں گے جب تک سارے آپشنز ختم نہیں ہوتے ججز بھی پریشان ہیں کہ کیسے فیصلہ کریں،عمران خان کو القادر میں رہا کرنے کا حکم دیا تو کارکنان نے خوشی کا اظہار کیا،عمران خان کی سزاؤں کے حوالے سے سکرپٹ لکھا ہوا ہے، یہ اب بھی چاہتے ہیں کہ القادر کیس میں سزا دے دی جائے، عدت کیس میں کچھ بھی نہیں پھر بھی اسے گھسیٹا جا رہا ، بشری بی بی کے حوالے سے ان کی بیٹیوں نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان دیا ہے، اس کیس پر سزا دینے والے جج کو بھی شرمندگی محسوس ہورہی ہو گی، اس وقت ججز بھی پریشان ہیں انہیں بھی سمجھ نہیں آ رہی کیسے فیصلے کریں، ہم اپنی عدلیہ سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی امید رکھتے ہیں،عمران خان نے کہا کہ اپنے تمام مقدمات کا سامنا کروں گا،اب عدلیہ پر ہے عمران خان کو کیسے انصاف دیں گے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے کیسز میں ججز اب چھٹی پر چلے جائیں گے

  • عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس نے عمران خان اور دیگر کے خلاف پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کی

    عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا عدالت پیش ہوئے،عمران خان اور شاہ محمو دقریشی کے پروڈکشن آرڈر کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی گئی، عمرا ن خان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ” سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کسی بھی عدالت کا حکم نہیں مانتے، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے حکم منوانا چاہیے اور عمران خان کوپیش کرنا چاہیے، سکیورٹی کا بہانہ ہے، ویڈیو لنک پربھی عمران خان کی حاضری نہیں لگواتے”۔بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں ہیں اور مختلف صورتحال ہے، ویڈیو لنک کا آپشن تو موجود ہے لیکن حاضری ای کورٹ میں لگتی ہے،وکیل نے کہا کہ عدالت کمرہ عدالت میں عمران خان کو پیش کرنے کا حکم دے، ہائیکورٹ نے فیصلہ دیاکہ ویڈیو لنک پر سیاسی رہنما سے ملاقات ہوسکتی ہے، اڈیالہ جیل میں انٹرنیٹ چلتاہے لیکن صرف عمران خان کے معاملے پرانٹرنیٹ نہیں چلتا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک پرلانے سے گھبراتےہیں۔

    عدالت نے نعیم پنجوتھا کے دلائل مکمل ہونے کےبعد عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے پروڈکشن کی درخواست منظورکرتے ہوئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 20 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دے دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    سینیٹ انتخابات، امید ہے اپنے امیدوار کامیاب کروائیں گے،وزیراعلیٰ سندھ

  • عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کی 6، بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں ضمانت کا معاملہ،بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا

    ایڈیشنل سیشنز جج طاہر عباس سپرا نے توہین عدالت شو کاز نوٹس جاری کیا، نوٹس میں کہا گیا کہ جیل حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ویڈیو لنک سسٹم خراب ہونے کے باعث بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری نہیں لگوائی جا سکتی،آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ حاضری لگوانے کیلئے ویڈیو لنک کے کار آمد ہونے کو یقینی بنائیں، جو آپ نے نہیں کیا، آپ کا یہ رویہ عدالتی حکم عدولی کے زمرے میں آتا ہے،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل تحریری طور پر نوٹس کا جواب جمع کروائیں،سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اپنے جواب کے ساتھ ویڈیو لنک کے ٹیکنیکل اسٹاف کی رپورٹ بھی جمع کروائیں،آئندہ سماعت پر ڈپٹی سپریٹنڈنٹ جیل ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں، کیس کی آئندہ سماعت 25 مارچ 202 کو ہوگی،

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروا دی

    قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • چاہے کچھ بھی ہو،اگلی حکومت پی ٹی آئی کی ہی ہو گی، عمران خان

    چاہے کچھ بھی ہو،اگلی حکومت پی ٹی آئی کی ہی ہو گی، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے چاہے جیل میں ڈالیں یا نااہل کردیں انتخابات میں تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی، کوئی طاقت عوام کے دلوں سے پی ٹی آئی کی محبت ختم نہیں کر سکتی۔جمعرات کو ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عارضی طور پر دہشت پھیلا کر لوگوں کو چپ تو کرایا جا سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ انتخابات میں قوم کا مقابلہ کیا جا سکے کیوں کہ موجودہ حکمرانوں کے خلاف عوام کے دلوں میں غم وغصہ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ علی محمد خان کی رہائی پر مجھے خوشی ہے، کسی کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں تھا کہ علی محمد خان 9 مئی کے واقعہ میں ملوث تھا، یہی کیس شہریار آفریدی کا ہے اس کی بھی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔
    پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اس ملک میں تحریک انصاف کی حمایت کرنا جرم بن گیا ہے، یہاں تک کے شوکت خانم جیسے ادارے کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا۔عمران خان نے کہا کہ میں ان ظالم حکمرانوں کے خلاف اکیلا کھڑا ہوں اور یہ صرف ایمان کی بنیاد پر ہے۔ یہ جو بھی چال چلتے ہیں خود اس میں پھنس جاتے ہیں اور سچ سامنے آ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب برطانیہ سے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آنے والی رقم کے حوالے سے تحقیقات کر چکا ہے اور جب اسے کچھ نہیں ملا تو انکوائری بند کر دی گئی۔ جب ایک انکوائری بند ہو جائے تو دوبارہ کھولی ہی نہیں جا سکتی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں مجھ سے وہ سوالات پوچھے جا رہے ہیں جو آج تک کسی سے نہیں پوچھے گئے۔ جب میں نے رقم ادا کر کے تحفہ لے لیا تو پھر میری مرضی جسے مرضی دے دوں۔

  • عمران خان کی ویڈیو لنک پرعدالتوں میں پیشی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان کی ویڈیو لنک پرعدالتوں میں پیشی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عمران خان کی ویڈیو لنک پر عدالتوں میں پیشی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ ویڈیو لنک پر عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ میں میشا شفیع کیس پر انحصار کرنا چاہوں گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرمنل کیسز میں مختلف اسٹیجز پر ملزم کی حاضری کی مختلف صورت ہوتی ہے ، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میشا شفیع کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے ملزم کی حاضری کی اجازت دی گئی ، عمران خان کو عدالتوں میں حاضری کے وقت سیکورٹی مسائل کا بھی سامنا ہے عمران خان کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر مقدمات کا اندراج ہو رہا ہے ، اس وقت تک 120 سے زائد مقدمات درج ہو چکے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کا جہاں استعمال ہو سکتا ہے ہونا چائیے یہ سارا معاملہ لیکن صرف عمران خان کی حد تک نہیں، درخواست پر فیصلے کے دیگر مقدمات پر بھی اثرات ہوں گے،شواہد ریکارڈ ہونے کے دوران تو میشا شفیع کیس کا اطلاق ٹھیک ہے،کیس میں فرد جرم بھی عائد ہونا ہوتی ہے کیا وہ بھی ویڈیو لنک پر ہو گی؟

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فرد جرم میں ملزم کی موجودگی صرف ملزم کے فائدے کیلئے ہوتی ہے، مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملزم خود سن سکے اس پر الزام کیا ہے، یہ مقصد ویڈیو لنک پر بھی پورا ہو سکتا ہے، عمران خان کی گزشتہ دو پیشیوں پر سکیورٹی مسائل پیدا ہوئے،وہ سکیورٹی مسائل کن کی وجہ سے پیدا ہوئے ابھی تک طے نہیں ہوا، ملزم کی جانب سے تو یہی بتایا گیا وہ کوئی نامعلوم لوگ تھے ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دُگل کے جوابی دلائل شروع ہوئے، انہوں نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کیا کریمنل کیس میں کوئی رُول ویڈیو لنک کی اجاذت دیتا ہے؟کریمینل ٹرائل میں تو فیصلہ سننے بھی ملزم کی موجودگی لازم ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ دُگل صاحب سی آر پی سی 1898 کی ہے، اُس وقت ظاہر ہے ویڈیو لنک نہیں تھا اس کا قانون میں زکر نہیں،قانون ساز اگر چاہتے تو جدید تقاضوں کیمطابق اسے بدل سکتے تھے ،ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں ٹیکنالوجی کا جہاں ہو سکے استعمال ہونا چاہیے، بھارتی سپریم کورٹ تو ویڈیو لنک پر فیصلہ دے چکی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت میں 2005 سے لے کر سسٹم انسٹال کیا گیا ،پورا سسٹم لگانا ہوگا کہ کیا ویڈیو لنک پر موجود ملزم کمرے میں اکیلا ہے،عمران خان کو ویڈیو لنک کی سہولت دینا ایک تفریق پیدا کرنا ہو گا،ایک اور سابق وزیر اعظم کو اپیل میں بھی ویڈیو لنک کی سہولت نہیں ملی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہاں سیاسی پہلو پر دلائل نہیں دینے ،عمران خان ایک بڑی یا سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں، کوئی اس بات کو پسند کرے یا نہ کرے الگ بات ہے، کیا انڈیا میں ویڈیو لنک ٹرائل ہو رہے ہیں؟ کیا یوکے ، یو ایس اے میں کوئی فیصلہ آیا ویڈیو لنک پر؟ کیا ان ممالک میں کسی عدالت نے کہا ویڈیو ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ منور دگل نے کہا کہ امریکی اور برطانوی عدالت نے کہا “کیس ٹُو کیس” دیکھا جا سکتا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ویڈیو لنک پر تمام تقاضے پورے ہو رہے ہیں تو ٹرائل ہو سکتا ہے نا؟ فرد جرم میں ملزم نے دستخط کرنا ہوتے ہیں وہ بھی الیکٹرانک ہو سکتے ہیں،ویڈیو لنک کی درخواست منظور ہونے کا فائدہ صرف عمران خان کو نہیں ہوگا، اس فیصلے کا فائدہ تو سب کو ہو گا ، اب تو امتحانات آن لائن ہو رہے ہیں میرے بیٹے کا ہوا ،منور دُگل نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کیا کسی بیرون ملک موجود ملزم کو اپیل میں بھی یہ سہولت ملے گی؟ کیا کل کسی بیرون ملک موجود ملزم کو بھی یہ سہولت دی جا سکے گی؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر کوئی ملزم پاکستان میں ہی رہنے کی انڈرٹیکنگ دے تو اسے سہولت ویڈیو لنک مل سکتی ہے، اگرکوئی ملزم اشتہاری نہیں ہے تو اسے بھی سہولت مل سکتی ہے، یہاں بات عمران خان کی ہے جو روز کئی عدالتوں میں جا رہے ہیں،یہ عدالت عمران خان کو لاہور ہائیکورٹ سے آکر ویڈیو لنک پر آنے کا کہہ سکتی ہے،کسی بھی “کنٹرولڈ ماحول” والی جگہ پر بلا کر ویڈیو لنک پر کیا جا سکتا ہے،

    ویڈیو لنک پر عدالتوں میں پیشی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا دلائل مکمل ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصلہ محفوظ کرلیا،

    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

    قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کی استدعا کی ہے۔ جبکہ لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ ’ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سکیورٹی تھریٹ ہو تو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں حاضری یقینی بنائی جاتی ہے۔ میری زندگی کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے

  • کیا ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کافی ہوتی ہے؟ عدالت کا استفسار

    کیا ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کافی ہوتی ہے؟ عدالت کا استفسار

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیشی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    وکیل ابوذر سلمان نیازی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ میں ہیں ویڈیو لنک اور تمام مقدمات اکٹھے کرنے کی درخواست دی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسز اکٹھے کرنے والا معاملہ تو سیشن کورٹ کا دائرہ اختیار ہے،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے بتانا ہے کیا ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کافی ہوتی ہے کیا تمام سٹیجزپر ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری ہو سکتی ہے؟ ہم کیس میں کس سٹیج پر ہیں، کیا اس میں ویڈیو لنک حاضری ممکن ہے؟ ملزم کی موجودگی میں جرح کا مقصد ہوتا ہے کہ ملزم کو پتہ ہو اس کیخلاف کیا ہور ہا ہے ؟ قانون میں بہت سی جگہوں پر ذاتی حاضری ضروری ہے کیا ویڈیو لنک حاضری کے ذریعے اس کا مقصد پورا ہو سکتا ہے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں عدالتی معاون مقرر کرنا چاہتا ہوں، کوئی نیوٹرل وکیل ہیں تو بتا دیں ان کو عدالتی معاون مقرر کر دیتے ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ فیصل صدیقی اچھی آپشن ہیں، ان کو عدالتی معاون مقرر کیا جا سکتا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت18 اپریل تک ملتوی کردی

    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

    قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کی استدعا کی ہے۔ جبکہ لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ ’ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سکیورٹی تھریٹ ہو تو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں حاضری یقینی بنائی جاتی ہے۔ میری زندگی کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے

  • ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عمران خان کا اسلام آباد میں درج مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کا کیس ، درخواست سماعت کیلئے مقررکر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق 12 اپریل کو درخواست پر سماعت کریں گے ،عدالت نے وزارت داخلہ ، قانون و انصاف ، آئی جی و دیگر سے جواب طلب کر رکھا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کاز لسٹ جاری کردی ،عدالت نے گزشتہ ہفتے رجسٹرار آفس کو درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی عمران خان نے سلمان اکرم راجہ، فیصل چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کر رکھی ہے سیکیورٹی تھریٹ کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست دائر کی گئی تھی

    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

    قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کی استدعا کی ہے۔ جبکہ لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ ’ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سکیورٹی تھریٹ ہو تو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں حاضری یقینی بنائی جاتی ہے۔ میری زندگی کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے

    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

  • ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی عمران خان کی درخواست،سماعت ملتوی

    ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی عمران خان کی درخواست،سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین، سابق وزیراعظم عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتوں میں پیشی اور سیکورٹی کے حوالہ سے دائر درخواست ملتوی کر دی گئی،

    عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتوں میں پیشی، سکیورٹی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس عابد عزیز شیخ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی ۔عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امن وامان قائم رکھنا اور سکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے،عمران خان کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت میں کہا کہ زمان پارک میں حالات بہت کشیدہ ہیں میرا پارٹی قیادت سے رابطہ نہیں ہو سکا کیس کی سماعت ملتوی کی جائے جنہوں نے سکیورٹی دینی تھی وہی حالات خراب کررہے ہیں عدالت نے کیس کی سماعت 21 مارچ تک ملتوی کردی

    وزیراعظم شہبازشریف سے امریکی نمائندہ خصوصی جان کیری کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیرخارجہ بلاول  کی میٹا کے عالمی امور کے صدر نک کلیگ سے ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملنڈا اینڈ بل گیٹس کے بانی بل گیٹس سے ملاقات کی ہے۔

    قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کی استدعا کی ہے۔ جبکہ لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ ’ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سکیورٹی تھریٹ ہو تو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں حاضری یقینی بنائی جاتی ہے۔ میری زندگی کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے۔‘