Baaghi TV

Tag: ویڈیو

  • اوکاڑہ، پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ کا مرکزی اجلاس، ملکی معاملات اور مشاورت کی گئی

    اوکاڑہ، پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ کا مرکزی اجلاس، ملکی معاملات اور مشاورت کی گئی

    اوکاڑہ(علی حسین) پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ(پامی) کی ویڈیو لنک میٹنگ پامی کے چیئرمین محمد اسلم زار کی صدارت میں ہوئی. میزبان اجلاس وسیم خان تھے. میٹنگ میں صدر گوگیرہ اور اوکاڑہ سمیت ملک بھر سے پامی کے عہدیداران نے شرکت کی اور ملکی صورتحال، کرونا وائرس، کشمیر ایشو اور تنظیمی معاملات پر مشاورت کی گئی. میٹنگ سے اسلم زار، غلام سرور انجم مغل، اقبال ڈار، جاوید گورائیہ، مظہر الحق، خالد کیانی، نذر مسعود شاہ، انوار احمد شاہ، محمد جہانگیر، سید مجتبیٰ بخاری، مرزا محمد اسلم بیگ اور آصف آصفی الخیری نے خطاب کیا. آئندہ میٹنگ جولائی کے وسط میں ہوگی.

  • آنٹیاں بمقابلہ بیٹیاں، آزادی اظہار اور ٹیکنالوجی کے موضوع پر دلچسپ مباحثہ

    آنٹیاں بمقابلہ بیٹیاں، آزادی اظہار اور ٹیکنالوجی کے موضوع پر دلچسپ مباحثہ

    آج کل کی مائیں اور بیٹیاں کیا توقعات کرتی ہیں؟ باغی ٹی وی کے مباحثہ میں آزادی اظہار اور ٹیکنالوجی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔

    آزادی اظہار کے حوالے سے والدین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ آج کل کی بیٹیاں جواب دینے کے چکر میں بڑوں کا ادب اور عزت نہیں کرتیں، یہ دوستی کے چکر رشتہ داریوں کو پس پشت ڈال رہی ہیں۔ جبکہ لڑکیوں کے مطابق جس کے پاس دلیل ہو اسے بولنے کا حق ہونا چاہیے۔

    انٹرنیٹ نے صحیح اور غلط کا علم دے دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تجربہ ہے جو نوجوان نسل کے پاس نہیں ہے۔ لڑکیوں کو بھی لڑکوں کی طرح جاب کا مساوی حق حاصل ہونا چاہیے اور ان کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہیے۔

    دوسری طرف ماؤں کا کہنا ہے کہ گھر کے معاملات بھی تو کسی نے سنبھالنے ہیں۔ اگر لڑکیاں گھر کے کام نہیں کریں گی تو کیا مرد جاب کے بعد یہ کام کرے گا۔

    ٹیکنالوجی کے حوالے سے والدین کا کہنا ہے کہ آج کل کے بچوں کے پاس موبائل ہے۔ والدین اگر موبائل سے روکیں تو یہ کہتے ہیں کہ ان کے معاملات میں مداخلت ہے۔
    نوجوان نسل کے مطابق والدین ہماری پرائیویسی کو ڈسٹرب کرتے ہیں جو خود سے سیکھنے کے لیے ضروری ہے۔

    والدین کہتے ہیں کہ نوجوان نسل کو موبائل اور سوشل میڈیا دیکھ کر اتنی توقعات بڑھ جاتی ہیں جو کہ نوجوان نسل کے لیے نقصان دہ چیز ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی پرفیکٹ ہو اور خوشگوار ہو۔ موبائل اور ٹیکنالوجی کا ایک حدکے اندر ہونا چاہیے۔ان کو زندگی کے باقی کام بھی کرنے چاہئیں۔

    حاصل کلام یہ ہے کہ ہر معاملہ کو اعتدال کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ موبائل اور ٹیکنالوجی کا اتنا استعمال نہ ہو کہ نوجوان نسل باقی کام بھول جائے،۔ اسی طرح دوستی ضرور ہونی چاہیے لیکن رشتہ داریوں کو نظر انداز کر کے نہیں۔

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی نہایت ہی اچھی اور گھریلو ویڈیو جو آپ گھر میں دیکھ سکتے ہیں اور اس میں حصہ لے سکتے ہیں
    ہمارے شرکاء نے حجاب پہنے ہوئے ہیں اور اپنا نام نہیں بتانا چاہتی ہیں لیکن یہ موضوع بہت اہم ہے آپ بھی اپنے گھر میں ویڈیو بنا کر باغی ٹی وی کو بھیج سکتے ہیں یاد رہے موضوع آپ کی مرضی کا ہوگا۔
    اپنی ویڈیو دی گئی ای میل پر بھیجیں
    newsroom@baaghitv.com
    یا واٹس اہپ کریں

    0303-0204604
    Stay Tuned to BAAGHITV

  • کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.

    اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.

    کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.

    جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.

    مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.

    آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.

    دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.

    مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.

    دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.

    یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان پائندہ باد