Baaghi TV

Tag: ویکیسن

  • کرونا کے بڑھتے کیسز، این سی او سی کو بحال کرنے کا فیصلہ

    کرونا کے بڑھتے کیسز، این سی او سی کو بحال کرنے کا فیصلہ

    کرونا کے بڑھتے کیسز، این سی او سی کو بحال کرنے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی نئی لہر، وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں این سی او سی کی بحالی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا ،اجلاس میں وزارت صحت اور دیگر حکام نے شرکت کی، اجلاس میں کرونا کی نئی لہر بارے میں بریفنگ دی گئی، کرونا کے بڑھتے کیسز پر وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرونا کیسز بڑھنے کی وجہ سے این سی او سی کو مکمل بحال کیا جائے، وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے کہا کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں، کرونا ایس او پیزپر عمل کروایا جائے، ویکسین پر پابندی کروائی جائے،

    واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا بڑھتا جا رہا ہے ، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کیسز کی شرح 3.50 فیصد رہی ،کرونا کا اسوقت سب سے زیادہ پھیلاؤ شہر قائد کراچی میں ہو رہا ہے

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرپنجاب نے کوروناوائرس کے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے اعدادوشمارجاری کئے ہیں، سیکرٹری صحت کا کہنا ہے کہ تمام شہری خاص طور پر کورونا کی مکمل احتیاط کو یقینی بنائیں۔ ہم صرف ویکسی نیشن اوراحتیاط کے ذریعے ہی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں- گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے کورونا کیسز 91 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 58,258 ہو چکی ہے۔اب تک صوبہ بھر میں493,289 مریض علاج کے بعد مکمل صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں کورونا کے باعث 1 ہلاکت لاہور سے رپورٹ ہوئی ۔صوبہ بھر میں کورونا کے باعث اموات کی کل 13,571 تعداد ہو چکی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 6,924 تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا کےاب تک مجموعی طور پر 11,450,243 تشخیصی ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہورسے کورونا کے 68 جبکہ راولپنڈی سے 14 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گجرات سے 3جبکہ گوجرانولہ سے 2کیس رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران بہاولپور ، چنیوٹ ،ننکانہ صاحب اور سرگودھا میں 1ایک کیس رپورٹ ہوا ۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر کے تمام شہروں میں کورونا کے مثبت کیسز کی مجموعی شرح 1.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران لاہور میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3.0 فیصد، راولپنڈی میں 1.1 ریکارڈ کی گئی ہے۔گجرات میں 1.7, سرگودھا میں 1.1, بہاولپور میں 1.2 اور گوجرانولہ میں 0.9 فیصد شرح ریکارڈ کی گئی ۔شہری کورونا کے خلاف خصوصی حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ سماجی فاصلے اور ماسک کے استعمال کوہرصورت یقینی بنائیں۔ 12 سال سے زائد عمر کے تمام شہری کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لازمی اور فوری لگوائیں۔ ریچ ایوری ڈورویکسی نیشن مہم کے چوتھے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے کوویکسن لگائی گئی ہے۔ عوام کسی بھی قسم کی رہنمائی یا شکایات کے لئے1033 پر رابطہ کرسکتے ہیں

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی بھی کرونا کا شکار

    دنیا بھر میں ایک دن میں 18 لاکھ کے قریب افراد کورونا وائرس مبتلا

    این سی او سی نے پی ایس ایل کے شائقین کو بڑی خوشخبری سنا دی

    کورونا پابندیوں کا اعلامیہ جاری،تعلیمی اداروں بارے بھی بڑی خبر

    کرونا کے وار جاری، ایک روز میں 40 اموات

  • این سی او سی نے کی بیرون ملک سفر کرنے والوں کیلئے پالیسی پر نظرثانی

    این سی او سی نے کی بیرون ملک سفر کرنے والوں کیلئے پالیسی پر نظرثانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این سی او سی کا اجلاس ہوا

    این سی او سی نے اجلاس ان باؤنڈ پالیسی کا جائزہ لیا ،این سی او سی نے بیرون ملک سفر کرنے والوں کیلئے پالیسی پر نظرثانی کی ہے این سی او سی نے مکمل ویکسین شدہ مسافروں کیلئے پرواز سے قبل پی سی آر کی منفی رپورٹ جمع کرانے کی شرط ختم کر دی 12 سال سے زیادہ عمر کے غیر ویکسین شدہ افراد کو پرواز سے قبل پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ جمع کرانا ہوگی این سی او سی نے مسافروں کے لیے نئے ہیلتھ ٹیسٹنگ پروٹوکول کل سے نافذ کر دیئے، پری بورڈنگ نیگیٹو پی سی آر کو مکمل طور پرختم کر دیا گیا ہے پاکستان آنیوالے تمام مسافروں کیلئے مکمل ویکسی نیشن لازمی قراردی گئی ہے اگر کسی کا کرونا مثبت آیا تو 10 دن کے لیے ہوم قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

    قبل ازیں این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 41 ہزار 744کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید ایک ہزار232 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے-این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 15 لاکھ 3 ہزار 873 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 30 ہزار96ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 2.95 فیصد رہی۔سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ 65 ہزار319، خیبر پختونخوا میں 2 لاکھ 15ہزار337، پنجاب میں 4 لاکھ 99 ہزار 768، اسلام آباد میں ایک لاکھ 33 ہزار988، بلوچستان میں 35 ہزار 294، آزاد کشمیر میں 42 ہزار 754اور گلگت بلتستان میں 11 ہزار 413 ہو گئی ہے۔

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرپنجاب نے کوروناوائرس کے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے اعدادوشمارجاری کردیئے۔ کورونا کیسز میں مزید کمی لانے کیلئے مختلف سیکٹرز کے لئے اسپیشل ایس او پیز جاری کر دیئے گئے ہیں- تمام شہری خاص طور پر کورونا کی مکمل احتیاط کو یقینی بنائیں۔ ہم صرف ویکسی نیشن اوراحتیاط کے ذریعے ہی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں- 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کوویکسین لگانے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے کورونا کے 403 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 499,813 ہو چکی ہے۔اب تک صوبہ بھر میں 478,053 مریض سرکاری ہسپتالوں سےعلاج کے بعد مکمل صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی کل تعداد 8,290 ہو گئی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں کورونا کے باعث 10 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں. گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں کورونا کے باعث فیصل آباد سے 3، لاہور اور راولپنڈی سے 2 دو، جبکہ بھکر، رحیم یار خان اور سیالکوٹ سے 1 ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے. صوبہ بھر میں کورونا کے باعث اموات کی کل تعداد 13,470 ہو چکی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 18,459 تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا کےاب تک مجموعی طور پر 10,019,347 تشخیصی ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہورسے کورونا کے 215 جبکہ راولپنڈی سے 27 جبکہ فیصل آباد سے 24 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملتان سے کوروناکے 17، بہاولپور سے 15، ڈیرہ غازی خان سے 14، اور سیالکوٹ سے 12، کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ساہیوال سے کورونا کے 11، شیخوپورہ سے 10، سرگودھا سے 9، گوجرانولہ سے 6 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران خانیوال، اوکاڑہ، رحیم یار خان، راجن پور سے کوروناکے 4 چار جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، لودھراں، منڈی بہاوالدین اور گجرات سے 3 تین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    پاکستان میں کرونا سے مزید 9 اموات

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    پاکستان میں پہلےاومی کرون کیس کی تصدیق

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    کرونا کو معمولی قرار دینے والے کک باکسنگ کے سابق عالمی چیمپئین کی موت

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی بھی کرونا کا شکار

    دنیا بھر میں ایک دن میں 18 لاکھ کے قریب افراد کورونا وائرس مبتلا

    این سی او سی نے پی ایس ایل کے شائقین کو بڑی خوشخبری سنا دی

    کورونا پابندیوں کا اعلامیہ جاری،تعلیمی اداروں بارے بھی بڑی خبر

    کرونا کے وار جاری، ایک روز میں 40 اموات

  • پی سی آئی ویبینار: 9 ایشیائی ممالک نے چین کی ’ویکسین ہیومینٹیرینزم‘ کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

    پی سی آئی ویبینار: 9 ایشیائی ممالک نے چین کی ’ویکسین ہیومینٹیرینزم‘ کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

    اسلام آباد: پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ(پی سی آئی) نے علاقائی اقتصادی رابطے پر ایک غیر معمولی نوعیت کا حامل 9 ملکی کانفرنس کی میزبانی کی جس کا موضوع ’’بیلٹ اینڈ روڈ تعاون: عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا‘‘ تھا۔اس ویبینار میں پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ کی "فرینڈز آف سلک روڈ” تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ انڈونیشیا، فلپائن اور چین کے تھنک ٹینکس کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    اس ویبینار میں مقررین نے زندگی کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ ‘ایشیائی صدی’ میں تعمیر و ترقی کے لیےبی آر آئی کی ضرورت ہے اورکثیر جہتی تعاون کو مضبوط بنانے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کو فروغ دینے پر زور دیا کیونکہ یہ ایشیائی ممالک کے مشترکہ مفادات کا ترجمان ہے۔ انہوں نے ثفافتی تبادلے اور مشاورت کے ذریعے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کی اعلیٰ معیار ی ترقی کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ 9 ممالک کے مقررین نے اپنی تقاریر میں ادارہ جاتی تعاون، ڈس انفارمیشن اور من گھڑت خبروں کا مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا اور ‘نئی سرد جنگ’ کے تصور کو سختی سے مسترد کیا۔

    اس ویبینار کی نظامت کے فرائض پی سی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے ادا کیے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ "شاہراہِ ریشم کے دیرینہ دوست پاکستان” نے 2019 میں اپنے آغاز کے بعد سےسی پیک کے ذریعے بی آر آئی سے حاصل ہونے والے فوائد اور متعدد مواقعوں کے بارے میں بہتر تفہیم اور معلومات فراہم کیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی نے ترقی پذیر ممالک میں انسانی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک متبادل ترقیاتی ماڈل فراہم کیا ہے جو بی آر آئی سے پہلے مغرب اور اس کے اداروں پر منحصر تھے۔ انہوں نے بی آر آئی کو عوام پر مبنی ترقی پر مبنی اتفاق رائے پر مبنی پہل کاری قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائینہ کی گزشتہ ماہ منعقد ہونے والےچھٹے مکمل اجلاس کے دوران ایک تاریخی قرارداد پاس کرنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا جس نے مستقبل کے لیے ایک واضح وژن فراہم کیا ہے۔

    سینیٹ کی دفاعی کمیٹی اور پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پیک اوربی آر آئی کے ذریعے سےعوام کو ثمرات حاصل ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی کسی ملک کے خلاف نہیں اور اسے وِن -وِن تعاون ماڈل کا حامل قرار دیا کیونکہ یہ جامع ہے اور اس کا مقصد رابطہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ سال 2021 چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کا ایک اہم سال تھا کیونکہ اسے سی پی سی کی سو سالہ سالگرہ کے طور پر منایا گیا اور اسی سال چین نے غربت کا مکمل خاتمہ کیا۔ انہوں نے چین کی کووڈ- 19وبا پر قابوپانے کی کامیاب حکمت عملی اور دیگر ممالک کو اس سے بچانےکے لیے ویکسین کی فراہمی کو قابلِ تعریف دیاجس کے سبب لاکھوں انسانی جانیں بچ گئی ۔نیز انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات میں چین کی قیادت کی بھی تعریف کی۔

    اس ویبینار میں چین کی رینمن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے ڈائریکٹر پروفیسر وانگ ییوئی نے کہا کہ کووڈ-19 وباکے بعد کا دور زندگی کو’نئے معمول’ کے مطابق ڈھالنے کا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس مشکل وقت میں کثیرالجہتی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور بی آر آئی کو کثیرالجہتی کو آگے بڑھانے کے بہترین محرک کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے چین کی زیرو کول پالیسی کا بھی خیرمقدم کیا جو چین نے برقرار رکھا اور اس سے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بچاؤمیں بھی مدد ملے گی۔

    نیپال کے "فرینڈز آف سلک روڈ کلب” کے جنرل سکریٹری کلیان راج شرما نے اس موقع پر کہا کہ بی آر آئی کے آغاز کے بعد سے چین اور نیپال کے اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں اور نیپال کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی رفتار اب بی آر آئی پر منحصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ ان تعلقات کو آگے بڑھانے کی تحریک16-2015 میں ہندوستان کی طرف سے غیر اعلانیہ ناکہ بندی کے بعد ملی۔

    بنگلہ دیش چائینہ سلک روڈ فورم” کے چیئرمین دلیپ باروا نے بھارت اور مغربی ممالک کی جانب سے پھیلائے جانے والے بی آر آئی مخالف پروپیگنڈے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بی آر آئی کو صدر شی جن پنگ کا معاشی ماسٹر اسٹروک قرار دیا جس سے ایشیا میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں بی آر آئی کے بارے میں مثبت تاثر پایا جاتا ہےکیونکہ بنگلہ دیش کو اس پہل کاری کے فوائد حاصل ہونے کا آغاز ہوا ہے ۔

    اس ویبینار میں تھائی چائنیز کلچر اینڈ اکانومی ایسوسی ایشن کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل دارات پوچمونگکول نے کہا کہ تھائی لینڈ چین کے ساتھ اپنے تعلقات خاص طور پر بی آر آئی کے ضمن میں مزید مضبوط کر رہا ہے کیونکہ اس سے تھائی عوام فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

    شینزن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف گلوبل گورننس اینڈ ایریا اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈائی یونگ ہونگ نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال سبز ترقی کو آگے بڑھانے، سبز کاروباری طریقوں کو اپنانے اور انسانی ترقی کو فروغ دینے کی متقاضی ہے۔ امریکہ جس ا یک قطبی دنیا کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے وہ ختم ہو رہی ہے اور ایک کثیر قطبی دنیا ابھر رہی ہے۔ اس کثیر قطبی دنیا میں بی آر آئی انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    پاتھ فائنڈر فاؤنڈیشن سری لنکا کی سینئر محقق پروفیسر گائتری ڈی زوئیسا نے اس موقع پرکہا کہ سری لنکا بی آر آئی کے اہم شراکت دار ممالک میں سے ایک ہے اور بی آر آئی کے آغاز کے بعد سے چینی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ کولمبو پورٹ سٹی پروجیکٹ چین سے 100فیصد ایف ڈی آئی کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے چین اور سری لنکا کے درمیان تعلیم، سائنس اور صحت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    ملائیشیا چائینہ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر جی پی دوریسامی نے کہا کہ ملائیشیا کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے ’نوآبادیاتی ذہنیت‘ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ) کے پولیٹیکل بیورو ممبر آنند پرساد پوکھرل نے ٹرانس ہمالیائی ملٹی ڈائمینشنل کنیکٹیویٹی نیٹ ورک کے بارے میں بات کی جو کہ بی آر آئی کے ایک خاص حصے کے طور پر نیپال اور چین کے درمیان ایک اقتصادی راہداری ہے اور یہ نیپال کی تعمیر و ترقی کا ایک تاریخی موقع ہے۔ بنیادی ڈھانچہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود 2017 میں دونوں ممالک کے مفاہمت ناموں پر دستخط کے بعد سے نیپال میں بی آر آئی منصوبوں کی اعلیٰ معیار ی ترقی کا سفر جاری ہے۔

    ایشیا پروگریس فورم کولمبو کےکنوینر پروفیسر کے ڈی این ویرا سنگھے نے اس دوران کہا کہ بی آر آئی شراکت دار ممالک کی اقتصادی بحالی کا موجب بنا ہے۔ انہوں نے چین اور سری لنکا کے تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالی جو صدیوں پرانے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

    انڈونیشیائی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس کی ویرونیکا ایس سرسوتی نے کہا کہ جس طرح سے چین نے عالمی وباپر قابو پایا ہے اسے دوسرے ممالک نمونہ عمل کے طور پر لے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی نے چین اور شراکت دار ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنایا ہے۔ آسیان ممالک میں بی آر آئی کے منصوبے پوری رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خوشحالی اور ترقی کی نئی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔

    فلپائن-برکس اسٹریٹجک اسٹڈیز کے بانی ہرمن لارل نے چین کی ویکسین انسان دوستی کی تعریف کی جس نے وباکے پھیلاؤ کو روکنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
    اس ویبینار میں شرکاء نے ڈیجیٹل شراکت داری کے ذریعے اپنے تعلقات کو ادارہ جاتی بنانے پر اتفاق کیا۔ آخر میں سینیٹر مشاہد حسین نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا کہ چین کے خلاف امریکہ کے مہمات کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سال 2020 میں چین نے 1.5 ارب سمارٹ فونز،250 ملین کمپیوٹرزاور 25 ملین کاریں تیار کرتے ہوئے دنیا کے ہائی ٹیک مینوفیکچرر کے طور پر امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

  • دنیا کے 77 ملکوں میں اومیکرون حملہ آور:ویکسین کے غیرموثرہونے کی اطلاعات سے ہرطرف خوف

    دنیا کے 77 ملکوں میں اومیکرون حملہ آور:ویکسین کے غیرموثرہونے کی اطلاعات سے ہرطرف خوف

    لندن : دنیا کے 77 ملکوں میں اومیکرون حملہ آور:ویکسین کے غیرموثرہونے کی اطلاعات سے ہرطرف خوف،اطلاعات کے مطابق ادارہ عالمی صحت ڈبلیو ايچ او اور یوروپی ڈیزیز کنٹرول شعبے نے کورونا وائرس کے نئے ویريئنٹ اومیکرون کے تیزی سے پھیلاو کے مدنظر عوام سے ٹیکہ لگوانے کے ساتھ ساتھ ماسک اور جسمانی فاصلے کا خیال رکھنے پر بھی تاکید کی ہے۔ ان دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ اس ویريئنٹ سے صرف ٹیکے کے ذریعہ نہیں نمٹا جا سکتا۔

    یوروپی حکومتیں جہاں ایک طرف اس وائرس کے مہلک اثرات پر قابو پانے کے لئے ٹیکہ لگانے کا عمل تیز کر رہی ہیں وہیں دوسری طرف برطانیہ میں اس نئے ویریئنٹ کی چپیٹ میں آنے والوں کی تعداد میں دن بدن تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    برطانیہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 78 ہزار 610 نئے کیس سامنے آئے ہیں جسکے مدنظر حکومت نے اس مہینے کے آخر تک بڑے پیمانے پر لوگوں کو کورونا کے ٹیکے کی بوسٹر ڈوز لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے لگتا ہے کہ صرف ٹیکہ اومیکرون کو روکنے میں زیادہ موثر نہیں ہوگا۔

    ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیرث کے دعوے کے مطابق ویکسین نے اومیکرون کے مقابلے میں یہ کیا کہ بہت سے لوگوں کو اسپتال جانے سے بچا لیا اور زیادہ شدید علامات سامنے نہیں آئیں، اس لئے ٹیکہ لگوانا ضروری تو ہے مگر یہ کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسک لگانا اور جسمانی فاصلے کا خیال رکھنے کی بدستور ضرورت ہے۔

    دوسری طرف یوروپی یونین کی عہدیدار اورسیلا وندیرلاین نے کہا کہ اس وقت یوروپ میں ہر تین دن میں اومیکرون سے متاثر لوگوں کی تعداد دگنی ہوتی جا رہی ہے اور اگلے مہینے یوروپ میں یہ ویریئنٹ بہت بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہوگا۔

    دنیا کے 77 ملکوں میں اب تک اومیکرون ویریئنٹ کے پہونچنے کی تائید ہو چکی ہے۔

    دوسری طرف ہندوستان میں بھی اومیکرون کے کیسز تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اب تک مغربی بنگال، تمل ناڈو، مہاراشٹر، کیرل، تلنگانہ، راجستھان، کرناٹک، گجرات، آندھرا پردیس، دہلی، اور چندیگڑھ میں اومیکرون کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اومی کرون سے بھارتی معیشت بھی تباہی کی جارہی ہے